The gold block is the tafsīr — what the āyah says, as the commentaries take it, oldest first, all together. Nothing is retyped: every quotation is cut from its edition by machine and checked against the source before this page may be written.
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
the sūrah opens with the basmala; in this numbering it is not counted as an āyah
Al-Qiyamah 75 : 1
لَآأُقْسِمُبِيَوْمِٱلْقِيَٰمَةِ
laa auqsimu biyawmi alqiyaamahi
plays offline — the recitation is inside this file
PickthallNay, I swear by the Day of Resurrection;
Yusuf AliI do call to witness the Resurrection Day;
Muhammad Junagarhiمیں قسم کھاتا ہوں قیامت کے دن کی.[1]
al-Muyassarتسمية السورة • سميت القيامة؛ لافتتاحها بقَسَم الله بيوم القيامة؛ لتعظيمه وتحقق وقوعه. من مقاصد السورة • تأكيد البعث بالإقسام على وقوعه، وإثباتُ الحشر والمعاد بالأدلة والبراهين العقلية، والتذكير بيوم القيامة، وذكرُ بعض أشراطه الدالة على هَوله، والإشارةُ إلى انقسام الخلق فيه إلى سعداء وأشقياء، وذكر وصف كلِّ فريق، وبيانُ حال الإنسان عند الاحتضار، وما يكون فيه من الكرب. • توجيه النبي ﷺ إلى الصفة التي ينبغي أن يكون عليها عند تلقي القرآن من جبريل. [التفسير] أقسم الله سبحانه بيوم الحساب والجزاء، وأقسم بالنفس المؤمنة التقية التي تلوم صاحبها على ترك الطاعات وفِعْل الموبقات، إن الناس سيبعثون. أيظنُّ …
the agreed readingI swear by the Day of Resurrection — the commentaries take the opening as an oath, and the thing sworn to is the raising itself, which the next verses put as a question.
میں قیامت کے دن کی قسم کھاتا ہوں۔ قرطبی لکھتے ہیں کہ سورۃ القیامہ مکی ہے اور اس کی انتالیس آیات ہیں۔ علامہ سعدی وضاحت کرتے ہیں کہ یہاں لا نہ نافیہ ہے نہ زائد، بلکہ اسے آغاز اور بعد کی بات کی اہمیت واضح کرنے کے لیے لایا گیا ہے۔ تفسیر مقباس کے مطابق سورت کا آغاز قسم سے کرنا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ آگے آنے والی بات اہم ہے، اور قیامت کے دن کی قسم کھانا ایک شاندار آغاز ہے کیونکہ سورت کا مقصد ہی قیامت کے دن کا بیان ہے۔
لا أقسم بيوم القيامة. ذكر القرطبي أن سورة القيامة مكية، وهي تسع وثلاثون آية. وذكر السعدي أن لا هنا ليست نافية ولا زائدة، وإنما أتي بها للاستفتاح والاهتمام بما بعدها. وفي تفسير مقباس أن افتتاح السورة بالقسم مؤذن بأن ما سيذكر بعده أمر مهم لتستشرف به نفس السامع، وكون القسم بيوم القيامة براعة استهلال لأن غرض السورة وصف يوم القيامة.
31 of the 36 commentaries carry this āyah
all 31, in their own words
al-Tabarid.923 · ar · PD
جمع راتع: يعني الإبل ترتع في مرعى خصيب تذهب فيه وتجيء.]] ، أو ممن أنعم الله عليهم؟ فقلت: لا بل ممن أنعم الله عليهم، فقال لي: سل، فقلت: لا أقسم بيوم القيامة، فقال: يقسم ربك بما شاء من خلقه. ⁕ حدثنا بشر، قال: ثنا يزيد، قال: ثنا سعيد، عن قتادة، قوله: ﴿لا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيَامَةِ وَلا أُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِ﴾ قال: أقسم بهما جميعا. وقال آخرون: بل أقسم بيوم القيامة، ولم يقسم بالنفس اللوّامة. وقال: معنى قوله: ﴿وَلا أُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِ﴾ ولست أقسم بالنفس اللوّامة. ذكر من قال ذلك: ⁕ حدثنا بشر، قال: ثنا يزيد، قال: ثنا سعيد، عن قتادة، قال: قال الحسن: أقسم بيوم القيامة، ولم …
Tafsīr al-Qummīd.941 · ar · PD
لا أقسم بيوم القيمة) يعني أقسم بيوم القيامة (
al-Tibyān (al-Ṭūsī)d.1067 · ar · PD
لا، اقسم بيوم القيامة ما الامر على ما توهموه. والقسم تأكيد الخبر بما جعله في حيز المتحقق. والمعنى اقسم بيوم القيامة ويوم القيامة هو النشأة الأخيرة التي تقوم فيها الناس من قبورهم للمجازاة، وبذلك سميت القيامة، ويومها يوم عظيم، على خطر عظيم جسيم. وقوله (
al-Baghawid.1122 · ar · PD
لَهُ" [[أخرجه الترمذي في التفسير - تفسير سورة المدثر - ٩ / ٢٤٧-٢٤٨ وقال: "هذا حديث حسن غريب، وسهيل ليس بالقوي في الحديث وقد تفرد سهيل بهذا الحديث عن ثابت" والنسائي في التفسير: ٢ / ٤٧٥، وابن ماجه في الزهد، باب ما يرجى من رحمة الله يوم القيامة برقم: (٤٢٩٩) : ٢ / ١٤٣٧، والدارمي في الرقائق، باب في تقوى الله: ٢ / ٣٠٢، وأبو يعلى في المسند: ٣ / ٣٤٠، والإمام أحمد: ٣ / ١٤٢، وصححه الحاكم في المستدرك: ٢ / ٥٠٨، ورواه الخطيب في تاريخ بغداد: ٥ / ٥٢. وفيه سهيل القطعي، قال الحافظ في التقريب: ضعيف من السابعة.]] وَسُهَيْلٌ هُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَطَعِيُّ، أَخُو حَزْمٍ الْقَطَعِيِّ [[وفي نسخة "ب" …
al-Zamakhsharid.1144 · ar · PD
مكية، وآياتها 40 [نزلت بعد القارعة] بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ إدخال «لا» النافية على فعل القسم مستفيض في كلامهم وأشعارهم. قال امرؤ القيس: لا وأبيك أبنة العامرىّ ... لا يدّعى القوم أنّى أفرّ [[تقدم شرح هذا الشاهد بالجزء الأول صفحة 692 فراجعه إن شئت اه مصححه.]] وقال غوثة بن سلمى: ألا نادت أمامة باحتمال ... لتحزننى فلا بك ما أبالى [[إذا نادت أمامة باحتمال ... لتحزننى فلا بك ما أبالى فسيرى ما بدا لك أو أقيمي ... فأيا ما أتيت ففي نقالى لغوثة بن سلمى بن ربيعة، يقول: إذا أظهرت أمامة محبوبتى أمارات الارتحال عنى لتحزننى، فأطلق النداء على ذلك مجازا. ويروى «ألا» بدل «إذا» ولا زائدة قبل القسم …
م سب اپنے اعمال کا خود آئینہ ہیں یہ کئی دفعہ بیان ہوچکا ہے کہ جس چیز پر قسم کھائی جائے اگر وہ رد کرنے کی چیز ہو تو قسم سے پہلے لا کا کلمہ نفی کی تائید کے لئے لانا جائز ہوتا ہے یہاں قیامت کے ہونے پر اور جاہلوں کے اس قول کی تردید پر قیامت نہ ہوگی قسم کھائی جا رہی ہے تو فرماتا ہے قسم ہے قیامت کے دن کی اور قسم ہے ملامت کرنے والی جان کی، حضرت حسن تو فرماتے ہیں قیامت کی قسم ہے اور ملامت کرنے والے نفس کی قسم نہیں ہے، حضرت قتادہ فرماتے ہیں دونوں کی قسم ہے، حسن اور اعرج کی قرأت آیت (لَآ اُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ ۙ) 75۔ القیامة :1) ہے اس سے بھی حضرت حسن کے قول کی تائید ہوتی ہے اس لئے کہ ان کے نزدیک …
قیامت کے دن کی قسم:یعنی قیامت کا دن جس کا ممکن ہونا عقل سے اور متیقن الوقوع ہونا ایسے مخبر صادق کی خبر سے ثابت ہو چکا ہے س کے صدق پر دلائل قطعیہ قائم ہیں اس کی قسم کھاتا ہوں کہ تم یقینًا مرے پیچھے اٹھائے جاؤگے اور ضرور بھلے برے کا حساب ہوگا۔ (تنبیہ) واضح ہو کہ دنیا میں کئ قسم کی چیزیں ہیں جن کی قسم لوگ کھاتے ہیں، اپنے معبود کی، کسی معظم و محترم ہستی کی، کسی مہتم بالشان چیز کی، کسی محبوب یا نادر شئے کی اس کی خوبی یا ندرت جتانے کے لئے، جیسے کہتے ہیں کہ فلاں کی قسمت کی قسم کھائیے۔ پھر بُلغاء یہ بھی رعایت کرتے ہیں کہ مقسم بہ مقسم علیہ کے مناسب ہو۔ یہ ضروری نہیں کہ ہر جگہ مقسم بہ کو مقسم علیہ کے …
وهي مكية بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ {1} ليست {لا} ها هنا نافية ولا زائدة، وإنَّما أتي بها للاستفتاح والاهتمام بما بعدها، ولكثرة الإتيان بها مع اليمين لا يستغرب الاستفتاح بها، وإن لم تكن في الأصل موضوعة للاستفتاح؛ فالمقسم به في هذا الموضع هو المقسَم عليه، وهو البعث بعد الموت، وقيام الناس من قبورهم، ثم وقوفهم ينتظرون ما يَحْكُمُ به الربُّ عليهم. {2}{ولا أقسم بالنَّفس اللَّوَّامةِ}: وهي جميع النفوس الخيِّرة والفاجرة، سميِّت لوَّامةً لكثرة تلوُّنها وتردُّدها وعدم ثبوتها على حالةٍ من أحوالها، ولأنَّها عند الموت تلوم صاحبها على ما فعلت ، بل نفسُ المؤمن تلومُ صاحبها في الدُّنيا على ما حصل …
میں قسم کھاتا ہوں یوم قیامت کی(1) اور میں قسم کھاتا ہوں نفس ملامت گر کی(2) کیا سمجھتا ہے انسان یہ کہ ہرگز نہیں جمع کریں گے ہم اس کی ہڈیاں؟(3) کیوں نہیں!بلکہ (ہم تو) قادر ہیں اس پر کہ درست کر دیں ہم اس کی پور پور کو(4)بلکہ چاہتا ہے انسان کہ فسق و فجور کرتا رہے آئندہ بھی(5) وہ پوچھتا ہے کب ہو گا دن قیامت کا ؟(6) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1]﴿ لَاۤ اُقۡسِمُ بِيَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ﴾ ’’میں قسم کھاتا ہوں قیامت کے دن کی۔‘‘ (لَاۤ) یہاں نافیہ ہے نہ زائدہ، اسے صرف استفتاح اور ما بعد کلام کے اہتمام کے لیے لایا گیا ہے، قسم کے ساتھ کثرت سے اس کو لانے کی بنا پر استفتاح کے لیے …
قسم کی طرف اشارہ کرنا اور قسم نہ کھانا زیادہ اثر انگیز ہوتا ہے اور یہی اثر آفرینی یہاں مقصود ہے۔ اور اس انداز سے یہ مقصد اچھی طرح حاصل ہوتا ہے اور یہ انداز قرآن کریم میں بار بار دہرایا جاتا ہے اور اس کے بعد پھر حقیقت قیامت اور ملامت کرنے والے نفس کی حقیقت بیان کی جاتی ہے۔ قیامت کی حقیقت کے بارے میں اس سورت میں مکرر بات کی گئی ہے۔ لیکن نفس لوامہ کیا ہے ؟ اس کے بارے میں تفاسیر ماثورہ میں کئی اقوال مذکور ہیں۔ حضرت حسن بصری سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں : کہ تم جب بھی دیکھو ایک سچا آدمی ہمیشہ اپنے آپ کو ملامت کرے گا کہ میری بات کا کیا مطلب تھا ؟ میرے کھانے کا مقصد کیا ہے ؟ اور میری بات کا فائدہ کیا …
لَآ اُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ وَلَآ اُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِ (I swear by the Day of Resurrection, [ 1] and I swear by the self-reproaching conscience, (that Resurrection is a reality.)...75:1-2). The negative particle la 'nay' prefixed to the oath in this context has no meaning. When the object of oath is to refute the false thought of an opponent, this redundant negative particle is used before oath. This usage is commonplace in Arabic idiom. Such usage is sometimes employed in our language [ in Urdu ] as well [ as an answer to some objection or in repudiation of what is said …
لام کی ابتدا نہیں سے کرنا خود بخود اِس بات پر دلالت کرتا ہے کہ پہلے سے کوئی بات چل رہی تھی جس کی تردید میں یہ سُورۃ نازل ہوئی ہے اور آگے کا مضمون آپ ہی ظاہر کر دیتا ہے کہ وہ بات قیامت اور آخرت کی زندگی کے بارے میں تھی جس کا اہلِ مکہ انکار کر رہے تھے بلکہ ساتھ ساتھ مذاق بھی اڑا رہے تھے ۔ اس طرز ِ بیان کو اِس مثال سے اچھی طرح سمجھا جا سکتا ہے کہ ا گر آپ محض رسول کی صداقت کا اقرار کرنا چاہتے ہوں تو آپ کہیں گے ”خدا کی قسم رسول برحق ہے“۔ لیکن اگر کچھ لوگ رسول کی صداقت کا انکار کر رہے ہوں تو آپ جواب میں اپنی بات یُوں شروع کر یں گے کہ ”نہیں ، خدا کی قسم رسول بر حق ہے“۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ تم جو …
To begin the discourse with ‘Nay’ by itself indicates that the Surah was sent down to refute some argument which was already in progress. The theme that follows shows that the argument was about Resurrection and life after death, which the people of Makkah were denying and also mocking at it at the same time. This can be understood by an example. If a person only wants to affirm the truth of the Messenger, he will say: By God, the Messenger has come with the truth. But if some people might be denying the truth of the Messenger, he in response would rejoin, thus: Nay, by God, the Messenger has …
افتتح الله - تعالى - هذه السورة الكريمة بقوله - تعالى - : ( لاَ أُقْسِمُ بِيَوْمِ القيامة ) .وللعلماء فى مثل هذا التركيب أقوال منها : أن حرف " لا " هنا جئ به ، لقصد المبالغة فى تأكيد القسم ، كما فى قولهم : لا والله .قال الآلوسى : إدخال " لا " النافية صورة على فعل القسم ، مستفيض فى كلامهم وأشعارهم .ومنه قول امرئ القيس : لا وأبيك يا بنة العامرى . . يعنى : وأبيك .ثم قال : وملخص ما ذهب إليه جار الله فى ذلك ، أن " لا " هذه ، إذا وقعت فى خلال الكلام كقوله - تعالى - ( فَلاَ وَرَبِّكَ لاَ يُؤْمِنُونَ ) فهى صلة تزاد لتأكيد القسم ، مثلها فى قوله - تعالى - : ( لِّئَلاَّ يَعْلَمَ أَهْلُ الكتاب ) لتأكيد …
آیت 1{ لَآ اُقْسِمُ بِیَوْمِ الْقِیٰمَۃِ۔ } ”نہیں ! میں قسم کھاتا ہوں قیامت کے دن کی۔“ لَا یہاں پر معترضین کے دلائل کی نفی کے لیے آیا ہے۔ مطلب یہ کہ تمہیں تو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونا ناممکن نظرآ رہا ہے اور اس بنیاد پر تم لوگ وقوع قیامت کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کر رہے ہو ‘ مگر مجھے اس کے وقوع کے بارے میں اس قدر یقین ہے کہ میں اس کی قسم کھارہا ہوں۔ موقف کے موکد اور موقر ّہونے کے اعتبار سے یہ آیت سورة التغابن کی اس آیت سے گہری مشابہت رکھتی ہے : { قُلْ بَلٰی وَرَبِّیْ لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَـبَّـؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْط } آیت 7 ”اے نبی ﷺ ! آپ کہہ دیجیے : کیوں نہیں ! مجھے میرے رب …
لَا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيَامَةِ (1)افتتاح السورة بالقسم مؤذن بأن ما سيذكر بعده أمر مهم لتستشرف به نفس السامع كما تقدم في عدة مواضع من أقسام القرآن .وكونُ القَسَم بيوم القيامة براعةُ استهلال لأن غرض السورة وصف بيوم القيامة .وفيه أيضاً كون المقسَم به هو المقسَم على أحواله تنبيهاً على زيادة مكانته عند المُقسِم كقول أبي تمام :وثَنايَاك إِنَّها اِغرِيضُ ... ولَآَللٍ تُؤْمٌ وبَرْقٌ ومِيضُكما تقدم عند قوله تعالى : { حم والكتاب المبين إنا جعلناه قرآنا عربياً } في سورة الزخرف ( 1 3 ) .
تسمية السورة • سميت القيامة؛ لافتتاحها بقَسَم الله بيوم القيامة؛ لتعظيمه وتحقق وقوعه. من مقاصد السورة • تأكيد البعث بالإقسام على وقوعه، وإثباتُ الحشر والمعاد بالأدلة والبراهين العقلية، والتذكير بيوم القيامة، وذكرُ بعض أشراطه الدالة على هَوله، والإشارةُ إلى انقسام الخلق فيه إلى سعداء وأشقياء، وذكر وصف كلِّ فريق، وبيانُ حال الإنسان عند الاحتضار، وما يكون فيه من الكرب. • توجيه النبي ﷺ إلى الصفة التي ينبغي أن يكون عليها عند تلقي القرآن من جبريل. [التفسير] أقسم الله سبحانه بيوم الحساب والجزاء، وأقسم بالنفس المؤمنة التقية التي تلوم صاحبها على ترك الطاعات وفِعْل الموبقات، إن الناس سيبعثون. أيظنُّ …
لا اقسم میں لا زائد ہے جو عربی زبان کا ایک اسلوب ہے جیسے ”مَا مَنَعَكَ أَلَّا تَسْجُدَ“ (الأعراف: 12) اور ”لِئَلَّا يَعْلَمَ أَهْلُ الْكِتَابِ“ (الحدید: 29) اور دیگر بہت سے مقامات میں ہے بعض کہتے ہیں کہ قسم سے پہلے کفار کے کلام کا رد ہے وہ کہتے تھے مرنے کے بعد کوئی زندگی نہیں۔لا کے زیعے سے کہا گیا ، جس طرح کہتے ہو معاملہ اس طرح نہیں ہے میں قیامت کے دن کی قسم کھاتا ہوں، قیامت کے دن کی قسم کھانے کا مقصد اس کی اہمیت اور عظمت کو واضح کرنا ہے۔
And from his narration on the authority of Ibn 'Abbas that he said concerning the interpretation of Allah's (Nay, I swear by the Day of Resurrection): '(Nay, I swear by the Day of Resurrection) He says: I swear that the Day of Resurrection will happen;
No commentary keyed to this āyah in: Hilali & Khan, notes (English), Jawāmiʿ al-jāmiʿ (al-Ṭabrisī), Majmaʿ al-bayān (al-Ṭabrisī), Tazkir ul Quran (Urdu), Tazkirul Quran (English).
Bahasa Indonesia Ministry of Religious Affairs · v1.0.1
Aku bersumpah dengan hari Kiamat,
Bahasa Indonesia Sabiq Company · v1.1.3
1. Aku bersumpah dengan hari Kiamat,
Bahasa Indonesia The Complex · v1.0.1
Aku bersumpah demi hari kiamat,
Bosanski Muhammad Mahanovic · v1.1.0
Kunem se Kijametskim danom
Bosanski Rowwad Translation Centre · v2.0.4
Kunem se Kijametskim danom
Cebuano Rowwad Translation Center · v1.1.3
Ako (Dios) nanumpa sa Adlaw sa Pagkabanhaw (ug Paghukom).
Deutsch Frank Bubenheim · v1.1.4
Nein! Ich schwöre beim Tag der Auferstehung.
Deutsch Rowwad Translation Center · v1.0.15
Nein! Ich schwöre beim Tag der Auferstehung.
English Hilali and Khan · v1.1.2
1. I swear by the Day of Resurrection.
English Noor International Center · v1.1.2
I swear by the Day of Resurrection
English Rowwad Translation Center · v1.0.19
I swear by the Day of Resurrection,
Español Isa Garcia · v1.0.2
1. Juro por el Día de la Resurrección,
Español Noor International Center · v1.0.1
Juro por el Día de la Resurrección
Español issued by Noor International · v1.0.1
Juro por el Día de la Resurrección
Français Noor International Center · v1.0.0
1. J’en jure par le Jour de la Résurrection !
Français Rachid Maach · v1.0.3
J’en jure par le Jour de la résurrection !
Fulfulde Rowwad Translation Center · v1.0.2
Mbiɗa woonɗdira ñande ndarnga.
Hausa Abu Bakr Jumi · v1.2.2
Bã sai Nã yi rantsuwa[1] da Rãnar ¡iyãma ba.
Hrvatski Rowwad Translation Center · v1.0.1
Kunem se Smakom svijeta
Kinyarwanda Rwanda Muslim Association · v1.0.5
Ndahiye umunsi w’izuka,
Kirundi Yusuf Gahiti · v1.0.4
Jewe Allah, Ndarahiye ku musi w’izuka ry’ibiremwa n’iharurirwa ryavyo!
Kiswahili Ali Mohsin Al-Barwani · v1.0.1
Ninaapa kwa Siku ya Kiyama! [1]
Kiswahili Rowad Translation Center · v1.0.5
Ninaapa kwa Siku ya Kiyama!
Kurdî Muhammad Salih Bamoki · v1.1.1
سوێند دەخۆم بە ڕۆژی قیامەت
Lietuvių Rowwad Translation Center · v1.0.8
1. Prisiekiu Prikėlimo Diena
Lingála Mohammed Balangogo · v1.0.2
Nalapi na mokolo ya lisekwa,
Maguindanaon Rowwad Translation Center · v1.0.4
Idsapa ku kanu gay a katindeg (nu manga namamatay).
Mòoré Rowwad Translation Center · v1.0.1
M na wẽen ne Yikrã raare.
Nederlands Rowwad Translation Center · v2.0.10
Ik zweer bij de dag der opstanding
Oromoo Gali Ababor · v1.0.3
Miti Guyyaa Qiyaamaatiinin kakadha.
Oʻzbek Alaauddin Mansour · v1.0.0
Мен Қиёмат Кунига қасам ичурман.
Oʻzbek Rowwad Translation Center · v1.0.4
Қиёмат кунига қасам ичаман.
Português Helmi Nasr · v1.4.1
Juro pelo Dia da Ressurreição!
Qafár Mahmoud Abdulqader Hamza · v1.0.1
1. Diggah Yalli Qhiyaamah ayról xiibite.
Română Islam4ro.com · v1.0.4
Nu! Jur pe Ziua Învierii!
Shqip Hassan Nahi · v1.1.0
Betohem në Ditën e Kiametit!
Shqip Rowwad Translation Center · v1.0.5
Betohem në Ditën e Kiametit!
Soomaali Abdullah Hasan Yaqoub · v1.0.26
1. Waxaan ku dhaartay Maalinta Qiyaamaha.
Tagalog Rowwad Translation Center · v1.1.4
Talagang sumusumpa Ako sa Araw ng Pagbangon.
Tiếng Việt Rowwad Translation Center · v1.0.8
TA (Allah) thề bởi Ngày Phục Sinh.
Türkçe Dr. Ali Ozek and others · v1.0.0
Kıyamet gününe yemin ederim.
Türkçe Rowwad Translation Center · v1.0.4
Kıyamet gününe yemin ederim.
Türkçe Shaaban British · v1.1.0
Yemin olsun kıyamet gününe.
Yorùbá Abu Rahimah Mikael · v1.0.9
Èmi (Allāhu) ń fi Ọjọ́ Àjíǹde búra.
Кыргызча Shamsuddin Hakimov · v1.0.2
Мен Кыямат күнүнө ант ичип,
Македонски a group of Macedonian scholars · v1.0.1
1. Се колнам во Денот во којшто Крајот на светот ќе настапи
Српски Rowwad Translation Center · v1.0.4
Кунем се Судњим даном
Тоҷикӣ Rowwad Translation Center · v1.0.2
Ба рӯзи қиёмат савганд мехӯрам
ئۇيغۇرچە Muhammad Saleh · v1.0.2
قىيامەت كۈنى بىلەن قەسەمكى(1)،
اردو Muhammad Junagarhi · v1.1.3
میں قسم کھاتا ہوں قیامت کے دن کی.[1]
فارسی Rowwad Translation Center · v1.1.3
به روز قیامت سوگند میخورم.
پښتو Rowwad Translation Center · v1.0.1
زه د قيامت په ورځ قسم كوم.
ߒߞߏ Baba Mamadi · v1.0.5
ߒ ߧߋ߫ ߒ ߞߊ߬ߟߌ߬ ߟߊ߫ ߟߐ߬ߓߊ ߟߏ߲ ߠߊ߫ ߟߋ߬
हिन्दी Azizul Haq Al-Omari · v1.1.5
मैं क़सम खाता हूँ क़ियामत के दिन[1] की।
অসমীয়া Rafiqul Islam Habibur-Rahman · v1.0.5
মই শপত কৰিছোঁ ক্বিয়ামতৰ দিৱসৰ,
ਪੰਜਾਬੀ Arif Haleem · v1.0.1
ਮੈਂ ਸਹੁੰ ਖਾਂਦਾ ਹਾਂ ਕਿਆਮਤ ਦਿਹਾੜੇ ਦੀ।
ગુજરાતી Rabella Al-Omari · v1.1.3
૧. હું કયામતના દિવસની કસમ ખાઉં છું
தமிழ் Abdulhamid Baqawi · v1.0.1
1. மறுமை நாளின் மீது நான் சத்தியம் செய்கிறேன்.
தமிழ் Abridged Version · v1.0.2
மறுமை நாளின் மீது சத்தியம் செய்கிறேன்!
தமிழ் Omar Sharif · v1.0.3
போர்வை போர்த்தியவரே!
తెలుగు Abdurrahim ibn Muhammad · v1.0.6
అలా కాదు! నేను పునరుత్థాన దినపు శపథం చేస్తున్నాను.
ಕನ್ನಡ Hamza Butur · v1.0.3
ನಾನು ಪುನರುತ್ಥಾನದ ದಿನದ ಮೇಲೆ ಆಣೆ ಮಾಡುತ್ತೇನೆ.
മലയാളം Abdul Hamid Haidar and Kunhi Muhammad · v1.0.3
ഉയിര്ത്തെഴുന്നേല്പിന്റെ നാളുകൊണ്ട് ഞാനിതാ സത്യം ചെയ്യുന്നു.
සිංහල Rowwad Translation Center · v1.0.6
මළවුන් කෙරෙන් නැගිටුවනු ලබන දිනය මත දිවුරමි.
ไทย Rowwad Translation Center · v1.0.1
ข้าขอสาบานต่อวันกิยามะฮ์
አማርኛ Africa Academy · v1.0.1
1. (ሁኔታው ከሓዲያን እንደሚሉት አይደለም):: በትንሳኤ ቀን እምላለሁ::
አማርኛ Muhammad Sadiq · v1.1.2
(ነገሩ ከሓዲዎች እንደሚሉት) አይደለም፡፡ በትንሣኤ ቀን እምላለሁ፡፡
ភាសាខ្មែរ Islamic Community Development Association · v1.0.2
យើង(អល់ឡោះ)ស្បថនឹងថ្ងៃបរលោក។
ភាសាខ្មែរ Rowwad Translation Center · v1.0.4
(អល់ឡោះ)ទ្រង់ស្បថនឹងថ្ងៃបរលោក។
中文 Muhammad Makeen · v1.0.2
我以复活日盟誓,
中文 Muhammad Suleiman · v1.0.8
我以复活日盟誓,
日本語 Saeed Sato · v1.0.13
われはまさに、復活の日*にかけて誓う。[1]
Al-Qiyamah 75 : 2
وَلَآأُقْسِمُبِٱلنَّفْسِٱللَّوَّامَةِ
walaa auqsimu bialnafsi allawaamahi
plays offline — the recitation is inside this file
PickthallNay, I swear by the accusing soul (that this Scripture is true).
Yusuf AliAnd I do call to witness the self-reproaching spirit: (Eschew Evil).
Muhammad Junagarhiاور قسم کھاتا ہوں اس نفس کی جو ملامت کرنے واﻻ ہو.[1]
al-Muyassarتسمية السورة • سميت القيامة؛ لافتتاحها بقَسَم الله بيوم القيامة؛ لتعظيمه وتحقق وقوعه. من مقاصد السورة • تأكيد البعث بالإقسام على وقوعه، وإثباتُ الحشر والمعاد بالأدلة والبراهين العقلية، والتذكير بيوم القيامة، وذكرُ بعض أشراطه الدالة على هَوله، والإشارةُ إلى انقسام الخلق فيه إلى سعداء وأشقياء، وذكر وصف كلِّ فريق، وبيانُ حال الإنسان عند الاحتضار، وما يكون فيه من الكرب. • توجيه النبي ﷺ إلى الصفة التي ينبغي أن يكون عليها عند تلقي القرآن من جبريل. [التفسير] أقسم الله سبحانه بيوم الحساب والجزاء، وأقسم بالنفس المؤمنة التقية التي تلوم صاحبها على ترك الطاعات وفِعْل الموبقات، إن الناس سيبعثون. أيظنُّ …
the agreed readingand I swear by the self that reproaches itself. The commentaries agree the self meant is the one that blames itself even for its good, and that what the two oaths swear to is the raising, named in the question that follows.
اور میں نفسِ لوامہ کی قسم کھاتا ہوں۔ تفسیر مقباس کے مطابق لا اقسم کا صیغہ قسم کا ہی صیغہ ہے، نفی کا حرف اقسم کے فعل پر داخل کیا گیا تاکہ جس چیز کی قسم کھائی جا رہی ہے اس کی حرمت کی تاکید میں مبالغہ ہو، ایسا لگے کہ گویا بولنے والا اس کی قسم کھانے کا ارادہ کرتا ہے پھر اس کی حرمت توڑنے کے خوف سے قسم چھوڑ دیتا ہے۔
ولا أقسم بالنفس اللوامة. جاء في تفسير مقباس أن صيغة لا أقسم صيغة قسم، أدخل حرف النفي على فعل أقسم لقصد المبالغة في تحقيق حرمة المقسم به، بحيث يوهم للسامع أن المتكلم يهم أن يقسم به ثم يترك القسم مخافة الحنث بالمقسم به.
30 of the 36 commentaries carry this āyah
all 30, in their own words
al-Tabarid.923 · ar · PD
القول في تأويل قوله تعالى: ﴿لا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيَامَةِ (١) وَلا أُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِ (٢) أَيَحْسَبُ الإنْسَانُ أَلَّنْ نَجْمَعَ عِظَامَهُ (٣) بَلَى قَادِرِينَ عَلَى أَنْ نُسَوِّيَ بَنَانَهُ (٤) ﴾ . اختلفت القرّاء في قراءة قوله: ﴿لا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيَامَةِ﴾ فقرأت ذلك عامة قرّاء الأمصار: ﴿لا أُقْسِمُ﴾ [لا] [[الحديث ١٣٨- مضى مختصرًا، بهذا الإسناد ١٣٧. وفصلنا القول فيه هناك.]] مفصولة من أقسم، سوى الحسن والأعرج، فإنه ذكر عنهما أنهما كانا يقرآن ذلك ﴿لأقسِمُ بِيَوْمِ القِيامَةِ﴾ بمعنى: أقسم بيوم القيامة، ثم أدخلت عليها لام القسم. والقراءة التي لا أستجيز غيرها في هذا …
Tafsīr al-Qummīd.941 · ar · PD
ولا أقسم بالنفس اللوامة) قال: نفس آدم التي عصت فلامها الله عز وجل قوله (أيحسب الانسان ان لن نجمع عظامه
al-Tibyān (al-Ṭūsī)d.1067 · ar · PD
ولا اقسم بالنفس اللوامة) قسم ثان، ومعناه معنى الأول. وقال الحسن: أقسم تعالى بيوم القيامة ولم يقسم بالنفس اللوامة، بل نفى ان يقسم بها. قال الرماني: وهذا يضعف، لأنه يخرج عن تشاكل الكلام. وقيل: ان جواب القسم محذوف، وتقديره ما الامر على ما تتوهمون. وقال قوم: جواب القسم قوله (بلى قادرين) واللوامة الكثيرة اللوم لقلة رضاها بالامر وتمييز ما يرضى مما لا يرضى، وما يلام عليه مما لا يلام عليه. وقال ابن عباس: اللوامة من اللوم. وقال مجاهد: تلوم على ما مضى وفات. وقال قتادة: اللوامة الفاجرة، كأنه قال ذات اللوام الكثير. وقال سعيد بن جبير: هي التي تلوم على الخير والشر وقيل: معناه لا صبر لها على محن الدنيا …
دإ محذوف، معناه: لأنا أقسم. قالوا: ويعضده أنه في الإمام بغير ألف بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِ بالنفس المتقية التي تلوم النفوس فيه أى في يوم القيامة على تقصيرهن في التقوى أو بالتي لا تزال تلوم نفسها وإن اجتهدت في الإحسان. وعن الحسن: إن المؤمن لا تراه إلا لائما نفسه، وإنّ الكافر يمضى قدما لا يعاتب نفسه [[قوله: «وأن الكافر يمضى قدما لا يعاتب» في الصحاح مضى قدما- بضم الدال-: لم يعرج ولم ينثن اه. (ع)]] . وقيل: هي التي تتلوّم يومئذ على ترك الازدياد إن كانت محسنة. وعلى التفريط إن كانت مسيئة. وقيل: هي نفس آدم، لم تزل تتلوم على فعلها الذي خرجت به من الجنة. وجواب القسم ما دل عليه قوله أَيَحْسَبُ …
م سب اپنے اعمال کا خود آئینہ ہیں یہ کئی دفعہ بیان ہوچکا ہے کہ جس چیز پر قسم کھائی جائے اگر وہ رد کرنے کی چیز ہو تو قسم سے پہلے لا کا کلمہ نفی کی تائید کے لئے لانا جائز ہوتا ہے یہاں قیامت کے ہونے پر اور جاہلوں کے اس قول کی تردید پر قیامت نہ ہوگی قسم کھائی جا رہی ہے تو فرماتا ہے قسم ہے قیامت کے دن کی اور قسم ہے ملامت کرنے والی جان کی، حضرت حسن تو فرماتے ہیں قیامت کی قسم ہے اور ملامت کرنے والے نفس کی قسم نہیں ہے، حضرت قتادہ فرماتے ہیں دونوں کی قسم ہے، حسن اور اعرج کی قرأت آیت (لَآ اُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ ۙ) 75۔ القیامة :1) ہے اس سے بھی حضرت حسن کے قول کی تائید ہوتی ہے اس لئے کہ ان کے نزدیک …
And, nay, I swear by the (self-)reproaching soul, the one that reproaches itself, even if it should expend great effort in being virtuous (the response to the oath has been omitted, that is to say, la-tub‘athunna, ‘you shall indeed be resurrected!’, as indicated by [what follows]):
al-Ṣāfī (Fayḍ al-Kāshānī)d.1680 · ar · PD
ولا اقسم بالنفس اللوامة التي تلوم نفسها أبدا وإن اجتهدت في الطاعة. (3) أيحسب الانسان أن لن نجمع عظامه بعد تفرقها قيل نزلت في عدي بن ربيعة سأل رسول الله (صلى الله عليه وآله) عن أمر القيامة فأخبره به فقال لو عاينت ذلك اليوم لم أصدقك أو يجمع الله هذه العظام. (4) بلى نجمعها
Nūr al-thaqalayn (al-Ḥuwayzī)d.1700 · ar · PD
ولا أقسم بالنفس اللوامة قال: نفس آدم التي عصت فلامها الله عز وجل، قوله:
نفسِ لوّامہ اور نفس کی دوسری اقسام:محققین نے لکھا ہے کہ آدمی کا نفس ایک چیز ہے لیکن اس کی تین حالتوں کے اعتبار سے تین نام ہوگئے ہیں۔ اگر نفس عالم علوی کی طرف مائل ہو اور اللہ کی عبادت و فرمانبرداری میں اس کو خوشی حاصل ہوئی اور شریعت کی پیروی میں سکون اور چین محسوس کیا اس نفس کو "مطمئنہ" کہتے ہیں۔ یٰۤاَیَّتُہَا النَّفۡسُ الۡمُطۡمَئِنَّۃُ۔ ارۡجِعِیۡۤ اِلٰی رَبِّکِ رَاضِیَۃً مَّرۡضِیَّۃً (الفجر۔۲۷،۲۸) اور اگر عالم سفلی کی طرف جھک پڑا اور دنیا کی لذات و خواہشات میں پھنس کر بدی کی طرف رغبت کی اور شریعت کی پیروی سے بھاگا اس کو "نفس امّارہ" کہتے ہیں کیونکہ وہ آدمی کو برائی کا حکم کرتا ہے وَ مَاۤ …
وهي مكية بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ {1} ليست {لا} ها هنا نافية ولا زائدة، وإنَّما أتي بها للاستفتاح والاهتمام بما بعدها، ولكثرة الإتيان بها مع اليمين لا يستغرب الاستفتاح بها، وإن لم تكن في الأصل موضوعة للاستفتاح؛ فالمقسم به في هذا الموضع هو المقسَم عليه، وهو البعث بعد الموت، وقيام الناس من قبورهم، ثم وقوفهم ينتظرون ما يَحْكُمُ به الربُّ عليهم. {2}{ولا أقسم بالنَّفس اللَّوَّامةِ}: وهي جميع النفوس الخيِّرة والفاجرة، سميِّت لوَّامةً لكثرة تلوُّنها وتردُّدها وعدم ثبوتها على حالةٍ من أحوالها، ولأنَّها عند الموت تلوم صاحبها على ما فعلت ، بل نفسُ المؤمن تلومُ صاحبها في الدُّنيا على ما حصل …
کی قسم کھائی گئی ہے، وہی ہے جس پر قسم کھائی گئی ہے اور وہ ہے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا جانا، لوگوں کو ان کی قبروں سے زندہ کر کے اٹھایا جائے گا ، پھر (اللہ تعالیٰ کے حضور) ان کو کھڑا کیا جائے گا، وہ اپنے بارے میں اللہ تعالیٰ کے فیصلے کا انتظار کریں گے۔ [2]﴿وَلَاۤ اُقۡسِمُ بِالنَّفۡسِ اللَّوَّامَةِ﴾ ’’اور نفس لوامہ کی قسم!‘‘ اس سے مراد تمام نیک اور بد نفوس ہیں۔ نفس کو اس کے کثرت تردود، اسے ملامت کرنے اور اپنے احوال میں سے کسی حال پر بھی اس کے عدم ثبات کی بنا پر (لَوَّامۃ) سے موسوم کیا گیا ہے، نیز اس بنا پر اس کو ’’لوامہ‘‘ کہا گیا ہے کہ یہ موت کے وقت انسان کو اس کے افعال پر ملامت کرے گا مگر …
اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَةٌۢ بِالسُّوْۗءِ '...Surely, man's inner self often incites to evil_[ 12:53] ' The second stage of development is called An-nafs-ul-lawwamah 'the self that blames' - translated above as 'the self-reproaching conscience'. The first stage is developed into the second stage when the traveler perform righteousness, and exerts himself in riyadah 'ascetic discipline' and mujahadah 'spiritual struggle'. This Self is conscious of its own imperfections. It regrets its evils and shortcomings, but it is not completely cut off from the evils. The third and highest stage of …
قرآن مجید میں نفسِ انسانی کی تین قسموں کا ذکر کیا گیا ہے ۔ ایک وہ نفس جو انسان کو برائیوں پر اکساتا ہے۔ اس کا نام نفس اَتارہ ہے۔ دوسرا نفس جو غلط کام کرنے یا غلط سوچنے یا بُری نیت رکھنے پر نادم ہو تا ہے اور انسان کو اس پر ملامت کرتا ہے۔ اس کا نام نفسِ لوّامہ ہے اور اسی کو ہم آج کل کی اصطلاح میں ضمیر کہتے ہیں۔ تیسرا وہ نفس جو صحیح راہ پر چلنے اور غلط راہ چھوڑدینے میں اطمینان محسوس کرتا ہے۔ اس کا نام نفسِ مطمئنّہ ہے۔ اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن اور ملامت کرنے والے نفس کی قسم جس بات پر کھائی ہے اُسے بیان نہیں کیا ہے کیونکہ بعد کا فقرہ خود اس بات پر دلالت کررہا ہے۔ قسم اِس بات پر کھائی …
ولا أقسم بالنفس اللوامة " إقسام ثان على ما يقتضيه السياق ومشاكلة اللفظ فلا يعبأ بما قيل: أنه نفي الأقسام وليس بقسم، والمراد أقسم بيوم القيامة ولا أقسم بالنفس اللوامة. والمراد بالنفس اللوامة نفس المؤمن التي تلومه في الدنيا على المعصية والتثاقل في الطاعة وتنفعه يوم القيامة. وقيل: المراد به النفس الانسانية أعم من المؤمنة الصالحة والكافرة الفاجرة فإنها تلوم الانسان يوم القيامة أما الكافرة فإنها تلومه على كفره وفجوره، وأما المؤمنة فإنها تلومه على قلة الطاعة وعدم الاستكثار من الخير. وقيل. المراد نفس الكافر الذي تلومه يوم القيامة على ما قدمت من كفر ومعصية قال تعالى: " وأسروا الندامة لما رأوا العذاب …
والمراد بالنفس اللوامة : النفس التقية المستقيمة التى تلوم ذاتها على ما فات منها ، فهى - مهما أكثرت من فعل الخير - تتمنى أن لو ازدادت من ذلك ، ومهما قللت من فعل الشر ، تمنت - أيضا - أن لو ازدادت من هذا التقليل .قال ابن كثير : عن الحسن البصرى فى هذه الآية : إن المؤمن والله ما نراه إلا يلوم نفسه ، يقول : ما أردت بكلمتى؟ ما أردت بأكلتى؟ . . وإن الفاجر قدما ما يعاتب نفسه .وفى رواية عن الحسن - أيضا - ليس أحد من أهل السموات والأرض إلا يلوم نفسه يوم القيامة .
آیت 2{ وَلَآ اُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَۃِ۔ } ”اور نہیں ! میں قسم کھاتا ہوں نفس لوامہ کی۔“ نفس ِلوامہ ّکے لغوی معنی ہیں ملامت کرنے والا نفس۔ اس سے مراد انسان کا وہ نفس ہے جسے ہم عرف عام میں ضمیر conscience کہتے ہیں۔ اس آیت میں نفس لوامہ یا انسانی ضمیر کو قیام قیامت کی دلیل کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ انسانی نفس لوامہ یا ضمیر ایک ایسی حقیقت ہے جس سے کوئی مسلمان ‘ کافر یا دہریہ انکار نہیں کرسکتا۔ ”میرا ضمیر مجھے ملامت کر رہا ہے“ یا ”My conscience is biting me“ جیسے جملے دنیا بھر کے انسانوں کے ہاں بولے اور سمجھے جاتے ہیں۔ آخر سوچنے کی بات ہے کہ اگر آپ کوئی غلط یا برا کام کریں تو اندر سے کوئی …
وَلَا أُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِ (2) وصيغة لا أقسم } صيغة قسم ، أدخل حرف النفي على فعل { أقسم } لقصد المبالغة في تحقيق حُرْمة المقسَم به بحيث يُوهِم للسامع أن المتكلم يهم أن يقسم به ثم يترك القسم مخافة الحنث بالمقسم به فيقول : لا أقسم به ، أي ولا أقسم بأعزَّ منه عندي ، وذلك كناية عن تأكيد القَسم وتقدم عند قوله تعالى : { فلا أقسم بمواقع النجوم } في سورة الواقعة ( 75 ) .وفيه محسن بديعي من قبيل ما يسمى تأكيد المدح بما يشبه الذم . وهذا لم نذكره فيما مضى ولم يذكره أحد .والقسم بيوم القيامة } باعتباره ظرفاً لما يجري فيه من عدل الله وإفاضة فضله وما يحضره من الملائكة والنفوس المباركة .وتقدم …
تسمية السورة • سميت القيامة؛ لافتتاحها بقَسَم الله بيوم القيامة؛ لتعظيمه وتحقق وقوعه. من مقاصد السورة • تأكيد البعث بالإقسام على وقوعه، وإثباتُ الحشر والمعاد بالأدلة والبراهين العقلية، والتذكير بيوم القيامة، وذكرُ بعض أشراطه الدالة على هَوله، والإشارةُ إلى انقسام الخلق فيه إلى سعداء وأشقياء، وذكر وصف كلِّ فريق، وبيانُ حال الإنسان عند الاحتضار، وما يكون فيه من الكرب. • توجيه النبي ﷺ إلى الصفة التي ينبغي أن يكون عليها عند تلقي القرآن من جبريل. [التفسير] أقسم الله سبحانه بيوم الحساب والجزاء، وأقسم بالنفس المؤمنة التقية التي تلوم صاحبها على ترك الطاعات وفِعْل الموبقات، إن الناس سيبعثون. أيظنُّ …
عنی بھلائی پر بھی کرتا ہے کہ زیادہ کیوں نہیں کی۔ اور برائی پر بھی، کہ اس سے باز کیوں نہیں آتا؟ دنیا میں بھی جن کے ضمیر بیدار ہوتے ہیں ان کے نفس انہیں ملامت کرتے ہیں، تاہم آخرت میں تو سب کے ہی نفس ملامت کریں گے۔
He took an oath by the pure soul that reproaches its owner for falling short in righteous deeds and for doing wrong deeds. He took an oath by these two things that He will certainly resurrect people for reckoning and recompense.
(Nay, I swear by the accusing soul (that this Scripture is true)) and I swear by every righteous and sinful soul that will blame itself on the Day of Resurrection. As for the righteous soul, it will say: if only I did more righteous works. And as for the sinful soul, it will say: if only I abstained from committing sins. Both souls will say this upon seeing the reward and punishment awaiting each one of them respectively. It is also said that the accusing soul in question is the soul that reproaches itself; and it is also said: it is the soul that repents of its sins and reproaches itself for …
No commentary keyed to this āyah in: Fi Zilal al-Quran (Urdu), Hilali & Khan, notes (English), Jawāmiʿ al-jāmiʿ (al-Ṭabrisī), Majmaʿ al-bayān (al-Ṭabrisī), Tazkir ul Quran (Urdu), Tazkirul Quran (English).
plays offline — the recitation is inside this file
PickthallThinketh man that We shall not assemble his bones?
Yusuf AliDoes man think that We cannot assemble his bones?
Muhammad Junagarhiکیا انسان یہ خیال کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیاں جمع کریں گے ہی نہیں.[1]
al-Muyassarتسمية السورة • سميت القيامة؛ لافتتاحها بقَسَم الله بيوم القيامة؛ لتعظيمه وتحقق وقوعه. من مقاصد السورة • تأكيد البعث بالإقسام على وقوعه، وإثباتُ الحشر والمعاد بالأدلة والبراهين العقلية، والتذكير بيوم القيامة، وذكرُ بعض أشراطه الدالة على هَوله، والإشارةُ إلى انقسام الخلق فيه إلى سعداء وأشقياء، وذكر وصف كلِّ فريق، وبيانُ حال الإنسان عند الاحتضار، وما يكون فيه من الكرب. • توجيه النبي ﷺ إلى الصفة التي ينبغي أن يكون عليها عند تلقي القرآن من جبريل. [التفسير] أقسم الله سبحانه بيوم الحساب والجزاء، وأقسم بالنفس المؤمنة التقية التي تلوم صاحبها على ترك الطاعات وفِعْل الموبقات، إن الناس سيبعثون. أيظنُّ …
the agreed readingDoes man think We shall not gather his bones? The commentaries agree the question is the denial itself, put back to him as a question.
کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیاں جمع نہیں کریں گے؟ رازی قسم کے جواب کے بارے میں کئی پہلو ذکر کرتے ہیں، ایک یہ کہ جواب محذوف ہے، یہ اکثر مفسرین کا قول ہے۔ تفسیر مقباس کے مطابق قسم کا جواب اسی آیت ایحسب الانسان الن نجمع عظامہ سے لیا جاتا ہے، کیونکہ اس کی تقدیر یہ ہے کہ ہم ضرور انسان کی ہڈیاں جمع کریں گے۔
أيحسب الإنسان ألن نجمع عظامه. ذكر الرازي في جواب القسم وجوها، أحدها وهو قول الجمهور أنه محذوف. وفي تفسير مقباس أن جواب القسم يؤخذ من قوله أيحسب الإنسان أن لن نجمع عظامه لأنه دليل الجواب، إذ التقدير لنجمعن عظام الإنسان.
No Shīʿī edition could be anchored to this āyah by the alignment; the commentary exists in the books, the method could not point at it.
25 of the 36 commentaries carry this āyah
all 25, in their own words
al-Tabarid.923 · ar · PD
القول في تأويل قوله تعالى: ﴿لا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيَامَةِ (١) وَلا أُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِ (٢) أَيَحْسَبُ الإنْسَانُ أَلَّنْ نَجْمَعَ عِظَامَهُ (٣) بَلَى قَادِرِينَ عَلَى أَنْ نُسَوِّيَ بَنَانَهُ (٤) ﴾ . اختلفت القرّاء في قراءة قوله: ﴿لا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيَامَةِ﴾ فقرأت ذلك عامة قرّاء الأمصار: ﴿لا أُقْسِمُ﴾ [لا] [[الحديث ١٣٨- مضى مختصرًا، بهذا الإسناد ١٣٧. وفصلنا القول فيه هناك.]] مفصولة من أقسم، سوى الحسن والأعرج، فإنه ذكر عنهما أنهما كانا يقرآن ذلك ﴿لأقسِمُ بِيَوْمِ القِيامَةِ﴾ بمعنى: أقسم بيوم القيامة، ثم أدخلت عليها لام القسم. والقراءة التي لا أستجيز غيرها في هذا …
لنفوس فيه أى في يوم القيامة على تقصيرهن في التقوى أو بالتي لا تزال تلوم نفسها وإن اجتهدت في الإحسان. وعن الحسن: إن المؤمن لا تراه إلا لائما نفسه، وإنّ الكافر يمضى قدما لا يعاتب نفسه [[قوله: «وأن الكافر يمضى قدما لا يعاتب» في الصحاح مضى قدما- بضم الدال-: لم يعرج ولم ينثن اه. (ع)]] . وقيل: هي التي تتلوّم يومئذ على ترك الازدياد إن كانت محسنة. وعلى التفريط إن كانت مسيئة. وقيل: هي نفس آدم، لم تزل تتلوم على فعلها الذي خرجت به من الجنة. وجواب القسم ما دل عليه قوله أَيَحْسَبُ الْإِنْسانُ أَلَّنْ نَجْمَعَ عِظامَهُ وهو لتبعثن. وقرأ قتادة: أن لن نجمع عظامه، على البناء للمفعول. والمعنى: نجمعها بعد تفرقها …
م سب اپنے اعمال کا خود آئینہ ہیں یہ کئی دفعہ بیان ہوچکا ہے کہ جس چیز پر قسم کھائی جائے اگر وہ رد کرنے کی چیز ہو تو قسم سے پہلے لا کا کلمہ نفی کی تائید کے لئے لانا جائز ہوتا ہے یہاں قیامت کے ہونے پر اور جاہلوں کے اس قول کی تردید پر قیامت نہ ہوگی قسم کھائی جا رہی ہے تو فرماتا ہے قسم ہے قیامت کے دن کی اور قسم ہے ملامت کرنے والی جان کی، حضرت حسن تو فرماتے ہیں قیامت کی قسم ہے اور ملامت کرنے والے نفس کی قسم نہیں ہے، حضرت قتادہ فرماتے ہیں دونوں کی قسم ہے، حسن اور اعرج کی قرأت آیت (لَآ اُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ ۙ) 75۔ القیامة :1) ہے اس سے بھی حضرت حسن کے قول کی تائید ہوتی ہے اس لئے کہ ان کے نزدیک …
Does man, that is, [does] the disbeliever, suppose that We shall not assemble his bones?, for the raising [from the graves] and [for] the bringing back to life.
اں جمع کر دی جائینگی:یعنی یہ خیال ہے کہ ہڈیوں تک کا چورا ہو گیا اور ان کے ریزے مٹی وغیرہ کے ذرات میں جاملے۔ بھلا اب کس طرح اکٹھے کر کے جوڑ دیئے جائینگے؟ یہ چیز تو محال معلوم ہوتی ہے۔
وهي مكية بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ {1} ليست {لا} ها هنا نافية ولا زائدة، وإنَّما أتي بها للاستفتاح والاهتمام بما بعدها، ولكثرة الإتيان بها مع اليمين لا يستغرب الاستفتاح بها، وإن لم تكن في الأصل موضوعة للاستفتاح؛ فالمقسم به في هذا الموضع هو المقسَم عليه، وهو البعث بعد الموت، وقيام الناس من قبورهم، ثم وقوفهم ينتظرون ما يَحْكُمُ به الربُّ عليهم. {2}{ولا أقسم بالنَّفس اللَّوَّامةِ}: وهي جميع النفوس الخيِّرة والفاجرة، سميِّت لوَّامةً لكثرة تلوُّنها وتردُّدها وعدم ثبوتها على حالةٍ من أحوالها، ولأنَّها عند الموت تلوم صاحبها على ما فعلت ، بل نفسُ المؤمن تلومُ صاحبها في الدُّنيا على ما حصل …
میں قسم کھاتا ہوں یوم قیامت کی(1) اور میں قسم کھاتا ہوں نفس ملامت گر کی(2) کیا سمجھتا ہے انسان یہ کہ ہرگز نہیں جمع کریں گے ہم اس کی ہڈیاں؟(3) کیوں نہیں!بلکہ (ہم تو) قادر ہیں اس پر کہ درست کر دیں ہم اس کی پور پور کو(4)بلکہ چاہتا ہے انسان کہ فسق و فجور کرتا رہے آئندہ بھی(5) وہ پوچھتا ہے کب ہو گا دن قیامت کا ؟(6) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1]﴿ لَاۤ اُقۡسِمُ بِيَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ﴾ ’’میں قسم کھاتا ہوں قیامت کے دن کی۔‘‘ (لَاۤ) یہاں نافیہ ہے نہ زائدہ، اسے صرف استفتاح اور ما بعد کلام کے اہتمام کے لیے لایا گیا ہے، قسم کے ساتھ کثرت سے اس کو لانے کی بنا پر استفتاح کے لیے …
ایحسب ........................ بنانہ (57 : 3۔ 4) ” کیا انسان یہ سمجھ رہا ہے کہ ہم اس کی ہڈیوں کو جمع نہ کرسکیں گے ؟ کیوں نہیں ؟ ہم تو اس کی انگلیوں کی پور پور تک ٹھیک بنادینے پر قادر ہیں “۔ مشرکین مکہ اس شعوری خلجان میں مبتلا تھے کہ پرانی ہڈیوں کو کس طرح یکجا کرکے انسان بنادیا جائے گا جبکہ یہ ریزہ ریزہ ہوکر مٹی میں مل گئی ہوں اور زمین میں بکھر گئی ہوں ، کس طرح انسان کو بعینہ اسی طرح دوبارہ اٹھایا جائے گا۔ اور یہ خلجان آج تک بعض دلوں میں موجود ہے۔ قرآن کریم اس کی تردید نہایت تاکید کے ساتھ کرتا ہے کہ ہاں ایسا ہی ہوگا اور لازماً ہوگا۔
اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَةٌۢ بِالسُّوْۗءِ '...Surely, man's inner self often incites to evil_[ 12:53] ' The second stage of development is called An-nafs-ul-lawwamah 'the self that blames' - translated above as 'the self-reproaching conscience'. The first stage is developed into the second stage when the traveler perform righteousness, and exerts himself in riyadah 'ascetic discipline' and mujahadah 'spiritual struggle'. This Self is conscious of its own imperfections. It regrets its evils and shortcomings, but it is not completely cut off from the evils. The third and highest stage of …
اوپر کی دو دلیلیں ، جو قسم کی صور ت میں بیان کی گئی ہیں، صرف دو باتیں ثابت کرتی ہیں۔ ایک یہ کہ دنیا کا خاتمہ (یعنی قیامت کا پہلا مرحلہ )ایک یقینی امر ہے۔ دوسرے یہ کہ موت کے بعد دوسری زندگی ضروری ہے کیونکہ اس کے بغیر انسان کے ایک اخلاقی وجود ہونے کے منطقی اور فطری تقاضے پُورے نہیں ہو سکتے ، اور یہ امر ضرور واقع ہونے والا ہے، کیونکہ انسان کے اندر ضمیر کی موجودگی اِس پر گواہی دے رہی ہے۔ اب یہ تیسری دلیل یہ ثابت کرنے کے لیے پیش کی گئی ہے کہ زندگی بعدِ موت ممکن ہے۔ مکہ میں جو لوگ اس کا انکار کرتے تھے وہ بار بار یہ کہتے تھے کہ آخر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ جن لوگون کو مرے ہوئے سینکڑوں ہزاروں برس گزر …
The above two arguments, which have been presented in the form of the oaths, only prove two things. First, that the end of the world (i.e. the first stage of Resurrection) is a certainty; and second, that another life after death is necessary, for without it the logical and natural demands of man’s being a moral being cannot be fulfilled; and this will certainly happen, for the existence of the conscience in man testifies to it. Now, this third argument has been given to prove that life after death is possible. The people of Makkah who denied it, said again and again: How can it be that the …
وجواب القسم يفهم من قوله - تعالى - بعد ذلك : ( أَيَحْسَبُ الإنسان أَلَّن نَّجْمَعَ عِظَامَهُ ) . والمراد بالإِنسان : جنسه . أو المراد به الكافر المنكر للبعث . والاستفهام للتوبيخ والتقريع .وقد ذكروا فى سبب نزول هذه الآية أن بعض المشركين قالوا للنبى صلى الله عليه وسلم : يا محمد حدثنى عن يوم القيامة ، فأخبره صلى الله عليه وسلم عنه .فقال المشرك : لو عاينت ذلك اليوم لم أصدقك - يا محمد - أو يجمع الله العظام . فنزلت هذه الآية .والمعنى : أقسم بيوم القيامة الذى لا شك فى وقوعه فى الوقت الذى نشاؤه ، وأقسم بالنفس اللوامة التقية التى تلوم ذاتها على الخير ، لماذا لم تستكثر منه ، وعلى الشر لماذا فعلته …
أَيَحْسَبُ الْإِنْسَانُ أَلَّنْ نَجْمَعَ عِظَامَهُ (3)وجواب القسم يؤخذ من قوله : { أيحسب الإِنسان أن لن نجمع عظامه } لأنه دليل الجواب إذ التقدير : لنجمعن عظام الإِنسان أيحسب الإِنسان أن لن نجمع عظامه .وفي «الكشاف» «قالوا إنه ( أي لا أقسم ) في الإِمام بغير ألف» وتبرأ منه بلفظ ( قالوا ) لأنه مخالف للموجود في المصاحف . وقد نسب إلى البزي عن ابن كثير أنه قرأ { لأقسم } الأول دون ألف وهي رواية عنه ذكرها الشيخ علي النوري في «غيث النفع» ولم يذكرها الشاطبي . واقتصر ابن عطية على نسبتها إلى ابن كثير دون تقييد ، فتكون اللام لامَ قسم . والمشهور عن ابن كثير خلاف ذلك ، وعطف قوله : { ولا أقسم } تأكيداً للجملة …
تسمية السورة • سميت القيامة؛ لافتتاحها بقَسَم الله بيوم القيامة؛ لتعظيمه وتحقق وقوعه. من مقاصد السورة • تأكيد البعث بالإقسام على وقوعه، وإثباتُ الحشر والمعاد بالأدلة والبراهين العقلية، والتذكير بيوم القيامة، وذكرُ بعض أشراطه الدالة على هَوله، والإشارةُ إلى انقسام الخلق فيه إلى سعداء وأشقياء، وذكر وصف كلِّ فريق، وبيانُ حال الإنسان عند الاحتضار، وما يكون فيه من الكرب. • توجيه النبي ﷺ إلى الصفة التي ينبغي أن يكون عليها عند تلقي القرآن من جبريل. [التفسير] أقسم الله سبحانه بيوم الحساب والجزاء، وأقسم بالنفس المؤمنة التقية التي تلوم صاحبها على ترك الطاعات وفِعْل الموبقات، إن الناس سيبعثون. أيظنُّ …
جواب قسم ہے انسان سے مراد یہاں کافر اور بےدین انسان ہے جو قیامت کو نہیں مانتا۔ اس کا گمان غلط ہے، اللہ تعالٰی یقینا انسانوں کے اجزا کو جمع فرمائے گا یہاں ہڈیوں کا بطور خاص ذکر ہے، اس لیئے کہ ہڈیاں ہی پیدائش کا اصل ڈھانچہ اور قالب ہیں۔
(Thinketh man) does the disbelieving man, 'Adiyy Ibn Rabi'ah, think because he did not believe in the resurrection (that We shall not assemble his bones) that We are not able to gather his bones after they scatter, change and turn into dust?
No commentary keyed to this āyah in: Bayan ul Quran (Urdu), Hilali & Khan, notes (English), Jawāmiʿ al-jāmiʿ (al-Ṭabrisī), Majmaʿ al-bayān (al-Ṭabrisī), Nūr al-thaqalayn (al-Ḥuwayzī), Tafsīr al-Qummī, Tazkir ul Quran (Urdu), Tazkirul Quran (English), al-Mīzān (Ṭabāṭabāʾī), al-Tibyān (al-Ṭūsī), al-Ṣāfī (Fayḍ al-Kāshānī).
the words of this āyah — root, frequency, family
أ
occurs 513 timesamong the commonest 300 words
حَسِبَ
occurs 44 timesroot حسب occurs 109among the commonest 300 words
حَسِبَ44حِساب39حَسْب11حَسِيب4حاسَبْ3حُسْبان3
ال
occurs 8377 timesamong the commonest 300 words
إِنسان
occurs 71 timesroot أنس occurs 338among the commonest 300 words
ناس241إِنسان71إِنس18آنَسَ5إِنسِيّ1تَسْتَأْنِسُ1
أَن
occurs 616 timesamong the commonest 300 words
لَن
occurs 106 timesamong the commonest 300 words
جَمَعَ
occurs 22 timesroot جمع occurs 129
جَمِيع53أَجْمَع26جَمَعَ22جَمْع13أَجْمَعُ4جامِع3
عِظام
occurs 13 timesroot عظم occurs 128
عَظِيم107عِظام13أَعْظَم3عَظْم2يُعَظِّمْ2يُعْظِمْ1
this āyah in 55 languages — 74 translations
Akan Harun Ismail · v1.0.3
Enti onipa dwen sε, Yε’moaboa ne nnompe ano (nnyane no mmu no atεn)?
Azərbaycan Ali Khan Musayev · v1.0.4
Məgər insan (ölüb çürüdükdən sonra) onun sümüklərini bir yerə yığa bilməyəcəyimizimi zənn edir?!
Bahasa Indonesia Ministry of Religious Affairs · v1.0.1
Apakah manusia mengira, bahwa Kami tidak akan mengumpulkan (kembali) tulang belulangnya?
Bahasa Indonesia Sabiq Company · v1.1.3
3. Apakah manusia mengira, bahwa Kami tidak akan mengumpulkan (kembali) tulang belulangnya?
Bahasa Indonesia The Complex · v1.0.1
Apakah manusia mengira, bahwa Kami tidak akan mengumpulkan (kembali) tulang belulangnya?
Bosanski Muhammad Mahanovic · v1.1.0
Zar čovjek misli da kosti njegove nećemo sakupiti?!
Bosanski Rowwad Translation Centre · v2.0.4
Zar čovjek misli da kosti njegove nećemo sakupiti?!
Cebuano Rowwad Translation Center · v1.1.3
Naghunahuna ba tawo nga Kami dili magtapok iyang mga ka-bukogan 'sa pagbanhaw kaniya alang Paghukom'?
Deutsch Frank Bubenheim · v1.1.4
Meint der Mensch (etwa), daß Wir seine Knochen nicht zusammenfügen werden?
Deutsch Rowwad Translation Center · v1.0.15
Denkt der Mensch (etwa), dass Wir seine Knochen nicht zusammenfügen werden?
English Hilali and Khan · v1.1.2
3. Does man (a disbeliever) think that We shall not assemble his bones?
English Noor International Center · v1.1.2
Does man think that We will not assemble his bones?
English Rowwad Translation Center · v1.0.19
Does man think that We cannot reassemble his bones?
Español Isa Garcia · v1.0.2
3. ¿Acaso cree el ser humano que no volveré a reunir sus huesos?
Español Noor International Center · v1.0.1
¿Acaso piensa el hombre que no reuniremos sus huesos (tras su muerte)?
Español issued by Noor International · v1.0.1
¿Acaso piensa el hombre que no reuniremos sus huesos (tras su muerte)?
Français Noor International Center · v1.0.0
3. L’homme s’imagine-t-il que Nous ne rassemblerons pas ses os ?
Français Rachid Maach · v1.0.3
L’homme croit-il que Nous ne pourrons rassembler ses os ?
Fulfulde Rowwad Translation Center · v1.0.2
Mbela aade sikkat min ndenndintah ƴi'e makko.
Hausa Abu Bakr Jumi · v1.2.2
Sin, mutum yana zaton cẽwa bã zã Mu tãra ƙasusuwansa ba?
Hrvatski Rowwad Translation Center · v1.0.1
Zar čovjek misli da kosti njegove nećemo sakupiti?!
Kinyarwanda Rwanda Muslim Association · v1.0.5
Ese umuntu (w’umuhakanyi) akeka ko tutazakoranya amagufa ye (tumuzura)?
Kirundi Yusuf Gahiti · v1.0.4
Mbega, umuntu w’umugarariji yibaza ko Tutazosubira kwegeranya amagufa yiwe inyuma yo gupfa!
Kiswahili Ali Mohsin Al-Barwani · v1.0.1
Anadhani mtu kuwa Sisi hatutaikusanya mifupa yake? [3]
Kiswahili Rowad Translation Center · v1.0.5
Anadhani mtu kuwa Sisi hatutaikusanya mifupa yake?
plays offline — the recitation is inside this file
PickthallYea, verily. We are Able to restore his very fingers!
Yusuf AliNay, We are able to put together in perfect order the very tips of his fingers.
Muhammad Junagarhiہاں ضرور کریں گے ہم تو قادر ہیں کہ اس کی پور پور تک درست کردیں.[1]
al-Muyassarتسمية السورة • سميت القيامة؛ لافتتاحها بقَسَم الله بيوم القيامة؛ لتعظيمه وتحقق وقوعه. من مقاصد السورة • تأكيد البعث بالإقسام على وقوعه، وإثباتُ الحشر والمعاد بالأدلة والبراهين العقلية، والتذكير بيوم القيامة، وذكرُ بعض أشراطه الدالة على هَوله، والإشارةُ إلى انقسام الخلق فيه إلى سعداء وأشقياء، وذكر وصف كلِّ فريق، وبيانُ حال الإنسان عند الاحتضار، وما يكون فيه من الكرب. • توجيه النبي ﷺ إلى الصفة التي ينبغي أن يكون عليها عند تلقي القرآن من جبريل. [التفسير] أقسم الله سبحانه بيوم الحساب والجزاء، وأقسم بالنفس المؤمنة التقية التي تلوم صاحبها على ترك الطاعات وفِعْل الموبقات، إن الناس سيبعثون. أيظنُّ …
the agreed readingYes indeed — We are able to shape his very fingertips again. The commentaries take the fingertips as the point: if the smallest and finest parts can be restored exactly, the rest is no difficulty at all.
کیوں نہیں، ہم اس کی انگلیوں کی پور پور تک درست کرنے پر قادر ہیں۔ تفسیر مقباس کے مطابق قادرین ضمیر سے حال ہے اس محذوف فعل کی جو بلی کے بعد آتا ہے، جس پر ان لن نجمع دلالت کرتا ہے، یعنی بلکہ ہم انہیں اپنی اس قدرت کی حالت میں جمع کریں گے کہ اس کی پور پور تک درست کر دیں۔ بیان القرآن بتاتے ہیں کہ یہاں بلی کے بعد لفظ کنا محذوف ہے۔
بلى قادرين على أن نسوي بنانه. جاء في تفسير مقباس أن قادرين حال من الضمير في الفعل المحذوف بعد بلى الذي يدل عليه قوله أن لن نجمع، أي بل نجمعها في حال قدرتنا على أن نسوي بنانه. وذكر صاحب بيان القرآن أن بعد بلى محذوف لفظ كنا.
31 of the 36 commentaries carry this āyah
all 31, in their own words
al-Tabarid.923 · ar · PD
القول في تأويل قوله تعالى: ﴿لا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيَامَةِ (١) وَلا أُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِ (٢) أَيَحْسَبُ الإنْسَانُ أَلَّنْ نَجْمَعَ عِظَامَهُ (٣) بَلَى قَادِرِينَ عَلَى أَنْ نُسَوِّيَ بَنَانَهُ (٤) ﴾ . اختلفت القرّاء في قراءة قوله: ﴿لا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيَامَةِ﴾ فقرأت ذلك عامة قرّاء الأمصار: ﴿لا أُقْسِمُ﴾ [لا] [[الحديث ١٣٨- مضى مختصرًا، بهذا الإسناد ١٣٧. وفصلنا القول فيه هناك.]] مفصولة من أقسم، سوى الحسن والأعرج، فإنه ذكر عنهما أنهما كانا يقرآن ذلك ﴿لأقسِمُ بِيَوْمِ القِيامَةِ﴾ بمعنى: أقسم بيوم القيامة، ثم أدخلت عليها لام القسم. والقراءة التي لا أستجيز غيرها في هذا …
Tafsīr al-Qummīd.941 · ar · PD
بلى قادرين على أن نسوي بنانه) قال: أطراف الأصابع لو شاء الله يسويها قوله (
al-Tibyān (al-Ṭūsī)d.1067 · ar · PD
بلى قادرين على أن نسوي بنانه) قال ابن عباس: يجعل بنانه كالخف والحافر فيتناول المأكول بفيه، ولكننا مننا عليه. وقال قتادة كخف البحير أو حافر الدابة. ونصب (قادرين) على أحد وجهين: أحدهما - على تقدير بلى نجمعها قادرين. والاخر - بلى نقدر قادرين إلا أنه لم يظهر (نقدر) لدلالة (قادرين) عليه، فاستغني به. وقيل: معناه بلى قادرين على أن نسوي بنانه حتى نعيده على ما كان عليه خلقا سويا. وقوله (
في نجمع، أى: نجمع العظام قادرين على تأليف جميعها وإعادتها إلى التركيب الأول، إلى أن نسوى بنانه أى: أصابعه التي هي أطرافه، وآخر ما يتم به خلقه. أو على أن نسوى بنانه ونضم سلامياته على صغرها ولطافتها بعضها إلى بعض كما كانت أولا من غير نقصان ولا تفاوت، فكيف بكبار العظام. وقيل: معناه بلى نجمعها ونحن قادرون على أن نسوى أصابع يديه ورجليه، أى نجعلها مستوية شيئا واحدا كخف البعير وحافر الحمار لا تفرق بينها، فلا يمكنه أن يعمل بها شيئا مما يعمل بأصابعه المفرقة ذات المفاصل والأنامل من فنون الأعمال، والبسط والقبض، والتأتى لما يريد من الحوائج. وقرئ قادرون، أى: نحن قادرون، بَلْ يُرِيدُ عطف على أَيَحْسَبُ …
م سب اپنے اعمال کا خود آئینہ ہیں یہ کئی دفعہ بیان ہوچکا ہے کہ جس چیز پر قسم کھائی جائے اگر وہ رد کرنے کی چیز ہو تو قسم سے پہلے لا کا کلمہ نفی کی تائید کے لئے لانا جائز ہوتا ہے یہاں قیامت کے ہونے پر اور جاہلوں کے اس قول کی تردید پر قیامت نہ ہوگی قسم کھائی جا رہی ہے تو فرماتا ہے قسم ہے قیامت کے دن کی اور قسم ہے ملامت کرنے والی جان کی، حضرت حسن تو فرماتے ہیں قیامت کی قسم ہے اور ملامت کرنے والے نفس کی قسم نہیں ہے، حضرت قتادہ فرماتے ہیں دونوں کی قسم ہے، حسن اور اعرج کی قرأت آیت (لَآ اُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ ۙ) 75۔ القیامة :1) ہے اس سے بھی حضرت حسن کے قول کی تائید ہوتی ہے اس لئے کہ ان کے نزدیک …
Yes, indeed!, We shall assemble them. We are able, in addition to assembling them, to reshape [even] his fingers, that is to say, to restore their bones just as they had been, despite their smallness: so how much more so [are We able to restore] the larger ones!
al-Ṣāfī (Fayḍ al-Kāshānī)d.1680 · ar · PD
قادرين على أن نسوي بنانه بجمع سلامياته وضم بعضها إلى بعض كما كانت مع صغرها ولطافتها فكيف بكبار العظام القمي قال أطراف الأصابع لو شاء الله لسواها. (5)
انگلی کی پوریاں:یعنی ہم تو انگلیوں کی پوریاں بھی درست کر سکتے ہیں اور پوریوں کی تخصیص شاید اس لئے کی کہ یہ اطراف بدن ہیں اور ہر چیز کے بننے کی تکمیل اس کے اطراف پر ہوتی ہے۔ چنانچہ ہمارے محاورہ میں ایسے موقع پر بولتے ہیں کہ میرے پور پور میں درد ہے۔ اس سے مراد تمام بدن ہوتا ہے۔ دوسرے پوریوں میں باوجود چھوٹی ہونے کے صنعت کی رعایت زیادہ اور عادۃً یہ زیادہ دشوار اور باریک کام ہے۔ لھذا جو اس پر قادر ہوگا وہ آسان پر بطریق اولٰی قادر ہوگا۔
وهي مكية بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ {1} ليست {لا} ها هنا نافية ولا زائدة، وإنَّما أتي بها للاستفتاح والاهتمام بما بعدها، ولكثرة الإتيان بها مع اليمين لا يستغرب الاستفتاح بها، وإن لم تكن في الأصل موضوعة للاستفتاح؛ فالمقسم به في هذا الموضع هو المقسَم عليه، وهو البعث بعد الموت، وقيام الناس من قبورهم، ثم وقوفهم ينتظرون ما يَحْكُمُ به الربُّ عليهم. {2}{ولا أقسم بالنَّفس اللَّوَّامةِ}: وهي جميع النفوس الخيِّرة والفاجرة، سميِّت لوَّامةً لكثرة تلوُّنها وتردُّدها وعدم ثبوتها على حالةٍ من أحوالها، ولأنَّها عند الموت تلوم صاحبها على ما فعلت ، بل نفسُ المؤمن تلومُ صاحبها في الدُّنيا على ما حصل …
میں قسم کھاتا ہوں یوم قیامت کی(1) اور میں قسم کھاتا ہوں نفس ملامت گر کی(2) کیا سمجھتا ہے انسان یہ کہ ہرگز نہیں جمع کریں گے ہم اس کی ہڈیاں؟(3) کیوں نہیں!بلکہ (ہم تو) قادر ہیں اس پر کہ درست کر دیں ہم اس کی پور پور کو(4)بلکہ چاہتا ہے انسان کہ فسق و فجور کرتا رہے آئندہ بھی(5) وہ پوچھتا ہے کب ہو گا دن قیامت کا ؟(6) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1]﴿ لَاۤ اُقۡسِمُ بِيَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ﴾ ’’میں قسم کھاتا ہوں قیامت کے دن کی۔‘‘ (لَاۤ) یہاں نافیہ ہے نہ زائدہ، اسے صرف استفتاح اور ما بعد کلام کے اہتمام کے لیے لایا گیا ہے، قسم کے ساتھ کثرت سے اس کو لانے کی بنا پر استفتاح کے لیے …
بلی قدرین .................... بنانہ (75:4) ” کیوں نہیں ہم تو اس کی انگلیوں کی پور پور تک ٹھیک بنادینے پر قادر ہیں “۔ بنان انگلیوں کے اگلے سرے کو کہتے ہیں۔ مفہوم کے اندر تاکید یوں پیدا کی جاتی ہے کہ ہڈیوں کو ہم تو پورے پورے تک بنادیں گے اور جب کوئی ایک ایک پورا بناسکتا ہے اس کے لئے ہڈیاں جمع کرنا کیا مشکل ہے۔ مقصد ہے کہ انسان کے ایک ایک جزء کو دوبارہ جمع کردیا جائے گا اور کوئی جز نہ رہ جائے گا۔ پورے کا پورا آموجود ہوگا ، خواہ چھوٹا حصہ ہو یا بڑا۔ یہاں تو یہ کہہ دیا ، لیکن سورت کے آخر میں دوبارہ تخلیق پر ایک دوسری دلیل بھی لائی گئی ہے۔ یہاں تو صرف ان کے خلجان اور اس کے ظاہری سبب کا اظہار کردیا …
بَلٰى قٰدِرِيْنَ عَلٰٓي اَنْ نُّسَوِّيَ بَنَانَهٗ (Yes! We are able to reset [ even ] his fingertips perfectly... 75:4). Man is amazed and surprised and thinks that Allah is unable to gather his tiny particles that have been scattered and reassemble his decomposed bones and give him a new life. The verse effectively rebuts this objection by saying that this has happened once before. Every man who grows and develops in the world, his body is composed of particles and elements gathered from different parts of the world. Allah has infinite power to do anything. He will gather the disintegrated …
عنی بڑی بڑی ہڈیوں کو جمع کر کے تمہارا ڈھانچہ پھر سے کھڑا کر دینا تو درکنار، ہم تو اس بات پر بھی قادر ہیں کہ تمہارے نازک ترین اجزائے جسم حتیٰ کہ تمہاری انگلیوں کی پوروں تک پھر ویسا ہی بنا دیں جیسی وہ پہلے تھیں۔
That is, not to speak of building up your skeleton once again by gathering together the major bones? We are able to make whole the most delicate parts of your body, even your finger tips, as they used to be before.
بلى قادرين على أن نسوي بنانه " أي بلى نجمعها " وقادرين " حال من فاعل مدخول بلى المقدر، والبنان أطراف الأصابع وقيل: الأصابع وتسوية البنان تصويرها على ما هي عليها من الصور، والمعنى بلى نجمعها والحال أنا قادرون على أن نصور بنانه على صورها التي هي عليها بحسب خلقنا الأول. وتخصيص البنان بالذكر - لعله - للإشارة إلى عجيب خلقها بما لها من الصور وخصوصيات التركيب والعدد تترتب عليها فوائد جمة لا تكاد تحصى من أنواع القبض والبسط والاخذ والرد وسائر الحركات اللطيفة والأعمال الدقيقة والصنائع الظريفة التي يمتاز بها الانسان من سائر الحيوان مضافا إلى ما عليها من الهيئات والخطوط التي لا يزال ينكشف للانسان منها سر …
وقوله - سبحانه - : ( بلى قَادِرِينَ على أَن نُّسَوِّيَ بَنَانَهُ ) تأكيد لقدرته - تعالى - على إحياء الموتى بعد أن صاروا عظاما نخرة ، وإبطال لنفيهم إحياء العظام وهى رميم .و ( قَادِرِينَ ) حال من فاعل الفعل المقدر بعد بلى . وقوله : ( نُّسَوِّيَ ) من التسوية ، وهى تقويم الشئ وجعله متقنا مستويا ، يقال : سوى فلان الشئ إذا جعله متساويا لا عوج فيه ولا اضطراب .والبنان : جمع بنانة ، وهى أصابع اليدين والرجلين ، أو مفاصل تلك الأصابع وأطرافها .أى : ليس الأمر كما زعم هؤلاء المشركين من أننا لا نعيد الإِنسان إلى الحياة بعد موته للحساب والجزاء ، بل الحق أننا سنجمعه وسنعيده إلى الحياة حالة كوننا قادرين قدرة …
آیت 4{ بَلٰی قٰدِرِیْنَ عَلٰٓی اَنْ نُّسَوِّیَ بَنَانَہٗ۔ } ”کیوں نہیں ! ہم تو پوری طرح قادر ہیں اس پر بھی کہ ہم اس کی ایک ایک پور درست کردیں۔“ یہاں پر بلٰیکے بعد لفظ کُنَّا محذوف ہے ‘ گویا تقدیر عبارت یوں ہے : بلٰی کُنَّا قَادِرِیْن …
بَلَى قَادِرِينَ عَلَى أَنْ نُسَوِّيَ بَنَانَهُ (4) و { قادرين } حال من الضمير في الفعل المحذوف بعد { بَلَى } الذي يدل عليه قوله : { أن لن نجمع ، } أي بل نجمعها في حال قدرتنا على أن نُسوي بَنانه .ويجوز أن يكون { بلى } إبطالاً للنفيين : النفي الذي أفاده الاستفهام الإِنكاري من قوله { أيحسب الإِنسان } والنفي الذي في مفعول { يحسب } ، وهو إبطال بزجر ، أي بَل لِيحسِبْنا قادرين ، لأن مفاد { أن لَنْ نجمع عظامه } أن لا نقدر على جمع عظامه فيكون { قادرين } مفعولاً ثانياً لِيَحْسِبْنَا المقدر ، وعدل في متعلق { قادرين } عن أن يقال : قادرين على جمع عظامه إلى قادرين على أن نسوي بنانه لأنه أوفر معنى وأوفق …
تسمية السورة • سميت القيامة؛ لافتتاحها بقَسَم الله بيوم القيامة؛ لتعظيمه وتحقق وقوعه. من مقاصد السورة • تأكيد البعث بالإقسام على وقوعه، وإثباتُ الحشر والمعاد بالأدلة والبراهين العقلية، والتذكير بيوم القيامة، وذكرُ بعض أشراطه الدالة على هَوله، والإشارةُ إلى انقسام الخلق فيه إلى سعداء وأشقياء، وذكر وصف كلِّ فريق، وبيانُ حال الإنسان عند الاحتضار، وما يكون فيه من الكرب. • توجيه النبي ﷺ إلى الصفة التي ينبغي أن يكون عليها عند تلقي القرآن من جبريل. [التفسير] أقسم الله سبحانه بيوم الحساب والجزاء، وأقسم بالنفس المؤمنة التقية التي تلوم صاحبها على ترك الطاعات وفِعْل الموبقات، إن الناس سيبعثون. أيظنُّ …
بَنَان (پور پور) جوڑوں، ناخن، لطیف رگوں اور باریک ہڈیوں پر مشتمل ہوتے ہیں۔ جب یہ باریک اور لطیف چیزیں ہم بالکل صحیح صحیح جوڑ دیں گے تو بڑے حصے کو جوڑ دینا ہمارے لئے کیا مشکل ہوگا۔
(V.4) Each human being has his or her own special finger prints not resembling anyone else, indicating that our Lord (Allâh) is the Most Superior Creator of everything: Lâ ilâha illâ Huwa (none has the right to be worshipped but He).
(Yea, verily) I am capable of doing so. (Yea, We are able to restore his very fingers!) We are able to gather his fingers, such that his palm becomes like the hoof of a camel or beasts. He says: We are able to make his hand look like the hoof of a camel, so how is it that We cannot restore his bones?
No commentary keyed to this āyah in: Jawāmiʿ al-jāmiʿ (al-Ṭabrisī), Majmaʿ al-bayān (al-Ṭabrisī), Nūr al-thaqalayn (al-Ḥuwayzī), Tazkir ul Quran (Urdu), Tazkirul Quran (English).
the words of this āyah — root, frequency, family
بَلَى
occurs 22 times
قادِر
occurs 14 timesroot قدر occurs 132
قَدِير45قَدَرَ25قَدَّرَ16قادِر14قَدَر11قَدْر7
عَلَى
occurs 1445 timesamong the commonest 300 words
أَن
occurs 616 timesamong the commonest 300 words
سَوَّى
occurs 13 timesroot سوي occurs 83
اسْتَوَى35سَواء27سَوَّى13سَوِيّ5تُسَوَّى1ساوَى1
بَنان
occurs 2 timesroot بنن occurs 2
this āyah in 55 languages — 74 translations
Akan Harun Ismail · v1.0.3
Daabi, Yεwͻ tumi sε ne nsa teaa ano no (mpo) Yεyε no pεpεεpε.
Azərbaycan Ali Khan Musayev · v1.0.4
Bəli, Biz onun barmaq uclarını da bərpa etməyə qadirik.
Bahasa Indonesia Ministry of Religious Affairs · v1.0.1
(Bahkan) Kami mampu menyusun (kembali) jari jemarinya dengan sempurna.
Bahasa Indonesia Sabiq Company · v1.1.3
4. (Bahkan) Kami mampu menyusun (kembali) jari jemarinya dengan sempurna.
Bahasa Indonesia The Complex · v1.0.1
Bukan demikian, sebenarnya Kami kuasa menyusun (kembali) jari jemarinya dengan sempurna.
Bosanski Muhammad Mahanovic · v1.1.0
Svakako, a Mi možemo izravnati jagodice prstiju njegovih.
Bosanski Rowwad Translation Centre · v2.0.4
Svakako, a Mi možemo izravnati jagodice prstiju njegovih.
Cebuano Rowwad Translation Center · v1.1.3
Apan oo, Kami makahimo sa pagpasig-uli (bisan pa) sa tumoy sa iyang mga tudlo (sa hingpit nga pagkahan-ay).
Deutsch Frank Bubenheim · v1.1.4
Ja doch! (Wir) haben die Macht dazu, seine Fingerspitzen zurechtzuformen.
Deutsch Rowwad Translation Center · v1.0.15
Doch! Wir sind imstande, (sogar) seine Fingerspitzen zurechtzuformen.
English Hilali and Khan · v1.1.2
4. Yes, We are Able to put together in perfect order the tips of his fingers.[1]
English Noor International Center · v1.1.2
Yes. [We are] Able [even] to proportion his fingertips.
English Rowwad Translation Center · v1.0.19
In fact, We are able to restore even his very fingertips.
Español Isa Garcia · v1.0.2
4. ¡Claro que sí! Soy capaz incluso de recomponer las puntas de sus dedos.[1]
Español Noor International Center · v1.0.1
¡Por supuesto que lo haremos! Y somos incluso capaces de reconstruir la punta de sus dedos[1099].
Español issued by Noor International · v1.0.1
¡Por supuesto que lo haremos! Y somos incluso capaces de reconstruir la punta de sus dedos[1099].
Français Noor International Center · v1.0.0
4. Que si ! Nous sommes Capable même de reconstituer tel quel le bout de ses doigts.[1]
Français Rachid Maach · v1.0.3
Nous pourrons au contraire reconstituer jusqu’à ses phalanges.
Fulfulde Rowwad Translation Center · v1.0.2
Oho kay mbiɗa min kattani fotndude gulle peɗeeli makko.
Hausa Abu Bakr Jumi · v1.2.2
Na'am! Mãsu ĩkon yi Muke a kan Mu daidaita gaɓõɓin yãtsunsa.
Hrvatski Rowwad Translation Center · v1.0.1
Svakako, a Mi možemo izravnati jagodice prstiju njegovih.
Kinyarwanda Rwanda Muslim Association · v1.0.5
Ni byo! Dushoboye no kuringaniza imitwe y’intoki ze (imirongo iyiriho igasubira nk’uko yari imeze mbere).
Kirundi Yusuf Gahiti · v1.0.4
Vyobuzwa n’iki! Twebwe Allah Tuzosubira kuyegeranya, ahubwo Turashoboye no kuringaniza intoke n’amakanda yazo nk’uko zari ziri imbere yo gupfa.
Kiswahili Ali Mohsin Al-Barwani · v1.0.1
Kwani! Sisi tunaweza hata kuziweka sawa sawa ncha za vidole vyake! [4]
Kiswahili Rowad Translation Center · v1.0.5
Kwani! Sisi tunaweza hata kuziweka sawa sawa ncha za vidole vyake!
૪. કેમ નહીં અમે આ વાત પર કુદરત ધરાવીએ છીએ કે તેના ટેરવા સુધ્ધા ઠીક કરી દઈશુ.
தமிழ் Abdulhamid Baqawi · v1.0.1
4. அவ்வாறல்ல! அவனுடைய (சரீர) அமைப்பை (இறந்த பின்னரும் முன்னிருந்தபடி) சரிப்படுத்த நாம் ஆற்றலுடையோம்.
தமிழ் Abridged Version · v1.0.2
ஏன் முடியாது! அவனுடைய விரல்களை (அவை பிரிந்தில்லாமல், ஒட்டகத்தின் குளம்பைப் போல் ஒன்றோடு ஒன்று சேர்ந்த நிலையில்) சமமாக ஆக்கிவிடுவதற்கு நாம் ஆற்றலுடையவர்களாக இருக்கிறோம்.
தமிழ் Omar Sharif · v1.0.3
ஏன் முடியாது! அவனுடைய விரல்களை (அவை பிரிந்தில்லாமல், ஒட்டகத்தின் குலம்பைப் போல் ஒன்றோடு ஒன்று சேர்ந்த நிலையில்) சமமாக ஆக்கிவிடுவதற்கு நாம் ஆற்றலுடையவர்களாக இருக்கிறோம்.
తెలుగు Abdurrahim ibn Muhammad · v1.0.6
వాస్తవానికి! మేము అతని వ్రేళ్ళ కొనలను గూడా సరిగ్గా సవరించగల సమర్ధులము.
ಕನ್ನಡ Hamza Butur · v1.0.3
ಹೌದು! ನಮಗೆ ಅವನ ಬೆರಳ ತುದಿಗಳನ್ನು ಕೂಡ ಸರಿಪಡಿಸುವ ಸಾಮರ್ಥ್ಯವಿದೆ.
മലയാളം Abdul Hamid Haidar and Kunhi Muhammad · v1.0.3
അതെ, നാം അവന്റെ വിരല്ത്തുമ്പുകളെ പോലും ശരിപ്പെടുത്താന് കഴിവുള്ളവനായിരിക്കെ.(2)
plays offline — the recitation is inside this file
PickthallBut man would fain deny what is before him.
Yusuf AliBut man wishes to do wrong (even) in the time in front of him.
Muhammad Junagarhiبلکہ انسان تو چاہتا ہے کہ آگے آگے نافرمانیاں کرتا جائے.[1]
al-Muyassarبل ينكر الإنسان البعث، يريد أن يبقى على الفجور فيما يستقبل من أيام عمره، يسأل هذا الكافر مستبعدًا قيام الساعة: متى يكون يوم القيامة؟
the agreed readingRather, man wants to go on sinning in the time ahead of him. The commentaries agree the denial of the raising is not a conclusion he reached but a permission he wants: with nothing coming, nothing is owed.
بلکہ انسان چاہتا ہے کہ آگے بھی گناہ کرتا رہے۔ رازی وضاحت کرتے ہیں کہ بل یرید، ایحسب پر عطف ہے، تو یہ بھی استفہام ہو سکتا ہے، گویا اس نے ایک چیز کے بارے میں پوچھا پھر دوسری چیز کے بارے میں۔ تفسیر مقباس بتاتی ہے کہ بل یہاں ان کی نافرمانی کی ایک اور حالت کے ذکر کی طرف انتقال ہے، جب انہیں شرک چھوڑنے کی دعوت دی گئی۔
بل يريد الإنسان ليفجر أمامه. ذكر الرازي أن بل يريد عطف على أيحسب، فيجوز فيه أيضا أن يكون استفهاما، كأنه استفهم عن شيء ثم استفهم عن شيء آخر. وفي تفسير مقباس أن بل إضراب انتقالي إلى ذكر حال آخر من أحوال فجورهم، لما دعوا إلى الإقلاع عن الإشراك.
30 of the 36 commentaries carry this āyah
all 30, in their own words
al-Tabarid.923 · ar · PD
القول في تأويل قوله تعالى: ﴿بَلْ يُرِيدُ الإنْسَانُ لِيَفْجُرَ أَمَامَهُ (٥) يَسْأَلُ أَيَّانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ (٦) فَإِذَا بَرِقَ الْبَصَرُ (٧) وَخَسَفَ الْقَمَرُ (٨) وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ (٩) يَقُولُ الإنْسَانُ يَوْمَئِذٍ أَيْنَ الْمَفَرُّ (١٠) كَلا لا وَزَرَ (١١) إِلَى رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ الْمُسْتَقَرُّ (١٢) ﴾ . يقول تعالى ذكره: ما يجهل ابن آدم أن ربه قادر على أن يجمع عظامه، ولكنه يريد أن يمضي أمامه قُدُما في معاصي الله، لا يثنيه عنها شيء، ولا يتوب منها أبدا، ويسوّف التوبة. وبنحو الذي قلنا في ذلك قال أهل التأويل. ذكر من قال ذلك: ⁕ حدثنا ابن حميد، قال: ثنا جرير، عن مغيرة، عن أبي …
Tafsīr al-Qummīd.941 · ar · PD
بل يريد الانسان ليفجر أمامه) قال يقدم الذنب ويؤخر التوبة ويقول سوف أتوب قوله (يسئل
al-Tibyān (al-Ṭūsī)d.1067 · ar · PD
بل يريد الانسان ليفجر أمامه) اخبار منه ان الانسان يفجر أمامه ومعناه يمضي أمامه راكبا رأسه في هواه - في قول مجاهد - أي فهذا الذي يحمله على الاعراض عن مقدورات ربه، فلذلك لا يقر بالبعث والنشور. وقال الزجاج: إنه يسوف بالتوبة ويقدم الاعمال السيئة. قال: ويجوز أن يكون المراد ليكفر بما قدامه من البعث بدلالة قوله (
ام. وقيل: معناه بلى نجمعها ونحن قادرون على أن نسوى أصابع يديه ورجليه، أى نجعلها مستوية شيئا واحدا كخف البعير وحافر الحمار لا تفرق بينها، فلا يمكنه أن يعمل بها شيئا مما يعمل بأصابعه المفرقة ذات المفاصل والأنامل من فنون الأعمال، والبسط والقبض، والتأتى لما يريد من الحوائج. وقرئ قادرون، أى: نحن قادرون، بَلْ يُرِيدُ عطف على أَيَحْسَبُ فيجوز أن يكون مثله استفهاما، وأن يكون إيجابا على أن يضرب عن مستفهم عنه إلى آخر. أو يضرب عن مستفهم عنه إلى موجب لِيَفْجُرَ أَمامَهُ ليدوم على فجوره فيما بين يديه من الأوقات وفيما يستقبله من الزمان لا ينزع عنه. وعن سعيد بن جبير رضى الله عنه: يقدم الذنب ويؤخر التوبة …
م سب اپنے اعمال کا خود آئینہ ہیں یہ کئی دفعہ بیان ہوچکا ہے کہ جس چیز پر قسم کھائی جائے اگر وہ رد کرنے کی چیز ہو تو قسم سے پہلے لا کا کلمہ نفی کی تائید کے لئے لانا جائز ہوتا ہے یہاں قیامت کے ہونے پر اور جاہلوں کے اس قول کی تردید پر قیامت نہ ہوگی قسم کھائی جا رہی ہے تو فرماتا ہے قسم ہے قیامت کے دن کی اور قسم ہے ملامت کرنے والی جان کی، حضرت حسن تو فرماتے ہیں قیامت کی قسم ہے اور ملامت کرنے والے نفس کی قسم نہیں ہے، حضرت قتادہ فرماتے ہیں دونوں کی قسم ہے، حسن اور اعرج کی قرأت آیت (لَآ اُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ ۙ) 75۔ القیامة :1) ہے اس سے بھی حضرت حسن کے قول کی تائید ہوتی ہے اس لئے کہ ان کے نزدیک …
Nay, but man desires to deny (li-yafjura: the lām is extra, and the subjunctive mood is because of an implied [preceding] an, ‘that’) what lies ahead of him, namely, the Day of Resurrection, as is indicated by:
al-Ṣāfī (Fayḍ al-Kāshānī)d.1680 · ar · PD
بل يريد الانسان ليفجر أمامه ليدوم على فجوره فيما يستقبله من الزمان القمي قال يقدم الذنب ويؤخر التوبة ويقول سوف أتوب. (6) يسئل أيان يوم القيمة متى يكون استبعادا واستهزاء. (7)
Nūr al-thaqalayn (al-Ḥuwayzī)d.1700 · ar · PD
بل يريد الانسان ليفجر امامه قال: يقدم الذنب ويؤخر التوبة ويقول: سوف أتوب
بَنانَه}؛ أي: أطراف أصابعه وعظامه، وذلك مستلزمٌ لخلق جميع أجزاء البدن؛ لأنَّها إذا وُجِدت الأنامل والبنان؛ فقد تمَّتْ خلقة الجسد. {5 ـ 6} وليس إنكارُه لقدرة الله تعالى قصوراً بالدَّليل الدَّالِّ على ذلك، وإنَّما وقع ذلك منه لأنَّ إرادته وقصده التكذيبُ بما أمامه من البعث. والفجور: الكذب مع التعمُّد. ثم ذكر أحوال القيامة فقال:
میں قسم کھاتا ہوں یوم قیامت کی(1) اور میں قسم کھاتا ہوں نفس ملامت گر کی(2) کیا سمجھتا ہے انسان یہ کہ ہرگز نہیں جمع کریں گے ہم اس کی ہڈیاں؟(3) کیوں نہیں!بلکہ (ہم تو) قادر ہیں اس پر کہ درست کر دیں ہم اس کی پور پور کو(4)بلکہ چاہتا ہے انسان کہ فسق و فجور کرتا رہے آئندہ بھی(5) وہ پوچھتا ہے کب ہو گا دن قیامت کا ؟(6) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1]﴿ لَاۤ اُقۡسِمُ بِيَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ﴾ ’’میں قسم کھاتا ہوں قیامت کے دن کی۔‘‘ (لَاۤ) یہاں نافیہ ہے نہ زائدہ، اسے صرف استفتاح اور ما بعد کلام کے اہتمام کے لیے لایا گیا ہے، قسم کے ساتھ کثرت سے اس کو لانے کی بنا پر استفتاح کے لیے …
بل یرید ............................ القیمة (75:5 ۔ 6) ” مگر انسان چاہتا ہے کہ آگے بھی بداعمالیاں کرتا رہے۔ پوچھتا ہے : ” آخر کب آنا ہے وہ قیامت کا دن ؟ “۔ یہاں سوال لفظ ” ایان “ سے لیا گیا ہے۔ یہ لفظ مشدود اور مترنم ہے۔ اور اس شد اور ترنم سے دراصل اشارہ ہے۔ اس طرف کہ یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ قیامت کب آئے گی اور یہ سوچ ان لوگوں کو اس لئے کہ یہ فسق وفجور میں آگے ہی بڑھتے رہیں اور بعث بعد الموت اور جواب دہی کا تصور انہیں نہ روک سکے۔ اور نہان کی زندگی کو مکدر کرسکے۔ درحقیقت تصور آخرت ہی وہ چیز ہے جو اس قسم کے احساس کو لگام دے سکتا ہے۔ اور محبان فسق وفجور کو روک سکتا ہے۔ ایسے لوگ اس قسم کی رکاوٹوں …
بَلْ يُرِيْدُ الْاِنْسَانُ لِيَفْجُرَ اَمَامَهٗ (But man wishes to go on violating Allah's injunctions [ even in future ] ahead of him...75:5). The word amam signifies 'ahead or future'. The verse purports to say that the unbeliever or the unmindful man does not ponder over the manifestations of Divine Omnipotence, so that he may regret his denial in the past and make amends for the future. In fact, he wishes to persist in his denial, polytheism and sins even in the future.
اِس چھوٹے سے فقرے میں منکرینِ آخرت کے اصل مرض کی صاف صاف تشخیص کر دی گئی ہے۔ اِن لوگوں کو جو چیز آخرت کے انکار پر آمادہ کرتی ہے وہ دراصل یہ نہیں ہے کہ فی الواقع وہ قیامت اورآخرت کو نا ممکن سمجھتے ہیں، بلکہ اُن کے اِس انکار کی اصل وجہ یہ ہے کہ آخرت کو ماننے سے لازماً اُن پر کچھ اخلاقی پابندیاں عائد ہوتی ہیں، اور انہیں یہ پابندیاں ناگوار ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ جس طرح وہ اب تک زمین میں بے نَتھے بیل کی طرح پھرتے رہے ہیں اُسی طرح آئندہ بھی پھر تے رہیں۔ جو ظلم ، جو بے ایمانیاں، جو فسق وفجور، جو بد کر داریاں برتنے سے نہ روکنے پائے کہ ایک دن انہیں اپنے خدا کے سامنے حاضر ہو کر اپنے اِن اعمال کی جواب دہی …
In this brief sentence the real disease of the deniers of the Hereafter has been clearly diagnosed. What makes them deny the Hereafter is not, in fact, their regarding the Resurrection and Hereafter as impossible but they deny it because acceptance of the Hereafter inevitably imposes certain moral restrictions on them, which they detest. They desire that they should continue roaming in the world at will as they have been roaming before. They should have full freedom to go on committing whatever injustice, dishonesty, sin and wickedness that they have been committing before, and there should …
بل يريد الانسان ليفجر أمامه " قال الراغب: الفجر شق الشئ شقا واسعا. قال: والفجور شق ستر الديانة يقال: فجر فجورا فهو فاجر وجمعه فجار وفجرة. انتهى، و " أمام " ظرف مكان استعير لمستقبل الزمان، والمراد من فجوره أمامه فجوره مدى عمره وما دام حيا، وضمير " أمامه " للانسان. وقوله: " ليفجر أمامه " تعليل ساد مسد معللة وهو التكذيب بالبعث والاحياء بعد الموت، و " بل " إضراب عن حسبانه عدم البعث والاحياء بعد الموت. [vol 20 p.104] والمعنى: أنه لا يحسب أن لن نجمع عظامه بل يريد أن يكذب بالبعث ليفجر مدى عمره إذ لا موجب للايمان والتقوى لو لم يكن هناك بعث للحساب والجزاء. هذا ما يعطيه السياق في معنى الآية، ولهم وجوه …
وقوله - تعالى - ( بَلْ يُرِيدُ الإنسان لِيَفْجُرَ أَمَامَهُ ) بيان لحال أخرى من أحوال فجور هؤلاء المشركين وطغيانهم ، وانتقال من إنكار الحسبان إلى الإِخبار عن حال هذا الإِنسان .والفجور : يطلق على القول البالغ النهاية فى السوء ، وعلى الفعل القبيح المنكر ، ويطلق على الكذب ، ولذا وصفت اليمين الكاذبة ، باليمين الفاجرة فيكون فجر بمعنى كذب ، وزنا ومعنى .ولفظ " الأمام " يطلق على المكان الذى يكون فى مواجهة الإِنسان ، والمراد به هنا : الزمان المستقبل وهو يوم القيامة ، الذى دل عليه قوله - تعالى - بعد ذلك : ( يَسْأَلُ أَيَّانَ يَوْمُ القيامة ) .
آیت 5{ بَلْ یُرِیْدُ الْاِنْسَانُ لِیَفْجُرَ اَمَامَہٗ۔ } ”بلکہ انسان تو یہ چاہتا ہے کہ فسق و فجور آگے بھی جاری رکھے۔“ انسانوں کے ہاں آخرت کے انکار کی سب سے بڑی اور اصل وجہ یہ ہے کہ وہ نیکی و بدی اور جائز و ناجائز کی تمیز ختم کر کے عیش و عشرت کے خوگر ہوجاتے ہیں۔ چناچہ حرام خوریاں چھوڑ کر راہ راست پر آنے کے مقابلے میں انہیں آخرت کا انکار کردینا آسان محسوس ہوتا ہے۔ آخرت کے بارے میں انسان کا یہ رویہ ایسے ہی ہے جیسے ِ بلی ّکو دیکھ کر کبوتر آنکھیں بند کرلیتا ہے۔ لیکن جس طرح کبوتر کے آنکھیں بند کرلینے سے بلی اپنا فیصلہ نہیں بدلتی اسی طرح ان کے انکار کردینے سے قیامت کے وقوع میں کوئی خلل نہیں آئے گا۔ …
بَلْ يُرِيدُ الْإِنْسَانُ لِيَفْجُرَ أَمَامَهُ (5){ بل } إضراب انتقالي إلى ذكر حال آخر من أحوال فجورهم ، فموقع الجملة بعد { بل } بمنزلة الاستئناف الابتدائي للمناسبة بين معنى الجملتين ، أي لمَّا دُعُوا إلى الإقلاع عن الإِشراك وما يستدعيه من الآثام وأنذروا بالعقاب عليه يوم القيامة كانوا مصممين على الاسترسال في الكفر .والفُجورُ : فعل السوء الشديد ويطلق على الكَذِب ، ومنه وُصفت اليمين الكاذبة بالفاجرة ، فيكون فجَر بمعنى كذب وزْناً ومعنًى ، فيكون قاصراً ومتعدياً مثل فعل كَذَب مُخفف الذال . روي عن ابن عباس أنه قال : يعني الكافر يكذِّب بما أمامه . وعن ابن قتيبة : أن أعرابياً سأل عمر بن الخطاب أن …
(But man) the disbelieving man: 'Adiyy Ibn Rabi'ah (would fain deny what is before him) would fain to indulge in his evil acts and delay his repentance; it is also said this means: he would fain to engage in evil deeds and indecencies in his future days.
No commentary keyed to this āyah in: Hilali & Khan, notes (English), Jawāmiʿ al-jāmiʿ (al-Ṭabrisī), Majmaʿ al-bayān (al-Ṭabrisī), Tafsir-e-Usmani (Urdu), Tazkir ul Quran (Urdu), Tazkirul Quran (English).
the words of this āyah — root, frequency, family
بَل
occurs 127 timesamong the commonest 300 words
أَرادَ
occurs 139 timesroot رود occurs 148among the commonest 300 words
أَرادَ139راوَدُ8رُوَيْد1
ال
occurs 8377 timesamong the commonest 300 words
إِنسان
occurs 71 timesroot أنس occurs 338among the commonest 300 words
plays offline — the recitation is inside this file
PickthallHe asketh: When will be this Day of Resurrection?
Yusuf AliHe questions: "When is the Day of Resurrection?"
Muhammad Junagarhiپوچھتا ہے کہ قیامت کا دن کب آئے گا.[1]
al-Muyassarبل ينكر الإنسان البعث، يريد أن يبقى على الفجور فيما يستقبل من أيام عمره، يسأل هذا الكافر مستبعدًا قيام الساعة: متى يكون يوم القيامة؟
the agreed readingHe asks: when is this Day of Resurrection? — asked in mockery, the commentaries agree, and not to be told.
وہ پوچھتا ہے: قیامت کا دن کب آئے گا؟ تفسیر مقباس کے مطابق یہ جملہ پچھلے جملے سے جڑا ہو سکتا ہے، بدلِ اشتمال کے طور پر، کیونکہ گناہ جاری رکھنے کی خواہش میں قیامت کے دن کا مذاق بھی شامل ہے۔
يسأل أيان يوم القيامة. جاء في تفسير مقباس أنه يجوز أن تكون هذه الجملة متصلة بالتي قبلها على أنها بدل اشتمال منها، لأن إرادته الاسترسال على الفجور يشتمل على التهكم بيوم البعث.
28 of the 36 commentaries carry this āyah
all 28, in their own words
al-Tabarid.923 · ar · PD
القول في تأويل قوله تعالى: ﴿بَلْ يُرِيدُ الإنْسَانُ لِيَفْجُرَ أَمَامَهُ (٥) يَسْأَلُ أَيَّانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ (٦) فَإِذَا بَرِقَ الْبَصَرُ (٧) وَخَسَفَ الْقَمَرُ (٨) وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ (٩) يَقُولُ الإنْسَانُ يَوْمَئِذٍ أَيْنَ الْمَفَرُّ (١٠) كَلا لا وَزَرَ (١١) إِلَى رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ الْمُسْتَقَرُّ (١٢) ﴾ . يقول تعالى ذكره: ما يجهل ابن آدم أن ربه قادر على أن يجمع عظامه، ولكنه يريد أن يمضي أمامه قُدُما في معاصي الله، لا يثنيه عنها شيء، ولا يتوب منها أبدا، ويسوّف التوبة. وبنحو الذي قلنا في ذلك قال أهل التأويل. ذكر من قال ذلك: ⁕ حدثنا ابن حميد، قال: ثنا جرير، عن مغيرة، عن أبي …
Tafsīr al-Qummīd.941 · ar · PD
أيان يوم القيامة) أي متى يكون قال الله (
al-Tibyān (al-Ṭūsī)d.1067 · ar · PD
يسأل أيان يوم القيامة) فهو يفجر أمامه بأن يكذب بما قدامه من البعث. وقوله (يسأل أيان يوم القيامة) معناه ان الذي يفجر أمامه يسأل متى يكون يوم القيامة؟ فمعنى (أيان) (متى) إلا أن السؤال ب (متى) أكثر من السؤال ب (أيان)، فلذلك حسن ان يفسر بها لما دخلها من الابهام الذي يحتاج [vol 10 p.191] فيه إلى بيان ما يتصل بها من الكلام. والسؤال على ضربين: سؤال تعجيز، وسؤال طلب للتبيين. وقوله (
ئ قادرون، أى: نحن قادرون، بَلْ يُرِيدُ عطف على أَيَحْسَبُ فيجوز أن يكون مثله استفهاما، وأن يكون إيجابا على أن يضرب عن مستفهم عنه إلى آخر. أو يضرب عن مستفهم عنه إلى موجب لِيَفْجُرَ أَمامَهُ ليدوم على فجوره فيما بين يديه من الأوقات وفيما يستقبله من الزمان لا ينزع عنه. وعن سعيد بن جبير رضى الله عنه: يقدم الذنب ويؤخر التوبة. يقول: سوف أتوب، سوف أتوب: حتى يأتيه الموت على شرّ أحواله وأسوإ أعماله يَسْئَلُ سؤال متعنت مستبعد لقيام الساعة في قوله أَيَّانَ يَوْمُ الْقِيامَةِ ونحوه: ويقولون متى هذا الوعد.
م سب اپنے اعمال کا خود آئینہ ہیں یہ کئی دفعہ بیان ہوچکا ہے کہ جس چیز پر قسم کھائی جائے اگر وہ رد کرنے کی چیز ہو تو قسم سے پہلے لا کا کلمہ نفی کی تائید کے لئے لانا جائز ہوتا ہے یہاں قیامت کے ہونے پر اور جاہلوں کے اس قول کی تردید پر قیامت نہ ہوگی قسم کھائی جا رہی ہے تو فرماتا ہے قسم ہے قیامت کے دن کی اور قسم ہے ملامت کرنے والی جان کی، حضرت حسن تو فرماتے ہیں قیامت کی قسم ہے اور ملامت کرنے والے نفس کی قسم نہیں ہے، حضرت قتادہ فرماتے ہیں دونوں کی قسم ہے، حسن اور اعرج کی قرأت آیت (لَآ اُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ ۙ) 75۔ القیامة :1) ہے اس سے بھی حضرت حسن کے قول کی تائید ہوتی ہے اس لئے کہ ان کے نزدیک …
قیامت سے انکار کی اصل وجہ:یعنی جو لوگ قیامت کا انکار کرتے اور دوبارہ زندہ کیے جانے کو محال جانتے ہیں اس کا سب یہ نہیں کہ یہ مسئلہ بہت مشکل ہے اور اللہ کی قدرت کاملہ کے دلائل و نشانات غیر واضح ہیں۔ بلکہ آدمی چاہتا ہے کہ قیامت کے آنے سے پہلے اپنی اگلی عمر میں جو باقی رہ گئ ہے بالکل بیباک ہو کر فسق و فجور کرتا رہے اگر کہیں قیامت کا اقرار کر لیا اور اعمال کے حساب کتاب کا خوف دل میں بیٹھ گیا تو فسق و فجور میں اس قدر بیباکی اور ڈھٹائی اس سے نہ ہو سکے گی۔ اس لئے ایسا خیال دل میں آنے ہی نہیں دیتا جس سے عیش منغض ہو اور لذت میں خلل پڑے بلکہ استہزاء تعنّت اور سینہ زوری سے سوال کرتا ہے کہ ہاں صاحب وہ آپ …
وهي مكية بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ {1} ليست {لا} ها هنا نافية ولا زائدة، وإنَّما أتي بها للاستفتاح والاهتمام بما بعدها، ولكثرة الإتيان بها مع اليمين لا يستغرب الاستفتاح بها، وإن لم تكن في الأصل موضوعة للاستفتاح؛ فالمقسم به في هذا الموضع هو المقسَم عليه، وهو البعث بعد الموت، وقيام الناس من قبورهم، ثم وقوفهم ينتظرون ما يَحْكُمُ به الربُّ عليهم. {2}{ولا أقسم بالنَّفس اللَّوَّامةِ}: وهي جميع النفوس الخيِّرة والفاجرة، سميِّت لوَّامةً لكثرة تلوُّنها وتردُّدها وعدم ثبوتها على حالةٍ من أحوالها، ولأنَّها عند الموت تلوم صاحبها على ما فعلت ، بل نفسُ المؤمن تلومُ صاحبها في الدُّنيا على ما حصل …
میں قسم کھاتا ہوں یوم قیامت کی(1) اور میں قسم کھاتا ہوں نفس ملامت گر کی(2) کیا سمجھتا ہے انسان یہ کہ ہرگز نہیں جمع کریں گے ہم اس کی ہڈیاں؟(3) کیوں نہیں!بلکہ (ہم تو) قادر ہیں اس پر کہ درست کر دیں ہم اس کی پور پور کو(4)بلکہ چاہتا ہے انسان کہ فسق و فجور کرتا رہے آئندہ بھی(5) وہ پوچھتا ہے کب ہو گا دن قیامت کا ؟(6) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1]﴿ لَاۤ اُقۡسِمُ بِيَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ﴾ ’’میں قسم کھاتا ہوں قیامت کے دن کی۔‘‘ (لَاۤ) یہاں نافیہ ہے نہ زائدہ، اسے صرف استفتاح اور ما بعد کلام کے اہتمام کے لیے لایا گیا ہے، قسم کے ساتھ کثرت سے اس کو لانے کی بنا پر استفتاح کے لیے …
بَلْ يُرِيْدُ الْاِنْسَانُ لِيَفْجُرَ اَمَامَهٗ (But man wishes to go on violating Allah's injunctions [ even in future ] ahead of him...75:5). The word amam signifies 'ahead or future'. The verse purports to say that the unbeliever or the unmindful man does not ponder over the manifestations of Divine Omnipotence, so that he may regret his denial in the past and make amends for the future. In fact, he wishes to persist in his denial, polytheism and sins even in the future.
سوال استفسار کے طور پر نہیں بلکہ انکار اور استہزاء کے طورپر تھا۔ یعنی وہ یہ پوچھنا نہیں چاہتے تھے کہ قیامت کس روز آئے گی، بلکہ مذاق کے طور پر کہتے تھے کہ حضرت !جس دن کی آپ کو خبر دے رہے ہیں آخر وہ آتے آتے رہ کہاں گیا ہے؟
This question was not put as a question but derisively and to deny Resurrection, That is, they did not want to ask when Resurrection would take place but asked mockingly: What has happened to the day with which you are threatening us. When will it come.
يسأل أيان يوم القيامة " الظاهر أنه بيان لقوله: " بل يريد الانسان ليفجر أمامه " فيفيد التعليل وأن السائل في مقام التكذيب والسؤال سؤال تكذيب إذ من الواجب على من دعي إلى الايمان والتقوى، وأنذر بهذا النبأ العظيم مع دلالة الآيات البينة وقيام الحجج القاطعة أن يتخذ حذره ويتجهز بالايمان والتقوى ويتهيأ للقاء اليوم قريبا كان أو بعيدا فكل ما هو آت قريب لا أن يسأل متى تقوم الساعة؟ وأيان يوم القيامة؟ فليس إلا سؤال مكذب مستهزئ. قوله تعالى: "
يَسْأَلُ أَيَّانَ يَوْمُ القيامة )أى : أن هذا الإِنسان المنكر للبعث والحساب لا يريد أن يكف عن إنكاره وكفره ، بل يريد أن يستمر على فجوره وتكذيبه لهذا اليوم بكل إصرار وجحود ، فهو يسأل عنه سؤال استهزاء وتهكم فيقول : ( أَيَّانَ يَوْمُ القيامة ) أى : متى يجئ يوم القيامة هذا الذى تتحدثون عنه - أيها المؤمنون - وتخشون ما فيه من حساب وجزاء؟قال القرطبى : قوله - تعالى - : ( بَلْ يُرِيدُ الإنسان لِيَفْجُرَ أَمَامَهُ ) قال ابن عباس : يعنى الكافر . يكذب بما أمامه من البعث والحساب . . ودليله ( يَسْأَلُ أَيَّانَ يَوْمُ القيامة ) . أى : يسأل متى يكون؟ على وجه التكذيب والإِنكار ، فهو لا يقنع بما هو فيه من …
آیت 6{ یَسْئَلُ اَیَّانَ یَوْمُ الْقِیٰمَۃِ۔ } ”وہ پوچھتا ہے : کب آئے گا قیامت کا دن ؟“ مشرکین مکہ حضور ﷺ سے یہ سوال طنزیہ طور پر پوچھتے تھے۔ اسی لیے اس کا جواب بھی بہت تیکھے انداز میں دیا گیا ہے۔ سوال و جواب کا یہی انداز اور اسلوب سورة الذاریات کی ان آیات میں بھی پایا جاتا ہے : { یَسْئَلُوْنَ اَیَّانَ یَوْمُ الدِّیْنِ - یَوْمَ ہُمْ عَلَی النَّارِ یُفْتَنُوْنَ۔ } ”وہ پوچھتے ہیں کب آئے گا وہ جزا و سزا کا دن ؟ جس دن یہ لوگ آگ پر سینکے جائیں گے“۔ مذکورہ سوال کا جواب بھی بالکل اسی انداز میں دیا جا رہا ہے۔ ملاحظہ ہو :
يَسْأَلُ أَيَّانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ (6)يجوز أن تكون هذه الجملة متصلة بالتي قبلها على أنها بدل اشتمال منها لأن إرادته الاسترسال على الفجور يشتمل على التهكم بيوم البعث أو على أنها بدل مطابق على تفسير { ليفجر أمَامه } [ القيامة : 5 ] بالتكذيب بيوم البعث .ويجوز أن تكون مستأنفة للتعجيب من حال سؤالهم عن وقت يوم القيامة وهو سؤال استهزاء لاعتقادهم استحالَة وقوعه .و { أيان } اسم استفهام عن الزمان البعيد لأن أصلها : أن آن كذا ، ولذلك جاء في بعض لغات العرب مضموم النون وإنما فتحوا النون في اللغة الفصحى لأنهم جعلوا الكلمة كلها ظرفاً فصارت { أيان } بمعنى ( متَى ) . وتقدم عند قوله تعالى : { يسألونك عن …
سوال اس لئے نہیں کرتا کہ گناہوں سے تائب ہو جائے، بلکہ قیامت کو ناممکن الو قوع سمجھتے ہوئے پوچھتا ہے۔ اسی لیے فسق وفجور سے باز نہیں آتا۔ تاہم اگلی ٓآیت میں اللہ تعالٰی قیامت کے آنے کا وقت بیان فرما رہاہے۔
(He asketh) 'Adiyy Ibn Rabi'ah asks in his denial of the resurrection: (When will be this Day of Resurrection) when will the Day of Resurrection take place?
No commentary keyed to this āyah in: Fi Zilal al-Quran (Urdu), Hilali & Khan, notes (English), Jawāmiʿ al-jāmiʿ (al-Ṭabrisī), Majmaʿ al-bayān (al-Ṭabrisī), Nūr al-thaqalayn (al-Ḥuwayzī), Tazkir ul Quran (Urdu), Tazkirul Quran (English), al-Ṣāfī (Fayḍ al-Kāshānī).
the words of this āyah — root, frequency, family
سَأَلَ
occurs 106 timesroot سأل occurs 129among the commonest 300 words
سَأَلَ106يَتَساءَلُ9سائِل7مَسْئُول5سُؤْل1سُؤال1
أَيّان
occurs 6 times
يَوْم
occurs 475 timesroot يوم occurs 475among the commonest 300 words
ال
occurs 8377 timesamong the commonest 300 words
قِيامَة
occurs 70 timesroot قوم occurs 660among the commonest 300 words
ភាសាខ្មែរ Islamic Community Development Association · v1.0.2
ដោយគេសួរថាៈ តើថ្ងៃបរលោកនឹងកើតឡើងនៅ ពេលណា?
ភាសាខ្មែរ Rowwad Translation Center · v1.0.4
គេសួរថា៖ តើថ្ងៃបរលោកនឹងកើតឡើងនៅពេលណា?
中文 Muhammad Makeen · v1.0.2
他问复活日在什么时候。
中文 Muhammad Suleiman · v1.0.8
他问复活日在什么时候。
日本語 Saeed Sato · v1.0.13
「復活の日*は、一体いつなのか?」と尋ねながら。
Al-Qiyamah 75 : 7
فَإِذَابَرِقَٱلْبَصَرُ
faiidhaa bariqa albasaru
plays offline — the recitation is inside this file
PickthallBut when sight is confounded
Yusuf AliAt length, when the sight is dazed,
Muhammad Junagarhiپس جس وقت کہ نگاه پتھرا جائے گی.[1]
al-Muyassarفإذا تحيَّر البصر ودُهش فزعًا مما رأى من أهوال يوم القيامة، وذهب نور القمر، وجُمِع بين الشمس والقمر في ذهاب الضوء، فلا ضوء لواحد منهما، يقول الإنسان وقتها: أين المهرب من العذاب؟
the agreed readingSo when the sight is dazzled — fixed and bewildered, the commentaries gloss, at the sight of what it had been denying.
پھر جب آنکھ پتھرا جائے گی۔ قرطبی وضاحت کرتے ہیں کہ اس کا مطلب ہے شدتِ خیرگی سے نظر چمک اٹھے گی، پلک نہیں جھپکے گی۔ زمخشری بتاتے ہیں کہ اس کی اصل یہ ہے کہ جب کوئی بجلی دیکھے تو اس کی نظر چندھیا جاتی ہے۔
فإذا برق البصر. ذكر القرطبي أن معناه لمع بصره من شدة شخوصه، فتراه لا يطرف. وفسر الزمخشري ذلك بأن أصله من برق الرجل إذا نظر إلى البرق فدهش بصره.
29 of the 36 commentaries carry this āyah
all 29, in their own words
al-Tabarid.923 · ar · PD
القول في تأويل قوله تعالى: ﴿بَلْ يُرِيدُ الإنْسَانُ لِيَفْجُرَ أَمَامَهُ (٥) يَسْأَلُ أَيَّانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ (٦) فَإِذَا بَرِقَ الْبَصَرُ (٧) وَخَسَفَ الْقَمَرُ (٨) وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ (٩) يَقُولُ الإنْسَانُ يَوْمَئِذٍ أَيْنَ الْمَفَرُّ (١٠) كَلا لا وَزَرَ (١١) إِلَى رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ الْمُسْتَقَرُّ (١٢) ﴾ . يقول تعالى ذكره: ما يجهل ابن آدم أن ربه قادر على أن يجمع عظامه، ولكنه يريد أن يمضي أمامه قُدُما في معاصي الله، لا يثنيه عنها شيء، ولا يتوب منها أبدا، ويسوّف التوبة. وبنحو الذي قلنا في ذلك قال أهل التأويل. ذكر من قال ذلك: ⁕ حدثنا ابن حميد، قال: ثنا جرير، عن مغيرة، عن أبي …
Tafsīr al-Qummīd.941 · ar · PD
فإذا برق البصر) قال: يبرق البصر فلا يقدر ان يطرف قوله (
al-Tibyān (al-Ṭūsī)d.1067 · ar · PD
فإذا برق البصر) فالبرق اللمعان بالشعاع الذي لا يلبث، لأنه مأخوذ من البرق، يقال: برق يبرق برقا، وإنما قيل (برق البصر) لان ذلك يلحقه عند شدة الامر، والبارقة الذين تلمع سيوفهم إذا جردوها كالبرق، وانشد أبو عبيدة للكلابي: لما اتاني ابن عمير راغبا * أعطيته عيسا صهابا فبرق (1) بكسر الراء وانشد الفراء: نعاني حنانة طوبا له * يسف يبسا من العشرق فنفسك فانع ولا تنعنى * وداو الكلوم ولا تبرق (2) بالفتح، أي لا تفزع من هول الجراح، و (حنانة) اسم رجل و (طويا) له نعجة، وقال ابن خالويه: من كسر قال: لان (برق) بالفتح لا يكون إلا في الضوء يقال برق البرق إذا لمع، وبرق الحنظل، فاما برق بالكسر، فمعناه تحير والذي قاله …
بَرِقَ الْبَصَرُ تحير فزعا، وأصله من برق الرجل إذا نظر إلى البرق فدهش بصره. وقرئ: برق من البريق، أى لمع من شدة شخوصه. وقرأ أبو السمال: بلق إذا انفتح وانفرج. يقال: بلق الباب وأبلقته وبلقته: فتحته وَخَسَفَ الْقَمَرُ وذهب ضوؤه، أو ذهب بنفسه. وقرئ: وخسف على البناء للمفعول وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ حيث يطلعهما الله من المغرب. وقيل: وجمعا في ذهاب الضوء [[قوله «وقيل وجمعا في ذهاب الضوء» لعله: وقيل جمعا. (ع)]] وقيل: يجمعان أسودين مكورين كأنهما ثوران عقيران في النار. وقيل يجمعان ثم يقذفان في البحر، فيكون نار الله الكبرى الْمَفَرُّ بالفتح المصدر، وبالكسر: المكان. ويجوز أن يكون مصدرا كالمرجع. وقرئ …
م سب اپنے اعمال کا خود آئینہ ہیں یہ کئی دفعہ بیان ہوچکا ہے کہ جس چیز پر قسم کھائی جائے اگر وہ رد کرنے کی چیز ہو تو قسم سے پہلے لا کا کلمہ نفی کی تائید کے لئے لانا جائز ہوتا ہے یہاں قیامت کے ہونے پر اور جاہلوں کے اس قول کی تردید پر قیامت نہ ہوگی قسم کھائی جا رہی ہے تو فرماتا ہے قسم ہے قیامت کے دن کی اور قسم ہے ملامت کرنے والی جان کی، حضرت حسن تو فرماتے ہیں قیامت کی قسم ہے اور ملامت کرنے والے نفس کی قسم نہیں ہے، حضرت قتادہ فرماتے ہیں دونوں کی قسم ہے، حسن اور اعرج کی قرأت آیت (لَآ اُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ ۙ) 75۔ القیامة :1) ہے اس سے بھی حضرت حسن کے قول کی تائید ہوتی ہے اس لئے کہ ان کے نزدیک …
But when the eyes are dazzled (read bariqa or baraqa), startled and perplexed upon seeing some of those things which it used to deny;
al-Ṣāfī (Fayḍ al-Kāshānī)d.1680 · ar · PD
فإذا برق البصر تحير فزعا من برق الرجل إذا نظر إلى البرق فدهش بصره القمي قال يبرق البصر فلا يقدر أن يطرف وقرئ بفتح الراء وهو لغة أو من البريق من شدة شخوصه. (8) وخسف القمر ذهب ضؤه. [vol 5 p.254] (9)
Nūr al-thaqalayn (al-Ḥuwayzī)d.1700 · ar · PD
فإذا برق البصر قال: يبرق البصر فلا يقدر أن يطرق. 4 - في كتاب الغيبة لشيخ الطائفة قدس سره باسناده إلى علي بن مهزيار حديث طويل يذكر فيه دخوله على القائم عليه السلام وسؤاله إياه. وفيه: فقلت يا سيدي متى يكون هذا الامر؟ فقال: إذا حيل بينكم وبين سبيل الكعبة واجتمع الشمس والقمر، واستدار بهما الكواكب والنجوم - فقلت: متى يا بن رسول الله؟ فقال لي: في سنة كذا وكذا تخرج دابة الأرض من بين الصفا والمروة، معه عصى موسى وخاتم سليمان يسوق الناس إلى المحشر. 5 - في تفسير علي بن إبراهيم قوله:
أي: {فإذا} كانت القيامة؛ برقت الأبصار من الهول العظيم وشخصت فلا تطرف؛ كما قال تعالى:{إنَّما يؤخِّرُهم ليومٍ تَشۡخَصُ فيه الأبصارُ. مهطِعين مُقۡنِعي رؤوسهم لا يرتدُّ إليهم طرفُهم وأفئِدَتُهم هواءٌ}، {وخسف القمر}؛ أي: ذهب نورُه وسُلطانه، {وجُمِعَ الشمسُ والقمرُ}: وهما لم يجتمعا منذ خلقهما الله تعالى، فيجمع الله بينهما يوم القيامةِ، ويُخسف القمر، وتكوَّر الشمس، ثم يقذفان في النار؛ ليرى العباد أنَّهما عبدان مسخَّران، وليرى مَنْ عَبَدَهما أنَّهم كانوا كاذبين، {يقول الإنسانُ}: حين يرى تلك القلاقل المزعجات: {أين المفرُّ}؛ أي: أين الخلاص والفكاك ممَّا طرقنا وألمَّ بنا ؟ {11 ـ 13}{كلاَّ لا وَزَرَ} …
س جب پتھرا جائیں گی آنکھیں(7) اور بے نور ہو جائے گا چاند(8) اور جمع کر دیے جائیں گے سورج اور چاند(9) کہے گا انسان اس دن، کہاں ہے بھاگنا؟ (10) ہرگز نہیں! نہیں (وہاں) کوئی پناہ گاہ (11) آپ کے رب ہی کی طرف ہو گا اس دن ٹھکانا (12) خبر دیا جائے گا انسان اس دن ساتھ اس کےجو اس نے آگے بھیجا اور (جو) پیچھے چھوڑا (13)بلکہ انسان اپنے نفس پر خوب شاہد ہے (14) اگرچہ وہ پیش کرے اپنی معذرتیں (15) [10-7] یعنی جب قیامت برپا ہو گی عظیم دہشت کی بنا پر نگاہیں اوپر اٹھی ہوئی ہوں گی اور جھپکیں گی نہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ اِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمۡ لِيَوۡمٍ تَشۡخَصُ فِيۡهِ الۡاَبۡصَارُۙ۰۰ مُهۡطِعِيۡنَ …
فاذا ............................................ المفر (75:7 تا 10) ” پھر جب دیدے پتھرا جائیں گے اور چاند بےنور ہوجائے گا اور چاند سورج ملا کر ایک کردیئے جائیں گے۔ اس وقت یہی انسان کہے گا ” کہاں بھاگ کر جاﺅں ؟ “۔ جب بجلی چمکتی ہے تو نظر چندھیاجاتی ہے اور جلدی لوٹ آتی ہے۔ اور جب سورج خسف کا شکار ہوتا ہے تو بےنور ہوجاتا ہے اور سورج اور چاند دور ہیں لیکن یہ باہم مل جائیں گے اور اس طرح تمام فلکی انتظام مختل ہوجائے گا اور ایک خوفناک اور انقلابی صورت حالات ہوگی اس وقت ہر انسان پاہم ایک دوسرے سے سوال کریں گے۔
فَاِذَا بَرِقَ الْبَصَرُ وَخَسَفَ الْقَمَرُ وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ (So, when the eyes will be dazzled, and the moon will lose its light, and the sun and the moon will be joined together,...75:7-9). This describes the scenes of the Resurrection. The verb bariqa means for the eyes 'to be dazzled and unable to see'. On the Day of Resurrection, the eyes of all will be dazzled and will not be able to see consistently. The verb khasafa is derived from khusuf which means 'to lose light and become dark'. The verse purports to say that the moon will lose its light or will be eclipsed. The …
اصل میں بَرِقَ الْبَصَرُ کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں جن کے لُغوی معنی بجلی کی چمک سے آنکھوں کے چُندھیا جانے کے ہیں۔ لیکن عربی محاورے میں یہ الفاظ اسی معنی کے لیے مخصوص نہیں ہیں بلکہ خوف زدگی، حیرت، یا کسی اچانک حا دثہ سے دوچار ہو جانے کی صورت میں اگر آدمی ہَکَ دَک رہ جائے اور اس کی نگاہ اُس پریشان کن منظر کی طرف جم کر رہ جائے جو اس کو نظر آرہا ہو تو اس کے لیے بھی یہ الفاظ بولے جاتے ہیں۔ اِسی مضمون کو قرآن مجید میں ایک دوسری جگہ یُوں بیان کیا گیا ہے۔:اِنَّمَا یُؤَ خِّرُ ھُمْ لِیَوْمٍتَشْخَصُ فِیْہِ الْاَ بْصَارُ،”اللہ تو انہیں ٹال رہا ہے اُس دن کے لیے جب انکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں …
Literally, the words bariq al-basaru mean dazzling of the eyes by lightning, but in the Arabic idiom these words do not specifically carry this meaning only but are also used for man’s being terror-stricken and amazed, or his being confounded on meeting with an accident suddenly and his eyes being dazed at some distressing sight before him. This subject has been expressed at another place in the Quran, thus: Allah is only deferring their case to the Day when the eyes shall stare with consternation. (Surah Ibrahim, Ayat 42).
فَإِذَا بَرِقَ الْبَصَرُ (7) عُدل عن أن يجابوا بتعيين وقت ليوم القيامة إلى أن يهدَّدوا بأهواله ، لأنهم لم يَكونوا جادِّين في سؤالهم فكان من مقتضى حالهم أن يُنذروا بما يقع من الأهوال عند حلول هذا اليوم مع تضمين تحقيق وقوعه فإن كلام القرآن إرشاد وهدْي ما يترك فُرصَة للهدي والإِرشاد إلاّ انتهزها ، وهذا تهديد في ابتدائه جاء في صورة التعيين لوقت يوم القيامة إيهاماً بالجواب عن سؤالهم كأنه حملٌ لكلامهم على خلاف الاستهزاء على طريقة الأسلوب الحكيم . وفيه تعريض بالتوبيخ على أن فرطوا في التوقي من ذلك اليوم واشتغلوا بالسؤال عن وقته . وقريب منه ما روي أن رجلاً من المسلمين سأل رسول الله صلى الله عليه وسلم …
فإذا تحيَّر البصر ودُهش فزعًا مما رأى من أهوال يوم القيامة، وذهب نور القمر، وجُمِع بين الشمس والقمر في ذهاب الضوء، فلا ضوء لواحد منهما، يقول الإنسان وقتها: أين المهرب من العذاب؟
Allah said to him: (But when sight is confounded) and it is also said this means: when sight is pleased
No commentary keyed to this āyah in: Bayan ul Quran (Urdu), Hilali & Khan, notes (English), Jawāmiʿ al-jāmiʿ (al-Ṭabrisī), Majmaʿ al-bayān (al-Ṭabrisī), Tazkir ul Quran (Urdu), Tazkirul Quran (English), al-Mīzān (Ṭabāṭabāʾī).
the words of this āyah — root, frequency, family
ف
occurs 3001 timesamong the commonest 300 words
إِذا
occurs 423 timesamong the commonest 300 words
بَرِقَ
occurs ONCE in the whole Qurʾānroot برق occurs 7
بَرْق5أَبارِيق1بَرِقَ1
ال
occurs 8377 timesamong the commonest 300 words
بَصَر
occurs 48 timesroot بصر occurs 148among the commonest 300 words
plays offline — the recitation is inside this file
PickthallAnd the moon is eclipsed
Yusuf AliAnd the moon is buried in darkness.
Muhammad Junagarhiاور چاند بے نور ہو جائے گا.[1]
al-Muyassarفإذا تحيَّر البصر ودُهش فزعًا مما رأى من أهوال يوم القيامة، وذهب نور القمر، وجُمِع بين الشمس والقمر في ذهاب الضوء، فلا ضوء لواحد منهما، يقول الإنسان وقتها: أين المهرب من العذاب؟
the agreed readingand the moon is eclipsed — its light gone out of it altogether, the commentaries agree, not dimmed but extinguished.
اور چاند بےنور ہو جائے گا۔ تفسیر مقباس کے مطابق چاند کے کسوف سے مراد اس کے نور کا مسلسل مٹ جانا ہے، ایسا کہ وہ لوگوں کو روشن نظر نہ آئے۔ بغوی بتاتے ہیں کہ اس کا مطلب ہے وہ اندھیرا ہو جائے گا اور اس کا نور جاتا رہے گا۔
وخسف القمر. جاء في تفسير مقباس أن خسوف القمر أريد به انطماس نوره انطماسا مستمرا بحيث لا يلوح للناس نيرا. وذكر البغوي أنه أظلم وذهب نوره وضوؤه.
No Shīʿī edition could be anchored to this āyah by the alignment; the commentary exists in the books, the method could not point at it.
23 of the 36 commentaries carry this āyah
all 23, in their own words
al-Tabarid.923 · ar · PD
القول في تأويل قوله تعالى: ﴿بَلْ يُرِيدُ الإنْسَانُ لِيَفْجُرَ أَمَامَهُ (٥) يَسْأَلُ أَيَّانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ (٦) فَإِذَا بَرِقَ الْبَصَرُ (٧) وَخَسَفَ الْقَمَرُ (٨) وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ (٩) يَقُولُ الإنْسَانُ يَوْمَئِذٍ أَيْنَ الْمَفَرُّ (١٠) كَلا لا وَزَرَ (١١) إِلَى رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ الْمُسْتَقَرُّ (١٢) ﴾ . يقول تعالى ذكره: ما يجهل ابن آدم أن ربه قادر على أن يجمع عظامه، ولكنه يريد أن يمضي أمامه قُدُما في معاصي الله، لا يثنيه عنها شيء، ولا يتوب منها أبدا، ويسوّف التوبة. وبنحو الذي قلنا في ذلك قال أهل التأويل. ذكر من قال ذلك: ⁕ حدثنا ابن حميد، قال: ثنا جرير، عن مغيرة، عن أبي …
بَرِقَ الْبَصَرُ تحير فزعا، وأصله من برق الرجل إذا نظر إلى البرق فدهش بصره. وقرئ: برق من البريق، أى لمع من شدة شخوصه. وقرأ أبو السمال: بلق إذا انفتح وانفرج. يقال: بلق الباب وأبلقته وبلقته: فتحته وَخَسَفَ الْقَمَرُ وذهب ضوؤه، أو ذهب بنفسه. وقرئ: وخسف على البناء للمفعول وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ حيث يطلعهما الله من المغرب. وقيل: وجمعا في ذهاب الضوء [[قوله «وقيل وجمعا في ذهاب الضوء» لعله: وقيل جمعا. (ع)]] وقيل: يجمعان أسودين مكورين كأنهما ثوران عقيران في النار. وقيل يجمعان ثم يقذفان في البحر، فيكون نار الله الكبرى الْمَفَرُّ بالفتح المصدر، وبالكسر: المكان. ويجوز أن يكون مصدرا كالمرجع. وقرئ …
م سب اپنے اعمال کا خود آئینہ ہیں یہ کئی دفعہ بیان ہوچکا ہے کہ جس چیز پر قسم کھائی جائے اگر وہ رد کرنے کی چیز ہو تو قسم سے پہلے لا کا کلمہ نفی کی تائید کے لئے لانا جائز ہوتا ہے یہاں قیامت کے ہونے پر اور جاہلوں کے اس قول کی تردید پر قیامت نہ ہوگی قسم کھائی جا رہی ہے تو فرماتا ہے قسم ہے قیامت کے دن کی اور قسم ہے ملامت کرنے والی جان کی، حضرت حسن تو فرماتے ہیں قیامت کی قسم ہے اور ملامت کرنے والے نفس کی قسم نہیں ہے، حضرت قتادہ فرماتے ہیں دونوں کی قسم ہے، حسن اور اعرج کی قرأت آیت (لَآ اُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ ۙ) 75۔ القیامة :1) ہے اس سے بھی حضرت حسن کے قول کی تائید ہوتی ہے اس لئے کہ ان کے نزدیک …
أي: {فإذا} كانت القيامة؛ برقت الأبصار من الهول العظيم وشخصت فلا تطرف؛ كما قال تعالى:{إنَّما يؤخِّرُهم ليومٍ تَشۡخَصُ فيه الأبصارُ. مهطِعين مُقۡنِعي رؤوسهم لا يرتدُّ إليهم طرفُهم وأفئِدَتُهم هواءٌ}، {وخسف القمر}؛ أي: ذهب نورُه وسُلطانه، {وجُمِعَ الشمسُ والقمرُ}: وهما لم يجتمعا منذ خلقهما الله تعالى، فيجمع الله بينهما يوم القيامةِ، ويُخسف القمر، وتكوَّر الشمس، ثم يقذفان في النار؛ ليرى العباد أنَّهما عبدان مسخَّران، وليرى مَنْ عَبَدَهما أنَّهم كانوا كاذبين، {يقول الإنسانُ}: حين يرى تلك القلاقل المزعجات: {أين المفرُّ}؛ أي: أين الخلاص والفكاك ممَّا طرقنا وألمَّ بنا ؟ {11 ـ 13}{كلاَّ لا وَزَرَ} …
وگ منہ اٹھائے دوڑ رہے ہوں گے، ان کی نگاہیں ان کی طرف نہ لوٹ سکیں گی اور (خوف کی وجہ سے)ان کے دل ہوا ہو رہے ہوں گے۔‘‘﴿ وَخَسَفَ الۡقَمَرُ﴾ چاند کی روشنی اور اس کی طاقت زائل ہو جائے گی ﴿ وَجُمِعَ الشَّمۡسُ وَالۡقَمَرُ﴾ ’’اور سورج اور چاند جمع کر دیے جائیں گے۔‘‘جب سے اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا کیا ہے، وہ کبھی اکٹھے نہیں ہوئے۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان کو جمع کرے گا، چاند گہنا جائے گا اور سورج کو بے نور کر دیا جائے گا اور ان دونوں کو آگ میں پھینک دیا جائے گا تاکہ بندے دیکھ لیں کہ چاند اور سورج بھی اللہ تعالیٰ کے مسخر ہیں تاکہ جو لوگ ان کی عبادت کرتے تھے وہ دیکھ لیں کہ وہ جھوٹے تھے۔﴿ يَقُوۡلُ …
فَاِذَا بَرِقَ الْبَصَرُ وَخَسَفَ الْقَمَرُ وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ (So, when the eyes will be dazzled, and the moon will lose its light, and the sun and the moon will be joined together,...75:7-9). This describes the scenes of the Resurrection. The verb bariqa means for the eyes 'to be dazzled and unable to see'. On the Day of Resurrection, the eyes of all will be dazzled and will not be able to see consistently. The verb khasafa is derived from khusuf which means 'to lose light and become dark'. The verse purports to say that the moon will lose its light or will be eclipsed. The …
وَخَسَفَ الْقَمَرُ (8) وخسوف القمر أريد به انطماس نوره انطماساً مستمراً بسبب تزلزله من مداره حول الأرض الدائرة حول الشمس بحيث لا ينعكس عليه نورها ولا يلوح للناس نيِّراً
فإذا تحيَّر البصر ودُهش فزعًا مما رأى من أهوال يوم القيامة، وذهب نور القمر، وجُمِع بين الشمس والقمر في ذهاب الضوء، فلا ضوء لواحد منهما، يقول الإنسان وقتها: أين المهرب من العذاب؟
മലയാളം Abdul Hamid Haidar and Kunhi Muhammad · v1.0.3
ചന്ദ്രന്ന് ഗ്രഹണം ബാധിക്കുകയും
සිංහල Rowwad Translation Center · v1.0.6
තවද සඳු(ගේ අලෝකය) ගිලුනු විට,
ไทย Rowwad Translation Center · v1.0.1
และเมื่อดวงจันทร์ถูกบดบังอยู่ในความมืด
አማርኛ Africa Academy · v1.0.1
8. ጨረቃም በጨለመ ጊዜ::
አማርኛ Muhammad Sadiq · v1.1.2
ጨረቃም በጨለመ ጊዜ፡፡
ភាសាខ្មែរ Islamic Community Development Association · v1.0.2
និងព្រះច័ន្ទបាត់ពន្លឺ
ភាសាខ្មែរ Rowwad Translation Center · v1.0.4
ហើយព្រះចន្ទបានបាត់ពន្លឺ
中文 Muhammad Makeen · v1.0.2
月亮昏暗,
中文 Muhammad Suleiman · v1.0.8
月亮昏暗,
日本語 Saeed Sato · v1.0.13
月(の明かり)が消え、
Al-Qiyamah 75 : 9
وَجُمِعَٱلشَّمْسُوَٱلْقَمَرُ
wajumi'a alshamsu waalqamaru
plays offline — the recitation is inside this file
PickthallAnd sun and moon are united,
Yusuf AliAnd the sun and moon are joined together,-
Muhammad Junagarhiاور سورج اور چاند جمع کردیئے جائیں گے.[1]
al-Muyassarفإذا تحيَّر البصر ودُهش فزعًا مما رأى من أهوال يوم القيامة، وذهب نور القمر، وجُمِع بين الشمس والقمر في ذهاب الضوء، فلا ضوء لواحد منهما، يقول الإنسان وقتها: أين المهرب من العذاب؟
the agreed readingand the sun and the moon are brought together — the commentaries agree these are the signs of that Day: the eye fixed in astonishment at what it had denied, and the two lights gone.
اور سورج اور چاند اکٹھے کر دیے جائیں گے۔ تفسیر مقباس کے مطابق یہ وہ کسوف نہیں جو عام طور پر تب ہوتا ہے جب زمین چاند اور سورج کے درمیان حائل ہو جاتی ہے، بلکہ سورج اور چاند کے جمع ہونے کا مطلب ہے چاند سورج سے چپک جائے گا اور سورج اسے نگل لے گا۔ بغوی بتاتے ہیں کہ دونوں سیاہ اور لپیٹے ہوئے ہوں گے، گویا وہ ذبح کیے گئے دو بیل ہوں، اور بعض کہتے ہیں روشنی کے جانے میں ان دونوں کو جمع کر دیا جائے گا۔
وجمع الشمس والقمر. جاء في تفسير مقباس أن هذا خسوف ليس هو خسوفه المعتاد عندما تحول الأرض بين القمر وبين مسامتته الشمس، ومعنى جمع الشمس والقمر التصاق القمر بالشمس فتلتهمه الشمس. وذكر البغوي أنهما أسودان مكوران كأنهما ثوران عقيران، وقيل يجمع بينهما في ذهاب الضياء.
29 of the 36 commentaries carry this āyah
all 29, in their own words
al-Tabarid.923 · ar · PD
القول في تأويل قوله تعالى: ﴿بَلْ يُرِيدُ الإنْسَانُ لِيَفْجُرَ أَمَامَهُ (٥) يَسْأَلُ أَيَّانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ (٦) فَإِذَا بَرِقَ الْبَصَرُ (٧) وَخَسَفَ الْقَمَرُ (٨) وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ (٩) يَقُولُ الإنْسَانُ يَوْمَئِذٍ أَيْنَ الْمَفَرُّ (١٠) كَلا لا وَزَرَ (١١) إِلَى رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ الْمُسْتَقَرُّ (١٢) ﴾ . يقول تعالى ذكره: ما يجهل ابن آدم أن ربه قادر على أن يجمع عظامه، ولكنه يريد أن يمضي أمامه قُدُما في معاصي الله، لا يثنيه عنها شيء، ولا يتوب منها أبدا، ويسوّف التوبة. وبنحو الذي قلنا في ذلك قال أهل التأويل. ذكر من قال ذلك: ⁕ حدثنا ابن حميد، قال: ثنا جرير، عن مغيرة، عن أبي …
al-Tibyān (al-Ṭūsī)d.1067 · ar · PD
وجمع الشمس والقمر) أي جمعا في ذهاب نورهما بما يراه الانسان والجمع جعل أحد الشيئين مع الاخر. والجمع على ثلاثة أقسام: جمع في المكان، وجمع [vol 10 p.192] في الزمان، وجمع الاعراض في المحل. وجمع الشيئين في حكم أو صفة مجاز، وقوله (
بَرِقَ الْبَصَرُ تحير فزعا، وأصله من برق الرجل إذا نظر إلى البرق فدهش بصره. وقرئ: برق من البريق، أى لمع من شدة شخوصه. وقرأ أبو السمال: بلق إذا انفتح وانفرج. يقال: بلق الباب وأبلقته وبلقته: فتحته وَخَسَفَ الْقَمَرُ وذهب ضوؤه، أو ذهب بنفسه. وقرئ: وخسف على البناء للمفعول وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ حيث يطلعهما الله من المغرب. وقيل: وجمعا في ذهاب الضوء [[قوله «وقيل وجمعا في ذهاب الضوء» لعله: وقيل جمعا. (ع)]] وقيل: يجمعان أسودين مكورين كأنهما ثوران عقيران في النار. وقيل يجمعان ثم يقذفان في البحر، فيكون نار الله الكبرى الْمَفَرُّ بالفتح المصدر، وبالكسر: المكان. ويجوز أن يكون مصدرا كالمرجع. وقرئ …
م سب اپنے اعمال کا خود آئینہ ہیں یہ کئی دفعہ بیان ہوچکا ہے کہ جس چیز پر قسم کھائی جائے اگر وہ رد کرنے کی چیز ہو تو قسم سے پہلے لا کا کلمہ نفی کی تائید کے لئے لانا جائز ہوتا ہے یہاں قیامت کے ہونے پر اور جاہلوں کے اس قول کی تردید پر قیامت نہ ہوگی قسم کھائی جا رہی ہے تو فرماتا ہے قسم ہے قیامت کے دن کی اور قسم ہے ملامت کرنے والی جان کی، حضرت حسن تو فرماتے ہیں قیامت کی قسم ہے اور ملامت کرنے والے نفس کی قسم نہیں ہے، حضرت قتادہ فرماتے ہیں دونوں کی قسم ہے، حسن اور اعرج کی قرأت آیت (لَآ اُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ ۙ) 75۔ القیامة :1) ہے اس سے بھی حضرت حسن کے قول کی تائید ہوتی ہے اس لئے کہ ان کے نزدیک …
and the sun and the moon are brought together, so that both of them will rise from the west; or [it means when] the light of both of them disappears — and this will be on the Day of Resurrection —
al-Ṣāfī (Fayḍ al-Kāshānī)d.1680 · ar · PD
وجمع الشمس والقمر في الغيبة عن القائم (عليه السلام) إنه سئل متى يكون هذا الامر إذا حيل بينكم وبين سبيل الكعبة واجتمع الشمس والقمر واستدار بهما الكواكب والنجوم فقيل متى فقال في سنة كذا وكذا تخرج دابة الأرض من بين الصفا والمروة ومعه عصا موسى وخاتم سليمان (عليه السلام) يسوق الناس إلى المحشر وقيل أريد بهذه الآيات ظهور امارات الموت. (10)
أي: {فإذا} كانت القيامة؛ برقت الأبصار من الهول العظيم وشخصت فلا تطرف؛ كما قال تعالى:{إنَّما يؤخِّرُهم ليومٍ تَشۡخَصُ فيه الأبصارُ. مهطِعين مُقۡنِعي رؤوسهم لا يرتدُّ إليهم طرفُهم وأفئِدَتُهم هواءٌ}، {وخسف القمر}؛ أي: ذهب نورُه وسُلطانه، {وجُمِعَ الشمسُ والقمرُ}: وهما لم يجتمعا منذ خلقهما الله تعالى، فيجمع الله بينهما يوم القيامةِ، ويُخسف القمر، وتكوَّر الشمس، ثم يقذفان في النار؛ ليرى العباد أنَّهما عبدان مسخَّران، وليرى مَنْ عَبَدَهما أنَّهم كانوا كاذبين، {يقول الإنسانُ}: حين يرى تلك القلاقل المزعجات: {أين المفرُّ}؛ أي: أين الخلاص والفكاك ممَّا طرقنا وألمَّ بنا ؟ {11 ـ 13}{كلاَّ لا وَزَرَ} …
وگ منہ اٹھائے دوڑ رہے ہوں گے، ان کی نگاہیں ان کی طرف نہ لوٹ سکیں گی اور (خوف کی وجہ سے)ان کے دل ہوا ہو رہے ہوں گے۔‘‘﴿ وَخَسَفَ الۡقَمَرُ﴾ چاند کی روشنی اور اس کی طاقت زائل ہو جائے گی ﴿ وَجُمِعَ الشَّمۡسُ وَالۡقَمَرُ﴾ ’’اور سورج اور چاند جمع کر دیے جائیں گے۔‘‘جب سے اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا کیا ہے، وہ کبھی اکٹھے نہیں ہوئے۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان کو جمع کرے گا، چاند گہنا جائے گا اور سورج کو بے نور کر دیا جائے گا اور ان دونوں کو آگ میں پھینک دیا جائے گا تاکہ بندے دیکھ لیں کہ چاند اور سورج بھی اللہ تعالیٰ کے مسخر ہیں تاکہ جو لوگ ان کی عبادت کرتے تھے وہ دیکھ لیں کہ وہ جھوٹے تھے۔﴿ يَقُوۡلُ …
فَاِذَا بَرِقَ الْبَصَرُ وَخَسَفَ الْقَمَرُ وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ (So, when the eyes will be dazzled, and the moon will lose its light, and the sun and the moon will be joined together,...75:7-9). This describes the scenes of the Resurrection. The verb bariqa means for the eyes 'to be dazzled and unable to see'. On the Day of Resurrection, the eyes of all will be dazzled and will not be able to see consistently. The verb khasafa is derived from khusuf which means 'to lose light and become dark'. The verse purports to say that the moon will lose its light or will be eclipsed. The …
قیامت کے پہلے مرحلے میں نظامِ عالم کے درہم برہم ہو جانے کی کیفیت کا ایک مختصر بیا ن ہے۔ چاند کے بے نور ہو جانے اور چاند سورج کے مل کر ایک ہو جانے کا مفہمو یہ بھی ہو سکتا ہے کہ صرف چاند ہی کی روشنی ختم نہ ہو گی جو سورج سے ماخوذ ہے بلکہ خود سورج بھی تاریک ہو جائے گا اور بے نُور ہو جانے میں دونوں یکساں ہو جائیں گے۔ دوسرا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ زمین یکایک اُلٹی چل پڑے گی اور اُس دن چاند اور سُورج دونوں بیک وقت مغرب سے طلوع ہوں گے۔ اور ایک تیسرا مطلب یہ بھی لیا جا سکتا ہے کہ چاند یک لخت زمین کی گرفت سے چھوٹ کر نکل جائے گا اور سورج میں جا پڑے گا۔ ممکن ہے کہ اس کا کوئی اور مفہوم بھی ہو جس کو آج …
This is a brief description of the chaotic condition of the system of the universe that will prevail in the first stage of Resurrection. The darkening of the moon and the joining of the moon and the sun together can also mean that not only will the moon lose its light, which is borrowed from the sun, but the sun itself will become dark and both will become devoid of light similarly. Another meaning can be that the earth will suddenly start rotating in the reverse order and on that day both the moon and the sun will rise simultaneously in the west. And a third meaning can be that the moon will …
والمراد بجمع الشمس والقمر : اقترانهما ببعضهما بعد افتراقهما واختلال النظام المعهود للكون ، اختلالا تتغير معه معالمة ونظمه .وجواب ( إذا ) قوله : ( يَقُولُ الإنسان ) أى : فإذا برق بصر الإِنسان وتحير من شدة الفزع والخوف ، بعد أن رأى ما كان يكذب به فى الدنيا .والتعريف فى البصر : للاسغراق : إذ أبصار الناس جميعا فى هذا اليوم ، تكون فى حالة فزع ، إلأا أن هذا الفزع يتفاوت بينهم فى شدته .( وَخَسَفَ القمر ) أى : ذهب ضوؤه . وانطمس نوره .( وَجُمِعَ الشمس والقمر ) أى : وقرن بينهما بعد أن كانا متفرقين .والتصقا بعد أن كانا متباعدين ، وغاب ضوؤهما بعد أن كانا منيرين .
آیت 9{ وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ۔ } ”اور سورج اور چاند یکجا کردیے جائیں گے۔“ اس وقت سورج چاند سمیت تمام اجرامِ فلکی کشش ثقل کے قانون کے تحت اپنے اپنے مدار میں گھوم رہے ہیں۔ جب یہ نظام ڈھیلا پڑے گا تو تمام ُ کرے ّآپس میں ٹکرا جائیں گے۔
وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ (9) ، وهو ما دل عليه قوله : { وجُمع الشمس والقمر ، } فهذا خسوف ليس هو خسوفه المعتاد عندما تحُولُ الأرضُ بين القمر وبين مُسامتته الشمسَ .ومعنى جَمْع الشمس والقمر : التصاقُ القمر بالشمس فتلتهمه الشمس لأن القمر منفصل من الأرض التي هي من الأجرام الدائرة حول الشمس كالكواكب ويكون ذلك بسبب اختلال الجاذبية التي وضع الله عليها النظام الشمسي .
فإذا تحيَّر البصر ودُهش فزعًا مما رأى من أهوال يوم القيامة، وذهب نور القمر، وجُمِع بين الشمس والقمر في ذهاب الضوء، فلا ضوء لواحد منهما، يقول الإنسان وقتها: أين المهرب من العذاب؟
رضي الله عنه : The Prophet صلى الله عليه وسلم said, "The sun and the moon will be folded up (or joined together or deprived of their lights) on the Day of Resurrection." (See the Qur’ân Verse 75:9) (Sahih Al-Bukhari, Vol.4, Hadith No.422).
(And sun and moon are united) like two black, horned bulls whose hooves are beaten and then are thrown in the veil of light,
No commentary keyed to this āyah in: Fi Zilal al-Quran (Urdu), Jawāmiʿ al-jāmiʿ (al-Ṭabrisī), Majmaʿ al-bayān (al-Ṭabrisī), Nūr al-thaqalayn (al-Ḥuwayzī), Tafsīr al-Qummī, Tazkir ul Quran (Urdu), Tazkirul Quran (English).
the words of this āyah — root, frequency, family
و
occurs 9594 timesamong the commonest 300 words
جَمَعَ
occurs 22 timesroot جمع occurs 129
جَمِيع53أَجْمَع26جَمَعَ22جَمْع13أَجْمَعُ4جامِع3
ال
occurs 8377 timesamong the commonest 300 words
شَمْس
occurs 33 timesroot شمس occurs 33
قَمَر
occurs 27 timesroot قمر occurs 27
this āyah in 55 languages — 74 translations
Akan Harun Ismail · v1.0.3
Na yεka Awia ne Bosome bom a,
Azərbaycan Ali Khan Musayev · v1.0.4
günəşlə ayın qovuşacağı zaman –
Bahasa Indonesia Ministry of Religious Affairs · v1.0.1
lalu matahari dan bulan dikumpulkan,
Bahasa Indonesia Sabiq Company · v1.1.3
9. Lalu matahari dan bulan dikumpulkan,
Bahasa Indonesia The Complex · v1.0.1
dan matahari dan bulan dikumpulkan,
Bosanski Muhammad Mahanovic · v1.1.0
i Sunce i Mjesec smotaju, pa sjaj izgube,
Bosanski Rowwad Translation Centre · v2.0.4
i Sunce i Mjesec smotaju, pa sjaj izgube,
Cebuano Rowwad Translation Center · v1.1.3
ug ang adlaw ug ang bulan gihiusa[1],
Deutsch Frank Bubenheim · v1.1.4
und Sonne und Mond zusammengebracht werden,
Deutsch Rowwad Translation Center · v1.0.15
und die Sonne und der Mond zusammengebracht werden,
English Hilali and Khan · v1.1.2
9. And the sun and moon will be joined together (by going one into the other or folded up or deprived of their light).[2]
English Noor International Center · v1.1.2
And the sun and the moon are joined,
English Rowwad Translation Center · v1.0.19
and the sun and the moon are brought together[3],
Español Isa Garcia · v1.0.2
9. y se junten el Sol y la Luna,
Español Noor International Center · v1.0.1
y el sol y la luna se junten.
Español issued by Noor International · v1.0.1
y el sol y la luna se junten.
Français Noor International Center · v1.0.0
9. et que le soleil et la lune auront été réunis,
Français Rachid Maach · v1.0.3
et que le soleil et la lune seront rassemblés[3],
Fulfulde Rowwad Translation Center · v1.0.2
Na'ange e lewru ndenndina.
Hausa Abu Bakr Jumi · v1.2.2
Aka tãra rãnã da watã
Hrvatski Rowwad Translation Center · v1.0.1
i Sunce i Mjesec smotaju, pa sjaj izgube,
Kinyarwanda Rwanda Muslim Association · v1.0.5
Ndetse izuba n’ukwezi bigahurizwa hamwe (kimwe kikinjira mu kindi).
Kirundi Yusuf Gahiti · v1.0.4
Izuba hamwe n’ukwezi bigashirwa hamwe, ntihasubire kuba ijoro n’umurango;
9. (அதுநாள் வரை பிரிந்திருந்த) சூரியனும் சந்திரனும் ஒன்று சேர்க்கப்பட்டு விடும்(போது),
தமிழ் Abridged Version · v1.0.2
இன்னும், சூரியனும் சந்திரனும் (ஒளி இல்லாமல்) ஒன்று சேர்க்கப்ப(ட்டு பூமியில் எறியப்ப)ட்டால்,
தமிழ் Omar Sharif · v1.0.3
இன்னும், சூரியனும் சந்திரனும் (ஒளி இல்லாமல்) ஒன்று சேர்க்கப்ப(ட்டு பூமியில் எறியப்ப)ட்டால்,
తెలుగు Abdurrahim ibn Muhammad · v1.0.6
మరియు సూర్యచంద్రులు కలిపి వేయబడినప్పుడు;
ಕನ್ನಡ Hamza Butur · v1.0.3
ಸೂರ್ಯ-ಚಂದ್ರರನ್ನು ಜೋಡಿಸಲಾಗುವಾಗ.[1]
മലയാളം Abdul Hamid Haidar and Kunhi Muhammad · v1.0.3
സൂര്യനും ചന്ദ്രനും ഒരുമിച്ചുകൂട്ടപ്പെടുകയും ചെയ്താല്!
සිංහල Rowwad Translation Center · v1.0.6
තවද හිරු හා සඳු එක් කරනු ලැබූ විට,
ไทย Rowwad Translation Center · v1.0.1
และเมื่อดวงอาทิตย์และดวงจันทร์ถูกนำมารวมกัน
አማርኛ Africa Academy · v1.0.1
9. ጸሐይና ጨረቃም በተሰበሰቡ ጊዜ፤
አማርኛ Muhammad Sadiq · v1.1.2
ፀሐይና ጨረቃም በተሰበሰቡ ጊዜ፡፡
ភាសាខ្មែរ Islamic Community Development Association · v1.0.2
ហើយព្រះអាទិត្យនិងព្រះច័ន្ទត្រូវបានគេប្រមូល
ភាសាខ្មែរ Rowwad Translation Center · v1.0.4
ហើយព្រះអាទិត្យនិងព្រះចន្ទត្រូវបានគេប្រមូល
中文 Muhammad Makeen · v1.0.2
日月相合的时候,
中文 Muhammad Suleiman · v1.0.8
日月相合的时候,
日本語 Saeed Sato · v1.0.13
太陽と月が(共に暗くなって、)一緒くたにされる時、[1]
Al-Qiyamah 75 : 10
يَقُولُٱلْإِنسَٰنُيَوْمَئِذٍأَيْنَٱلْمَفَرُّ
yaquwlu aliinsaanu yawma'idhin aayna almafaru
plays offline — the recitation is inside this file
PickthallOn that day man will cry: Whither to flee!
Yusuf AliThat Day will Man say: "Where is the refuge?"
Muhammad Junagarhiاس دن انسان کہے گا کہ آج بھاگنے کی جگہ کہاں ہے؟[1]
al-Muyassarفإذا تحيَّر البصر ودُهش فزعًا مما رأى من أهوال يوم القيامة، وذهب نور القمر، وجُمِع بين الشمس والقمر في ذهاب الضوء، فلا ضوء لواحد منهما، يقول الإنسان وقتها: أين المهرب من العذاب؟
the agreed readingman says on that Day: where is the escape? The commentaries note he asks it as he used to ask it in every danger of this life, out of habit.
انسان اس دن کہے گا: بھاگنے کی جگہ کہاں ہے؟ تفسیر مقباس کے مطابق اذا برق البصر ایک ظرف ہے جو یقول الانسان سے جڑا ہے، اور اسے اس کے عامل سے پہلے اس لیے لایا گیا تاکہ اس ظرف کی اہمیت واضح ہو، کیونکہ یہ پچھلی آیت یسال ایان یوم القیامۃ کے جواب سے مقصود ہے۔
يقول الإنسان يومئذ أين المفر. جاء في تفسير مقباس أن إذا برق البصر ظرف متعلق بيقول الإنسان، وإنما قدم على عامله للاهتمام بالظرف لأنه المقصود من سياق مجاوبة قوله يسأل أيان يوم القيامة.
25 of the 36 commentaries carry this āyah
all 25, in their own words
al-Tabarid.923 · ar · PD
القول في تأويل قوله تعالى: ﴿بَلْ يُرِيدُ الإنْسَانُ لِيَفْجُرَ أَمَامَهُ (٥) يَسْأَلُ أَيَّانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ (٦) فَإِذَا بَرِقَ الْبَصَرُ (٧) وَخَسَفَ الْقَمَرُ (٨) وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ (٩) يَقُولُ الإنْسَانُ يَوْمَئِذٍ أَيْنَ الْمَفَرُّ (١٠) كَلا لا وَزَرَ (١١) إِلَى رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ الْمُسْتَقَرُّ (١٢) ﴾ . يقول تعالى ذكره: ما يجهل ابن آدم أن ربه قادر على أن يجمع عظامه، ولكنه يريد أن يمضي أمامه قُدُما في معاصي الله، لا يثنيه عنها شيء، ولا يتوب منها أبدا، ويسوّف التوبة. وبنحو الذي قلنا في ذلك قال أهل التأويل. ذكر من قال ذلك: ⁕ حدثنا ابن حميد، قال: ثنا جرير، عن مغيرة، عن أبي …
al-Tibyān (al-Ṭūsī)d.1067 · ar · PD
يقول الانسان يومئذ أين المفر) اخبار من الله تعالى بأن الانسان يقول في ذلك الوقت: أين المهرب؟ والفرار بفتح الفاء. وروي عن ابن عباس (أين المفر) بكسر الفاء، قال الزجاج: المفر بفتح الفاء مصدر، وبالكسر مكان الفرار. وهذا سؤال تعجيز عن وجود مفر يهرب إليه من عذاب الله في ذلك اليوم. وقيل فيه معنى جواب هذا السائل، كأنه قيل يوم القيامة إذا برق البصر وخسف القمر وجمع الشمس والقمر. والمفر مصدر. ويجوز فيه الكسر، ومثله مدب ومدب وقال البصريون: الكسر لمكان الفرار. وقال الفراء الفتح والكسر لغتان. قوله تعالى: (
ن البريق، أى لمع من شدة شخوصه. وقرأ أبو السمال: بلق إذا انفتح وانفرج. يقال: بلق الباب وأبلقته وبلقته: فتحته وَخَسَفَ الْقَمَرُ وذهب ضوؤه، أو ذهب بنفسه. وقرئ: وخسف على البناء للمفعول وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ حيث يطلعهما الله من المغرب. وقيل: وجمعا في ذهاب الضوء [[قوله «وقيل وجمعا في ذهاب الضوء» لعله: وقيل جمعا. (ع)]] وقيل: يجمعان أسودين مكورين كأنهما ثوران عقيران في النار. وقيل يجمعان ثم يقذفان في البحر، فيكون نار الله الكبرى الْمَفَرُّ بالفتح المصدر، وبالكسر: المكان. ويجوز أن يكون مصدرا كالمرجع. وقرئ بهما كَلَّا ردع عن طلب المفرّ لا وَزَرَ لا ملجأ، وكل ما التجأت إليه من جبل أو غيره …
م سب اپنے اعمال کا خود آئینہ ہیں یہ کئی دفعہ بیان ہوچکا ہے کہ جس چیز پر قسم کھائی جائے اگر وہ رد کرنے کی چیز ہو تو قسم سے پہلے لا کا کلمہ نفی کی تائید کے لئے لانا جائز ہوتا ہے یہاں قیامت کے ہونے پر اور جاہلوں کے اس قول کی تردید پر قیامت نہ ہوگی قسم کھائی جا رہی ہے تو فرماتا ہے قسم ہے قیامت کے دن کی اور قسم ہے ملامت کرنے والی جان کی، حضرت حسن تو فرماتے ہیں قیامت کی قسم ہے اور ملامت کرنے والے نفس کی قسم نہیں ہے، حضرت قتادہ فرماتے ہیں دونوں کی قسم ہے، حسن اور اعرج کی قرأت آیت (لَآ اُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ ۙ) 75۔ القیامة :1) ہے اس سے بھی حضرت حسن کے قول کی تائید ہوتی ہے اس لئے کہ ان کے نزدیک …
يقول الانسان يومئذ أين المفر يقوله قول الايس من وجدانه المتمني. (11) كلا ردع عن طلب المفر لا وزر لا ملجأ مستعار من الجبل واشتقاقه من الوزر وهو الثقل. (12)
أي: {فإذا} كانت القيامة؛ برقت الأبصار من الهول العظيم وشخصت فلا تطرف؛ كما قال تعالى:{إنَّما يؤخِّرُهم ليومٍ تَشۡخَصُ فيه الأبصارُ. مهطِعين مُقۡنِعي رؤوسهم لا يرتدُّ إليهم طرفُهم وأفئِدَتُهم هواءٌ}، {وخسف القمر}؛ أي: ذهب نورُه وسُلطانه، {وجُمِعَ الشمسُ والقمرُ}: وهما لم يجتمعا منذ خلقهما الله تعالى، فيجمع الله بينهما يوم القيامةِ، ويُخسف القمر، وتكوَّر الشمس، ثم يقذفان في النار؛ ليرى العباد أنَّهما عبدان مسخَّران، وليرى مَنْ عَبَدَهما أنَّهم كانوا كاذبين، {يقول الإنسانُ}: حين يرى تلك القلاقل المزعجات: {أين المفرُّ}؛ أي: أين الخلاص والفكاك ممَّا طرقنا وألمَّ بنا ؟ {11 ـ 13}{كلاَّ لا وَزَرَ} …
س جب پتھرا جائیں گی آنکھیں(7) اور بے نور ہو جائے گا چاند(8) اور جمع کر دیے جائیں گے سورج اور چاند(9) کہے گا انسان اس دن، کہاں ہے بھاگنا؟ (10) ہرگز نہیں! نہیں (وہاں) کوئی پناہ گاہ (11) آپ کے رب ہی کی طرف ہو گا اس دن ٹھکانا (12) خبر دیا جائے گا انسان اس دن ساتھ اس کےجو اس نے آگے بھیجا اور (جو) پیچھے چھوڑا (13)بلکہ انسان اپنے نفس پر خوب شاہد ہے (14) اگرچہ وہ پیش کرے اپنی معذرتیں (15) [10-7] یعنی جب قیامت برپا ہو گی عظیم دہشت کی بنا پر نگاہیں اوپر اٹھی ہوئی ہوں گی اور جھپکیں گی نہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ اِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمۡ لِيَوۡمٍ تَشۡخَصُ فِيۡهِ الۡاَبۡصَارُۙ۰۰ مُهۡطِعِيۡنَ …
این المفر (75:10) ” بھاگنے کی جگہ کہاں ہے “۔ اور انسان اس جزع فزع میں پھر ہر طرف بھاگتا پھرے گا۔ جس طرح چوہا پنجرے میں بند ہوجاتا ہے اور ہر طرف بھاگتا رہتا ہے۔ اب نہ جائے فرار ہے ، نہ جائے پناہ ہے ، نہ آگے جاسکتے ہیں اور نہ پیچھے۔
فَاِذَا بَرِقَ الْبَصَرُ وَخَسَفَ الْقَمَرُ وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ (So, when the eyes will be dazzled, and the moon will lose its light, and the sun and the moon will be joined together,...75:7-9). This describes the scenes of the Resurrection. The verb bariqa means for the eyes 'to be dazzled and unable to see'. On the Day of Resurrection, the eyes of all will be dazzled and will not be able to see consistently. The verb khasafa is derived from khusuf which means 'to lose light and become dark'. The verse purports to say that the moon will lose its light or will be eclipsed. The …
يقول الانسان يومئذ أين المفر " أي أين موضع الفرار، وقوله: " أين المفر " مع ظهور السلطنة الإلهية له وعلمه بأن لا مفر ولا فرار يومئذ من باب ظهور ملكاته يومئذ فقد كان في الدنيا يسأل عن المفر إذا وقع في شدة أو هددته مهلكة وذلك كإنكارهم الشرك يومئذ وحلفهم كذبا قال تعالى: " ثم لم تكن فتنتهم إلا أن قالوا والله ربنا ما كنا مشركين " الانعام: 23، وقال: " يوم يبعثهم الله جميعا فيحلفون له كما يحلفون لكم " المجادلة: 18. قوله تعالى: "
يَقُولُ الإنسان يَوْمَئِذٍ أَيْنَ المفر ) أى : فإذا ما تم كل ذلك ، يقول الإِنسان فى هذا الوقت الذى يبرق فيه البصر ، ويخسف فيه القمر ، ويجمع فيه بين الشمس والقمر : أين المفر . أى : أين الفرار من قضاء الله - تعالى - ومن قدره وحسابه . فالمفر مصدر بمعنى الفرار . . والاستفهام بمعنى التمنى أى : ليت لى مكانا أفر إليه مما أراه .
يَقُولُ الْإِنْسَانُ يَوْمَئِذٍ أَيْنَ الْمَفَرُّ (10) و { إذا برق البصر } ظَرف متعلق ب { يقول الإِنسان } ، وإنما قدم على عامله للاهتمام بالظرف لأنه المقصود من سياق مجاوبة قوله :{ يسأل أيّان يوم القيامة } [ القيامة : 6 ] .وطُوي التصريح بأن ذلك حلول يوم القيامة اكتفاء بذكر ما يدل عليه وهو قولهم { أين المَفر } فكأنه قيل : حَلَّ يومُ القيامة وحضرت أهوالُه يقول الإنسان يومئذٍ ثم تأكَّدَ بقوله { إلى ربك يومئذٍ المستقر } .و { يومئذٍ } ظرف متعلق ب { يقول } أيضاً ، أي يومَ إذْ يبرق البصر ويخسف القمر ويُجمع الشمس والقمر ، فتنوين ( إذ ) تنوين عِوض عن الجملة المحذوفة التي دَلت عليها الجملة التي أضيف …
فإذا تحيَّر البصر ودُهش فزعًا مما رأى من أهوال يوم القيامة، وذهب نور القمر، وجُمِع بين الشمس والقمر في ذهاب الضوء، فلا ضوء لواحد منهما، يقول الإنسان وقتها: أين المهرب من العذاب؟
(On that day man) the disbelieving man: 'Adiyy Ibn Rabi'ah and his companions (will cry: Whither to flee) from the Fire and take refuse!
No commentary keyed to this āyah in: Bayan ul Quran (Urdu), Hilali & Khan, notes (English), Jawāmiʿ al-jāmiʿ (al-Ṭabrisī), Majmaʿ al-bayān (al-Ṭabrisī), Nūr al-thaqalayn (al-Ḥuwayzī), Tafhim al-Qur'an - Maududi (English), Tafhim al-Qur'an - Maududi (Urdu), Tafsir-e-Usmani (Urdu), Tafsīr al-Qummī, Tazkir ul Quran (Urdu), Tazkirul Quran (English).
the words of this āyah — root, frequency, family
قالَ
occurs 1618 timesroot قول occurs 1722among the commonest 300 words
قالَ1618قَوْل92قائِل5قِيل4تَقَوَّلَ2أَقاوِيل1
ال
occurs 8377 timesamong the commonest 300 words
إِنسان
occurs 71 timesroot أنس occurs 338among the commonest 300 words
ناس241إِنسان71إِنس18آنَسَ5إِنسِيّ1تَسْتَأْنِسُ1
يَوْم
occurs 475 timesroot يوم occurs 475among the commonest 300 words
إِذ
occurs 309 timesamong the commonest 300 words
أَيْن
occurs 19 times
مَفَرّ
occurs ONCE in the whole Qurʾānroot فرر occurs 11
فَرَّتْ6فِرار4مَفَرّ1
this āyah in 55 languages — 74 translations
Akan Harun Ismail · v1.0.3
Saa Da no onipa bεka sε: ”Dwane kͻbea wͻ hen?”
Azərbaycan Ali Khan Musayev · v1.0.4
o gün insan: “Qaçacaq yer haradadır?”– deyəcəkdir.
Bahasa Indonesia Ministry of Religious Affairs · v1.0.1
pada hari itu manusia berkata, "Ke mana tempat pelarian?"
Bahasa Indonesia Sabiq Company · v1.1.3
10. Pada hari itu manusia berkata, “Ke mana tempat lari?”
Bahasa Indonesia The Complex · v1.0.1
pada hari itu manusia berkata, "Ke mana tempat lari?"
Bosanski Muhammad Mahanovic · v1.1.0
taj dan čovjek će povikati: "Gdje da se bježi?"
Bosanski Rowwad Translation Centre · v2.0.4
taj dan čovjek će povikati: “Gdje da se bježi?”
Cebuano Rowwad Translation Center · v1.1.3
Ang tawo moingon nianang Adlawa: "Hain (ang dalangpanan) aron sa pagkalagiw (pag-ikyas)?"
Deutsch Frank Bubenheim · v1.1.4
wird der Mensch an jenem Tag sagen: Wohin soll die Flucht sein?
Deutsch Rowwad Translation Center · v1.0.15
wird der Mensch an jenem Tag sagen: „Wohin soll die Flucht sein?“
English Hilali and Khan · v1.1.2
10. On that Day man will say: "Where (is the refuge) to flee?"
English Noor International Center · v1.1.2
Man will say on that Day, "Where is the [place of] escape?"
English Rowwad Translation Center · v1.0.19
on that Day man will say, “Where is the escape?”
Español Isa Garcia · v1.0.2
10. el hombre dirá entonces: “¿A dónde puedo huir?”
Español Noor International Center · v1.0.1
Ese día el hombre dirá: «¿Adónde puedo escapar?».
Español issued by Noor International · v1.0.1
Ese día el hombre dirá: “¿Adónde puedo escapar?”.
Français Noor International Center · v1.0.0
10. l’homme dira, ce jour-là : « Où fuir ? »
Français Rachid Maach · v1.0.3
l’homme, ce Jour-là, dira : « Où fuir ? »
Fulfulde Rowwad Translation Center · v1.0.2
Ndeen aade wi'a hoɗo dogirde ngoni.
Hausa Abu Bakr Jumi · v1.2.2
Mutum zai ce a rãn nan "Ina wurin gudu?"
Hrvatski Rowwad Translation Center · v1.0.1
taj dan čovjek će povikati: “Gdje da se bježi?”
Kinyarwanda Rwanda Muslim Association · v1.0.5
Icyo gihe umuntu azavuga ati “Ni he ho guhungira?”
plays offline — the recitation is inside this file
PickthallAlas! No refuge!
Yusuf AliBy no means! No place of safety!
Muhammad Junagarhiنہیں نہیں کوئی پناہ گاه نہیں.[1]
al-Muyassarليس الأمر كما تتمناه -أيها الإنسان- مِن طلب الفرار، لا ملجأ لك ولا منجى. إلى الله وحده مصير الخلائق يوم القيامة ومستقرهم، فيجازي كُلًّا بما يستحق.
the agreed readingNo — there is no refuge. The commentaries gloss the word as any stronghold or shelter a man might reach, and there is none.
ہرگز نہیں، کوئی پناہ گاہ نہیں۔ رازی وضاحت کرتے ہیں کہ وزر کی اصل مضبوط پہاڑ ہے، پھر ہر اس چیز کو جس میں تم پناہ لو وزر کہا جاتا ہے۔ تفسیر مقباس بتاتی ہے کہ وزر وہ جگہ ہے جہاں انسان کسی برائی سے بچنے کے لیے پناہ لیتا ہے، جیسے پہاڑ اور قلعے۔
كلا لا وزر. ذكر الرازي أن أصل الوزر الجبل المنيع، ثم يقال لكل ما التجأت إليه وتحصنت به وزر. وفي تفسير مقباس أن الوزر المكان الذي يلجأ إليه للتوقي من مكروه مثل الجبال والحصون.
25 of the 36 commentaries carry this āyah
all 25, in their own words
al-Tabarid.923 · ar · PD
القول في تأويل قوله تعالى: ﴿بَلْ يُرِيدُ الإنْسَانُ لِيَفْجُرَ أَمَامَهُ (٥) يَسْأَلُ أَيَّانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ (٦) فَإِذَا بَرِقَ الْبَصَرُ (٧) وَخَسَفَ الْقَمَرُ (٨) وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ (٩) يَقُولُ الإنْسَانُ يَوْمَئِذٍ أَيْنَ الْمَفَرُّ (١٠) كَلا لا وَزَرَ (١١) إِلَى رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ الْمُسْتَقَرُّ (١٢) ﴾ . يقول تعالى ذكره: ما يجهل ابن آدم أن ربه قادر على أن يجمع عظامه، ولكنه يريد أن يمضي أمامه قُدُما في معاصي الله، لا يثنيه عنها شيء، ولا يتوب منها أبدا، ويسوّف التوبة. وبنحو الذي قلنا في ذلك قال أهل التأويل. ذكر من قال ذلك: ⁕ حدثنا ابن حميد، قال: ثنا جرير، عن مغيرة، عن أبي …
Tafsīr al-Qummīd.941 · ar · PD
كلا لا وزر) اي لا ملجأ قوله (ينبؤا الانسان يومئذ بما قدم وأخر) قال: يخبر بما قدم وأخر (بل الانسان على نفسه بصيرة ولو ألقى معاذيره) قال [vol 2 p.396] يعلم ما صنع وان اعتذر قوله (ان علينا جمعه وقرآنه) قال: على آل محمد جمع القرآن وقرآنه (فإذا قرأناه فاتبع قرآنه) قال اتبعوا إذا ما قرأوه (ثم إن علينا بيانه) اي تفسيره (كلا بل تحبون العاجلة) قال الدنيا الحاضرة (وتذرون الآخرة قال تدعون (وجوه يومئذ ناضرة) اي مشرقة (إلى ربها ناظرة) قال ينظرون إلى وجه الله اي إلى رحمة الله ونعمته (ووجوه يومئذ باسرة) اي ذليلة قوله (كلا إذا بلغت التراقي) قال النفس إذا بلغت الترقوة (وقيل من راق) قال يقال له من يرقيك قوله …
بَرِقَ الْبَصَرُ تحير فزعا، وأصله من برق الرجل إذا نظر إلى البرق فدهش بصره. وقرئ: برق من البريق، أى لمع من شدة شخوصه. وقرأ أبو السمال: بلق إذا انفتح وانفرج. يقال: بلق الباب وأبلقته وبلقته: فتحته وَخَسَفَ الْقَمَرُ وذهب ضوؤه، أو ذهب بنفسه. وقرئ: وخسف على البناء للمفعول وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ حيث يطلعهما الله من المغرب. وقيل: وجمعا في ذهاب الضوء [[قوله «وقيل وجمعا في ذهاب الضوء» لعله: وقيل جمعا. (ع)]] وقيل: يجمعان أسودين مكورين كأنهما ثوران عقيران في النار. وقيل يجمعان ثم يقذفان في البحر، فيكون نار الله الكبرى الْمَفَرُّ بالفتح المصدر، وبالكسر: المكان. ويجوز أن يكون مصدرا كالمرجع. وقرئ …
م سب اپنے اعمال کا خود آئینہ ہیں یہ کئی دفعہ بیان ہوچکا ہے کہ جس چیز پر قسم کھائی جائے اگر وہ رد کرنے کی چیز ہو تو قسم سے پہلے لا کا کلمہ نفی کی تائید کے لئے لانا جائز ہوتا ہے یہاں قیامت کے ہونے پر اور جاہلوں کے اس قول کی تردید پر قیامت نہ ہوگی قسم کھائی جا رہی ہے تو فرماتا ہے قسم ہے قیامت کے دن کی اور قسم ہے ملامت کرنے والی جان کی، حضرت حسن تو فرماتے ہیں قیامت کی قسم ہے اور ملامت کرنے والے نفس کی قسم نہیں ہے، حضرت قتادہ فرماتے ہیں دونوں کی قسم ہے، حسن اور اعرج کی قرأت آیت (لَآ اُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ ۙ) 75۔ القیامة :1) ہے اس سے بھی حضرت حسن کے قول کی تائید ہوتی ہے اس لئے کہ ان کے نزدیک …
No indeed! — a deterrent against seeking to escape — There is no refuge, no shelter to seek protection in.
Nūr al-thaqalayn (al-Ḥuwayzī)d.1700 · ar · PD
كلا لا وزر أي لا ملجأ، قوله: ينبأ الانسان يومئذ بما قدم وأخر بما قدم من خير وشر وما أخر، فما سن من سنة ليستن بها من بعده فإن كان شرا كان عليه مثل وزرهم ولا ينقص من وزرهم شيئا، وإن كان [vol 5 p.461] خيرا كان له مثل أجورهم ولا ينقص من أجورهم شيئا بل الانسان على نفسه بصيرة ولو القى معاذيره قال; يعلم ما صنع وان اعتذر. 6 - في من لا يحضره الفقيه روى ابن بكير عن زرارة قال: سألت أبا عبد الله عليه السلام ما حد المرض الذي يفطر فيه الرجل ويدع الصلاة من قيام؟ فقال: " بل الانسان على نفسه بصيره " هو أعلم بما يطيقه. 7 - في أصول الكافي أبو علي الأشعري عن محمد بن عبد الجبار عن صفوان عن فضل أبى العباس عن أبي …
أي: {فإذا} كانت القيامة؛ برقت الأبصار من الهول العظيم وشخصت فلا تطرف؛ كما قال تعالى:{إنَّما يؤخِّرُهم ليومٍ تَشۡخَصُ فيه الأبصارُ. مهطِعين مُقۡنِعي رؤوسهم لا يرتدُّ إليهم طرفُهم وأفئِدَتُهم هواءٌ}، {وخسف القمر}؛ أي: ذهب نورُه وسُلطانه، {وجُمِعَ الشمسُ والقمرُ}: وهما لم يجتمعا منذ خلقهما الله تعالى، فيجمع الله بينهما يوم القيامةِ، ويُخسف القمر، وتكوَّر الشمس، ثم يقذفان في النار؛ ليرى العباد أنَّهما عبدان مسخَّران، وليرى مَنْ عَبَدَهما أنَّهم كانوا كاذبين، {يقول الإنسانُ}: حين يرى تلك القلاقل المزعجات: {أين المفرُّ}؛ أي: أين الخلاص والفكاك ممَّا طرقنا وألمَّ بنا ؟ {11 ـ 13}{كلاَّ لا وَزَرَ} …
س جب پتھرا جائیں گی آنکھیں(7) اور بے نور ہو جائے گا چاند(8) اور جمع کر دیے جائیں گے سورج اور چاند(9) کہے گا انسان اس دن، کہاں ہے بھاگنا؟ (10) ہرگز نہیں! نہیں (وہاں) کوئی پناہ گاہ (11) آپ کے رب ہی کی طرف ہو گا اس دن ٹھکانا (12) خبر دیا جائے گا انسان اس دن ساتھ اس کےجو اس نے آگے بھیجا اور (جو) پیچھے چھوڑا (13)بلکہ انسان اپنے نفس پر خوب شاہد ہے (14) اگرچہ وہ پیش کرے اپنی معذرتیں (15) [10-7] یعنی جب قیامت برپا ہو گی عظیم دہشت کی بنا پر نگاہیں اوپر اٹھی ہوئی ہوں گی اور جھپکیں گی نہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ اِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمۡ لِيَوۡمٍ تَشۡخَصُ فِيۡهِ الۡاَبۡصَارُۙ۰۰ مُهۡطِعِيۡنَ …
لا لا .................... المسقر (75:12) ” ہرگز نہیں ، وہاں کوئی جائے پناہ نہ ہوگی ، اس روز تیرے رب ہی کے سامنے جاکر ٹھہرنا ہوگا “۔ اس دن یہ صورت حالات نہ ہوگی جو انسان چاہتا ہے کہ بلا حساب و کتاب وہ فسق وفجور کے راستے پر آگے بڑھے اور کوئی پوچھنے والا نہ ہو ، بلکہ اس دن تو پورا پورا محاسبہ ہوگا اور اس نے اپنے جو اعمال بھولے ہوں گے ان کے بارے میں اس سے پوچھا جائے گا۔ اور جب وہ یاد کرے گا تو پھر جزاء وسزا ہوگی۔
فَاِذَا بَرِقَ الْبَصَرُ وَخَسَفَ الْقَمَرُ وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ (So, when the eyes will be dazzled, and the moon will lose its light, and the sun and the moon will be joined together,...75:7-9). This describes the scenes of the Resurrection. The verb bariqa means for the eyes 'to be dazzled and unable to see'. On the Day of Resurrection, the eyes of all will be dazzled and will not be able to see consistently. The verb khasafa is derived from khusuf which means 'to lose light and become dark'. The verse purports to say that the moon will lose its light or will be eclipsed. The …
وقوله - سبحانه - : ( كَلاَّ لاَ وَزَرَ . إلى رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ المستقر ) إبطال لهذا التمنى ، ونفى لأن يكون لهذا الإِنسان مهرب من الحساب .والوزر : المراد به الملجأ والمكان الذى يحتمى به الشخص للتوقى مما يخافه ، وأصله ، الجبل المرتفع المنيع ، من الوِزْر وهو الثقل .أى : كلا لا وزر ولا ملجأ لك . أيها الإِنسان - من المثول أمام ربك فى هذا اليوم للحساب والجزاء .
كَلَّا لَا وَزَرَ (11) و { كلا } ردع وإبطال لما تضمنه { أين المفر } من الطمع في أن يجد للفرار سبيلاً .و { الوَزر } : المكان الذي يُلجأ إليه للتوقي من إصابة مكروه مثل الجبال والحصون .فيجوز أن يكون { كلاّ لا وَزَر } كلاماً مستأنفاً من جانب الله تعالى جواباً لمقالة الإِنسان ، أي لا وزر لكَ ، فينبغي الوقفُ على { المفر } . ويجوز أن يكون من تمام مقالة الإِنسان ، أي يقول : أين المفر؟ ويجيب نفسه بإبطال طعمه فيقول { كَلاّ لا وزَر } أي لا وزر لي ، وذلك بأن نظر في جهاته فلم يجد إلاّ النار كما ورد في الحديث ، فيحسن أن يُوصل { أين المفر } بجملة { كلا لا وَزَر } .
(Alas! No refuge!) Truly, there is no mountain to shield him from the Fire, nor are there any trees, cover, fortress, refuge or safety for them from Allah.
No commentary keyed to this āyah in: Bayan ul Quran (Urdu), Hilali & Khan, notes (English), Jawāmiʿ al-jāmiʿ (al-Ṭabrisī), Majmaʿ al-bayān (al-Ṭabrisī), Tafhim al-Qur'an - Maududi (English), Tafhim al-Qur'an - Maududi (Urdu), Tafsir-e-Usmani (Urdu), Tazkir ul Quran (Urdu), Tazkirul Quran (English), al-Tibyān (al-Ṭūsī), al-Ṣāfī (Fayḍ al-Kāshānī).
the words of this āyah — root, frequency, family
كَلّا
occurs 33 times
لا
occurs 1742 timesamong the commonest 300 words
وَزَر
occurs ONCE in the whole Qurʾānroot وزر occurs 27
وِزْر12يَزِرُ7وازِرَة5وَزِير2وَزَر1
this āyah in 55 languages — 74 translations
Akan Harun Ismail · v1.0.3
Daabi, dwane kͻbea biara nni hͻ.
Azərbaycan Ali Khan Musayev · v1.0.4
Xeyr, (o gün) pənah aparılacaq yer olmayacaqdır.
Bahasa Indonesia Ministry of Religious Affairs · v1.0.1
Tidak! Tidak ada tempat berlindung!
Bahasa Indonesia Sabiq Company · v1.1.3
11. Tidak! Tidak ada tempat berlindung!
Bahasa Indonesia The Complex · v1.0.1
sekali-kali tidak! Tidak ada tempat berlindung!
Bosanski Muhammad Mahanovic · v1.1.0
Ne, nema pribježišta!
Bosanski Rowwad Translation Centre · v2.0.4
Ne, nema pribježišta!
Cebuano Rowwad Translation Center · v1.1.3
Apan dili, wala nay dapit nga dalangpanan!
Deutsch Frank Bubenheim · v1.1.4
Keineswegs! (Es gibt) keine Zuflucht.
Deutsch Rowwad Translation Center · v1.0.15
Keineswegs! (Es gibt) keine Zuflucht.
English Hilali and Khan · v1.1.2
11. No! There is no refuge!
English Noor International Center · v1.1.2
No! There is no refuge.
English Rowwad Translation Center · v1.0.19
No indeed! There will be no refuge.
Español Isa Garcia · v1.0.2
11. ¡Pues no! No habrá refugio [a donde escapar].
Español Noor International Center · v1.0.1
Mas no habrá refugio alguno.
Español issued by Noor International · v1.0.1
Mas no habrá refugio alguno.
Français Noor International Center · v1.0.0
11. Non ! Il n’y aura point d’issue.
Français Rachid Maach · v1.0.3
Nulle part ! Il n’y aura, en effet, aucun refuge.
Fulfulde Rowwad Translation Center · v1.0.2
Ala dokdu alah e oon ñalngu.
Hausa Abu Bakr Jumi · v1.2.2
A'aha! bãbu mafaka.
Hrvatski Rowwad Translation Center · v1.0.1
Ne, nema pribježišta!
Kinyarwanda Rwanda Muslim Association · v1.0.5
(Azabwirwa ati) “Oya! Nta ho guhungira hahari!”
Kirundi Yusuf Gahiti · v1.0.4
Muntu! Eka teshwa ute, urahumba! Si nk’uko uvyipfuza, nta buhungiro, eka nta n’ubukiriro;
11. ‘‘முடியவே முடியாது. தப்ப இடமில்லை'' (என்று கூறப்படும்).
தமிழ் Abridged Version · v1.0.2
அவ்வாறல்ல! தப்பித்து ஓட அறவே முடியாது (-பாவிகளுக்கு அடைக்கலம் கொடுக்க பாதுகாப்பான இடம் ஏதும் இருக்காது).
தமிழ் Omar Sharif · v1.0.3
அவ்வாறல்ல! தப்பித்து ஓட அறவே முடியாது (-பாவிகளுக்கு அடைக்கலம் கொடுக்க பாதுகாப்பான இடம் ஏதும் இருக்காது).
తెలుగు Abdurrahim ibn Muhammad · v1.0.6
అది కాదు! (అతనికి) ఎక్కడా శరణం ఉండదు!
ಕನ್ನಡ Hamza Butur · v1.0.3
ಇಲ್ಲ, ಯಾವುದೇ ರಕ್ಷಣೆಯೂ ಇಲ್ಲ.
മലയാളം Abdul Hamid Haidar and Kunhi Muhammad · v1.0.3
ഇല്ല. യാതൊരു രക്ഷയുമില്ല.(3)
සිංහල Rowwad Translation Center · v1.0.6
එසේ නොව සරණ පතන තැනක් (ඔහුට) නොමැත.
ไทย Rowwad Translation Center · v1.0.1
เปล่าเลย ไม่มีที่พึ่งพิงดอก
አማርኛ Africa Academy · v1.0.1
11. «ይከልከል፤ ምንም መጠጊያ የለም።
አማርኛ Muhammad Sadiq · v1.1.2
ይከልከል፤ ምንም መጠጊያ የለም፡፡
ភាសាខ្មែរ Islamic Community Development Association · v1.0.2
ទេ. គ្មានកន្លែងរត់ឡើយ។
ភាសាខ្មែរ Rowwad Translation Center · v1.0.4
ទេ! គ្មានកន្លែងរត់គេចឡើយ។
中文 Muhammad Makeen · v1.0.2
绝不然,绝无任何避难所。
中文 Muhammad Suleiman · v1.0.8
绝不然,绝无任何避难所。
日本語 Saeed Sato · v1.0.13
断じて(、そうはいか)ない。避難場所など、ないのだ。
Al-Qiyamah 75 : 12
إِلَىٰرَبِّكَيَوْمَئِذٍٱلْمُسْتَقَرُّ
iilaaa rabika yawma'idhin almustaqaru
plays offline — the recitation is inside this file
PickthallUnto thy Lord is the recourse that day.
Yusuf AliBefore thy Lord (alone), that Day will be the place of rest.
Muhammad Junagarhiآج تو تیرے پروردگار کی طرف ہی قرار گاه ہے.[1]
al-Muyassarليس الأمر كما تتمناه -أيها الإنسان- مِن طلب الفرار، لا ملجأ لك ولا منجى. إلى الله وحده مصير الخلائق يوم القيامة ومستقرهم، فيجازي كُلًّا بما يستحق.
the agreed readingTo your Lord, that Day, is the place of settling — no other place of return exists, the commentaries agree, so the question of escape is already answered.
اس دن تمہارے رب ہی کی طرف ٹھہرنا ہے۔ تفسیر مقباس کے مطابق الی ربک یومئذ المستقر اللہ کی طرف سے ایک کلام ہے جو دنیا میں نبی ﷺ سے کیا گیا، یومئذ کے لفظ کی قرینے سے، تو یہ ایک اعتراضی جملہ ہے جو اس دن کی بادشاہی یاد دلانے کے لیے ہے۔ جلالین وضاحت کرتے ہیں کہ یہ مخلوقات کے ٹھہرنے کی جگہ ہے، جہاں ان کا حساب لیا جائے گا اور بدلہ دیا جائے گا۔
إلى ربك يومئذ المستقر. جاء في تفسير مقباس أن هذا كلام من جانب الله تعالى خاطب به النبي صلى الله عليه وسلم في الدنيا بقرينة قوله يومئذ، فهو اعتراض وإدماج للتذكير بملك ذلك اليوم. وفسر الجلالين ذلك بأنه مستقر الخلائق فيحاسبون ويجازون.
26 of the 36 commentaries carry this āyah
all 26, in their own words
al-Tabarid.923 · ar · PD
القول في تأويل قوله تعالى: ﴿بَلْ يُرِيدُ الإنْسَانُ لِيَفْجُرَ أَمَامَهُ (٥) يَسْأَلُ أَيَّانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ (٦) فَإِذَا بَرِقَ الْبَصَرُ (٧) وَخَسَفَ الْقَمَرُ (٨) وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ (٩) يَقُولُ الإنْسَانُ يَوْمَئِذٍ أَيْنَ الْمَفَرُّ (١٠) كَلا لا وَزَرَ (١١) إِلَى رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ الْمُسْتَقَرُّ (١٢) ﴾ . يقول تعالى ذكره: ما يجهل ابن آدم أن ربه قادر على أن يجمع عظامه، ولكنه يريد أن يمضي أمامه قُدُما في معاصي الله، لا يثنيه عنها شيء، ولا يتوب منها أبدا، ويسوّف التوبة. وبنحو الذي قلنا في ذلك قال أهل التأويل. ذكر من قال ذلك: ⁕ حدثنا ابن حميد، قال: ثنا جرير، عن مغيرة، عن أبي …
Tafsīr al-Qummīd.941 · ar · PD
إلى ربك يومئذ المساق) قال: يساقون إلى الله قوله (فلا صدق ولا صلى) فإنه كان سبب نزولها ان رسول الله صلى الله عليه وآله دعا إلى بيعة علي يوم غدير خم فلما بلغ الناس وأخبرهم في علي ما أراد الله ان يخبر، رجعوا الناس، فاتكأ معاوية على المغيرة بن شعبة وأبي موسى الأشعري ثم اقبل يتمطى نحو أهله ويقول ما نقر لعلي بالولاية (بالخلافة خ ل) ابدا ولا نصدق محمد مقالته فيه فأنزل الله جل ذكره (فلا صدق ولا صلى ولكن كذب وتولى ثم ذهب إلى أهله يتمطى أولى لك فأولى) عبد الفاسق ك (وعيد الفاسق ط) فصعد رسول الله صلى الله عليه وآله المنبر وهو يريد البراءة منه فأنزل الله (لا تحرك به لسانك لتعجل به) فسكت رسول الله صلى الله …
ن البريق، أى لمع من شدة شخوصه. وقرأ أبو السمال: بلق إذا انفتح وانفرج. يقال: بلق الباب وأبلقته وبلقته: فتحته وَخَسَفَ الْقَمَرُ وذهب ضوؤه، أو ذهب بنفسه. وقرئ: وخسف على البناء للمفعول وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ حيث يطلعهما الله من المغرب. وقيل: وجمعا في ذهاب الضوء [[قوله «وقيل وجمعا في ذهاب الضوء» لعله: وقيل جمعا. (ع)]] وقيل: يجمعان أسودين مكورين كأنهما ثوران عقيران في النار. وقيل يجمعان ثم يقذفان في البحر، فيكون نار الله الكبرى الْمَفَرُّ بالفتح المصدر، وبالكسر: المكان. ويجوز أن يكون مصدرا كالمرجع. وقرئ بهما كَلَّا ردع عن طلب المفرّ لا وَزَرَ لا ملجأ، وكل ما التجأت إليه من جبل أو غيره …
م سب اپنے اعمال کا خود آئینہ ہیں یہ کئی دفعہ بیان ہوچکا ہے کہ جس چیز پر قسم کھائی جائے اگر وہ رد کرنے کی چیز ہو تو قسم سے پہلے لا کا کلمہ نفی کی تائید کے لئے لانا جائز ہوتا ہے یہاں قیامت کے ہونے پر اور جاہلوں کے اس قول کی تردید پر قیامت نہ ہوگی قسم کھائی جا رہی ہے تو فرماتا ہے قسم ہے قیامت کے دن کی اور قسم ہے ملامت کرنے والی جان کی، حضرت حسن تو فرماتے ہیں قیامت کی قسم ہے اور ملامت کرنے والے نفس کی قسم نہیں ہے، حضرت قتادہ فرماتے ہیں دونوں کی قسم ہے، حسن اور اعرج کی قرأت آیت (لَآ اُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ ۙ) 75۔ القیامة :1) ہے اس سے بھی حضرت حسن کے قول کی تائید ہوتی ہے اس لئے کہ ان کے نزدیک …
Tafsir al-Jalalaynd.1505 · ar · PD
إلى رَبّك يَوْمئِذٍ المُسْتَقَرّ﴾ مُسْتَقَرّ الخَلائِق فَيُحاسَبُونَ ويُجازُونَ
On that day the recourse will be to your Lord, the [final] recourse of all creatures, whereupon they will be reckoned with and requited.
al-Ṣāfī (Fayḍ al-Kāshānī)d.1680 · ar · PD
إلى ربك يومئذ المستقر إليه وحده وإلى حكمه ومشيئته موضع القرار. وعن الباقر (عليه السلام) بما قدم من خير وشر وما اخر فما سن من سنة ليستن بها من بعده فإن كان شرا كان عليه مثل وزرهم ولا ينقص من وزرهم شيئا وإن كان خيرا كان له مثل أجورهم ولا ينقص من أجورهم شيئا. (14)
Nūr al-thaqalayn (al-Ḥuwayzī)d.1700 · ar · PD
إلى ربك يومئذ المساق قال: المصير إلى رب العالمين. 27 - في تفسير علي بن إبراهيم " والتفت الساق بالساق " قال: التفت الدنيا [vol 5 p.465] بالآخرة " إلى ربك يومئذ المساق " قال: يساقون إلى الله وقوله: فلا صدق ولا صلى فإنه كان سبب نزولها ان رسول الله صلى الله عليه وآله دعا إلى بيعة على يوم غدير خم، فلما بلغ الناس وأخبرهم في علي ما أراد ان يخبر رجعوا الناس، فاتكى معاوية على المغيرة ابن شعبة وأبي موسى الأشعري ثم اقبل يتمطى نحو أهله ويقول: ما نقر لعلى بالولاية أبدا ولا نصدق محمدا مقالته فيه، فأنزل الله جل ذكره: " فلا صدق ولا صلى * و لكن كذب وتولى * ثم ذهب إلى أهله يتمطى * أولى لك فأولى " وعيد الفاسق …
قیامت کے دن کوئی مفر نہیں:یعنی اب تو کہتا ہے کہ وہ دن کہاں ہے۔ اور اس وقت بدحواس ہو کر کہے گا کہ آج کدھر بھاگوں اور کہاں پناہ لوں۔ ارشاد ہو گا کہ آج نہ بھاگنے کا موقع ہے نہ سوال کرنے کا۔ آج کوئی طاقت تیرا بچاؤ نہیں کرسکتی، نہ پناہ دے سکتی ہے۔ آج کے دن سب کو اپنے پروردگار کی عدالت میں حاضر ہونا اور اسی کی پیشی میں ٹھہرنا ہے پھر وہ جس کے حق میں جو کچھ فیصلہ کرے۔
أي: {فإذا} كانت القيامة؛ برقت الأبصار من الهول العظيم وشخصت فلا تطرف؛ كما قال تعالى:{إنَّما يؤخِّرُهم ليومٍ تَشۡخَصُ فيه الأبصارُ. مهطِعين مُقۡنِعي رؤوسهم لا يرتدُّ إليهم طرفُهم وأفئِدَتُهم هواءٌ}، {وخسف القمر}؛ أي: ذهب نورُه وسُلطانه، {وجُمِعَ الشمسُ والقمرُ}: وهما لم يجتمعا منذ خلقهما الله تعالى، فيجمع الله بينهما يوم القيامةِ، ويُخسف القمر، وتكوَّر الشمس، ثم يقذفان في النار؛ ليرى العباد أنَّهما عبدان مسخَّران، وليرى مَنْ عَبَدَهما أنَّهم كانوا كاذبين، {يقول الإنسانُ}: حين يرى تلك القلاقل المزعجات: {أين المفرُّ}؛ أي: أين الخلاص والفكاك ممَّا طرقنا وألمَّ بنا ؟ {11 ـ 13}{كلاَّ لا وَزَرَ} …
س جب پتھرا جائیں گی آنکھیں(7) اور بے نور ہو جائے گا چاند(8) اور جمع کر دیے جائیں گے سورج اور چاند(9) کہے گا انسان اس دن، کہاں ہے بھاگنا؟ (10) ہرگز نہیں! نہیں (وہاں) کوئی پناہ گاہ (11) آپ کے رب ہی کی طرف ہو گا اس دن ٹھکانا (12) خبر دیا جائے گا انسان اس دن ساتھ اس کےجو اس نے آگے بھیجا اور (جو) پیچھے چھوڑا (13)بلکہ انسان اپنے نفس پر خوب شاہد ہے (14) اگرچہ وہ پیش کرے اپنی معذرتیں (15) [10-7] یعنی جب قیامت برپا ہو گی عظیم دہشت کی بنا پر نگاہیں اوپر اٹھی ہوئی ہوں گی اور جھپکیں گی نہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ اِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمۡ لِيَوۡمٍ تَشۡخَصُ فِيۡهِ الۡاَبۡصَارُۙ۰۰ مُهۡطِعِيۡنَ …
فَاِذَا بَرِقَ الْبَصَرُ وَخَسَفَ الْقَمَرُ وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ (So, when the eyes will be dazzled, and the moon will lose its light, and the sun and the moon will be joined together,...75:7-9). This describes the scenes of the Resurrection. The verb bariqa means for the eyes 'to be dazzled and unable to see'. On the Day of Resurrection, the eyes of all will be dazzled and will not be able to see consistently. The verb khasafa is derived from khusuf which means 'to lose light and become dark'. The verse purports to say that the moon will lose its light or will be eclipsed. The …
إلى ربك يومئذ المستقر " الخطاب للنبي صلى الله عليه وآله وسلم، وتقديم " إلى ربك " وهو متعلق بقوله: " المستقر " يفيد الحصر فلا مستقر إلى غيره فلا وزر ولا ملجأ يلتجأ إليه فيمنع عنه. [vol 20 p.105] وذلك أن الانسان سائر إليه تعالى كما قال: " يا أيها الانسان إنك كادح إلى ربك كدحا فملاقيه " الانشقاق: 6 وقال: " إن إلى ربك الرجعي " العلق: 8 وقال: " وأن إلى ربك المنتهى " النجم: 42 فهو ملاقي ربه راجع ومنته إليه لا حاجب يحجبه عنه ولا مانع يمنعه منه واما الحجاب الذي يشير إليه قوله: " كلا بل ران على قلوبهم ما كانوا يكسبون كلا إنهم عن ربهم يومئذ لمحجوبون " المطففين: 15 فسياق الآيتين يعطي ان المراد به حجاب …
إِلَى رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ الْمُسْتَقَرُّ (12) وأما قوله : { إلى ربك يومئذٍ المستقرّ } فهو كلام من جانب الله تعالى خاطب به النبي صلى الله عليه وسلم في الدنيا بقرينة قوله : { يومئذٍ } ، فهو اعتراض وإدْماج للتذكير بمُلك ذلك اليوم .وفي إضافة ( رب ) إلى ضمير النبي صلى الله عليه وسلم إيماء إلى أنه ناصره يومئذٍ بالانتقام من الذين لم يقبلوا دعوته .و { المستقَرّ } : مصدر ميمي من استقَرّ ، إذا قَرّ في المكان ولم ينتقل ، والسين والتاء للمبالغة في الوصف .وتقديم المجرور لإِفادة الحصر ، أي إلى ربك لا إلى ملجأ آخر . والمعنى : لا ملجأ يومئذٍ للإِنسان إلاّ منتهياً إلى ربك ، وهذا كقوله تعالى : { وإلى الله …
(Unto thy Lord is the recourse) the return and last resort (that day) the Day of Judgement.
No commentary keyed to this āyah in: Bayan ul Quran (Urdu), Fi Zilal al-Quran (Urdu), Hilali & Khan, notes (English), Jawāmiʿ al-jāmiʿ (al-Ṭabrisī), Majmaʿ al-bayān (al-Ṭabrisī), Tafhim al-Qur'an - Maududi (English), Tafhim al-Qur'an - Maududi (Urdu), Tazkir ul Quran (Urdu), Tazkirul Quran (English), al-Tibyān (al-Ṭūsī).
the words of this āyah — root, frequency, family
إِلَى
occurs 742 timesamong the commonest 300 words
رَبّ
occurs 975 timesroot ربب occurs 980among the commonest 300 words
رَبّ975رَبّانِيِّن3رِبِّيّ1رَبائِب1
يَوْم
occurs 475 timesroot يوم occurs 475among the commonest 300 words
plays offline — the recitation is inside this file
PickthallOn that day man is told the tale of that which he hath sent before and left behind.
Yusuf AliThat Day will Man be told (all) that he put forward, and all that he put back.
Muhammad Junagarhiآج انسان کو اس کے آگے بھیجے ہوئے اور پیچھے چھوڑے ہوئے سے آگاه کیا جائے گا.[1]
al-Muyassarيُخَبَّر الإنسان في ذلك اليوم بجميع أعماله: مِن خير وشر، ما قدَّمه منها في حياته وما أخَّره.
the agreed readingOn that Day man is told what he sent ahead and what he left behind — his first deeds and his last, the commentaries agree, and also what he set going that outlived him.
اس دن انسان کو بتایا جائے گا جو اس نے آگے بھیجا اور جو پیچھے چھوڑا۔ تفسیر مقباس کے مطابق جملہ ینبا الانسان یومئذ بما قدم واخر ایک وضاحتی جملہ ہے جو پچھلی آیت الی ربک یومئذ المستقر سے پیدا ہوا، یا اسی جملے کے مضمون کا بدلِ اشتمال ہے، یعنی اللہ کی طرف۔
ينبأ الإنسان يومئذ بما قدم وأخر. جاء في تفسير مقباس أن جملة ينبأ الإنسان يومئذ بما قدم وأخر مستأنفة استئنافا بيانيا أثاره قوله إلى ربك يومئذ المستقر، أو بدل اشتمال من مضمون تلك الجملة، أي إلى الله.
29 of the 36 commentaries carry this āyah
all 29, in their own words
al-Tabarid.923 · ar · PD
القول في تأويل قوله تعالى: ﴿يُنَبَّأُ الإنْسَانُ يَوْمَئِذٍ بِمَا قَدَّمَ وَأَخَّرَ (١٣) بَلِ الإنْسَانُ عَلَى نَفْسِهِ بَصِيرَةٌ (١٤) وَلَوْ أَلْقَى مَعَاذِيرَهُ (١٥) ﴾ . يقول تعالى ذكره: يُخْبَر الإنسان يومئذ، يعني يوم يُجْمَع الشمس والقمر فيكوّران بما قدّم وأخَّر. واختلف أهل التأويل في تأويل قوله: ﴿بِمَا قَدَّمَ وَأَخَّرَ﴾ فقال بعضهم: معنى ذلك: بما قدّم من عمل خير، أو شرّ أمامه، مما عمله في الدنيا قبل مماته، وما أخَّر بعد مماته من سيئة وحسنة، أو سيئة يعمل بها من بعده. ذكر من قال ذلك: ⁕ حدثني علي، قال: ثنا أبو صالح، قال: ثني معاوية، عن علي، عن ابن عباس، قوله: ﴿يُنَبَّأُ الإنْسَانُ …
Tafsīr al-Qummīd.941 · ar · PD
الانسان يومئذ بما قدم وأخر) بما قدم من خير وشر وما أخر مما سن من سنة ليستن بها من بعده [vol 2 p.397] فإن كان شرا كان عليه مثل وزرهم ولا ينقص من وزرهم شئ، وإن كان خيرا كان له مثل أجورهم ولا ينقص من أجورهم شئ. سورة الدهر مدنية آياتها احدى وثلاثون (بسم الله الرحمن الرحيم
ن البريق، أى لمع من شدة شخوصه. وقرأ أبو السمال: بلق إذا انفتح وانفرج. يقال: بلق الباب وأبلقته وبلقته: فتحته وَخَسَفَ الْقَمَرُ وذهب ضوؤه، أو ذهب بنفسه. وقرئ: وخسف على البناء للمفعول وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ حيث يطلعهما الله من المغرب. وقيل: وجمعا في ذهاب الضوء [[قوله «وقيل وجمعا في ذهاب الضوء» لعله: وقيل جمعا. (ع)]] وقيل: يجمعان أسودين مكورين كأنهما ثوران عقيران في النار. وقيل يجمعان ثم يقذفان في البحر، فيكون نار الله الكبرى الْمَفَرُّ بالفتح المصدر، وبالكسر: المكان. ويجوز أن يكون مصدرا كالمرجع. وقرئ بهما كَلَّا ردع عن طلب المفرّ لا وَزَرَ لا ملجأ، وكل ما التجأت إليه من جبل أو غيره …
Jawāmiʿ al-jāmiʿ (al-Ṭabrisī)d.1153 · ar · PD
يومئذ بما قدم وأخر (١٣) بل الانسن على نفسه ى بصيرة (١٤) ولو ألقى معاذيره (١٥) لا تحرك به ى لسانك لتعجل به ى (١٦) إن علينا جمعه وقرءانه (١٧) فإذا قرأنه فاتبع قرءانه (١٨) ثم إن علينا بيانه (١٩) كلا بل تحبون العاجلة (٢٠) وتذرون الأخرة (٢١)) عن ابن عباس: معناه: أقسم بيوم القيامة (١)، و (لا) صلة، وقد استفاض إدخال " لا " النافية على فعل القسم، قال امرؤ القيس: لا وأبيك ابنة العامري * لا يدعي القوم أني أفر (٢) وقال غيره: فلا بك ما أبالي (٣) وفائدتها توكيد القسم، والوجه أن يقال: إنها للنفي، والمعنى: أنه لا يقسم بالشيء إلا إعظاما له، كقوله: ﴿فلا أقسم بموقع النجوم وإنه لقسم لو تعلمون عظيم﴾ (4)، فكأنه …
م سب اپنے اعمال کا خود آئینہ ہیں یہ کئی دفعہ بیان ہوچکا ہے کہ جس چیز پر قسم کھائی جائے اگر وہ رد کرنے کی چیز ہو تو قسم سے پہلے لا کا کلمہ نفی کی تائید کے لئے لانا جائز ہوتا ہے یہاں قیامت کے ہونے پر اور جاہلوں کے اس قول کی تردید پر قیامت نہ ہوگی قسم کھائی جا رہی ہے تو فرماتا ہے قسم ہے قیامت کے دن کی اور قسم ہے ملامت کرنے والی جان کی، حضرت حسن تو فرماتے ہیں قیامت کی قسم ہے اور ملامت کرنے والے نفس کی قسم نہیں ہے، حضرت قتادہ فرماتے ہیں دونوں کی قسم ہے، حسن اور اعرج کی قرأت آیت (لَآ اُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ ۙ) 75۔ القیامة :1) ہے اس سے بھی حضرت حسن کے قول کی تائید ہوتی ہے اس لئے کہ ان کے نزدیک …
ف القمر}؛ أي: ذهب نورُه وسُلطانه، {وجُمِعَ الشمسُ والقمرُ}: وهما لم يجتمعا منذ خلقهما الله تعالى، فيجمع الله بينهما يوم القيامةِ، ويُخسف القمر، وتكوَّر الشمس، ثم يقذفان في النار؛ ليرى العباد أنَّهما عبدان مسخَّران، وليرى مَنْ عَبَدَهما أنَّهم كانوا كاذبين، {يقول الإنسانُ}: حين يرى تلك القلاقل المزعجات: {أين المفرُّ}؛ أي: أين الخلاص والفكاك ممَّا طرقنا وألمَّ بنا ؟ {11 ـ 13}{كلاَّ لا وَزَرَ}؛ أي: لا ملجأ لأحدٍ دون الله، {إلى ربِّكَ يومئذٍ المستقرُّ}: لسائر العباد، فليس في إمكان أحدٍ أن يستترَ أو يهرب عن ذلك الموضع، بل لا بدَّ من إيقافه؛ ليجزى بعمله، ولهذا قال:{يُنَبَّأ الإنسانُ يومئذٍ بما …
س جب پتھرا جائیں گی آنکھیں(7) اور بے نور ہو جائے گا چاند(8) اور جمع کر دیے جائیں گے سورج اور چاند(9) کہے گا انسان اس دن، کہاں ہے بھاگنا؟ (10) ہرگز نہیں! نہیں (وہاں) کوئی پناہ گاہ (11) آپ کے رب ہی کی طرف ہو گا اس دن ٹھکانا (12) خبر دیا جائے گا انسان اس دن ساتھ اس کےجو اس نے آگے بھیجا اور (جو) پیچھے چھوڑا (13)بلکہ انسان اپنے نفس پر خوب شاہد ہے (14) اگرچہ وہ پیش کرے اپنی معذرتیں (15) [10-7] یعنی جب قیامت برپا ہو گی عظیم دہشت کی بنا پر نگاہیں اوپر اٹھی ہوئی ہوں گی اور جھپکیں گی نہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ اِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمۡ لِيَوۡمٍ تَشۡخَصُ فِيۡهِ الۡاَبۡصَارُۙ۰۰ مُهۡطِعِيۡنَ …
نبؤ ................ واخر (75:13) ” اس روز انسان کو اس کا سب اگلا پچھلا کیا کرایا بتادیا جائے گا “۔ یعنی وہ اعمال جو اس نے اپنی وفات سے پہلے کہے اور وہ آثار جو اس نے مرنے کے بعد چھوڑے۔ خواہ اچھے آثار ہوں یا برے آثار ہوں کیونکہ انسان کے بعض اعمال ایسے ہوتے ہیں جن کے آثار باقی رہتے ہیں اور وہ اس کے اعمال میں اضافہ کرتے رہتے ہیں۔ پھر وہاں انسان جو عذرات بھی پیش کرے گا ، اس کا کوئی عذر بھی قبول نہ ہوگا کیونکہ وہ اپنے کیے کا ذمہ دار ہوگا۔ نفس انسانی کو اللہ نے خیروشر کی ہدایت کردی ہے۔ اگر نفس انسان کو خیر تک لے جائے تو اچھا انجام ہوگا اور اگر شر تک لے جائے تو اس کا محاسہ ہوگا۔
يُنَبَّؤُا الْاِنْسَانُ يَوْمَىِٕذٍۢ بِمَا قَدَّمَ وَاَخَّرَ (Man will be informed of what he sent ahead, and what he left behind....75:13). Sayyidna ` Abdullah Ibn Masud and Ibn ` Abbas are reported to have said that 'what he sent ahead' refers to the good deeds he has sent forth before his death. The words 'what he left behind' refers to the good or bad, useful or harmful custom he invented and left behind which people follow. He will continue to receive its reward or punishment. Qatadah said that 'what he sent ahead' refers to a good deed he did in his lifetime; and 'what he left behind' …
اصل میں الفاظ ہیں بِمَا قَدَّمَ وَ اَخَّرَ۔ یہ بڑا جامع فقرہ ہے جس کے کئی معنی ہو سکتے ہیں اور غالباً وہ سب ہی مراد ہیں۔ ایک معنی اس کے یہ ہیں کہ آدمی کو اُس رو زیہ بھی بتا دیا جائے گا کہ اپنی دنیا کی زندگی میں مرنے سے پہلے کیا نیکی یا بدی کما کر اُس نے اپنی آخرت کے لیے آگے بھیجی تھی اور یہ حساب بھی اس کے سامنے رکھ دیا جائے گا کہ اپنے اچھے یا بُرے اعمال کے کیا اثرات وہ اپنے پیچھے دنیا میں چھوڑ آیا تھا جو اس کے بعد مد تہائے دراز تک آنے والی نسلوں میں چلتے رہے۔ دوسرے معنی یہ ہیں کہ اسے وہ سب کچھ بتا دیا جائے گا جو اُسے کر نا چاہیے تھا مگر اُس نے نہیں کیا اور جو کچھ نہ کرنا چاہیے تھا مگر اُس نے …
الانسان يومئذ بما قدم واخر " المراد بما قدم واخر ما عمله من حسنة أو سيئة في أول عمره وآخره أو ما قدمه على موته من حسنة أو سيئة وما اخر من سنة حسنة سنها أو سنة سيئة فيثاب بالحسنات ويعاقب على السيئات. وقيل: المراد بما قدم ما عمله من حسنة أو سيئة فيثاب على الأول ويعاقب على الثاني، وبما أخر ما تركه من حسنة أو سيئة فيعاقب على الأول ويثاب على الثاني، وقيل، المراد ما قدم من المعاصي وما أخر من الطاعات، وقيل، ما قدم من طاعة الله واخر من حقه فضيعه، وقيل: ما قدم من ماله لنفسه وما ترك لورثته وهي وجوه ضعيفة بعيدة عن الفهم. قوله تعالى: "
وقوله - سبحانه - ( يُنَبَّأُ الإنسان يَوْمَئِذٍ بِمَا قَدَّمَ وَأَخَّرَ ) بيان لما يحدث له يوم القيامة ، أى : يخبر الإِنسان فى هذا اليوم بما قدم من أعمال حسنة . وبما أخر منها فلم يعملها ، مع أنه كان فى إمكانه أن يعملها ، والمقصود بالآية المجازاة على الأعمال لا مجرد الإِخبار .قال الإِمام ابن كثير : قوله - تعالى - : ( يُنَبَّأُ الإنسان يَوْمَئِذٍ بِمَا قَدَّمَ وَأَخَّرَ ) أى : يخبر بجميع أعماله قديمها وحديثها أولها وآخرها ، صغيرها وكبيرها ، كما قال - سبحانه - : ( وَوَجَدُواْ مَا عَمِلُواْ حَاضِراً وَلاَ يَظْلِمُ رَبُّكَ أَحَداً ).
آیت 13{ یُـنَـبَّـؤُا الْاِنْسَانُ یَوْمَئِذٍم بِمَا قَدَّمَ وَاَخَّرَ۔ } ”جتلا دیا جائے گا انسان کو اس دن جو کچھ اس نے آگے بھیجا ہوگا اور جو کچھ پیچھے چھوڑا ہوگا۔“ تقدیم و تاخیر کے اس فلسفے کو یوں سمجھیں کہ ہمارے اچھے برے اعمال کے بدلے کا ایک حصہ تو ہماری زندگیوں میں ہی آخرت کے لیے ہمارے اعمال نامے میں جمع credit ہوتا رہتا ہے ‘ جبکہ ان اعمال کا ایک دوسراحصہ اچھے یا برے اثرات کی صورت میں اسی دنیا میں رہ جاتا ہے۔ یہ ”اثرات“ اس دنیا میں جب تک موجود رہتے ہیں ‘ ان کے بدلے میں بھی ثواب یا گناہ متعلقہ شخص کے اعمال نامے میں متواتر شامل ہوتا رہتا ہے۔ اس وضاحت کی روشنی میں اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ …
يُنَبَّأُ الْإِنْسَانُ يَوْمَئِذٍ بِمَا قَدَّمَ وَأَخَّرَ (13)وجملة { يُنَبَّأ الإِنسانُ يومئذٍ بما قدّم وأخَّر } مستأنفة استئنافاً بيانياً أثارهُ قوله : { إلى ربك يومئذٍ المستقر } ، أو بدل اشتمال من مضمون تلك الجملة ، أي إلى الله مصيرهم وفي مصيرهم يُنبأون بما قدموا وما أخروا .وينبغي أن يكون المراد ب { الإِنسان } الكافر جرياً على سياق الآيات السابقة لأنه المقصود بالكلام وإن كان كل إنسان ينبأ يومئذٍ بما قدم وأخر من أهل الخير ومن أهل الشر قال تعالى :{ يوم تجد كل نفس ما عملت من خير محضراً وما عملت من سوء } الآية [ آل عمران : 30 ] . واختلاف مقامات الكلام يمنع من حمل ما يقع فيها من الألفاظ على …
(On that day) on the Day of Judgement (man is told) 'Adiyy Ibn Rabi'ah and others will be informed about (the tale of that which he hath sent before and left behind) the tale of what he has sent before of good or evil works and of what he left behind of good or evil wont; it is also said this means: he will be informed about what he has sent before of acts of obedience and what he left behind of acts of disobedience.
No commentary keyed to this āyah in: Hilali & Khan, notes (English), Majmaʿ al-bayān (al-Ṭabrisī), Nūr al-thaqalayn (al-Ḥuwayzī), Tazkir ul Quran (Urdu), Tazkirul Quran (English), al-Tibyān (al-Ṭūsī), al-Ṣāfī (Fayḍ al-Kāshānī).
the words of this āyah — root, frequency, family
نَبَّأَ
occurs 46 timesroot نبأ occurs 160among the commonest 300 words
plays offline — the recitation is inside this file
PickthallOh, but man is a telling witness against himself,
Yusuf AliNay, man will be evidence against himself,
Muhammad Junagarhiبلکہ انسان خود اپنے اوپر آپ حجت ہے.[1]
al-Muyassarبل الإنسان حجة واضحة على نفسه تلزمه بما فعل أو ترك، ولو جاء بكل معذرة يعتذر بها عن إجرامه، فإنه لا ينفعه ذلك.
the agreed readingRather, man is a clear witness against himself — his own limbs speaking of what he did, the commentaries agree, so no informing is needed.
بلکہ انسان اپنے آپ پر خود گواہ ہے۔ قرطبی اخفش کا قول نقل کرتے ہیں کہ اسے خود بصیرت بنا دیا گیا، جیسے کسی آدمی سے کہا جائے تم خود اپنے اوپر حجت ہو۔ ابن عباس کہتے ہیں کہ بصیرۃ کا مطلب گواہ ہے، اور یہ اس کے اعضا کی گواہی ہے۔
بل الإنسان على نفسه بصيرة. ذكر القرطبي عن الأخفش أن معناه جعله هو البصيرة، كما تقول للرجل أنت حجة على نفسك. وقال ابن عباس: بصيرة أي شاهد، وهو شهود جوارحه. وفي تفسير مقباس أنه إضراب انتقالي للترقي من مضمون ينبأ الإنسان يومئذ بما قدم وأخر إلى الإخبار بأن الكافر يعلم ما فعله، لأنهم تشهد عليهم ألسنتهم وأيديهم وأرجلهم.
25 of the 36 commentaries carry this āyah
all 25, in their own words
al-Tabarid.923 · ar · PD
القول في تأويل قوله تعالى: ﴿يُنَبَّأُ الإنْسَانُ يَوْمَئِذٍ بِمَا قَدَّمَ وَأَخَّرَ (١٣) بَلِ الإنْسَانُ عَلَى نَفْسِهِ بَصِيرَةٌ (١٤) وَلَوْ أَلْقَى مَعَاذِيرَهُ (١٥) ﴾ . يقول تعالى ذكره: يُخْبَر الإنسان يومئذ، يعني يوم يُجْمَع الشمس والقمر فيكوّران بما قدّم وأخَّر. واختلف أهل التأويل في تأويل قوله: ﴿بِمَا قَدَّمَ وَأَخَّرَ﴾ فقال بعضهم: معنى ذلك: بما قدّم من عمل خير، أو شرّ أمامه، مما عمله في الدنيا قبل مماته، وما أخَّر بعد مماته من سيئة وحسنة، أو سيئة يعمل بها من بعده. ذكر من قال ذلك: ⁕ حدثني علي، قال: ثنا أبو صالح، قال: ثني معاوية، عن علي، عن ابن عباس، قوله: ﴿يُنَبَّأُ الإنْسَانُ …
مستقرّهم، أى: موضع قرارهم من جنة أو نار، أى: مفوض ذلك إلى مشيئته، من شاء أدخله الجنة ومن شاء أدخله النار بِما قَدَّمَ من عمل عمله وَبما أَخَّرَ منه لم يعمله أو بما قدم من ماله فتصدق به، أو بما أخره فخلفه. وبما قدم من عمل الخير والشر، وبما أخر من سنة حسنة أو سيئة فعمل بها بعده. وعن مجاهد: بأوّل عمله وآخره. ونحوه: فينبئهم بما عملوا أحصاه الله ونسوه بَصِيرَةٌ حجة بينة وصفت بالبصارة على المجاز، كما وصفت الآيات بالإبصار في قوله فَلَمَّا جاءَتْهُمْ آياتُنا مُبْصِرَةً أو عين بصيرة. والمعنى أنه ينبأ بأعماله وإن لم ينبأ، ففيه ما يجزئ عن الإنباء، لأنه شاهد عليها بما عملت، لأنّ جوارحه تنطق بذلك يَوْمَ …
Jawāmiʿ al-jāmiʿ (al-Ṭabrisī)d.1153 · ar · PD
على نفسه بصيرة) أي: حجة بينة وصفت بالبصارة على المجاز، كما وصفت الآيات بالإبصار في قوله: ﴿فلما جاءتهم ءاياتنا مبصرة﴾ (2)، أو: عين بصيرة. والمعنى: أنه ينبأ بأعماله، وإن لم ينبأ ففيه ما يجزي عن التنبئة (3)، لأنه شاهد عليها بما عملت لأن جوارحه تشهد عليه. (
م سب اپنے اعمال کا خود آئینہ ہیں یہ کئی دفعہ بیان ہوچکا ہے کہ جس چیز پر قسم کھائی جائے اگر وہ رد کرنے کی چیز ہو تو قسم سے پہلے لا کا کلمہ نفی کی تائید کے لئے لانا جائز ہوتا ہے یہاں قیامت کے ہونے پر اور جاہلوں کے اس قول کی تردید پر قیامت نہ ہوگی قسم کھائی جا رہی ہے تو فرماتا ہے قسم ہے قیامت کے دن کی اور قسم ہے ملامت کرنے والی جان کی، حضرت حسن تو فرماتے ہیں قیامت کی قسم ہے اور ملامت کرنے والے نفس کی قسم نہیں ہے، حضرت قتادہ فرماتے ہیں دونوں کی قسم ہے، حسن اور اعرج کی قرأت آیت (لَآ اُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ ۙ) 75۔ القیامة :1) ہے اس سے بھی حضرت حسن کے قول کی تائید ہوتی ہے اس لئے کہ ان کے نزدیک …
Rather man has insight into his [own] soul, for his limbs will speak of his deeds (the hā’ [sc. the tā’ marbūta in basīratun] is for hyperbole), and so he must be requited,
al-Ṣāfī (Fayḍ al-Kāshānī)d.1680 · ar · PD
بل الانسان على نفسه بصيرة حجة بينة على أعمالها لأنه شاهد بها أو عين بصيرة بها فلا يحتاج إلى الانباء. (15)
المفرُّ}؛ أي: أين الخلاص والفكاك ممَّا طرقنا وألمَّ بنا ؟ {11 ـ 13}{كلاَّ لا وَزَرَ}؛ أي: لا ملجأ لأحدٍ دون الله، {إلى ربِّكَ يومئذٍ المستقرُّ}: لسائر العباد، فليس في إمكان أحدٍ أن يستترَ أو يهرب عن ذلك الموضع، بل لا بدَّ من إيقافه؛ ليجزى بعمله، ولهذا قال:{يُنَبَّأ الإنسانُ يومئذٍ بما قَدَّمَ وأخَّرَ}؛ أي: بجميع عمله الحسن والسيئ، في أول وقته وآخره، وينبَّأ بخبرٍ لا ينكِرُه. {14 ـ 15}{بل الإنسانُ على نفسِهِ بصيرةٌ}؛ أي: شاهدٌ ومحاسبٌ، {ولو ألقى معاذيرَةُ}: فإنَّها معاذيرُ لا تُقبل، بل يقرَّر بعمله ، فَيُقِرُّ به؛ كما قال تعالى:{اقرأ كتابَكَ كفى بنفسِكَ اليوم عليك حَسيباً}: فالعبدُ وإن أنكر أو …
س جب پتھرا جائیں گی آنکھیں(7) اور بے نور ہو جائے گا چاند(8) اور جمع کر دیے جائیں گے سورج اور چاند(9) کہے گا انسان اس دن، کہاں ہے بھاگنا؟ (10) ہرگز نہیں! نہیں (وہاں) کوئی پناہ گاہ (11) آپ کے رب ہی کی طرف ہو گا اس دن ٹھکانا (12) خبر دیا جائے گا انسان اس دن ساتھ اس کےجو اس نے آگے بھیجا اور (جو) پیچھے چھوڑا (13)بلکہ انسان اپنے نفس پر خوب شاہد ہے (14) اگرچہ وہ پیش کرے اپنی معذرتیں (15) [10-7] یعنی جب قیامت برپا ہو گی عظیم دہشت کی بنا پر نگاہیں اوپر اٹھی ہوئی ہوں گی اور جھپکیں گی نہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ اِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمۡ لِيَوۡمٍ تَشۡخَصُ فِيۡهِ الۡاَبۡصَارُۙ۰۰ مُهۡطِعِيۡنَ …
بل الانسان ................ معاذیرہ (75:15) ” بلکہ انسان خود ہی اپنے آپ کو خوب جانتا ہے چاہے وہ کتنی ہی معذرتیں پیش کرے “۔ یہاں یہ بات نوٹ کیے جانے کے قابل ہے کہ اس سورة میں ہر چیز نہایت تیز رفتاری سے چل رہی ہے۔ فقرے ، قافئے ، موسیقی اور ترنم ، مناظر اور چمک دمک ، اسی طرح حساب و کتاب بھی سرعت سے ہوگا۔ مقدم اور موخر سب کچھ سامنے ہوگا اور یہ اس لئے کہ وہ ایان سے سوال کرکے قیامت کو بہت دور اور بہت ناممکن سمجھتے تھے۔
بَلِ الْاِنْسَانُ عَلٰي نَفْسِهٖ بَصِيْرَةٌ وَّلَوْ اَلْقٰى مَعَاذِيْرَهٗ (Rather, man will be a witness against himself, even though he may offer his excuses....75:14-15). One meaning of the words bash and basirah is 'to see'. Another meaning of basirah is 'evidence', as for instance in: قَدْ جَاۗءَكُمْ بَصَاۗىِٕرُ مِنْ رَّبِّكُمْ '...There have come to you evidences 1 from your Lord_[ 6:104] ' In this verse the word basa'ir is the plural of basirah and it means 'evidence, proof, argument or insight'. The word ma` adhir is the plural of mi` dhar meaning, 'excuse'. The verse purports to say …
ثم أكد - سبحانه - هذا المعنى بقوله : ( بَلِ الإنسان على نَفْسِهِ بَصِيرَةٌ . وَلَوْ ألقى مَعَاذِيرَهُ ) .والبصيرة هنا بمعنى الحجة الشاهدة عليه ، وهى خبر عن المبتدأ وهو ( الإنسان ) والجار والمجرور متعلق بلفظ بصيرة والهاء فيها للمبالغة ، مثل هاء علامة ونسابة .أى : بل الإِنسان حجة بينة على نفسه ، وشاهدةبما كان منه من الأعمال السيئة ، ولو أدلى بأية حجة يعتذر بها عن نفسه . لم ينفعه ذلك .قال صاحب الكشاف : ( بَصِيرَةٌ ) أى : حجة بينة ، وصفت بالبصارة على المجاز ، كما وصفت الآيات بالإبصار فى قوله : ( فَلَمَّا جَآءَتْهُمْ آيَاتُنَا مُبْصِرَةً ) أو : عين بصيرة والمعنى أنه ينبأ بأعماله ، وإن لم ينبأ ففيه …
آیت 14{ بَلِ الْاِنْسَانُ عَلٰی نَفْسِہٖ بَصِیْرَۃٌ۔ } ”بلکہ انسان تو اپنے نفس کے احوال پر خود ہی خوب بصیرت رکھتا ہے۔“ قیامت کے دن تو کسی کو بتانے کی بھی ضرورت نہیں ہوگی۔ ہر انسان کو خود ہی معلوم ہوگا کہ وہ کتنے پانی میں ہے۔ دنیا سے وہ کیا کچھ لے کر آیا ہے اور یہ کہ وہ کیسے سلوک کا مستحق ہے۔
بَلِ الْإِنْسَانُ عَلَى نَفْسِهِ بَصِيرَةٌ (14) إضراب انتقالي ، وهو للترقي من مضمون { يُنَبَّأُ الإِنسان يومئذٍ بما قدم وأخّر } [ القيامة : 13 ] إلى الإِخبار بأن الكافر يَعلَم ما فعله لأنهم تشهد عليهم ألسنتهم وأيديهم وأرجلهم بما كانوا يعملون ، إذ هو قرأ كتاب أعماله فقال : { يا ليتني لم أوتَ كتابِيَهْ ولم أدر ما حِسَابيهْ } [ الحاقة : 25 ، 26 ] ، { ويقولون يا ويلتنا ما لهذا الكتاب لا يغادر صغيرة ولا كبيرة إلاّ أحصاها ووجدوا ما عملوا حاضراً } [ الكهف : 49 ] . وقال تعالى : { اقرأ كتابك كفى بنفسك اليوم عليك حسيباً } [ الإسراء : 14 ] .ونظم قوله : { بل الإِنسان على نفسه بصيرة } صالح لإِفادة معنيين …
14. தவிர, ஒவ்வொரு மனிதனும் தன் நிலைமையைத் தானாகவும் அறிந்துகொள்வான்.
தமிழ் Abridged Version · v1.0.2
மாறாக, மனிதன் அவனுக்கே சாட்சியாக இருப்பான். (அவன் செய்த செயல்களுக்கு அவனது உறுப்புகளே அவனுக்கு எதிராக சாட்சி கூறும்.)
தமிழ் Omar Sharif · v1.0.3
மாறாக, மனிதன் அவனுக்கே சாட்சியாக இருப்பான். (அவன் செய்த செயல்களுக்கு அவனது உறுப்புகளே அவனுக்கு எதிராக சாட்சி கூறும்.)
తెలుగు Abdurrahim ibn Muhammad · v1.0.6
అలా కాదు! మానవుడు తనకు విరుద్ధంగా, తానే సాక్షి అవుతాడు;
ಕನ್ನಡ Hamza Butur · v1.0.3
ಅಲ್ಲ, ವಾಸ್ತವವಾಗಿ ಮನುಷ್ಯನು ಅವನ ವಿರುದ್ಧವೇ ಸಾಕ್ಷಿಯಾಗಿದ್ದಾನೆ.
മലയാളം Abdul Hamid Haidar and Kunhi Muhammad · v1.0.3
തന്നെയുമല്ല. മനുഷ്യന് തനിക്കെതിരില് തന്നെ ഒരു തെളിവായിരിക്കും.
සිංහල Rowwad Translation Center · v1.0.6
එසේ නො ව, තමන් ගැන මිනිසා සාක්ෂි දරන්නේ ය.
ไทย Rowwad Translation Center · v1.0.1
เปล่าเลย มนุษย์นั้นเป็นพยานต่อตัวของเขาเอง
አማርኛ Africa Academy · v1.0.1
14. በእርግጥ ሰው በነፍሱ ላይ አስረጅ ነው::
አማርኛ Muhammad Sadiq · v1.1.2
በእርግጥም ሰው በነፍሱ ላይ አስረጅ ነው፡፡ (አካሎቹ ይመሰክሩበታል)፡፡
ភាសាខ្មែរ Islamic Community Development Association · v1.0.2
ផ្ទុយទៅវិញ មនុស្សលោកគឺជាអ្នកធ្វើសាក្សីលើខួ្លនឯង។
ភាសាខ្មែរ Rowwad Translation Center · v1.0.4
ផ្ទុយទៅវិញ មនុស្សលោកគឺជាសាក្សីប្រឆាំងនឹងខ្លួនឯង។
中文 Muhammad Makeen · v1.0.2
不然,各人对自己就是明证,
中文 Muhammad Suleiman · v1.0.8
不然,各人对自己就是明证,
日本語 Saeed Sato · v1.0.13
いや、人間は自分自身(が行ったこと)に対する、証人である。
Al-Qiyamah 75 : 15
وَلَوْأَلْقَىٰمَعَاذِيرَهُۥ
walaw aalqaaa ma'aadhiyrahu
plays offline — the recitation is inside this file
PickthallAlthough he tender his excuses.
Yusuf AliEven though he were to put up his excuses.
Muhammad Junagarhiاگر چہ کتنے ہی بہانے پیش کرے.[1]
al-Muyassarبل الإنسان حجة واضحة على نفسه تلزمه بما فعل أو ترك، ولو جاء بكل معذرة يعتذر بها عن إجرامه، فإنه لا ينفعه ذلك.
the agreed readingeven if he puts forward every excuse. The commentaries agree the excuses are offered and not accepted, because what testifies against him is himself.
خواہ وہ اپنے سب عذر پیش کر دے۔ رازی مفسرین کے کئی اقوال نقل کرتے ہیں، پہلا یہ کہ واحدی کہتے ہیں معاذیر معذرۃ کی جمع ہے، معذرۃ، معاذر اور معاذیر بولا جاتا ہے۔ تفسیر مقباس بتاتی ہے کہ یہاں لو وصلیہ ہے، جیسا کہ سورۃ آل عمران کی آیت میں ہے، اور مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے عذر پیش کرنے کی حالت میں بھی خود اپنے اوپر گواہ ہے۔
ولو ألقى معاذيره. ذكر الرازي أقوالا للمفسرين، قال الواحدي: المعاذير جمع معذرة، يقال معذرة ومعاذر ومعاذير. وفي تفسير مقباس أن لو هذه وصلية كما تقدم عند قوله تعالى فلن يقبل من أحدهم ملء الأرض ذهبا ولو افتدى به في آل عمران، والمعنى هو بصيرة على نفسه حتى في حال إلقائه معاذيره.
30 of the 36 commentaries carry this āyah
all 30, in their own words
al-Tabarid.923 · ar · PD
القول في تأويل قوله تعالى: ﴿يُنَبَّأُ الإنْسَانُ يَوْمَئِذٍ بِمَا قَدَّمَ وَأَخَّرَ (١٣) بَلِ الإنْسَانُ عَلَى نَفْسِهِ بَصِيرَةٌ (١٤) وَلَوْ أَلْقَى مَعَاذِيرَهُ (١٥) ﴾ . يقول تعالى ذكره: يُخْبَر الإنسان يومئذ، يعني يوم يُجْمَع الشمس والقمر فيكوّران بما قدّم وأخَّر. واختلف أهل التأويل في تأويل قوله: ﴿بِمَا قَدَّمَ وَأَخَّرَ﴾ فقال بعضهم: معنى ذلك: بما قدّم من عمل خير، أو شرّ أمامه، مما عمله في الدنيا قبل مماته، وما أخَّر بعد مماته من سيئة وحسنة، أو سيئة يعمل بها من بعده. ذكر من قال ذلك: ⁕ حدثني علي، قال: ثنا أبو صالح، قال: ثني معاوية، عن علي، عن ابن عباس، قوله: ﴿يُنَبَّأُ الإنْسَانُ …
بَرِقَ الْبَصَرُ تحير فزعا، وأصله من برق الرجل إذا نظر إلى البرق فدهش بصره. وقرئ: برق من البريق، أى لمع من شدة شخوصه. وقرأ أبو السمال: بلق إذا انفتح وانفرج. يقال: بلق الباب وأبلقته وبلقته: فتحته وَخَسَفَ الْقَمَرُ وذهب ضوؤه، أو ذهب بنفسه. وقرئ: وخسف على البناء للمفعول وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ حيث يطلعهما الله من المغرب. وقيل: وجمعا في ذهاب الضوء [[قوله «وقيل وجمعا في ذهاب الضوء» لعله: وقيل جمعا. (ع)]] وقيل: يجمعان أسودين مكورين كأنهما ثوران عقيران في النار. وقيل يجمعان ثم يقذفان في البحر، فيكون نار الله الكبرى الْمَفَرُّ بالفتح المصدر، وبالكسر: المكان. ويجوز أن يكون مصدرا كالمرجع. وقرئ …
Majmaʿ al-bayān (al-Ṭabrisī)d.1153 · ar · PD
ولو ألقى معاذيره (15). القراءة: قرأ القواس: (لأقسم) والباقون: (لا أقسم) ولم يختلفوا في [vol 10 p.190] الثاني أنه: (ولا أقسم). وقرأ أهل المدينة: (برق البصر) بفتح الراء. والباقون: (برق) بالكسر. وفي الشواذ قراءة ابن عباس وعكرمة وأيوب السختياني (1) والحسن: (المفر) بفتح الميم، وكسر الفاء، وقراءة الزهري: (المفر) بكسر الميم، وفتح الفاء. الحجة: قال أبو علي: من قرأ (لا أقسم بيوم القيامة) كانت (لا) على قوله صلة كالتي في قوله (لئلا يعلم أهل الكتاب). فإن قلت: لا وما والحروف التي هن زوائد، إنما تكون بين كلامين كقوله (مما خطيئاتهم) و (فبما رحمة من الله). و (فبما نقضهم) ولا تكاد تزاد أولا، فقد قالوا: إن …
Jawāmiʿ al-jāmiʿ (al-Ṭabrisī)d.1153 · ar · PD
ولو ألقى معاذيره) ولو جاء بكل معذرة يتعذر بها عن نفسه ويجادل عنها، وعن السدي: ولو أرخى ستوره (4)، والمعاذير: الستور، واحدها: معذار، لأن الستر يمنع رؤية المحتجب كما أن المعذرة تمنع عقوبة المذنب. (
م سب اپنے اعمال کا خود آئینہ ہیں یہ کئی دفعہ بیان ہوچکا ہے کہ جس چیز پر قسم کھائی جائے اگر وہ رد کرنے کی چیز ہو تو قسم سے پہلے لا کا کلمہ نفی کی تائید کے لئے لانا جائز ہوتا ہے یہاں قیامت کے ہونے پر اور جاہلوں کے اس قول کی تردید پر قیامت نہ ہوگی قسم کھائی جا رہی ہے تو فرماتا ہے قسم ہے قیامت کے دن کی اور قسم ہے ملامت کرنے والی جان کی، حضرت حسن تو فرماتے ہیں قیامت کی قسم ہے اور ملامت کرنے والے نفس کی قسم نہیں ہے، حضرت قتادہ فرماتے ہیں دونوں کی قسم ہے، حسن اور اعرج کی قرأت آیت (لَآ اُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ ۙ) 75۔ القیامة :1) ہے اس سے بھی حضرت حسن کے قول کی تائید ہوتی ہے اس لئے کہ ان کے نزدیک …
though he should offer his excuses (ma‘ādhīr is the plural of ma‘dhira, but following a different pattern [from the usual ma‘dhira, ma‘ādhir]) that is to say, whatever excuse he offers will not be accepted from him.
al-Ṣāfī (Fayḍ al-Kāshānī)d.1680 · ar · PD
ولو ألقى معاذيره ولو جاء بكل ما يمكن ان يعتذر به القمي قال يعلم ما صنع وان اعتذر. وفي الكافي والعياشي عن الصادق (عليه السلام) قال ما يصنع أحدكم أن يظهر حسنة ويستر شيئا أليس إذا رجع إلى نفسه يعلم أنه ليس كذلك والله عز وجل يقول بل الانسان على نفسه بصيرة إن السريرة إذا صلحت قويت العلانية. وعنه (عليه السلام) إنه تلا هذه الآية فقال ما يصنع الانسان أن يعتذر إلى الناس بخلاف ما يعلم الله منه إن رسول الله (صلى الله عليه وآله) كان يقول من أسر سريرة ألبسه الله رداءها إن خيرا فخير وإن شرا فشر. [vol 5 p.255] (16)
انسان خود اپنے آپ پر مطلع ہوگا:حضرت شاہ صاحبؒ لکھتے ہیں " یعنی اپنے احوال میں غور کرے تو رب کی وحدانیت جانے (اور یہ کہ سب کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے) اور جو کہے میری سمجھ میں نہیں آتا، یہ سب بہانے ہیں" لیکن اکثر مفسّرین نے اس کا تعلق یُنَبَّؤُا الۡاِنۡسَانُ یَوۡمَئِذٍۭ الخ سے رکھا ہے یعنی جتلانے پر بھی موقوف نہیں۔ انسان اپنی حالت پر خود مطلع ہوگا گو باقتضائے طبیعت وہاں بھی بہانے بنائے اور حیلے حوالے پیش لائے جیسے کفار کہیں گے وَ اللّٰہِ رَبِّنَا مَا کُنَّا مُشۡرِکِیۡنَ (انعام۔۲۳) بلکہ یہاں دنیا میں بھی وہ انسان جس کا ضمیر بالکل مسخ نہ ہوگیا ہو اپنی حالت کو خوب سمجھتا ہے۔ گو دوسروں کے سامنے …
المفرُّ}؛ أي: أين الخلاص والفكاك ممَّا طرقنا وألمَّ بنا ؟ {11 ـ 13}{كلاَّ لا وَزَرَ}؛ أي: لا ملجأ لأحدٍ دون الله، {إلى ربِّكَ يومئذٍ المستقرُّ}: لسائر العباد، فليس في إمكان أحدٍ أن يستترَ أو يهرب عن ذلك الموضع، بل لا بدَّ من إيقافه؛ ليجزى بعمله، ولهذا قال:{يُنَبَّأ الإنسانُ يومئذٍ بما قَدَّمَ وأخَّرَ}؛ أي: بجميع عمله الحسن والسيئ، في أول وقته وآخره، وينبَّأ بخبرٍ لا ينكِرُه. {14 ـ 15}{بل الإنسانُ على نفسِهِ بصيرةٌ}؛ أي: شاهدٌ ومحاسبٌ، {ولو ألقى معاذيرَةُ}: فإنَّها معاذيرُ لا تُقبل، بل يقرَّر بعمله ، فَيُقِرُّ به؛ كما قال تعالى:{اقرأ كتابَكَ كفى بنفسِكَ اليوم عليك حَسيباً}: فالعبدُ وإن أنكر أو …
س جب پتھرا جائیں گی آنکھیں(7) اور بے نور ہو جائے گا چاند(8) اور جمع کر دیے جائیں گے سورج اور چاند(9) کہے گا انسان اس دن، کہاں ہے بھاگنا؟ (10) ہرگز نہیں! نہیں (وہاں) کوئی پناہ گاہ (11) آپ کے رب ہی کی طرف ہو گا اس دن ٹھکانا (12) خبر دیا جائے گا انسان اس دن ساتھ اس کےجو اس نے آگے بھیجا اور (جو) پیچھے چھوڑا (13)بلکہ انسان اپنے نفس پر خوب شاہد ہے (14) اگرچہ وہ پیش کرے اپنی معذرتیں (15) [10-7] یعنی جب قیامت برپا ہو گی عظیم دہشت کی بنا پر نگاہیں اوپر اٹھی ہوئی ہوں گی اور جھپکیں گی نہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ اِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمۡ لِيَوۡمٍ تَشۡخَصُ فِيۡهِ الۡاَبۡصَارُۙ۰۰ مُهۡطِعِيۡنَ …
بَلِ الْاِنْسَانُ عَلٰي نَفْسِهٖ بَصِيْرَةٌ وَّلَوْ اَلْقٰى مَعَاذِيْرَهٗ (Rather, man will be a witness against himself, even though he may offer his excuses....75:14-15). One meaning of the words bash and basirah is 'to see'. Another meaning of basirah is 'evidence', as for instance in: قَدْ جَاۗءَكُمْ بَصَاۗىِٕرُ مِنْ رَّبِّكُمْ '...There have come to you evidences 1 from your Lord_[ 6:104] ' In this verse the word basa'ir is the plural of basirah and it means 'evidence, proof, argument or insight'. The word ma` adhir is the plural of mi` dhar meaning, 'excuse'. The verse purports to say …
عنی آدمی کا نامہ اعمال اس کے سامنے رکھنے کی غرض درحقیقت یہ نہیں ہو گی کہ مجرم کو اس کا جُرم بتا یا جائے، بلکہ ایسا کرن تو اس وجہ سے ضروری ہو گا کہ انصاف کے تقاضے بر سرِ عدالت جرم کا ثبوت پیش کیےبغیر پُورے نہیں ہوتے۔ ورنہ ہر انسان خوب جانتاہے کہ وہ خود کیا ہے۔ اپنے آپ کو جاننے کے لیے وہ اِس کا محتاج نہیں ہو تا کہ کوئی دوسرا اُسے بتا ئے کہ وہ کیا ہے۔ ایک جھوٹا دنیا بھر کو دھوکہ دے سکتا ہے، لیکن اسے خود تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے۔ ایک چور لاکھ حیلے اپنی چوری کو چھپانے کے لیے اختیار کرسکتا ہے، مگر اس کے اپنے نفس سے تو یہ بات مخفی نہیں ہوتی کہ وہ چور ہے۔ ایک گمراہ آدمی ہزار دلیلیں پیش …
That is, the object of placing man’s record before him will not be to inform the culprit of his crimes, but this will be done because the demands of justice are not fulfilled unless the proof of the crime is produced before the court; otherwise everyman fully knows what he actually is. For the sake of self-knowledge he does not need that another one should tell him what he is. A liar can deceive the whole world but he himself knows that he lies. A thief can devise a thousand devices to conceal his crime but he himself is aware that he is a thief. A person involved in error can present a …
ولو ألقى معاذيره " إضراب عن قوله، ينبؤا الانسان " الخ، والبصيرة رؤية القلب والادراك الباطني وإطلاقها على الانسان من باب زيد عدل أو التقدير الانسان ذو بصيرة على نفسه. وقيل: المراد بالبصيرة الحجة كما في قوله تعالى، " ما انزل هؤلاء إلا رب السماوات والأرض بصائر " اسرى، 102 والانسان نفسه حجة على نفسه يومئذ حيث يسأل عن سمعه وبصره وفؤاده ويشهد عليه سمعه وبصره وجلده ويتكلم يداه ورجلاه، قال تعالى: [vol 20 p.106] " إن السمع والبصر والفؤاد كل أولئك كان عنه مسؤلا " اسرى 36، وقال " شهد عليهم سمعهم وابصارهم وجلودهم " حم السجدة، 20. وقال، " وتكلمنا أيديهم وتشهد أرجلهم " يس: 65. وقوله: " ولو ألقى معاذيره " …
وَلَوْ ألقى مَعَاذِيرَهُ ) أى : ولو جاء بكل معذرة يعتذر بها عن نفسه ويجادل عنها .وعن الضحاك : ولو أرخى ستوره ، وقال : المعاذير : الستور ، واحدها معذار ، فإن صح فلأنه يمنع رؤية المحتجب ، كما تمنع المعذرة عقوبة المذنب .فإن قلت : أليس قياس المعذرة أن تجمع لا معاذير؟ قلت : المعاذير ليس بجمع معذرة ، إنما هو اسم جمع لها .ونحوه : المناكير فى المنكر .فالمقصود بهاتين الآيتين : بيان أن الإِنسان لن يستطيع أن يهرب من نتائج عمله مهما حاول ذلك ، لأن جوارحه شاهدة عليه ، ولأن أعذاره لن تكون مقبولة ، لأنها جاءت فى غير وقتها ، كما قال - تعالى - : ( لاَ تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ . إِنَّ عَلَيْنَا …
آیت 15{ وَّلَوْ اَلْقٰی مَعَاذِیْرَہٗ۔ } ”اور چاہے وہ کتنے ہی بہانے پیش کرے۔“ ظاہر ہے دنیا میں تو اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کوئی چرب زبان شخص خود ساختہ عذر پیش کر کے اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں پر پردہ ڈال دیتا ہے۔ ایسا کرنے سے ممکن ہے وہ وقتی طور پر متعلقہ لوگوں کو مطمئن کرلے لیکن اس کا ضمیر اس کو مسلسل یاد دلاتا رہتا ہے کہ تم جھوٹے ہو۔ اب آئندہ آیات میں خطاب کا رخ حضور ﷺ کی طرف ہوگیا ہے اور ساتھ ہی کلام کا صوتی آہنگ بھی تبدیل ہوگیا ہے۔ ان آیات کے آخر میں قُــرْاٰنَــہٗ ‘ بَیَانَہٗ جیسے الفاظ آرہے ہیں۔ جیسے کہ آغاز میں ذکر ہوا تھا ‘ یہ سورت اپنے اسلوب اور صوتی آہنگ کے اعتبار سے چھوٹے چھوٹے کئی حصوں …
Man has the innate capacity to distinguish between good and evil. By his very nature he wants anyone indulging in evil to be punished and anyone doing righteous deeds to be rewarded. It is this consciousness which is called in the Quran the self-reproaching soul or an-nafs al-lawwamah. This faculty bears testimony at the psychological level to the reality of the world of the Hereafter. If, in spite of this inner testimony, an individual does not fulfill its demands, it means that he negates what he has already accepted.
وَلَوْ أَلْقَى مَعَاذِيرَهُ (15){ لو } هذه وَصْلِيَّةٌ كما تقدم عند قوله تعالى : { فلن يقبل من أحدهم مِلْءُ الأرض ذهباً ولو افتدى به } في آل عمران ( 91 ) . والمعنى : هو بصيرة على نفسه حتى في حال إلقائه معاذيره .والإِلقاء : مراد به الإِخبار الصريح على وجه الاستعارة ، وقد تقدم عند قوله تعالى : { فألْقَوا إليهم القول إنكم لكاذبون } في سورة النحل ( 86 ) .والمعاذير : اسم جمع مَعذرة ، وليس جمعاً لأن معذرة حقه أن يُجمع على معَاذر ، ومثل المعاذير قولهم : المناكير ، اسم جمع مُنْكَر . وعن الضحاك : أن معاذير هُنا جمع مِعْذار بكسر الميم وهو السِتر بلغة اليمن يكون الإِلقاء مستعملاً في المعنى الحقيقي ، أي …
(Although he tender his excuses) and says: I have not done this and have not said that; it is also said that this means: every soul is aware of the faults of others, ignorant of and oblivious to its own faults.
No commentary keyed to this āyah in: Fi Zilal al-Quran (Urdu), Hilali & Khan, notes (English), Nūr al-thaqalayn (al-Ḥuwayzī), Tafsīr al-Qummī, Tazkir ul Quran (Urdu), al-Tibyān (al-Ṭūsī).
the words of this āyah — root, frequency, family
و
occurs 9594 timesamong the commonest 300 words
لَو
occurs 201 timesamong the commonest 300 words
أَلْقَى
occurs 71 timesroot لقي occurs 146among the commonest 300 words
أَلْقَى71لِقاء24لَقُ14الْتَقَى7لَقَّى6تَلَقَّى4
مَعاذِير
occurs ONCE in the whole Qurʾānroot عذر occurs 12
يَعْتَذِرُ5مَعْذِرَة3عُذْر2مُعَذِّر1مَعاذِير1
this āyah in 55 languages — 74 translations
Akan Harun Ismail · v1.0.3
Ɔpa kyεw mpo a, (ne kyεw pa no ho mma mfasoͻ biara).
Azərbaycan Ali Khan Musayev · v1.0.4
Hər cür üzrxahlıq etsə də (fayda verməz)!
Bahasa Indonesia Ministry of Religious Affairs · v1.0.1
dan meskipun dia mengemukakan alasan-alasannya.
Bahasa Indonesia Sabiq Company · v1.1.3
15. Dan meskipun dia mengemukakan alasan-alasannya.
Bahasa Indonesia The Complex · v1.0.1
meskipun dia mengemukakan alasan-alasannya.
Bosanski Muhammad Mahanovic · v1.1.0
makar iznosio svoja opravdanja.
Bosanski Rowwad Translation Centre · v2.0.4
makar iznosio svoja opravdanja.
Cebuano Rowwad Translation Center · v1.1.3
Bisan pa siya maga-himog pama-libad (aron sa pagtabon sa iyang mga sayop nga buhat).
Deutsch Frank Bubenheim · v1.1.4
auch wenn er seine Entschuldigungen vorbrächte .
Deutsch Rowwad Translation Center · v1.0.15
auch wenn er seine Entschuldigungen vorbrächte.
English Hilali and Khan · v1.1.2
15. Though he may put forth his excuses (to cover his evil deeds).
English Noor International Center · v1.1.2
Even if he presents his excuses.
English Rowwad Translation Center · v1.0.19
despite the excuses he may put forward.
Español Isa Garcia · v1.0.2
15. Y aunque intente justificarse [no podrá hacerlo].
Español Noor International Center · v1.0.1
e intentará excusarse (en vano).
Español issued by Noor International · v1.0.1
e intentará excusarse (en vano).
Français Noor International Center · v1.0.0
15. quand bien même il invoquerait ses excuses.
Français Rachid Maach · v1.0.3
quand bien même il invoquerait, pour se justifier, tous les arguments.
Fulfulde Rowwad Translation Center · v1.0.2
Hay si o addii ngantuuji makko ɗi.
Hausa Abu Bakr Jumi · v1.2.2
Kuma ko da yã jẽfa uzurorinsa (bã zã a saurãre shi ba).
Hrvatski Rowwad Translation Center · v1.0.1
makar iznosio svoja opravdanja.
Kinyarwanda Rwanda Muslim Association · v1.0.5
Kabone n’ubwo yatanga impamvu ze (agamije kwiregura).
Kirundi Yusuf Gahiti · v1.0.4
N’aho yotanga ivyireguzo yisigura ku vyaha yakoze, nta co bizomwungura.
Kiswahili Ali Mohsin Al-Barwani · v1.0.1
Na ingawa atatoa chungu ya udhuru. [15]
Kiswahili Rowad Translation Center · v1.0.5
Na ingawa atatoa chungu ya udhuru.
Kurdî Muhammad Salih Bamoki · v1.1.1
با بڕوبیانووی زۆریش بھێنێتەوە
Lietuvių Rowwad Translation Center · v1.0.8
15. netgi jei jis pateiks savo pasiteisinimus.
Lingála Mohammed Balangogo · v1.0.2
Mpe ata asengi bolimbisi.
Maguindanaon Rowwad Translation Center · v1.0.4
Apya ngin i dawa nin (di den makadawa).
Mòoré Rowwad Translation Center · v1.0.1
Ba t'a wa ne a pademsã.
Nederlands Rowwad Translation Center · v2.0.10
Hoewel hij verontschuldigingen naar voren zal brengen.
Oromoo Gali Ababor · v1.0.3
Odoma rakkoo adda addaa dhiyeeffateeyyuu.
Oʻzbek Alaauddin Mansour · v1.0.0
Гарчи ўз узр-баҳоналарини (ўртага) ташласа — келтирса-да, (унинг барча аъзолари ўзининг зиёнига гувоҳлик бергувчидир!)[4]
Oʻzbek Rowwad Translation Center · v1.0.4
Гарчи узрларини тўкиб солса ҳам.
Português Helmi Nasr · v1.4.1
Ainda que lance suas escusas.
Qafár Mahmoud Abdulqader Hamza · v1.0.1
15. Kaadu Abeh yan uma taamak faxem malkitaamah woo malkit kaah xiqam mali.
Română Islam4ro.com · v1.0.4
Chiar dacă el va aduce dezvinovățirile sale.
Shqip Hassan Nahi · v1.1.0
edhe sikur të paraqesë shfajësimet e veta.
Shqip Rowwad Translation Center · v1.0.5
edhe nëse i paraqet shfajësimet e veta.
Soomaali Abdullah Hasan Yaqoub · v1.0.26
15. Si kasta hadduu u cudurdaarto (wax uma tarto cudur daarasho).
Tagalog Rowwad Translation Center · v1.1.4
Kahit pa man naglahad siya ng mga dahi-dahilan niya.
Tiếng Việt Rowwad Translation Center · v1.0.8
Cho dù y có đưa ra mọi lời bào chữa.
Türkçe Dr. Ali Ozek and others · v1.0.0
İsterse özürlerini sayıp döksün.
Türkçe Rowwad Translation Center · v1.0.4
İsterse bütün mazeretlerini ortaya döksün.
Türkçe Shaaban British · v1.1.0
İsterse özür beyan etsin.
Yorùbá Abu Rahimah Mikael · v1.0.9
ìbáà mú àwọn àwáwí rẹ̀ wá.
Кыргызча Shamsuddin Hakimov · v1.0.2
Жана эгерде шылтоо-себептерин айтса да (кабыл алынбайт).[1]
Македонски a group of Macedonian scholars · v1.0.1
15. макар и оправданијата свои да ги изнесува.
Српски Rowwad Translation Center · v1.0.4
макар износио своја оправдања.
Тоҷикӣ Rowwad Translation Center · v1.0.2
Агарчи [дар дифоъ аз худ] узрҳояшро дар миён оварад
plays offline — the recitation is inside this file
PickthallStir not thy tongue herewith to hasten it.
Yusuf AliMove not thy tongue concerning the (Qur'an) to make haste therewith.
Muhammad Junagarhi(اے نبی) آپ قرآن کو جلدی (یاد کرنے) کے لیے اپنی زبان کو حرکت[1] نہ دیں.
al-Muyassarلا تحرك -أيها النبي- بالقرآن لسانك حين نزول الوحي؛ لأجل أن تتعجل بحفظه، مخافة أن يتفلَّت منك. إن علينا جَمْعه في صدرك، ثم أن تقرأه بلسانك متى شئت. فإذا قرأه عليك رسولنا جبريل فاستمِعْ لقراءته وأنصت له، ثم اقرأه كما أقرأك إياه، ثم إن علينا توضيح ما أشكل عليك فهمه من معانيه وأحكامه.
the agreed readingDo not move your tongue with it to hurry it. The commentaries carry the same occasion: revelation would come and he would move his tongue with it as it came, fearing it would slip away from him.
اپنی زبان اسے جلدی حاصل کرنے کے لیے حرکت نہ دو۔ قرطبی ترمذی کی روایت نقل کرتے ہیں، سعید بن جبیر سے، ابن عباس سے، کہ رسول اللہ ﷺ جب ان پر قرآن نازل ہوتا تو اپنی زبان اس کے ساتھ حرکت دیتے تھے۔ ابن کثیر بتاتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے اپنے رسول ﷺ کو فرشتے سے وحی لینے کے طریقے کی تعلیم ہے، کیونکہ آپ ﷺ اسے لینے میں جلدی کرتے اور قرأت میں فرشتے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے تھے۔ علامہ سعدی بتاتے ہیں کہ نبی ﷺ جب جبریل وحی لے کر آتے اور تلاوت شروع کرتے تو نبی ﷺ شوق میں جبریل کی تلاوت سے پہلے ہی جلدی کرتے تھے۔
لا تحرك به لسانك لتعجل به. ذكر القرطبي في الترمذي عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا نزل عليه القرآن يحرك به لسانه. وذكر ابن كثير أن هذا تعليم من الله عز وجل لرسوله صلى الله عليه وسلم في كيفية تلقيه الوحي من الملك، فإنه كان يبادر إلى أخذه ويسابق الملك في قراءته. وذكر السعدي أن النبي صلى الله عليه وسلم كان إذا جاءه جبريل بالوحي وشرع في تلاوته بادره النبي من الحرص قبل أن يفرغ.
28 of the 36 commentaries carry this āyah
all 28, in their own words
al-Tabarid.923 · ar · PD
القول في تأويل قوله تعالى: ﴿لا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ (١٦) إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ (١٧) فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ (١٨) ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُ (١٩) ﴾ . يقول تعالى ذكره لنبيه محمد ﷺ: لا تحرّك يا محمد بالقرآن لسانك لتعجل به. واختلف أهل التأويل في السبب الذي من أجله قيل له: ﴿لا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ﴾ فقال بعضهم: قيل له ذلك، لأنه كان إذا نزل عليه منه شيء عجل به، يريد حفظه من حبه إياه، فقيل له: لا تعجل به فإنَّا سَنحفظُه عليك. ⁕ حدثنا أبو كُرَيب، قال: ثنا سفيان بن عيينة، عن عمرو بن دينار، عن سعيد بن حُبير، عن ابن عباس، أن …
الضمير في بِهِ للقرآن، وكان رسول الله ﷺ إذا لقن الوحى نازع جبريل القراءة، ولم يصبر إلى أن يتمها، مسارعة إلى الحفظ وخوفا من أن يتفلت منه، فأمر بأن يستنصت له ملقيا إليه بقلبه وسمعه، حتى يقضى إليه وحيه، ثم يقفيه بالدراسة إلى أن يرسخ فيه. والمعنى: لا تحرّك لسانك بقراءة الوحى ما دام جبريل صلوات الله عليه يقرأ لِتَعْجَلَ بِهِ لتأخذه على عجلة، ولئلا يتفلت منك. ثم علل النهى عن العجلة بقوله إِنَّ عَلَيْنا جَمْعَهُ في صدرك وإثبات قراءته في لسانك فَإِذا قَرَأْناهُ جعل قراءة جبريل قراءته: والقرآن: القراءة فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ فكن مقفيا له فيه ولا تراسله، وطأ من نفسك أنه لا يبقى غير محفوظ، فنحن في ضمان …
Jawāmiʿ al-jāmiʿ (al-Ṭabrisī)d.1153 · ar · PD
لا تحرك به لسانك) الضمير للقرآن، وكان رسول الله (صلى الله عليه وآله وسلم) إذ لقن الوحي نازع جبرائيل (عليه السلام) القراءة، ولم يصبر إلى أن يتمها مسارعة إلى الحفظ، وخوفا من النسيان (5)، فأمر أن يستنصت له، ملقيا إليه بقلبه وسمعه حتى يقضى إليه وحيه. والمعنى: لا تحرك بقراءة الوحي لسانك ما دام جبرائيل يقرأ (لتعجل به) لتأخذه على عجلة ولئلا ينفلت منك. ثم علل النهي عن العجلة بقوله: (
Fakhr al-Din al-Razid.1210 · ar · PD
وهَذا هو المُرادُ مِن قَوْلِهِ: ﴿لا تُحَرِّكْ بِهِ لِسانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ﴾ ﴿إنَّ عَلَيْنا جَمْعَهُ وقُرْآنَهُ﴾ . ورابِعُها: كَأنَّهُ تَعالى قالَ: يا مُحَمَّدُ إنَّ غَرَضَكَ مِن هَذا التَّعْجِيلِ أنْ تَحْفَظَهُ وتُبَلِّغَهُ إلَيْهِمْ لَكِنْ لا حاجَةَ إلى هَذا، فَإنَّ ”الإنْسانَ عَلى نَفْسِهِ بَصِيرَةٌ“، وهم بِقُلُوبِهِمْ يَعْلَمُونَ أنَّ الَّذِي هم عَلَيْهِ مِنَ الكُفْرِ وعِبادَةِ الأوْثانِ وإنْكارِ البَعْثِ مُنْكَرٌ باطِلٌ، فَإذا كانَ غَرَضُكَ مِن هَذا التَّعْجِيلِ أنْ تُعَرِّفَهم قُبْحَ ما هم عَلَيْهِ، ثُمَّ إنَّ هَذِهِ المَعْرِفَةَ حاصِلَةٌ عِنْدَهم، فَحِينَئِذٍ لَمْ يَبْقَ لِهَذا …
لَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ (Move not your tongue concerning to make haste therewith.) meaning, with the Qur'an. This is as Allah says, وَلَا تَعْجَلْ بِالْقُرْآنِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يُقْضَىٰ إِلَيْكَ وَحْيُهُ ۖ وَقُلْ رَبِّ زِدْنِي عِلْمًا (And be not in haste with the Qur'an before its revelation is completed to you, and say: "My Lord! Increase me in knowledge.")(20:114) Then Allah says, إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ (It is for Us to collect it) meaning, 'in your chest.' وَقُرْآنَهُ (and that it be recited.) meaning, 'that you recite it.' فَإِذَا قُرْآنَهُ (And when We have …
حفظ قرآن، تلاوت و تفسیر کا ذمہ دار اللہ تعالیٰ یہاں اللہ عزوجل اپنے نبی ﷺ کو تعلیم دیتا ہے کہ فرشتے سے وحی کس طرح حاصل کریں، آنحضور ﷺ اس کو اخذ کرنے میں بہت جلدی کرتے تھے اور قرأت میں فرشتے کے بالکل ساتھ ساتھ رہتے تھے، پس اللہ عزوجل حکم فرماتا ہے کہ جب فرشتہ وحی لے کر آئے آپ سنتے رہیں، پھر جس ڈر سے آپ ایسا کرتے تھے اسی طرح اس کا واضح کرانا اور تفسیر اور بیان آپ سے کرانے کے ذمہ داری بھی ہم ہی پر ہے، پس پہلی حالت یاد کرانا، دوسری تلاوت کرانا، تیسری تفسیر، مضمون اور توضیح مطلب کرانا تینوں کی کفالت اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لی، جیسے اور جگہ ہے آیت (وَلَا تَعْجَلْ بالْقُرْاٰنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ …
God, exalted be He, says to His Prophet: Do not move your tongue with it, with the Qur’ān, before Gabriel is through with [reciting] it, to hasten it, fearing to lose it.
al-Ṣāfī (Fayḍ al-Kāshānī)d.1680 · ar · PD
لا تحرك به لسانك لتعجل به لا تحرك يا محمد بالقرآن لسانك قبل أن يتم وحيه لتأخذه على عجلة مخافة أن ينفلت منك. في المجمع عن ابن عباس كان النبي (صلى الله عليه وآله) إذا نزل عليه القرآن عجل بتحريك لسانه لحبه إياه وحرصه على أخذه وضبطه ومخافة أن ينساه فنهاه الله عن ذلك ويأتي في سبب نزوله وجه آخر عن القمي عن قريب. (17)
Nūr al-thaqalayn (al-Ḥuwayzī)d.1700 · ar · PD
لا تحرك به لسانك لتعجل به " فسكت رسول الله صلى الله عليه وآله ولم يسمه. 28 - في عيون الأخبار في باب ما جاء عن الرضا عليه السلام من الاخبار المجموعة وبهذا الاسناد عن عبد العظيم بن عبد الله الحسنى قال: سألت محمد بن علي الرضا عليه السلام عن قول الله عز وجل: "
كان النبيُّ - صلى الله عليه وسلم - إذا جاءه جبريلُ بالوحي وشرع في تلاوته [عليه]؛ بادَرَهُ النبيُّ - صلى الله عليه وسلم - من الحرص قبل أن يفرغ، وتلاه مع تلاوة جبريل إيَّاه ، فنهاه الله عن ذلك، وقال:{ولا تعجل بالقرآن من قبل أن يقضى إليك وحيه}: وقال هنا: {لا تُحرِّكَ به لسَانَكَ لِتَعۡجَلَ به}. ثم ضمن له تعالى أنَّه لا بدَّ أن يحفظَه ويقرأه ويجمعه الله في صدره، فقال:{إنَّ علينا جمعَه وقرآنَه}؛ فالحرص الذي في خاطرك إنَّما الداعي له حذر الفوات والنسيان؛ فإذا ضَمِنَه الله لك؛ فلا موجب لذلك، {فإذا قَرَأناه فاتَّبِعۡ قرآنه}؛ أي: إذا أكمل جبريلُ ما يوحى إليك ؛ فحينئذٍ اتَّبع ما قرأه فاقرأه ، {ثمَّ …
نہ حرکت دیں آپ اس (قرآن) کے ساتھ اپنی زبان کو تاکہ جلدی (یاد کر) لیں آپ اسے (16) یقیناً ہمارے ذمے ہے اس کا جمع کرنا اور اس کا پڑھنا (17) سو جب ہم اسے پڑھ لیں تو آپ پیروی کیجیے اس کےپڑھنے کی (18) پھر ہمارے ذمے ہے اس کا واضح کرنا(19) [19-16] جب حضرت جبریل uوحی لے کر آتے اور تلاوت شروع کرتے تو رسول اللہ ﷺ(حصول قرآن کی شدید) حرص کی بنا پر، حضرت جبریلu کے فارغ ہونے سے پہلے ہی، جلدی سے جبریلu کی تلاوت کے ساتھ ساتھ تلاوت کرنا شروع کر دیتے، پس اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس سے روک دیا، اور فرمایا:﴿وَلَا تَعۡجَلۡ بِالۡقُرۡاٰنِ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ يُّقۡضٰۤى اِلَيۡكَ وَحۡيُهٗ﴾(طٰہ:ٰ 20؍114)’’اور قرآن جو …
اب چار آیات آتی ہیں جو قرآن مجید کے بارے میں آپ کو ہدایات دے دی ہیں اور یہ جملہ معترضہ ہیں۔ لا تحرک ........................ بیانہ ان آیات کے بارے میں ہم نے سورت کے مقدمہ میں جو کچھ کہہ دیا ہے اس پر اس قدر اضافہ ضروری ہے کہ قرآن کریم کے حفظ و حفاظت کا کام اللہ نے مطلقاً اپنے ذمہ لے لیا ہے۔ اللہ اس بات کا ضامن ہے کہ قرآن زندہ رہے گا ، محفوظ رہے گا ، جمع وتدوین مکمل ہوگی اور اس کی تشریح بھی اللہ کرے گا۔ مکمل ذمہ داری اللہ پر ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی ذمہ داری فقط یہ ہے کہ آپ اسے اٹھائیں اور لوگوں تک پہنچادیں۔ یہ اس لئے کہا گیا کہ حضور اکرم ﷺ اخذ وحی کے لئے بیتاب ہوجاتے تھے اور آپ جلدی سے سب کے سب قرآن …
بَلِ الْاِنْسَانُ عَلٰي نَفْسِهٖ بَصِيْرَةٌ وَّلَوْ اَلْقٰى مَعَاذِيْرَهٗ (Rather, man will be a witness against himself, even though he may offer his excuses....75:14-15). One meaning of the words bash and basirah is 'to see'. Another meaning of basirah is 'evidence', as for instance in: قَدْ جَاۗءَكُمْ بَصَاۗىِٕرُ مِنْ رَّبِّكُمْ '...There have come to you evidences 1 from your Lord_[ 6:104] ' In this verse the word basa'ir is the plural of basirah and it means 'evidence, proof, argument or insight'. The word ma` adhir is the plural of mi` dhar meaning, 'excuse'. The verse purports to say …
اں سے لے کر”پھر اس کا مطلب سمجھا دینا بھی ہمارے ہی ذمّہ ہے “تک کی پُوری عبارت ایک جملہ معترضہ ہے جو سلسلہ کلام کو بیچ میں توڑ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے ارشاد فرمائی گئی ہے، جیسا کہ ہم دیباچہ مین بیان کر آئے ہیں ، نبوت کے ابتدائی دور میں ، جبکہ حضورؐ کو وحی اخذ کرنے کی عادت اور مشق پوری طرح نہیں ہوئی تھی، آپ پر جب وحی نازل ہوتی تھی تو آپ کو یہ اندیشہ لاحق ہو جاتا تھا کہ جبریل علیہ السلام جو کلامِ الہٰی آپ کو سنا رہے ہیں وہ آپ کو ٹھیک ٹھیک یاد رہ سکے گا یا نہیں، اس لیے آپ وحی سننے کے ساتھ ساتھ اسے یاد کرنے کی کوشش کرنے لگتے تھے۔ ایسی ہی صورت اُس وقت پیش آئی جب حضرت جبریل سورہ …
The whole passage from here to “Then, indeed, it is upon Us its clarification” is a parenthesis, which has been interposed here as an address to the Prophet (peace be upon him). As we have explained in the introduction above, in the initial stages of the Prophethood when the Prophet (peace be upon him) was not yet fully used to receiving the revelation, he was afraid when revelation came down to him whether he would be able to remember exactly what the Angel Gabriel was reciting to him or not. Therefore, he would try to commit to memory rapidly what he heard from the Angel simultaneously. The …
لاَ تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ . إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ . فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فاتبع قُرْآنَهُ . ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُ ) .والضمير فى ( به ) يعود إلى القرآن الكريم المفهوم من المقام . والمراد بقوله : ( لاَ تُحَرِّكْ ) نهيه صلى الله عليه وسلم عن التعجيل فى القراءة .
آیت 16{ لَا تُحَرِّکْ بِہٖ لِسَانَکَ لِتَعْجَلَ بِہٖ۔ } ”آپ اس قرآن کے ساتھ اپنی زبان کو تیزی سے حرکت نہ دیں۔“ حضور اکرم ﷺ کا معمول تھا کہ جونہی حضرت جبرائیل علیہ السلام وحی لے کر آتے آپ ﷺ نئے کلام کو فوری طور پر یاد کرنے کی کوشش کرتے۔ اس پس منظر میں یہاں آپ ﷺ کو تسلی دی جا رہی ہے کہ اس ضمن میں آپ ﷺ فکر مند نہ ہوں :
لَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ (16) هذه الآية وقعت هنا معترضة . وسبب نزولها ما رواه البخاري ومسلم عن ابن عباس أنه قال : «كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا نزل عليه القرآن يُحرك به لسانه يُريد أن يحفَظَه مخافةَ أن يتَفَلَّتَ منه ، أو من شدة رغبته في حِفْظه فكان يلاقي من ذلك شدة فأنَزَل الله تعالى : { لا تُحَرِّكْ به لسانك لتَعْجَل بِه إِنَّ علينا جمعَه وقرآنه } . قال : جَمْعَه في صدرك ثم تَقْرَأُه فإذا قرأنَاه فاتّبعْ قُرْآنه قال فاستَمِعْ له وأنْصِتْ ، ثم إن علينا أن نبيّنه بلسانك ، أي أن تقرأه» اه . فلما نزل هذا الوحي في أثناء نزول السورة للغرض الذي نزل فيه ولم يَكن سورةً …
لا تحرك -أيها النبي- بالقرآن لسانك حين نزول الوحي؛ لأجل أن تتعجل بحفظه، مخافة أن يتفلَّت منك. إن علينا جَمْعه في صدرك، ثم أن تقرأه بلسانك متى شئت. فإذا قرأه عليك رسولنا جبريل فاستمِعْ لقراءته وأنصت له، ثم اقرأه كما أقرأك إياه، ثم إن علينا توضيح ما أشكل عليك فهمه من معانيه وأحكامه.
حضرت جبرائیل (عليه السلام) جب وحی لے کر آتے نبی (صلى الله عليه وسلم) بھی ان کے ساتھ جلدی سے پڑھتے جاتے کہ کہیں کوئی لفظ بھول نہ جائے۔ اللہ نے اپنے فرشتے کے ساتھ ساتھ اس طرح پڑھنے سے منع فرمایا۔ (صحیح بخاری' تفسہر سورۃ القیامہ) یہ مضمون پہلے بھی گزر چکا ہے ”وَلَا تَعْجَلْ بِالْقُرْآنِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يُقْضَى إِلَيْكَ وَحْيُهُ“ (سورۃ طٰہٰ:114) چنانچہ اس حکم کے بعد آپ خاموشی سے سنتے۔
(Stir not thy tongue) to read the Qur'an, O Muhammad, (herewith to hasten it) to hasten the recitation of the Qur'an before Gabriel finishes reciting it to you. This is because the Prophet (pbuh) used to repeat whatever revelations of the Qur'an Gabriel brought down to him before the latter finished a sentence of the Qur'an, out of fear of forgetting what was revealed to him. Allah warned him against doing so.
No commentary keyed to this āyah in: Hilali & Khan, notes (English), Majmaʿ al-bayān (al-Ṭabrisī), Tafsir-e-Usmani (Urdu), Tafsīr al-Qummī, Tazkir ul Quran (Urdu), Tazkirul Quran (English), al-Mīzān (Ṭabāṭabāʾī), al-Tibyān (al-Ṭūsī).
૧૬. (હે પયગંબર) તમે કુરઆન મજીદને જલ્દી (યાદ કરવા) માટે પોતાની જબાનને હલાવો નહીં.
தமிழ் Abdulhamid Baqawi · v1.0.1
16. (நபியே! வஹ்யி மூலம் ஜிப்ரயீல் ஓதிக்காண்பிக்கும் வசனங்கள் தவறி விடுமோ என்று பயந்து, அவர் ஓதி முடிப்பதற்கு முன்னர்) நீர் அவசரப்பட்டு அதை ஓத உமது நாவை அசைக்காதீர்.
தமிழ் Abridged Version · v1.0.2
(நபியே!) இதை நீர் அவசரமாக (மனனம்) செய்வதற்காக இ(தை ஓதுவ)தற்கு உமது நாவை அசைக்காதீர்.
தமிழ் Omar Sharif · v1.0.3
(நபியே!) இதை நீர் அவசரமாக (மனனம்) செய்வதற்காக இ(தை ஓதுவ)தற்கு உமது நாவை அசைக்காதீர்.
తెలుగు Abdurrahim ibn Muhammad · v1.0.6
నీవు దీనిని (ఈ ఖుర్ఆన్ ను గ్రహించటానికి) నీ నాలుకను త్వరత్వరగా కదిలించకు[1].
ಕನ್ನಡ Hamza Butur · v1.0.3
(ಪ್ರವಾದಿಯವರೇ) ನೀವು ಕುರ್ಆನನ್ನು ಆತುರದಿಂದ ಕಂಠಪಾಠ ಮಾಡಲು ನಿಮ್ಮ ನಾಲಗೆಯನ್ನು ಅಲುಗಾಡಿಸಬೇಡಿ.
മലയാളം Abdul Hamid Haidar and Kunhi Muhammad · v1.0.3
നീ അത് (ഖുര്ആന്) ധൃതിപ്പെട്ട് ഹൃദിസ്ഥമാക്കാന് വേണ്ടി അതും കൊണ്ട് നിന്റെ നാവ് ചലിപ്പിക്കേണ്ട.
plays offline — the recitation is inside this file
PickthallLo! upon Us (resteth) the putting together thereof and the reading thereof.
Yusuf AliIt is for Us to collect it and to promulgate it:
Muhammad Junagarhiاس کا جمع کرنا اور (آپ کی زبان سے) پڑھنا ہمارے ذمہ ہے.[1]
al-Muyassarلا تحرك -أيها النبي- بالقرآن لسانك حين نزول الوحي؛ لأجل أن تتعجل بحفظه، مخافة أن يتفلَّت منك. إن علينا جَمْعه في صدرك، ثم أن تقرأه بلسانك متى شئت. فإذا قرأه عليك رسولنا جبريل فاستمِعْ لقراءته وأنصت له، ثم اقرأه كما أقرأك إياه، ثم إن علينا توضيح ما أشكل عليك فهمه من معانيه وأحكامه.
the agreed readingUpon Us is its gathering and its recitation — its gathering in your breast, the commentaries agree, and its running on your tongue afterwards.
اس کا جمع کرنا اور اس کا پڑھنا ہمارے ذمہ ہے۔ رازی وضاحت کرتے ہیں کہ اس کا مطلب ہے آپ ﷺ کے سینے اور حافظے میں اسے جمع کرنا ہمارے ذمے ہے۔ بغوی بتاتے ہیں کہ ہم اسے آپ ﷺ کے سینے میں جمع کریں گے، اور اس کی قرأت بھی۔
إن علينا جمعه وقرآنه. ذكر الرازي أن معناه علينا جمعه في صدرك وحفظك، وقوله وقرآنه فيه وجهان: أحدهما أن المراد من القرآن القراءة. وقال البغوي: علينا أن نجمعه في صدرك، وقرآنه.
24 of the 36 commentaries carry this āyah
all 24, in their own words
al-Tabarid.923 · ar · PD
القول في تأويل قوله تعالى: ﴿لا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ (١٦) إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ (١٧) فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ (١٨) ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُ (١٩) ﴾ . يقول تعالى ذكره لنبيه محمد ﷺ: لا تحرّك يا محمد بالقرآن لسانك لتعجل به. واختلف أهل التأويل في السبب الذي من أجله قيل له: ﴿لا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ﴾ فقال بعضهم: قيل له ذلك، لأنه كان إذا نزل عليه منه شيء عجل به، يريد حفظه من حبه إياه، فقيل له: لا تعجل به فإنَّا سَنحفظُه عليك. ⁕ حدثنا أبو كُرَيب، قال: ثنا سفيان بن عيينة، عن عمرو بن دينار، عن سعيد بن حُبير، عن ابن عباس، أن …
الضمير في بِهِ للقرآن، وكان رسول الله ﷺ إذا لقن الوحى نازع جبريل القراءة، ولم يصبر إلى أن يتمها، مسارعة إلى الحفظ وخوفا من أن يتفلت منه، فأمر بأن يستنصت له ملقيا إليه بقلبه وسمعه، حتى يقضى إليه وحيه، ثم يقفيه بالدراسة إلى أن يرسخ فيه. والمعنى: لا تحرّك لسانك بقراءة الوحى ما دام جبريل صلوات الله عليه يقرأ لِتَعْجَلَ بِهِ لتأخذه على عجلة، ولئلا يتفلت منك. ثم علل النهى عن العجلة بقوله إِنَّ عَلَيْنا جَمْعَهُ في صدرك وإثبات قراءته في لسانك فَإِذا قَرَأْناهُ جعل قراءة جبريل قراءته: والقرآن: القراءة فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ فكن مقفيا له فيه ولا تراسله، وطأ من نفسك أنه لا يبقى غير محفوظ، فنحن في ضمان …
Jawāmiʿ al-jāmiʿ (al-Ṭabrisī)d.1153 · ar · PD
إن علينا جمعه) في صدرك وإثبات قراءته في لسانك. (فإذا قرأنه) جعل قراءة جبرائيل قراءته، والقرآن: القراءة (فاتبع قرءانه) فكن مقفيا له فيه ولا تراسله، فنحن في ضمان تحفيظه لك. (
لَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ (Move not your tongue concerning to make haste therewith.) meaning, with the Qur'an. This is as Allah says, وَلَا تَعْجَلْ بِالْقُرْآنِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يُقْضَىٰ إِلَيْكَ وَحْيُهُ ۖ وَقُلْ رَبِّ زِدْنِي عِلْمًا (And be not in haste with the Qur'an before its revelation is completed to you, and say: "My Lord! Increase me in knowledge.")(20:114) Then Allah says, إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ (It is for Us to collect it) meaning, 'in your chest.' وَقُرْآنَهُ (and that it be recited.) meaning, 'that you recite it.' فَإِذَا قُرْآنَهُ (And when We have …
حفظ قرآن، تلاوت و تفسیر کا ذمہ دار اللہ تعالیٰ یہاں اللہ عزوجل اپنے نبی ﷺ کو تعلیم دیتا ہے کہ فرشتے سے وحی کس طرح حاصل کریں، آنحضور ﷺ اس کو اخذ کرنے میں بہت جلدی کرتے تھے اور قرأت میں فرشتے کے بالکل ساتھ ساتھ رہتے تھے، پس اللہ عزوجل حکم فرماتا ہے کہ جب فرشتہ وحی لے کر آئے آپ سنتے رہیں، پھر جس ڈر سے آپ ایسا کرتے تھے اسی طرح اس کا واضح کرانا اور تفسیر اور بیان آپ سے کرانے کے ذمہ داری بھی ہم ہی پر ہے، پس پہلی حالت یاد کرانا، دوسری تلاوت کرانا، تیسری تفسیر، مضمون اور توضیح مطلب کرانا تینوں کی کفالت اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لی، جیسے اور جگہ ہے آیت (وَلَا تَعْجَلْ بالْقُرْاٰنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ …
Assuredly it is for Us to bring it together, in your breast, and to recite it, your reciting of it, that is, its flowing off your tongue.
al-Ṣāfī (Fayḍ al-Kāshānī)d.1680 · ar · PD
إن علينا جمعه في صدرك وقرآنه وإثبات قراءته في لسانك وهي تعليل للنهي. (18) فإذا قرأنه بلسان جبرئيل عليك فاتبع قرآنه قراءته بتكراره حتى تقرر في ذهنك. في المجمع عن ابن عباس فكان النبي (صلى الله عليه وآله) بعد هذا إذا نزل عليه جبرئيل أطرق فإذا ذهب قرأ. (19)
كان النبيُّ - صلى الله عليه وسلم - إذا جاءه جبريلُ بالوحي وشرع في تلاوته [عليه]؛ بادَرَهُ النبيُّ - صلى الله عليه وسلم - من الحرص قبل أن يفرغ، وتلاه مع تلاوة جبريل إيَّاه ، فنهاه الله عن ذلك، وقال:{ولا تعجل بالقرآن من قبل أن يقضى إليك وحيه}: وقال هنا: {لا تُحرِّكَ به لسَانَكَ لِتَعۡجَلَ به}. ثم ضمن له تعالى أنَّه لا بدَّ أن يحفظَه ويقرأه ويجمعه الله في صدره، فقال:{إنَّ علينا جمعَه وقرآنَه}؛ فالحرص الذي في خاطرك إنَّما الداعي له حذر الفوات والنسيان؛ فإذا ضَمِنَه الله لك؛ فلا موجب لذلك، {فإذا قَرَأناه فاتَّبِعۡ قرآنه}؛ أي: إذا أكمل جبريلُ ما يوحى إليك ؛ فحينئذٍ اتَّبع ما قرأه فاقرأه ، {ثمَّ …
نہ حرکت دیں آپ اس (قرآن) کے ساتھ اپنی زبان کو تاکہ جلدی (یاد کر) لیں آپ اسے (16) یقیناً ہمارے ذمے ہے اس کا جمع کرنا اور اس کا پڑھنا (17) سو جب ہم اسے پڑھ لیں تو آپ پیروی کیجیے اس کےپڑھنے کی (18) پھر ہمارے ذمے ہے اس کا واضح کرنا(19) [19-16] جب حضرت جبریل uوحی لے کر آتے اور تلاوت شروع کرتے تو رسول اللہ ﷺ(حصول قرآن کی شدید) حرص کی بنا پر، حضرت جبریلu کے فارغ ہونے سے پہلے ہی، جلدی سے جبریلu کی تلاوت کے ساتھ ساتھ تلاوت کرنا شروع کر دیتے، پس اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس سے روک دیا، اور فرمایا:﴿وَلَا تَعۡجَلۡ بِالۡقُرۡاٰنِ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ يُّقۡضٰۤى اِلَيۡكَ وَحۡيُهٗ﴾(طٰہ:ٰ 20؍114)’’اور قرآن جو …
بَلِ الْاِنْسَانُ عَلٰي نَفْسِهٖ بَصِيْرَةٌ وَّلَوْ اَلْقٰى مَعَاذِيْرَهٗ (Rather, man will be a witness against himself, even though he may offer his excuses....75:14-15). One meaning of the words bash and basirah is 'to see'. Another meaning of basirah is 'evidence', as for instance in: قَدْ جَاۗءَكُمْ بَصَاۗىِٕرُ مِنْ رَّبِّكُمْ '...There have come to you evidences 1 from your Lord_[ 6:104] ' In this verse the word basa'ir is the plural of basirah and it means 'evidence, proof, argument or insight'. The word ma` adhir is the plural of mi` dhar meaning, 'excuse'. The verse purports to say …
والمقصود بقوله : قرآنه ، قراءته عليك ، وتثبيته على لسانك وفى قلبك بحيث تقرؤه متى شئت فهو مصدر مضاف لمفعوله .قال الآلوسى : قوله : ( وَقُرْآنَهُ ) أى : إثبات قراءته فى لسانك ، فالقرآن هنا ، وكذا فيما بعده ، مصدر كالرجحان بمعنى القراءة . . مضاف إلى المفعول وقيل : قرآنه ، أى : تأليفه على لسانك . .
آیت 17{ اِنَّ عَلَیْنَا جَمْعَہٗ وَقُرْاٰنَہٗ۔ } ”اسے جمع کرنا اور پڑھوا دینا ہمارے ذمہ ہے۔“ یعنی آپ ﷺ خاطر جمع رکھیں ‘ قرآن مجید میں سے کوئی آیت یا کوئی لفظ آپ ﷺ بھولیں گے نہیں۔ اس پورے کلام کی حفاظت اور ترتیب ہمارے ذمہ ہے۔
لا تحرك -أيها النبي- بالقرآن لسانك حين نزول الوحي؛ لأجل أن تتعجل بحفظه، مخافة أن يتفلَّت منك. إن علينا جَمْعه في صدرك، ثم أن تقرأه بلسانك متى شئت. فإذا قرأه عليك رسولنا جبريل فاستمِعْ لقراءته وأنصت له، ثم اقرأه كما أقرأك إياه، ثم إن علينا توضيح ما أشكل عليك فهمه من معانيه وأحكامه.
عنی آپ کے سینے میں اس کا جمع کر دینا اور آپ کی زبان پر اس کی قرأت کو جاری کر دینا ہماری ذمہ داری ہے۔ تاکہ اس کا کوئی حصہ آپ کی یاداشت سے نہ نکلے اور آپ کے ذہن سے محو نہ ہو۔
(Lo! upon Us (resteth) the putting together thereof) preserving the Qur'an in your heart (and the reading thereof) and also preserving the reading of Gabriel to you; it is also said that this means: upon Us rests its composition of the lawful and the unlawful.
No commentary keyed to this āyah in: Fi Zilal al-Quran (Urdu), Hilali & Khan, notes (English), Majmaʿ al-bayān (al-Ṭabrisī), Nūr al-thaqalayn (al-Ḥuwayzī), Tafhim al-Qur'an - Maududi (English), Tafhim al-Qur'an - Maududi (Urdu), Tafsir-e-Usmani (Urdu), Tafsīr al-Qummī, Tazkir ul Quran (Urdu), Tazkirul Quran (English), al-Mīzān (Ṭabāṭabāʾī), al-Tibyān (al-Ṭūsī).
the words of this āyah — root, frequency, family
إِنّ
occurs 1682 timesamong the commonest 300 words
عَلَى
occurs 1445 timesamong the commonest 300 words
جَمْع
occurs 13 timesroot جمع occurs 129
جَمِيع53أَجْمَع26جَمَعَ22جَمْع13أَجْمَعُ4جامِع3
و
occurs 9594 timesamong the commonest 300 words
قُرْءان
occurs 70 timesroot قرأ occurs 88among the commonest 300 words
قُرْءان70قَرَأَ16قُرُوء1نُقْرِئُ1
this āyah in 55 languages — 74 translations
Akan Harun Ismail · v1.0.3
Nokorε sε, Yεn na (Qur’aan no) anoboa, εnesε (yεbεkyerε wo) n’akenkan no da Yεn soͻ.
Azərbaycan Ali Khan Musayev · v1.0.4
Şübhəsiz ki, onu (qəlbində) cəm etmək və (dilində) oxutmaq Bizə aiddir.
Bahasa Indonesia Ministry of Religious Affairs · v1.0.1
Sesungguhnya Kami yang akan mengumpulkannya (di dadamu) dan membacakannya.
Bahasa Indonesia Sabiq Company · v1.1.3
17. Sesungguhnya Kami yang akan mengumpulkannya (di dadamu) dan membacakannya.
Bahasa Indonesia The Complex · v1.0.1
Sesungguhnya atas tanggungan Kami-lah mengumpulkannya (di dadamu) dan (membuatmu pandai) membacanya.
Bosanski Muhammad Mahanovic · v1.1.0
Mi smo ga dužni sakupiti da bi ga ti čitao.
Bosanski Rowwad Translation Centre · v2.0.4
Mi smo ga dužni sakupiti da bi ga ti čitao.
Cebuano Rowwad Translation Center · v1.1.3
Sa pagkatinuod ngadto Kanamo ang paghimo kanimo sa pag-saulo ug aron sa paghatag kanimo sa katakos sa pagbasa (sa Qur'an).
Deutsch Frank Bubenheim · v1.1.4
Uns obliegt es, ihn zusammenzustellen und ihn vorlesen zu lassen.
Deutsch Rowwad Translation Center · v1.0.15
Wahrlich, Uns obliegt seine Sammlung und sein Vortragen.
English Hilali and Khan · v1.1.2
17. It is for Us to collect it and to give you (O Muhammad صلى الله عليه وسلم) the ability to recite it (the Qur’ân).
English Noor International Center · v1.1.2
Indeed, upon Us is its collection [in your heart] and [to make possible] its recitation.
English Rowwad Translation Center · v1.0.19
It is upon Us to make you memorize and recite it.
Español Isa Garcia · v1.0.2
17. porque a Mí me corresponde conservarla [en tu corazón libre de toda tergiversación] para que la recites.
Español Noor International Center · v1.0.1
A Nos Nos corresponde recopilarlo (en tu corazón) y hacer que lo recites.
Español issued by Noor International · v1.0.1
A Nosotros Nos corresponde recopilarlo (en tu corazón) y hacer que lo recites.
Français Noor International Center · v1.0.0
17. C’est à Nous qu’il appartient de le rassembler (dans ton cœur et ta mémoire) et de te le faire lire.
Français Rachid Maach · v1.0.3
C’est à Nous qu’il revient de le fixer dans ta mémoire[5] et de te le faire réciter.
Fulfulde Rowwad Translation Center · v1.0.2
Ko minen woodani renndinde mbo e jannginde mbo ma.
Hausa Abu Bakr Jumi · v1.2.2
Lalle ne, wãjibi ne a gare Mu, Mu tãra shi. Mu (tsare maka) karãtunsa.
Hrvatski Rowwad Translation Center · v1.0.1
Mi smo ga dužni sakupiti da bi ga ti čitao.
Kinyarwanda Rwanda Muslim Association · v1.0.5
Mu by’ukuri ni twe tuzayikusanyiriza (mu gituza cyawe) kandi ni natwe tuzakwigisha kuyisoma (Qur’an),
Kirundi Yusuf Gahiti · v1.0.4
Mu vy’ukuri ni Twebwe Allah, Tujejwe kuyitururuza mu mushaha wawe no kugushoboza kuyisoma ku mutwe.
plays offline — the recitation is inside this file
PickthallAnd when We read it, follow thou the reading;
Yusuf AliBut when We have promulgated it, follow thou its recital (as promulgated):
Muhammad Junagarhiہم جب اسے پڑھ[1] لیں تو آپ اس کے پڑھنے کی پیروی کریں.[2]
al-Muyassarلا تحرك -أيها النبي- بالقرآن لسانك حين نزول الوحي؛ لأجل أن تتعجل بحفظه، مخافة أن يتفلَّت منك. إن علينا جَمْعه في صدرك، ثم أن تقرأه بلسانك متى شئت. فإذا قرأه عليك رسولنا جبريل فاستمِعْ لقراءته وأنصت له، ثم اقرأه كما أقرأك إياه، ثم إن علينا توضيح ما أشكل عليك فهمه من معانيه وأحكامه.
the agreed readingSo when We have recited it, follow its recitation — listen while it is being recited, the commentaries agree, and recite after.
پھر جب ہم اسے پڑھ لیں تو آپ اس کی قرأت کی پیروی کریں۔ تفسیر مقباس کے مطابق فاذا قراناہ کا مطلب ہے جب جبریل ہماری طرف سے اسے پڑھیں، اور فاتبع قرانہ کا مطلب ہے ہماری قرأت کو غور سے سنیں۔
فإذا قرأناه فاتبع قرآنه. جاء في تفسير مقباس أن معنى فإذا قرأناه أي إذا قرأه جبريل عنا، فأسندت القراءة إلى ضمير الجلالة على طريقة المجاز العقلي، ومعنى فاتبع قرآنه أي أنصت إلى قراءتنا.
No Shīʿī edition could be anchored to this āyah by the alignment; the commentary exists in the books, the method could not point at it.
24 of the 36 commentaries carry this āyah
all 24, in their own words
al-Tabarid.923 · ar · PD
القول في تأويل قوله تعالى: ﴿لا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ (١٦) إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ (١٧) فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ (١٨) ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُ (١٩) ﴾ . يقول تعالى ذكره لنبيه محمد ﷺ: لا تحرّك يا محمد بالقرآن لسانك لتعجل به. واختلف أهل التأويل في السبب الذي من أجله قيل له: ﴿لا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ﴾ فقال بعضهم: قيل له ذلك، لأنه كان إذا نزل عليه منه شيء عجل به، يريد حفظه من حبه إياه، فقيل له: لا تعجل به فإنَّا سَنحفظُه عليك. ⁕ حدثنا أبو كُرَيب، قال: ثنا سفيان بن عيينة، عن عمرو بن دينار، عن سعيد بن حُبير، عن ابن عباس، أن …
الضمير في بِهِ للقرآن، وكان رسول الله ﷺ إذا لقن الوحى نازع جبريل القراءة، ولم يصبر إلى أن يتمها، مسارعة إلى الحفظ وخوفا من أن يتفلت منه، فأمر بأن يستنصت له ملقيا إليه بقلبه وسمعه، حتى يقضى إليه وحيه، ثم يقفيه بالدراسة إلى أن يرسخ فيه. والمعنى: لا تحرّك لسانك بقراءة الوحى ما دام جبريل صلوات الله عليه يقرأ لِتَعْجَلَ بِهِ لتأخذه على عجلة، ولئلا يتفلت منك. ثم علل النهى عن العجلة بقوله إِنَّ عَلَيْنا جَمْعَهُ في صدرك وإثبات قراءته في لسانك فَإِذا قَرَأْناهُ جعل قراءة جبريل قراءته: والقرآن: القراءة فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ فكن مقفيا له فيه ولا تراسله، وطأ من نفسك أنه لا يبقى غير محفوظ، فنحن في ضمان …
لَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ (Move not your tongue concerning to make haste therewith.) meaning, with the Qur'an. This is as Allah says, وَلَا تَعْجَلْ بِالْقُرْآنِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يُقْضَىٰ إِلَيْكَ وَحْيُهُ ۖ وَقُلْ رَبِّ زِدْنِي عِلْمًا (And be not in haste with the Qur'an before its revelation is completed to you, and say: "My Lord! Increase me in knowledge.")(20:114) Then Allah says, إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ (It is for Us to collect it) meaning, 'in your chest.' وَقُرْآنَهُ (and that it be recited.) meaning, 'that you recite it.' فَإِذَا قُرْآنَهُ (And when We have …
حفظ قرآن، تلاوت و تفسیر کا ذمہ دار اللہ تعالیٰ یہاں اللہ عزوجل اپنے نبی ﷺ کو تعلیم دیتا ہے کہ فرشتے سے وحی کس طرح حاصل کریں، آنحضور ﷺ اس کو اخذ کرنے میں بہت جلدی کرتے تھے اور قرأت میں فرشتے کے بالکل ساتھ ساتھ رہتے تھے، پس اللہ عزوجل حکم فرماتا ہے کہ جب فرشتہ وحی لے کر آئے آپ سنتے رہیں، پھر جس ڈر سے آپ ایسا کرتے تھے اسی طرح اس کا واضح کرانا اور تفسیر اور بیان آپ سے کرانے کے ذمہ داری بھی ہم ہی پر ہے، پس پہلی حالت یاد کرانا، دوسری تلاوت کرانا، تیسری تفسیر، مضمون اور توضیح مطلب کرانا تینوں کی کفالت اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لی، جیسے اور جگہ ہے آیت (وَلَا تَعْجَلْ بالْقُرْاٰنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ …
So, when We recite it, to you, by means of Gabriel’s recital, follow its recitation, listen to its recitation: thus the Prophet (s) would listen to it and then repeat it.
كان النبيُّ - صلى الله عليه وسلم - إذا جاءه جبريلُ بالوحي وشرع في تلاوته [عليه]؛ بادَرَهُ النبيُّ - صلى الله عليه وسلم - من الحرص قبل أن يفرغ، وتلاه مع تلاوة جبريل إيَّاه ، فنهاه الله عن ذلك، وقال:{ولا تعجل بالقرآن من قبل أن يقضى إليك وحيه}: وقال هنا: {لا تُحرِّكَ به لسَانَكَ لِتَعۡجَلَ به}. ثم ضمن له تعالى أنَّه لا بدَّ أن يحفظَه ويقرأه ويجمعه الله في صدره، فقال:{إنَّ علينا جمعَه وقرآنَه}؛ فالحرص الذي في خاطرك إنَّما الداعي له حذر الفوات والنسيان؛ فإذا ضَمِنَه الله لك؛ فلا موجب لذلك، {فإذا قَرَأناه فاتَّبِعۡ قرآنه}؛ أي: إذا أكمل جبريلُ ما يوحى إليك ؛ فحينئذٍ اتَّبع ما قرأه فاقرأه ، {ثمَّ …
نہ حرکت دیں آپ اس (قرآن) کے ساتھ اپنی زبان کو تاکہ جلدی (یاد کر) لیں آپ اسے (16) یقیناً ہمارے ذمے ہے اس کا جمع کرنا اور اس کا پڑھنا (17) سو جب ہم اسے پڑھ لیں تو آپ پیروی کیجیے اس کےپڑھنے کی (18) پھر ہمارے ذمے ہے اس کا واضح کرنا(19) [19-16] جب حضرت جبریل uوحی لے کر آتے اور تلاوت شروع کرتے تو رسول اللہ ﷺ(حصول قرآن کی شدید) حرص کی بنا پر، حضرت جبریلu کے فارغ ہونے سے پہلے ہی، جلدی سے جبریلu کی تلاوت کے ساتھ ساتھ تلاوت کرنا شروع کر دیتے، پس اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس سے روک دیا، اور فرمایا:﴿وَلَا تَعۡجَلۡ بِالۡقُرۡاٰنِ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ يُّقۡضٰۤى اِلَيۡكَ وَحۡيُهٗ﴾(طٰہ:ٰ 20؍114)’’اور قرآن جو …
بَلِ الْاِنْسَانُ عَلٰي نَفْسِهٖ بَصِيْرَةٌ وَّلَوْ اَلْقٰى مَعَاذِيْرَهٗ (Rather, man will be a witness against himself, even though he may offer his excuses....75:14-15). One meaning of the words bash and basirah is 'to see'. Another meaning of basirah is 'evidence', as for instance in: قَدْ جَاۗءَكُمْ بَصَاۗىِٕرُ مِنْ رَّبِّكُمْ '...There have come to you evidences 1 from your Lord_[ 6:104] ' In this verse the word basa'ir is the plural of basirah and it means 'evidence, proof, argument or insight'. The word ma` adhir is the plural of mi` dhar meaning, 'excuse'. The verse purports to say …
اگر چہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جبریل علیہ السّلام قرآن پڑھ کر سُناتے تھے، لیکن چونکہ وہ اپنی طرف سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے پڑھتے تھے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ”جب ہم اِسے پڑھ رہے ہوں“۔
Although it was Angel Gabriel who recited the Quran to the Prophet (peace be upon him), since he recited it on behalf of Allah and not on his own behalf, Allah said: When We have recited it.
أى : لا تتعجل - أيها الرسول الكريم - بقراءة القرآن الكريم عندما تسمعه من أمين وحينا جبريل - عليه السلام - ، بل تريث وتمهل حتى ينتهى من قراءته ثم اقرأ من بعده ، فإننا قد تكفلنا بجمعه فى صدرك وبقراءته عليك عن طريق وحينا ، وما دام الأمر كذلك ، فمتى قرأ عليك جبريل القرآن فاتبع قراءته ولا تسبقه بها .
آیت 18{ فَاِذَا قَرَاْنٰــہُ فَاتَّبِعْ قُرْاٰنَہٗ۔ } ”پھر جب ہم اسے پڑھوا دیں تو آپ اس کی قراءت کی پیروی کیجیے۔“ اس میں ترتیب ِمصحف کی طرف اشارہ ہے ‘ یعنی وہ ترتیب جس کے مطابق قرآن مجید کتابی صورت میں مرتب کیا گیا ہے۔ ظاہر ہے قرآن مجید کے نزول کی ترتیب اور تھی اور مصحف کی ترتیب اور ہے۔ لیکن اس حوالے سے یہ اہم نکتہ مدنظر رہنا چاہیے کہ ترتیب مصحف بھی توقیفی ہے ‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہی طے ہوئی ہے ‘ اور یہ کہ ہر وحی کے ساتھ نئے کلام کی ترتیب کا حکم بھی آتا تھا۔ یعنی ہر وحی میں نازل ہونے والی سورت یا آیات کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح کیا جاتا تھا کہ پہلے سے نازل شدہ قرآن کے اندر …
فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْآَنَهُ (18) وقوله : { فإذا قرأناه } ، أي إذا قَرأه جبريل عنا ، فأُسْنِدَتْ القراءةُ إلى ضمير الجلالة على طريقة المجاز العقلي ، والقرينة واضحة .ومعنى { فاتَّبع قرآنه } ، أي أنْصِتْ إلى قِرَاءتِنَا . فضمير { قَرأناه } راجع إلى ما رجع إليه ضمير الغائب في { لا تُحرك به } وهو القرآن بالمعنى الأسمي ، فيكون وقوع هذه الآية في هذه السورة مثل وقوع { ومَا نتنزّل إلاّ بأمر ربك } في سورة مريم ( 64 ) ، ووقوع { حافظوا على الصلوات والصلاةِ الوسطى في أثناء أحكام الزوجات } في سورة البقرة ( 238 ) . قالوا : نزلت هذه الآية في أثناء سورة القيامة : هذا ما لا خلاف فيه بين أهل …
لا تحرك -أيها النبي- بالقرآن لسانك حين نزول الوحي؛ لأجل أن تتعجل بحفظه، مخافة أن يتفلَّت منك. إن علينا جَمْعه في صدرك، ثم أن تقرأه بلسانك متى شئت. فإذا قرأه عليك رسولنا جبريل فاستمِعْ لقراءته وأنصت له، ثم اقرأه كما أقرأك إياه، ثم إن علينا توضيح ما أشكل عليك فهمه من معانيه وأحكامه.
(And when We read it) when Gabriel reads to you, (follow thou the reading) you, O Muhammad, read after him; it is also said this means: what We finish composing it with all the lawful and unlawful contained therein, do you follow its composition;
No commentary keyed to this āyah in: Fi Zilal al-Quran (Urdu), Hilali & Khan, notes (English), Jawāmiʿ al-jāmiʿ (al-Ṭabrisī), Majmaʿ al-bayān (al-Ṭabrisī), Nūr al-thaqalayn (al-Ḥuwayzī), Tafsir-e-Usmani (Urdu), Tafsīr al-Qummī, Tazkir ul Quran (Urdu), Tazkirul Quran (English), al-Mīzān (Ṭabāṭabāʾī), al-Tibyān (al-Ṭūsī), al-Ṣāfī (Fayḍ al-Kāshānī).
the words of this āyah — root, frequency, family
ف
occurs 3001 timesamong the commonest 300 words
إِذا
occurs 423 timesamong the commonest 300 words
قَرَأَ
occurs 16 timesroot قرأ occurs 88
قُرْءان70قَرَأَ16قُرُوء1نُقْرِئُ1
اتَّبَعَ
occurs 136 timesroot تبع occurs 172among the commonest 300 words
plays offline — the recitation is inside this file
PickthallThen lo! upon Us (resteth) the explanation thereof.
Yusuf AliNay more, it is for Us to explain it (and make it clear):
Muhammad Junagarhiپھر اس کا واضح کر دینا ہمارے ذمہ ہے.[1]
al-Muyassarلا تحرك -أيها النبي- بالقرآن لسانك حين نزول الوحي؛ لأجل أن تتعجل بحفظه، مخافة أن يتفلَّت منك. إن علينا جَمْعه في صدرك، ثم أن تقرأه بلسانك متى شئت. فإذا قرأه عليك رسولنا جبريل فاستمِعْ لقراءته وأنصت له، ثم اقرأه كما أقرأك إياه، ثم إن علينا توضيح ما أشكل عليك فهمه من معانيه وأحكامه.
the agreed readingThen upon Us is its explaining. The commentaries take the whole passage as one assurance: the keeping of it, the reciting of it, and the understanding of it are all guaranteed, so haste is not needed.
پھر اس کا واضح کرنا بھی ہمارے ذمہ ہے۔ بغوی بتاتے ہیں کہ اس کا مطلب ہے اسے جمع اور قرأت کے بعد واضح کرنا بھی ہمارے ذمہ ہے۔ احسن البیان وضاحت کرتے ہیں کہ اس کے مشکل مقامات کی تشریح اور حلال و حرام کی توضیح بھی ہمارے ذمے ہے، تاکہ جلدی کی ضرورت نہ رہے۔
ثم إن علينا بيانه. ذكر البغوي أن معناه علينا أن نبينه لك بعد جمعه وقراءته. وفي هذا ما يدل على أن الأمر مضمون: حفظه وتلاوته وتفسيره، فلا داعي للعجلة.
29 of the 36 commentaries carry this āyah
all 29, in their own words
al-Tabarid.923 · ar · PD
القول في تأويل قوله تعالى: ﴿لا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ (١٦) إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ (١٧) فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ (١٨) ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُ (١٩) ﴾ . يقول تعالى ذكره لنبيه محمد ﷺ: لا تحرّك يا محمد بالقرآن لسانك لتعجل به. واختلف أهل التأويل في السبب الذي من أجله قيل له: ﴿لا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ﴾ فقال بعضهم: قيل له ذلك، لأنه كان إذا نزل عليه منه شيء عجل به، يريد حفظه من حبه إياه، فقيل له: لا تعجل به فإنَّا سَنحفظُه عليك. ⁕ حدثنا أبو كُرَيب، قال: ثنا سفيان بن عيينة، عن عمرو بن دينار، عن سعيد بن حُبير، عن ابن عباس، أن …
الضمير في بِهِ للقرآن، وكان رسول الله ﷺ إذا لقن الوحى نازع جبريل القراءة، ولم يصبر إلى أن يتمها، مسارعة إلى الحفظ وخوفا من أن يتفلت منه، فأمر بأن يستنصت له ملقيا إليه بقلبه وسمعه، حتى يقضى إليه وحيه، ثم يقفيه بالدراسة إلى أن يرسخ فيه. والمعنى: لا تحرّك لسانك بقراءة الوحى ما دام جبريل صلوات الله عليه يقرأ لِتَعْجَلَ بِهِ لتأخذه على عجلة، ولئلا يتفلت منك. ثم علل النهى عن العجلة بقوله إِنَّ عَلَيْنا جَمْعَهُ في صدرك وإثبات قراءته في لسانك فَإِذا قَرَأْناهُ جعل قراءة جبريل قراءته: والقرآن: القراءة فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ فكن مقفيا له فيه ولا تراسله، وطأ من نفسك أنه لا يبقى غير محفوظ، فنحن في ضمان …
Jawāmiʿ al-jāmiʿ (al-Ṭabrisī)d.1153 · ar · PD
ثم إن علينا بيانه) إذا أشكل عليك شيء من معانيه، كأنه (عليه السلام) [vol 3 p.683] كان يعجل في الحفظ والسؤال عن المعنى جميعا. (كلا) ردع لرسول الله عن عادة العجلة، وحث له على تكرير القراءة على قومه بالتؤدة ليتقرر ذلك في قلوبهم، لأنهم غافلون عن الأدلة، لا يتدبرون القرآن وما فيه من البيان. " بل يحبون العاجلة " (1) أي يختارون الدنيا ويتركون الاهتمام بأمور الآخرة، فلا غنى بك معهم من إعادة القول وتكريره، وزيادة التنبيه وتقريره، وقرئ: (تحبون) و (تذرون)، بالتاء على معنى: قل لهم. (
لَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ (Move not your tongue concerning to make haste therewith.) meaning, with the Qur'an. This is as Allah says, وَلَا تَعْجَلْ بِالْقُرْآنِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يُقْضَىٰ إِلَيْكَ وَحْيُهُ ۖ وَقُلْ رَبِّ زِدْنِي عِلْمًا (And be not in haste with the Qur'an before its revelation is completed to you, and say: "My Lord! Increase me in knowledge.")(20:114) Then Allah says, إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ (It is for Us to collect it) meaning, 'in your chest.' وَقُرْآنَهُ (and that it be recited.) meaning, 'that you recite it.' فَإِذَا قُرْآنَهُ (And when We have …
حفظ قرآن، تلاوت و تفسیر کا ذمہ دار اللہ تعالیٰ یہاں اللہ عزوجل اپنے نبی ﷺ کو تعلیم دیتا ہے کہ فرشتے سے وحی کس طرح حاصل کریں، آنحضور ﷺ اس کو اخذ کرنے میں بہت جلدی کرتے تھے اور قرأت میں فرشتے کے بالکل ساتھ ساتھ رہتے تھے، پس اللہ عزوجل حکم فرماتا ہے کہ جب فرشتہ وحی لے کر آئے آپ سنتے رہیں، پھر جس ڈر سے آپ ایسا کرتے تھے اسی طرح اس کا واضح کرانا اور تفسیر اور بیان آپ سے کرانے کے ذمہ داری بھی ہم ہی پر ہے، پس پہلی حالت یاد کرانا، دوسری تلاوت کرانا، تیسری تفسیر، مضمون اور توضیح مطلب کرانا تینوں کی کفالت اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لی، جیسے اور جگہ ہے آیت (وَلَا تَعْجَلْ بالْقُرْاٰنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ …
Then, it is for Us to explain it, by making you comprehend [it]: the connection between this verse and what preceded [it] is that those [verses before] imply turning away from God’s signs, whereas this one implies applying oneself to them by memorising them.
al-Ṣāfī (Fayḍ al-Kāshānī)d.1680 · ar · PD
ثم إن علينا بيانه بيان ما أشكل عليك من معانيه. (20) كلا لعله ردع عن إلقاء الانسان المعاذير مع أنه على نفسه بصيرة وما بينهما اعتراض
قرآن کریم کے الفاظ و معانی کا یاد کرا دینا ہمارے ذمّہ ہے:شروع میں جس وقت حضرت جبرئیلؑ اللہ کی طرف سے قرآن لاتے، ان کے پڑھنے کے ساتھ حضرت ﷺ بھی دل میں پڑھتے جاتے تھے۔ تاکہ جلد اسے یاد کر لیں اور سیکھ لیں۔ مبادا جبرئیلؑ چلے جائیں اور وحی پوری طرح محفوظ نہ ہو سکے۔ مگر اس صورت میں آپ کو سخت مشقت ہوتی تھی۔ جب تک پہلا لفظ کہیں اگلا سننے میں نہ آتا۔ اور سمجھنے میں بھی ظاہر ہے دقت پیش آتی ہوگی اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس وقت پڑھنے اور زبان ہلانے کی حاجت نہیں ہمہ تن متوجہ ہو کر سننا ہی چاہیئے۔ یہ فکر مت کرو کہ یاد نہیں رہیگا۔ پھر کیسے پڑھونگا۔ اور لوگوں کو کس طرح سناؤ نگا۔ اس کا تمہارے سینے میں …
كان النبيُّ - صلى الله عليه وسلم - إذا جاءه جبريلُ بالوحي وشرع في تلاوته [عليه]؛ بادَرَهُ النبيُّ - صلى الله عليه وسلم - من الحرص قبل أن يفرغ، وتلاه مع تلاوة جبريل إيَّاه ، فنهاه الله عن ذلك، وقال:{ولا تعجل بالقرآن من قبل أن يقضى إليك وحيه}: وقال هنا: {لا تُحرِّكَ به لسَانَكَ لِتَعۡجَلَ به}. ثم ضمن له تعالى أنَّه لا بدَّ أن يحفظَه ويقرأه ويجمعه الله في صدره، فقال:{إنَّ علينا جمعَه وقرآنَه}؛ فالحرص الذي في خاطرك إنَّما الداعي له حذر الفوات والنسيان؛ فإذا ضَمِنَه الله لك؛ فلا موجب لذلك، {فإذا قَرَأناه فاتَّبِعۡ قرآنه}؛ أي: إذا أكمل جبريلُ ما يوحى إليك ؛ فحينئذٍ اتَّبع ما قرأه فاقرأه ، {ثمَّ …
نہ حرکت دیں آپ اس (قرآن) کے ساتھ اپنی زبان کو تاکہ جلدی (یاد کر) لیں آپ اسے (16) یقیناً ہمارے ذمے ہے اس کا جمع کرنا اور اس کا پڑھنا (17) سو جب ہم اسے پڑھ لیں تو آپ پیروی کیجیے اس کےپڑھنے کی (18) پھر ہمارے ذمے ہے اس کا واضح کرنا(19) [19-16] جب حضرت جبریل uوحی لے کر آتے اور تلاوت شروع کرتے تو رسول اللہ ﷺ(حصول قرآن کی شدید) حرص کی بنا پر، حضرت جبریلu کے فارغ ہونے سے پہلے ہی، جلدی سے جبریلu کی تلاوت کے ساتھ ساتھ تلاوت کرنا شروع کر دیتے، پس اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس سے روک دیا، اور فرمایا:﴿وَلَا تَعۡجَلۡ بِالۡقُرۡاٰنِ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ يُّقۡضٰۤى اِلَيۡكَ وَحۡيُهٗ﴾(طٰہ:ٰ 20؍114)’’اور قرآن جو …
اِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهٗ (Then, it is undertaken by Us to explain it...75:19). In other words, it is Allah's concern to explain the true message of the verses. In fact, the meaning of every single word of the Qur'an will be made plain to the Holy Prophet. He need not be concerned about it. These four verses laid down the injunctions pertaining to Qur'an and its recitation. Now the Surah reverts to its basic theme of Resurrection. It describes the conditions and horrors of the Hereafter. Here a question arises as to the contextual relationship between the four verses and the rest of the Surah …
اِس سے گمان ہوتا ہے ، اور بعض اکابر مفسرین نے بھی اِس گمان کا اظہار کیا ہے، کہ غالباً ابتدائی زمانےمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نزولِ وحی کے دوران ہی میں قرآن کی کسی آیت یا کسی لفظ یا کسی حکم کا مفہوم بھی جبریل علیہ السلام سے دریافت کر لیتے تھے، اس لیے حضور ؐ کو نہ صرف یہ ہدایات کی گئی کہ جب وحی نازل ہو رہی ہو اس وقت آپ خاموشی سے اس کو سنیں، اور نہ صرف یہ اطمینان دلایا گیا کہ اُس کا لفظ ٹھیک ٹھیک آپ کے حافظہ میں محفوظ کر دیا جائے گا اور قرآن کو آپ ٹھیک اُسی طرح پڑھ سکیں گے جس طرح وہ نازل ہوا ہے۔ بلکہ ساتھ ساتھ یہ وعدہ بھی کیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کے ہر حکم اور ہرارشاد کا منشا اور مدّعا بھی …
This gives the feeling, and some early commentators have also given expression to the same, that probably in the beginning the Messenger (peace be upon him) of Allah used to ask of the Angel Gabriel the meaning of a verse or a word or a command of the Quran even in the very midst of the revelation itself. Therefore, the Prophet (peace be upon him) was not only given the instruction that he should listen quietly to revelation when it came down to him, and assured that its each word would be preserved in his memory precisely, and he would be enabled to recite the Quran exactly as it was …
ثم إن علينا بعد ذلك بيان ما خفى عليك منه ، وتوضيح ما أشكل عليك من معانيه .قال الإِمام ابن كثير ما ملخصه : هذا تعليم من الله - تعالى - لنبيه صلى الله عليه وسلم فى كيفية تلقيه الوحى من الملك ، فإنه كان يبادر إلى أخذه ، ويسابق الملك فى قراءته .روى الشيخان وغيرهما عن ابن عباس قال كان النبى صلى الله عليه وسلم يعالج من التنزيل شدة ، فكان يحرك شفتيه - يريد أن يحفظه مخافة أن يتفلت منه شئ ، أو من شدة رغبته فى حفظه - فأنزل الله - تعالى - هذه الآيات .فأنت ترى أن الله - تعالى - قد ضمن لنبيه صلى الله عليه وسلم أن يجمع له القرآن فى صدره وأن يجريه على لسانه ، بدون أى تحريف أو تبديل ، وأن يوضح له ما خفى عليه …
آیت 19{ ثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا بَیَانَہٗ۔ } ”پھر ہمارے ہی ذمے ہے اس کو واضح کردینا بھی۔“ قرآن مجید کی تفسیر سے متعلق یہ بہت اہم وضاحت ہے۔ اس کا سیدھا سادہ مطلب یہ ہے کہ قرآن مجید کے اصل پیغام کی تبیین و تفہیم بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لے رکھی ہے۔ عملی طور پر اس کی ایک صورت تو یہ ہے کہ قرآن حسب ضرورت خود ہی اپنے احکام کی وضاحت بھی کرتا ہے۔ جیسے سورة النساء میں دو احکام کے بارے میں آیا ہے : یَسْتَفْتُوْنَکَ… آیت 127 اور آیت 176 کہ اے نبی ﷺ یہ لوگ آپ سے فلاں مسئلے کی وضاحت چاہتے ہیں ‘ تو انہیں بتائیں کہ اگر انہیں اس بات کی پوری طرح سمجھ نہیں آئی تو اللہ تعالیٰ اس معاملے کی مزید وضاحت کردیتا ہے۔ …
When revelations, wahi, were made to the Prophet Muhammad, he used to make haste to receive them. Here, he has been asked not to do this. It is further stated that he should pay full attention to that part of the Quran which had already been revealed and which had already been addressed to him and should not concern himself with that portion which had not till then been revealed and had not been addressed to him. This shows that the individual should pay the fullest attention only to that portion of the Quran for which he is accountable at that moment. To make a point of seeking out that …
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اترتی تو آپ اس کو لینے میں جلدی فرماتے۔ اس سے آپ کو منع کردیا گیا۔ اس سلسلہ میں مزید فرمایا کہ قرآن کا جو حصہ اتر چکا ہے اور جو تم کو مخاطب بنا رہا ہے، اس پر ساری توجہ صرف کرو، نہ کہ قرآن کے اس بقیہ حصہ پر جو ابھی اترا نہیں اور جس نے ابھی تم کو مخاطب نہیں بنایا۔ اس سے یہ معلوم ہوا کہ جس وقت جس حصۂ قرآن کا ایک شخص مکلف ہے اسی پر اس کو سب سے زیادہ توجہ دینا چاہیے۔ جس حصۂ قرآن کا ایک شخص مکلف ہے اسی پر اس کو سب سے زیادہ توجہ دینا چاہیے۔ جس حصۂ قرآن کا ایک شخص مکلف نہ ہو اس کے پیچھے دوڑنا ’’عجلت‘‘ ہے جو قرآنی حکمت کے سراسر خلاف ہے۔
ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُ (19)، ثمّ إن علينا بيان مراتب عقوبته ، قال القفال : فهذا وجه حسن ليس في العقل ما يدفعه وإن كانت الآثار غير واردة به اه .وأقول : إن كان العقل لا يدفعه فإن الأسلوب العربي ومعاني الألفاظ تنبو عنه .والذي يلوح لي في موقع هذه الآية هنا دون أن تقع فيما سبق نزوله من السور قبل هذه السورة : أن سور القرآن حين كانت قليلة كان النبي صلى الله عليه وسلم لا يخشى تفلّت بعض الآيات عنه فلما كثرت السور فبلغت زهاء ثلاثين حسب ما عَده سعيد بن جبير في ترتيب نزول السور ، صار النبي صلى الله عليه وسلم يخشى أن ينسى بعض آياتها ، فلعله صلى الله عليه وسلم أخذ يحرك لسانه بألفاظ القرآن عند …
لا تحرك -أيها النبي- بالقرآن لسانك حين نزول الوحي؛ لأجل أن تتعجل بحفظه، مخافة أن يتفلَّت منك. إن علينا جَمْعه في صدرك، ثم أن تقرأه بلسانك متى شئت. فإذا قرأه عليك رسولنا جبريل فاستمِعْ لقراءته وأنصت له، ثم اقرأه كما أقرأك إياه، ثم إن علينا توضيح ما أشكل عليك فهمه من معانيه وأحكامه.
عنی اس کے مشکل مقامات کی تشریح اور حلال وحرام کی توضیح یہ بھی ہمارے ذمے ہے اس کا صاف مطلب ہے کہ نبی (صلى الله عليه وسلم) نے قرآن کے مجملات کی توضیح جو تخصیص بیان فرمائی ہے جسے حدیث کہاجاتا ہے یہ بھی اللہ کی طرف سے ہی الہام اور سمجھائی ہوئی باتیں ہیں اس لیے انہیں بھی قرآن کی طرح ماننا ضروری ہے۔
plays offline — the recitation is inside this file
PickthallNay, but ye do love the fleeting Now
Yusuf AliNay, (ye men!) but ye love the fleeting life,
Muhammad Junagarhiنہیں نہیں تم جلدی ملنے والی (دنیا) کی محبت رکھتے ہو.
al-Muyassarليس الأمر كما زعمتم -يا معشر المشركين- أن لا بعث ولا جزاء، بل أنتم قوم تحبون الدنيا وزينتها، وتتركون الآخرة ونعيمها.
the agreed readingNo — rather you love the fleeting thing, the world that is in front of you and passing, the commentaries gloss.
ہرگز نہیں، بلکہ تم جلدی حاصل ہونے والی چیز یعنی دنیا کو پسند کرتے ہو۔ جلالین وضاحت کرتے ہیں کہ کلا یہاں الا کے معنی میں آغازِ کلام ہے، اور العاجلۃ سے مراد دنیا ہے۔
كلا بل تحبون العاجلة. فسر الجلالين كلا بأنه استفتاح بمعنى ألا، والعاجلة هي الدنيا. وذكر السعدي أن هذا الذي أوجب لكم الغفلة والإعراض عن وعظ الله وتذكيره أنكم تحبون العاجلة وتسعون فيما يحصلها.
24 of the 36 commentaries carry this āyah
all 24, in their own words
al-Tabarid.923 · ar · PD
القول في تأويل قوله تعالى: ﴿كَلا بَلْ تُحِبُّونَ الْعَاجِلَةَ (٢٠) وَتَذَرُونَ الآخِرَةَ (٢١) وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَاضِرَةٌ (٢٢) إِلَى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ (٢٣) وَوُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ بَاسِرَةٌ (٢٤) تَظُنُّ أَنْ يُفْعَلَ بِهَا فَاقِرَةٌ (٢٥) ﴾ . يقول تعالى ذكره لعباده المخاطبين بهذا القرآن المؤثرين زينة الحياة الدنيا على الآخرة: ليس الأمر كما تقولون أيها الناس من أنكم لا تبعثون بعد مماتكم، ولا تجازون بأعمالكم، لكن الذي دعاكم إلى قيل ذلك محبتكم الدنيا العاجلة، وإيثاركم شهواتها على آجل الآخرة ونعيمها، فأنتم تومنون بالعاجلة، وتكذّبون بالآجلة. كما:- ⁕ حدثنا بشر، قال: ثنا يزيد، قال: ثنا سعيد، عن قتادة …
الضمير في بِهِ للقرآن، وكان رسول الله ﷺ إذا لقن الوحى نازع جبريل القراءة، ولم يصبر إلى أن يتمها، مسارعة إلى الحفظ وخوفا من أن يتفلت منه، فأمر بأن يستنصت له ملقيا إليه بقلبه وسمعه، حتى يقضى إليه وحيه، ثم يقفيه بالدراسة إلى أن يرسخ فيه. والمعنى: لا تحرّك لسانك بقراءة الوحى ما دام جبريل صلوات الله عليه يقرأ لِتَعْجَلَ بِهِ لتأخذه على عجلة، ولئلا يتفلت منك. ثم علل النهى عن العجلة بقوله إِنَّ عَلَيْنا جَمْعَهُ في صدرك وإثبات قراءته في لسانك فَإِذا قَرَأْناهُ جعل قراءة جبريل قراءته: والقرآن: القراءة فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ فكن مقفيا له فيه ولا تراسله، وطأ من نفسك أنه لا يبقى غير محفوظ، فنحن في ضمان …
لَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ (Move not your tongue concerning to make haste therewith.) meaning, with the Qur'an. This is as Allah says, وَلَا تَعْجَلْ بِالْقُرْآنِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يُقْضَىٰ إِلَيْكَ وَحْيُهُ ۖ وَقُلْ رَبِّ زِدْنِي عِلْمًا (And be not in haste with the Qur'an before its revelation is completed to you, and say: "My Lord! Increase me in knowledge.")(20:114) Then Allah says, إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ (It is for Us to collect it) meaning, 'in your chest.' وَقُرْآنَهُ (and that it be recited.) meaning, 'that you recite it.' فَإِذَا قُرْآنَهُ (And when We have …
حفظ قرآن، تلاوت و تفسیر کا ذمہ دار اللہ تعالیٰ یہاں اللہ عزوجل اپنے نبی ﷺ کو تعلیم دیتا ہے کہ فرشتے سے وحی کس طرح حاصل کریں، آنحضور ﷺ اس کو اخذ کرنے میں بہت جلدی کرتے تھے اور قرأت میں فرشتے کے بالکل ساتھ ساتھ رہتے تھے، پس اللہ عزوجل حکم فرماتا ہے کہ جب فرشتہ وحی لے کر آئے آپ سنتے رہیں، پھر جس ڈر سے آپ ایسا کرتے تھے اسی طرح اس کا واضح کرانا اور تفسیر اور بیان آپ سے کرانے کے ذمہ داری بھی ہم ہی پر ہے، پس پہلی حالت یاد کرانا، دوسری تلاوت کرانا، تیسری تفسیر، مضمون اور توضیح مطلب کرانا تینوں کی کفالت اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لی، جیسے اور جگہ ہے آیت (وَلَا تَعْجَلْ بالْقُرْاٰنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ …
No indeed! (kallā is for commencement, with the sense of alā) Rather you love the transitory [life], this world (both verbs [here and below] may be read in the second or third person plural),
al-Ṣāfī (Fayḍ al-Kāshānī)d.1680 · ar · PD
بل تحبون العاجلة القمي قال الدنيا الحاضرة. (21) وتذرون الآخرة قال تدعون وقرئ بالياء فيهما. (22)
أي: هذا الذي أوجب لكم الغفلة والإعراض عن وعظ الله وتذكيره أنَّكم {تحبُّونَ العاجلةَ}، وتسعون فيما يحصِّلها وفي لذَّاتها وشهواتها، وتؤثرونها على الآخرة، فتذرون العمل لها؛ لأنَّ الدُّنيا نعيمها ولذاتها عاجلة، والإنسان مولعٌ بحبِّ العاجل، والآخرة متأخِّر ما فيها من النعيم المقيم؛ فلذلك غفلتم عنها وتركتُموها كأنَّكم لم تُخلقوا لها وكأنَّ هذه الدار هي دار القرار التي تُبْذَلُ فيها نفائس الأعمار ويُسعى لها آناء الليل والنهار، وبهذا انقلبت عليكم الحقيقة، وحصل من الخسار ما حصل؛ فلو آثرتُم الآخرة على الدُّنيا ونظرتم العواقب نظر البصير العاقل؛ لأنجحتم وربحتم ربحاً لا خسار معه، وفزتم فوزاً لا شقاء …
رگز نہیں !بلکہ تم پسند کرتے ہو دنیا کو (20) اور چھوڑے ہوئے ہو آخرت کو (21)کئی چہرے اس دن ترو تازہ ہوں گے (22) اپنے رب کی طرف دیکھتے ہوں گے (23) اور کئی چہرے اس دن بے رونق ہوں گے (24) وہ یقین کریں گے کہ کیا جائے گا ان سے (معاملہ) کمر توڑ دینے والا (25) [21,20] وہ چیز جو تمھاری غفلت اور اللہ تعالیٰ کے وعظ و تذکیر سے روگردانی کی موجب ہے، یہ ہے کہ تم ﴿ تُحِبُّوۡنَ الۡعَاجِلَةَ﴾ ’’دنیا کو پسند کرتے ہو‘‘ اور تم اس کو حاصل کرنے اور اس کی لذت و شہوات میں کوشاں رہتے ہو، تم آخرت پر اس کو ترجیح دیتے اور آخرت کے لیے عمل کرنا چھوڑ دیتے ہو کیونکہ دنیا کی نعمتیں اور لذتیں جلد مل جاتی ہیں اور انسان جلد مل …
انداز بیان میں جو پہلی بات نمایاں نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ یہاں دنیا کے لئے عاجلہ کا لفظ استعمال کیا ہے ، اس لفظ کے مفہوم میں ایک بات تو یہ ملحوظ ہے کہ یہ دنیا جلدی ختم ہونے والی چیز ہے ۔ اور اصل مقصود یہی بتانا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ لفظ اس لئے بھی لایا ہے کہ اس سے قبل قرآن کے بارے میں جملہ معترضہ میں بھی یہ بات کہی گئی تھی۔ لا تجرک ................ بہ (75:16) د ’ وحی جلدی جلدی یاد کرنے کے لئے اپنی زبان کو حرکت نہ دو “۔ اس دنیا اور اس کے ہر کام میں عجلت دراصل اس دنیا کی خصوصیت ہے۔ اور دنیا میں مفادات کے لئے شتابی اور قرآن کو جلد یاد کرنے کے عجلت دونوں اس دنیا کے رنگ ہیں۔ یہ قرآن کریم کا …
اِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهٗ (Then, it is undertaken by Us to explain it...75:19). In other words, it is Allah's concern to explain the true message of the verses. In fact, the meaning of every single word of the Qur'an will be made plain to the Holy Prophet. He need not be concerned about it. These four verses laid down the injunctions pertaining to Qur'an and its recitation. Now the Surah reverts to its basic theme of Resurrection. It describes the conditions and horrors of the Hereafter. Here a question arises as to the contextual relationship between the four verses and the rest of the Surah …
اں سلسلہ کلام پھر اُسی مضمون کے ساتھ جُڑ جاتا ہے جو بیچ کے جملہ معترضہ سے پہلے چلا آرہا تھا۔ ہر گز نہیں کا مطلب یہ ہے کہ تمہارے انکارِ آخرت کی اصل وجہ یہ نہیں ہے کہ تم خالقِ کائِنات کو قیامت بر پا کرنے اور موت کے بعد دوبارہ زندہ کر دینے سے عاجز سمجھتے ہو، بلکہ اصل وجہ یہ ہے۔
The theme is again resumed from where it was interrupted by the parenthesis. Nay implies: You deny the Hereafter not because you regard the Creator of the universe as helpless to bring about Resurrection and raise the dead, but because of this and this other reason.
ثم عادت السورة الكريمة مرة أخرى إلى الحديث عن يوم القيامة ، وعن أحوال الناس فيه ، وعن حالة الإِنسان فى وقت الاحتضار ، وعن مظاهر قدرته - تعالى - وعن حكمته فى البعث والحساب والجزاء ، فقال - سبحانه - :( كَلاَّ بَلْ تُحِبُّونَ . . . ) . .قوله - سبحانه - ( كَلاَّ بَلْ تُحِبُّونَ العاجلة . وَتَذَرُونَ الآخرة ) بيان لما جبل عليه كثير من الناس ، من إيثارهم منافع الدنيا الزائلة ، على منافع الآخرة الباقية ، وزجر ونهى لهم عن سلوك هذا المسلك ، الذى يدل على قصر النظر ، وضعف التفكير .أى : كلا - أيها الناس - ليس الرشد فى أن تتركوا العمل الصالح الذى ينفعكم يوم القيامة ، وتعكفوا على زينة الحياة الدنيا العاجلة …
كَلَّا بَلْ تُحِبُّونَ الْعَاجِلَةَ (20) رجوع إلى مَهيع الكلام الذي بنيت عليه السورة كما يرجِع المتكلم إلى وَصل كلامه بعد أن قطعه عارض أو سائل ، فكلمة { كلاّ } ردع وإبطال . يجوز أن يكون إبطالاً لما سبق من قوله : { أيحسب الإِنسان أن لن نجمع عظامه إلى قوله : ولو ألقى معاذيره } [ القيامة : 3 15 ] ، فأعيد { كَلاّ } تأكيداً لنظيره ووصلاً للكلام بإعادة آخر كلمة منه .والمعنى : أن مَزَاعِمَهُم باطلة .وقوله : { بل تحبون العاجلة } إضراب إبطالي يُفصِّل ما أجمله الردع ب { كّلا } من إبطال ما قبلها وتكذيبِه ، أي لا معاذير لهم في نفس الأمر ولكنهم أحبوا العاجلة ، أي شهوات الدنيا وتركوا الآخرة ، والكلام مشعر …
كلّا، ليس الأمر كما ادعيتم من استحالة البعث، فأنتم تعلمون أن القادر على خلقكم ابتداءً لا يعجز عن إحيائكم بعد موتكم، لكن سبب تكذيبكم بالبعث هو حبكم للحياة الدنيا سريعة الانقضاء.
Nay, the matter is not as you claimed about the impossibility of resurrection. You know that the One Who was able to create you the first time is not unable to bring you back to life after you die. However, the reason for your denial of resurrection, is your love for the fleeting life of the world.
(Nay) truly, (but ye do love the fleeting Now) working for the life of the world
No commentary keyed to this āyah in: Ahsan al-Bayan (Urdu), Bayan ul Quran (Urdu), Hilali & Khan, notes (English), Jawāmiʿ al-jāmiʿ (al-Ṭabrisī), Majmaʿ al-bayān (al-Ṭabrisī), Nūr al-thaqalayn (al-Ḥuwayzī), Tafsir-e-Usmani (Urdu), Tafsīr al-Qummī, Tazkir ul Quran (Urdu), Tazkirul Quran (English), al-Mīzān (Ṭabāṭabāʾī), al-Tibyān (al-Ṭūsī).
the words of this āyah — root, frequency, family
كَلّا
occurs 33 times
بَل
occurs 127 timesamong the commonest 300 words
أَحْبَبْ
occurs 64 timesroot حبب occurs 95among the commonest 300 words
૨૦. ના ના, (સાચી વાત એ છે કે) તમે ઝડપથી મળવાવાળી (દુનિયા) થી પ્રેમ કરો છો.
தமிழ் Abdulhamid Baqawi · v1.0.1
20. எனினும் (மனிதர்களே!) நீங்கள் (அவசரமான) உலக வாழ்க்கையைத்தான் விரும்புகிறீர்கள்.
தமிழ் Abridged Version · v1.0.2
அவ்வாறல்ல, (-மறுமையில் நீங்கள் எழுப்பப்பட மாட்டீர்கள், உங்கள் செயல்களுக்கு உங்களுக்கு கேள்வி கணக்கு இல்லை என்று நீங்கள் கூறுவது போல் அல்ல உண்மை நிலவரம்.) மாறாக, நீங்கள் (அவசரமான) உலக வாழ்க்கையை நேசிக்கிறீர்கள்.
தமிழ் Omar Sharif · v1.0.3
அவ்வாறல்ல! (-மறுமையில் நீங்கள் எழுப்பப்பட மாட்டீர்கள், உங்கள் செயல்களுக்கு உங்களுக்கு கேள்வி கணக்கு இல்லை என்று நீங்கள் கூறுவது போல் அல்ல உண்மை நிலவரம்.) மாறாக, நீங்கள் (அவசரமான) உலக வாழ்க்கையை விரும்புகிறீர்கள்.
తెలుగు Abdurrahim ibn Muhammad · v1.0.6
అలా కాదు! వాస్తవానికి మీరు అనిశ్చితమైన (ఇహలోక జీవితం పట్ల) వ్యామోహం పెంచుకుంటున్నారు;
ಕನ್ನಡ Hamza Butur · v1.0.3
ಇಲ್ಲ, ನೀವು ಇಹಲೋಕವನ್ನು ಪ್ರೀತಿಸುತ್ತೀರಿ.
മലയാളം Abdul Hamid Haidar and Kunhi Muhammad · v1.0.3
അല്ല, നിങ്ങള് ക്ഷണികമായ ഈ ജീവിതത്തെ ഇഷ്ടപ്പെടുന്നു.
plays offline — the recitation is inside this file
PickthallAnd neglect the Hereafter.
Yusuf AliAnd leave alone the Hereafter.
Muhammad Junagarhiاور آخرت کو چھوڑ بیٹھے ہو.[1]
al-Muyassarليس الأمر كما زعمتم -يا معشر المشركين- أن لا بعث ولا جزاء، بل أنتم قوم تحبون الدنيا وزينتها، وتتركون الآخرة ونعيمها.
the agreed readingand leave the Hereafter. The commentaries agree the pair is the whole diagnosis: what is at hand is loved, and what is coming is not worked for.
اور تم آخرت کو چھوڑ دیتے ہو۔ بیان القرآن وضاحت کرتے ہیں کہ یہاں خطاب کفار کی طرف ہے، یعنی تمہارا اصل مرض یہ ہے کہ تم حبِ عاجلہ میں مبتلا ہو، دنیا کی زندگی اور مال و اسباب سے محبت کرتے ہو۔
وتذرون الآخرة. جاء في تفسير مقباس أن الجمهور قرأ تحبون وتذرون بالتاء الفوقية على الالتفات من الغيبة إلى الخطاب في موعظة المشركين، وقرأه ابن كثير وابن عامر وأبو عمرو ويعقوب بالياء التحتية.
No Shīʿī edition could be anchored to this āyah by the alignment; the commentary exists in the books, the method could not point at it.
25 of the 36 commentaries carry this āyah
all 25, in their own words
al-Tabarid.923 · ar · PD
القول في تأويل قوله تعالى: ﴿كَلا بَلْ تُحِبُّونَ الْعَاجِلَةَ (٢٠) وَتَذَرُونَ الآخِرَةَ (٢١) وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَاضِرَةٌ (٢٢) إِلَى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ (٢٣) وَوُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ بَاسِرَةٌ (٢٤) تَظُنُّ أَنْ يُفْعَلَ بِهَا فَاقِرَةٌ (٢٥) ﴾ . يقول تعالى ذكره لعباده المخاطبين بهذا القرآن المؤثرين زينة الحياة الدنيا على الآخرة: ليس الأمر كما تقولون أيها الناس من أنكم لا تبعثون بعد مماتكم، ولا تجازون بأعمالكم، لكن الذي دعاكم إلى قيل ذلك محبتكم الدنيا العاجلة، وإيثاركم شهواتها على آجل الآخرة ونعيمها، فأنتم تومنون بالعاجلة، وتكذّبون بالآجلة. كما:- ⁕ حدثنا بشر، قال: ثنا يزيد، قال: ثنا سعيد، عن قتادة …
الضمير في بِهِ للقرآن، وكان رسول الله ﷺ إذا لقن الوحى نازع جبريل القراءة، ولم يصبر إلى أن يتمها، مسارعة إلى الحفظ وخوفا من أن يتفلت منه، فأمر بأن يستنصت له ملقيا إليه بقلبه وسمعه، حتى يقضى إليه وحيه، ثم يقفيه بالدراسة إلى أن يرسخ فيه. والمعنى: لا تحرّك لسانك بقراءة الوحى ما دام جبريل صلوات الله عليه يقرأ لِتَعْجَلَ بِهِ لتأخذه على عجلة، ولئلا يتفلت منك. ثم علل النهى عن العجلة بقوله إِنَّ عَلَيْنا جَمْعَهُ في صدرك وإثبات قراءته في لسانك فَإِذا قَرَأْناهُ جعل قراءة جبريل قراءته: والقرآن: القراءة فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ فكن مقفيا له فيه ولا تراسله، وطأ من نفسك أنه لا يبقى غير محفوظ، فنحن في ضمان …
لَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ (Move not your tongue concerning to make haste therewith.) meaning, with the Qur'an. This is as Allah says, وَلَا تَعْجَلْ بِالْقُرْآنِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يُقْضَىٰ إِلَيْكَ وَحْيُهُ ۖ وَقُلْ رَبِّ زِدْنِي عِلْمًا (And be not in haste with the Qur'an before its revelation is completed to you, and say: "My Lord! Increase me in knowledge.")(20:114) Then Allah says, إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ (It is for Us to collect it) meaning, 'in your chest.' وَقُرْآنَهُ (and that it be recited.) meaning, 'that you recite it.' فَإِذَا قُرْآنَهُ (And when We have …
حفظ قرآن، تلاوت و تفسیر کا ذمہ دار اللہ تعالیٰ یہاں اللہ عزوجل اپنے نبی ﷺ کو تعلیم دیتا ہے کہ فرشتے سے وحی کس طرح حاصل کریں، آنحضور ﷺ اس کو اخذ کرنے میں بہت جلدی کرتے تھے اور قرأت میں فرشتے کے بالکل ساتھ ساتھ رہتے تھے، پس اللہ عزوجل حکم فرماتا ہے کہ جب فرشتہ وحی لے کر آئے آپ سنتے رہیں، پھر جس ڈر سے آپ ایسا کرتے تھے اسی طرح اس کا واضح کرانا اور تفسیر اور بیان آپ سے کرانے کے ذمہ داری بھی ہم ہی پر ہے، پس پہلی حالت یاد کرانا، دوسری تلاوت کرانا، تیسری تفسیر، مضمون اور توضیح مطلب کرانا تینوں کی کفالت اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لی، جیسے اور جگہ ہے آیت (وَلَا تَعْجَلْ بالْقُرْاٰنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ …
دنیا میں انہماک:یعنی تمہار ا قیامت وغیرہ سے انکار کرنا ہر گز کسی دلیل صحیح پر مبنی نہیں، بلکہ دنیا میں انہماک اس کا سبب ہے۔ دنیا چونکہ نقد اور جلد ملنے والی چیز ہے اسی کو تم چاہتے ہو اور آخرت کو ادھار سمجھ کر چھوڑتے ہو کہ اس کے ملنے میں ابھی دیر ہے۔ انسان کی طبیعت میں جلد بازی داخل ہے خُلِقَ الۡاِنۡسَانُ مِنۡ عَجَلٍ (انبیاء۔۳۷) فرق اتنا ہے کہ نیک لوگ پسندیدہ چیزوں کے حاصل کرنے میں جلدی کرتے ہیں جس کی ایک مثال ابھی لَا تُحَرِّکۡ بِہٖ لِسَانَکَ لِتَعۡجَلَ بِہٖ میں گزری اور بدتمیز آدمی اس چیز کو پسند کرتے ہیں جو جلد ہاتھ آجائے خواہ آخر کار اس کا نتیجہ ہلاکت ہی کیوں نہ ہو۔
أي: هذا الذي أوجب لكم الغفلة والإعراض عن وعظ الله وتذكيره أنَّكم {تحبُّونَ العاجلةَ}، وتسعون فيما يحصِّلها وفي لذَّاتها وشهواتها، وتؤثرونها على الآخرة، فتذرون العمل لها؛ لأنَّ الدُّنيا نعيمها ولذاتها عاجلة، والإنسان مولعٌ بحبِّ العاجل، والآخرة متأخِّر ما فيها من النعيم المقيم؛ فلذلك غفلتم عنها وتركتُموها كأنَّكم لم تُخلقوا لها وكأنَّ هذه الدار هي دار القرار التي تُبْذَلُ فيها نفائس الأعمار ويُسعى لها آناء الليل والنهار، وبهذا انقلبت عليكم الحقيقة، وحصل من الخسار ما حصل؛ فلو آثرتُم الآخرة على الدُّنيا ونظرتم العواقب نظر البصير العاقل؛ لأنجحتم وربحتم ربحاً لا خسار معه، وفزتم فوزاً لا شقاء …
رگز نہیں !بلکہ تم پسند کرتے ہو دنیا کو (20) اور چھوڑے ہوئے ہو آخرت کو (21)کئی چہرے اس دن ترو تازہ ہوں گے (22) اپنے رب کی طرف دیکھتے ہوں گے (23) اور کئی چہرے اس دن بے رونق ہوں گے (24) وہ یقین کریں گے کہ کیا جائے گا ان سے (معاملہ) کمر توڑ دینے والا (25) [21,20] وہ چیز جو تمھاری غفلت اور اللہ تعالیٰ کے وعظ و تذکیر سے روگردانی کی موجب ہے، یہ ہے کہ تم ﴿ تُحِبُّوۡنَ الۡعَاجِلَةَ﴾ ’’دنیا کو پسند کرتے ہو‘‘ اور تم اس کو حاصل کرنے اور اس کی لذت و شہوات میں کوشاں رہتے ہو، تم آخرت پر اس کو ترجیح دیتے اور آخرت کے لیے عمل کرنا چھوڑ دیتے ہو کیونکہ دنیا کی نعمتیں اور لذتیں جلد مل جاتی ہیں اور انسان جلد مل …
اِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهٗ (Then, it is undertaken by Us to explain it...75:19). In other words, it is Allah's concern to explain the true message of the verses. In fact, the meaning of every single word of the Qur'an will be made plain to the Holy Prophet. He need not be concerned about it. These four verses laid down the injunctions pertaining to Qur'an and its recitation. Now the Surah reverts to its basic theme of Resurrection. It describes the conditions and horrors of the Hereafter. Here a question arises as to the contextual relationship between the four verses and the rest of the Surah …
وہ انکار آخرت کی دوسری وجہ ہے پہلی وجہ آیت نمبر 5 میں بیان کی گئی تھی کہ انسان چونکہ فجور کی کُھلی چھوٹ چاہتا ہے اور ان اخلاقی پابندیو سے بچنا چاہتا ہے جو آخرت کو ماننے سے لازماً اس پر عائد ہوتی ہے اس لیےدراصل خواہشات نفس اسے انکار آخرت پر اُبھارتی ہے اور پھر وہ عقلی دلیلیں بگاڑتا ہے تا کہ اپنے اس انکار کو معقول ثابت کرے اب دوسری وجہ یہ بیان کی جارہی ہے منکرینِ آخرت چونکہ تنگ نطر اور کوتاہ بیں ہیں اس لیے اُن کی نگاہ میں ساری اہمیت انہیں نتاَئج کی ہیں جو اسی دنیا میں ظاہر ہوتے ہیں اور اُن نتائج کو وہ کوئی اہمیت نہیں دیتے جو آخرت میں ظاہر ہونے والے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ جو فائدہ یا زلت یا …
This is the second reason for denying the Hereafter, the first being the one mentioned in verse 5 above, saying: Since man wants to avoid the moral restrictions which are inevitably imposed by the belief in the Hereafter, his selfish motives, in fact, urge him to deny the Hereafter, and then he tries to present arguments in order to rationalize his denial. Now, the second reason being presented is that the deniers of the Hereafter are narrow-minded and shortsighted; for them only those results are all important, which appear in this world, and they do not give any importance to those effects …
ثم عادت السورة الكريمة مرة أخرى إلى الحديث عن يوم القيامة ، وعن أحوال الناس فيه ، وعن حالة الإِنسان فى وقت الاحتضار ، وعن مظاهر قدرته - تعالى - وعن حكمته فى البعث والحساب والجزاء ، فقال - سبحانه - :( كَلاَّ بَلْ تُحِبُّونَ . . . ) . .قوله - سبحانه - ( كَلاَّ بَلْ تُحِبُّونَ العاجلة . وَتَذَرُونَ الآخرة ) بيان لما جبل عليه كثير من الناس ، من إيثارهم منافع الدنيا الزائلة ، على منافع الآخرة الباقية ، وزجر ونهى لهم عن سلوك هذا المسلك ، الذى يدل على قصر النظر ، وضعف التفكير .أى : كلا - أيها الناس - ليس الرشد فى أن تتركوا العمل الصالح الذى ينفعكم يوم القيامة ، وتعكفوا على زينة الحياة الدنيا العاجلة …
آیت 21{ وَتَذَرُوْنَ الْاٰخِرَۃَ۔ } ”اور تم آخرت کو چھوڑ دیتے ہو۔“ یہاں خطاب کا رخ کفار کی طرف ہے۔ یعنی تمہارا اصل مرض ہی یہ ہے کہ تم لوگ ”حب ِعاجلہ“ میں مبتلاہو ‘ اپنی دنیا کی زندگی اور دنیا کے مال و اسباب سے محبت کرتے ہو اور اس کے مقابلے میں آخرت کو بالکل ہی نظر انداز کیے ہوئے ہو۔
وَتَذَرُونَ الْآَخِرَةَ (21)وقرأ الجمهور { تحبون } و { تذرون } بتاء فوقية على الالتفات من الغيبة إلى الخطاب في موعظة المشركين مُواجَهة بالتفريع لأن ذلك أبلغ فيه . وقرأه ابن كثير وابن عامر وأبو عمرو ويعقوب بياء تحتية على نسق ضمائر الغيبة السابقة ، والضمير عائد إلى { الإنسان } في قوله : { بل الإِنسان على نفسه بصيرة } [ القيامة : 14 ] جاء ضمير جمع لأن الإِنسان مراد به الناس المشركون ، وفي قوله : { بل تحبون } ما يرشد إلى تحقيق معنى الكسب الذي وُفق إلى بيانه الشيخ أبو الحسن الأشعري وهو الميل والمحبة للفعل أو الترك .
And your disregard for the life of the afterlife, the path of which is to carry out the acts of obedience that Allah has instructed you to and to leave the unlawful acts that He has prohibited you from.
Và các ngươi quên mất (cuộc sống vĩnh hằng của) Đời Sau.
Türkçe Dr. Ali Ozek and others · v1.0.0
ahireti bırakıyorsunuz.
Türkçe Rowwad Translation Center · v1.0.4
Ahireti ise bırakıyorsunuz.
Türkçe Shaaban British · v1.1.0
Ahireti bırakıyorsunuz.
Yorùbá Abu Rahimah Mikael · v1.0.9
Ẹ sì ń gbé ọ̀run jù sílẹ̀.
Кыргызча Shamsuddin Hakimov · v1.0.2
жана (түбөлүк) Акыретти таштап койосуңар.[1]
Македонски a group of Macedonian scholars · v1.0.1
21. а за оној другиот не се грижите.
Српски Rowwad Translation Center · v1.0.4
а онај други свет запостављате.
Тоҷикӣ Rowwad Translation Center · v1.0.2
Ва охиратро раҳо мекунед
ئۇيغۇرچە Muhammad Saleh · v1.0.2
ئاخىرەتكە كۆڭۈل بۆلمەيسىلەر(21).
اردو Muhammad Junagarhi · v1.1.3
اور آخرت کو چھوڑ بیٹھے ہو.[1]
فارسی Rowwad Translation Center · v1.1.3
و آخرت را رها میکنید.
پښتو Rowwad Translation Center · v1.0.1
او آخرت پرېږدئ.
ߒߞߏ Baba Mamadi · v1.0.5
ߞߊ߬ ߞߐߟߊ߫ ߕߏ߫ ߦߋ߲߬ ( ߣߊߟߌ߬ߡߎ߲߫ ߛߎ߬ߟߊ߫ ߘߌ߫ )
हिन्दी Azizul Haq Al-Omari · v1.1.5
और बाद में आने वाली (आख़िरत) को छोड़ देते हो।
অসমীয়া Rafiqul Islam Habibur-Rahman · v1.0.5
আৰু তোমালোকে আখিৰাতক অৱহেলা কৰা।
ਪੰਜਾਬੀ Arif Haleem · v1.0.1
ਅਤੇ ਆਖ਼ਿਰਤ (ਦੀ ਚਿੰਤਾ) ਨੂੰ ਛੱਡ ਦਿੰਦੇ ਹੋ।
ગુજરાતી Rabella Al-Omari · v1.1.3
૨૧. અને આખિરતને છોડી બેઠા છો.
தமிழ் Abdulhamid Baqawi · v1.0.1
21. (ஆதலால்தான், இம்மையை விரும்பி) மறுமையை நீங்கள் விட்டு விடுகிறீர்கள்.
தமிழ் Abridged Version · v1.0.2
மறுமையை விட்டு விடுகிறீர்கள்.
தமிழ் Omar Sharif · v1.0.3
இன்னும் மறுமையை விட்டுவிடுகிறீர்கள்.
తెలుగు Abdurrahim ibn Muhammad · v1.0.6
మరియు పరలోక జీవితాన్ని వదలి పెడుతున్నారు![1]
ಕನ್ನಡ Hamza Butur · v1.0.3
ಪರಲೋಕವನ್ನು ತೊರೆಯುತ್ತೀರಿ.
മലയാളം Abdul Hamid Haidar and Kunhi Muhammad · v1.0.3
പരലോകത്തെ നിങ്ങള് വിട്ടേക്കുകയും ചെയ്യുന്നു.
සිංහල Rowwad Translation Center · v1.0.6
තවද නුඹලා මතු ලොව අත හැර දමන්නෙහු ය.
ไทย Rowwad Translation Center · v1.0.1
และพวกเจ้าจะทิ้งปรโลก
አማርኛ Africa Academy · v1.0.1
21. የመጨረሻይቱን ዓለም (ግን) ትተዋላችሁ።
አማርኛ Muhammad Sadiq · v1.1.2
መጨረሻይቱንም (ዓለም) ትተዋላችሁ፡፡ (አትዘጋጁላትም)፡፡
ភាសាខ្មែរ Islamic Community Development Association · v1.0.2
ហើយពួកអ្នកបោះបង់ថ្ងៃបរលោក។
ភាសាខ្មែរ Rowwad Translation Center · v1.0.4
ហើយបោះបង់ថ្ងៃបរលោក។
中文 Muhammad Makeen · v1.0.2
而不顾后世的生活。
中文 Muhammad Suleiman · v1.0.8
而不顾后世的生活。
日本語 Saeed Sato · v1.0.13
来世(のための行い)を放ったらかしにしている。[1]
Al-Qiyamah 75 : 22
وُجُوهٌيَوْمَئِذٍنَّاضِرَةٌ
wujuwhun yawma'idhin naadirahun
plays offline — the recitation is inside this file
PickthallThat day will faces be resplendent,
Yusuf AliSome faces, that Day, will beam (in brightness and beauty);-
Muhammad Junagarhiاس روز بہت سے چہرے تروتازه اور بارونق ہوں گے.
al-Muyassarوجوه أهل السعادة يوم القيامة مشرقة حسنة ناعمة، ترى خالقها ومالك أمرها، فتتمتع بذلك.
the agreed readingFaces that Day are radiant — bright and at ease, the commentaries gloss, and the brightness is the mark of what they are given.
اس دن چہرے تروتازہ ہوں گے۔ قرطبی وضاحت کرتے ہیں کہ ناضرۃ نضرۃ سے ہے جس کا مطلب حسن و نعمت ہے، یعنی مومنوں کے چہرے چمکدار، خوبصورت اور پرسکون ہوں گے۔ رازی لیث کا قول نقل کرتے ہیں کہ نضرۃ کا مطلب نعمت ہے اور ناضر کا مطلب پرسکون ہے۔
وجوه يومئذ ناضرة. ذكر القرطبي أن الأول من النضرة التي هي الحسن والنعمة، أي وجوه المؤمنين مشرقة حسنة ناعمة. وقال الرازي عن الليث: النضرة النعمة، والناضر الناعم، والنضر الحسن من كل شيء.
No Shīʿī edition could be anchored to this āyah by the alignment; the commentary exists in the books, the method could not point at it.
24 of the 36 commentaries carry this āyah
all 24, in their own words
al-Tabarid.923 · ar · PD
القول في تأويل قوله تعالى: ﴿كَلا بَلْ تُحِبُّونَ الْعَاجِلَةَ (٢٠) وَتَذَرُونَ الآخِرَةَ (٢١) وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَاضِرَةٌ (٢٢) إِلَى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ (٢٣) وَوُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ بَاسِرَةٌ (٢٤) تَظُنُّ أَنْ يُفْعَلَ بِهَا فَاقِرَةٌ (٢٥) ﴾ . يقول تعالى ذكره لعباده المخاطبين بهذا القرآن المؤثرين زينة الحياة الدنيا على الآخرة: ليس الأمر كما تقولون أيها الناس من أنكم لا تبعثون بعد مماتكم، ولا تجازون بأعمالكم، لكن الذي دعاكم إلى قيل ذلك محبتكم الدنيا العاجلة، وإيثاركم شهواتها على آجل الآخرة ونعيمها، فأنتم تومنون بالعاجلة، وتكذّبون بالآجلة. كما:- ⁕ حدثنا بشر، قال: ثنا يزيد، قال: ثنا سعيد، عن قتادة …
الضمير في بِهِ للقرآن، وكان رسول الله ﷺ إذا لقن الوحى نازع جبريل القراءة، ولم يصبر إلى أن يتمها، مسارعة إلى الحفظ وخوفا من أن يتفلت منه، فأمر بأن يستنصت له ملقيا إليه بقلبه وسمعه، حتى يقضى إليه وحيه، ثم يقفيه بالدراسة إلى أن يرسخ فيه. والمعنى: لا تحرّك لسانك بقراءة الوحى ما دام جبريل صلوات الله عليه يقرأ لِتَعْجَلَ بِهِ لتأخذه على عجلة، ولئلا يتفلت منك. ثم علل النهى عن العجلة بقوله إِنَّ عَلَيْنا جَمْعَهُ في صدرك وإثبات قراءته في لسانك فَإِذا قَرَأْناهُ جعل قراءة جبريل قراءته: والقرآن: القراءة فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ فكن مقفيا له فيه ولا تراسله، وطأ من نفسك أنه لا يبقى غير محفوظ، فنحن في ضمان …
لَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ (Move not your tongue concerning to make haste therewith.) meaning, with the Qur'an. This is as Allah says, وَلَا تَعْجَلْ بِالْقُرْآنِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يُقْضَىٰ إِلَيْكَ وَحْيُهُ ۖ وَقُلْ رَبِّ زِدْنِي عِلْمًا (And be not in haste with the Qur'an before its revelation is completed to you, and say: "My Lord! Increase me in knowledge.")(20:114) Then Allah says, إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ (It is for Us to collect it) meaning, 'in your chest.' وَقُرْآنَهُ (and that it be recited.) meaning, 'that you recite it.' فَإِذَا قُرْآنَهُ (And when We have …
لہ کی پکڑ آئی، ابھی ہمیں جہنم میں جانے کا حکم ہوا، جیسے اور جگہ ہے آیت (يَّوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوْهٌ وَّتَسْوَدُّ وُجُوْهٌ ۚ فَاَمَّا الَّذِيْنَ اسْوَدَّتْ وُجُوْھُھُمْ ۣاَكَفَرْتُمْ بَعْدَ اِيْمَانِكُمْ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ01006) 3۔ آل عمران :106) یعنی اس دن بعض چہرے گورے چٹے خوبصورت اور حسین ہوں گے اور بعض کالے منہ والے ہوں گے اور جگہ سے آیت (وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ خَاشِعَةٌ ۙ) 88۔ الغاشية :2) ، یعنی قیامت کے دن بہت سے چہرے خوف زدہ دہشت اور ڈر والے بد رونق اور ذلیل ہوں گے جو عمل کرتے رہے تکلیف اٹھاتے رہے لیکن آج بھڑکتی ہوئی آگ میں جا گھسے پھر فرمایا آیت (وُجُوْهٌ …
ناضرةٌ}؛ أي: حسنة بهيَّة لها رونقٌ ونورٌ مما هم فيه من نعيم القلوب وبهجة النفوس ولذَّة الأرواح، {إلى ربِّها ناظرةٌ}؛ أي: ينظرون إلى ربِّهم على حسب مراتبهم؛ منهم مَنْ ينظره كلَّ يوم بكرةً وعشيًّا، ومنهم من ينظره كلَّ جمعة مرةً واحدةً، فيتمتَّعون بالنَّظر إلى وجهه الكريم وجماله الباهر الذي ليس كمثله شيءٌ؛ فإذا رأوه؛ نسوا ما هم فيه من النعيم، وحصل لهم من اللَّذَّة والسرور ما لا يمكن التعبير عنه، ونضرت وجوهُهم، فازدادوا جمالاً إلى جمالهم، فنسأل الله الكريم أن يجعَلنَا معهم. {24 ـ 25} وقال في المؤثرين العاجلة على الآجلة، [و]{وجوهٌ يومئذٍ باسرةٌ}؛ أي: معبسةٌ كدرةٌ خاشعةٌ ذليلةٌ، {تظنُّ أن يُفۡعَلَ …
رگز نہیں !بلکہ تم پسند کرتے ہو دنیا کو (20) اور چھوڑے ہوئے ہو آخرت کو (21)کئی چہرے اس دن ترو تازہ ہوں گے (22) اپنے رب کی طرف دیکھتے ہوں گے (23) اور کئی چہرے اس دن بے رونق ہوں گے (24) وہ یقین کریں گے کہ کیا جائے گا ان سے (معاملہ) کمر توڑ دینے والا (25) [21,20] وہ چیز جو تمھاری غفلت اور اللہ تعالیٰ کے وعظ و تذکیر سے روگردانی کی موجب ہے، یہ ہے کہ تم ﴿ تُحِبُّوۡنَ الۡعَاجِلَةَ﴾ ’’دنیا کو پسند کرتے ہو‘‘ اور تم اس کو حاصل کرنے اور اس کی لذت و شہوات میں کوشاں رہتے ہو، تم آخرت پر اس کو ترجیح دیتے اور آخرت کے لیے عمل کرنا چھوڑ دیتے ہو کیونکہ دنیا کی نعمتیں اور لذتیں جلد مل جاتی ہیں اور انسان جلد مل …
اب قرآن کریم کا پیش کردہ مصور منظر جو قرآن کا منفرد اسلوب ہے۔ وجوہ ........................ ناضرة (22) الی ربھا ناظرة (75:23) ” اس روز کچھ چہرے تروہ تازہ ہوں گے۔ اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے “ یہ آیت ایک ایسی حالت کی طرف ایک جھلک کی شکل میں تیز اشارہ کررہی ہے کہ الفاظ کے اندر کسی انسان کے لئے ایسا اشارہ ممکن نہیں ہے۔ نہ انسان اس حالت کا حقیقی ادراک ہی کرسکتا ہے۔ کامیاب اور نیک بخت لوگوں کی حالت کی یہ ایسی تصویر ہے جس کی حالاتی تصویر کشی ممکن ہی نہیں ہے بلکہ اس حالت کے مقابلے میں جنت کی بھی کوئی حقیقت نہیں رہی۔ حالانکہ وہ نعمتوں کے انواع و اقسام سے بھری ہوئی ہے۔ یہ حالت کہ یہ چہرے تروتازہ …
وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ نَّاضِرَةٌ اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ (Many faces, that day, will be glowing, looking towards their Lord,...75:23). The word nadirah means 'fresh'. In other words, many faces that day will be happy, fresh and radiant. The words 'looking towards their Lord' mean 'gazing at their Lord'. This proves that the inmates of Paradise will see Allah in the Hereafter with physical eyes. The scholars of Ahlus-sunnah (those following the classic way of interpreting the religion) are unanimous on this issue. The Mu'tazilites and the Kharijites deny the possibility of seeing Allah, even …
عنی خوشی سے دمک رہے ہونگے،کیونکہ جس آخرت پر وہ ایمان لائے تھے وہ ٹھیک اُن کے یقین کے مطابق سامنے موجودگی، اور جس آخرت پر ایمان لا کر انہوں نے دنیا کے ناجائز فائدے چھوڑے اور بر حق نقصان بر داشت کیے تھے اس کو فی الواقع اپنی آنکھوں کے سامنے بر پا ہوتے دیکھ کر انہیں یہ اطمینان حاصل ہو جائے گا کہ انہوں نے اپنے رویّہ زندگی کے متعلق بالکل صحیح فیصلہ کیا تھا، اب وہ وقت آگیا ہے جب وہ اس کا بہترین انجام دیکھیں گے۔
Some faces shall be radiant; will be beaming with joy and delight, for the Hereafter which they had believed in, will be before them precisely accordingly to their belief. Thus, when they see the Hereafter for the sake of which they had given up the unlawful benefits of the world and suffered the lawful losses, actually established before their very eyes, they will have the satisfaction that they had made the correct decision about their way of life, and the time had come when they would enjoy its best and plentiful fruits.
آیت 22{ وُجُوْہٌ یَّوْمَئِذٍ نَّاضِرَۃٌ۔ } ”بہت سے چہرے اس دن تروتازہ ہوں گے۔“ ان آیات میں اب میدانِ محشر میں موجود لوگوں کی کیفیت کا نقشہ دکھایا گیا ہے۔ اس نقشے کو دیکھنے سے یوں لگتا ہے کہ ہر انسان کو اپنے اعمال کے مطابق اپنے نتیجے کا پہلے سے ہی علم ہوگا۔ جیسے سکول میں اعلانِ نتائج کے موقع پر کچھ بچے پہلے سے مطمئن اور کچھ پہلے سے پریشان ہوتے ہیں۔ ظاہر ہے ہر بچہ اپنے بارے میں خوب جانتا ہے کہ اس نے امتحان میں کیا کچھ کیا تھا۔
وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَاضِرَةٌ (22) المراد ب { يومئذٍ } يوم القيامة الذي تكرر ذكره بمثل هذا ابتداءً من قوله : { يقول الإِنسان يومئذٍ أين المفر } [ القيامة : 10 ] ، وأعيد مرتين .والجملة المقدرة المضاف إليها ( إذْ ) ، والمعوَّضُ عنها التنوين تقديرها : يوم إذ بَرَق البصر .وقد حصل من هذا تخلص إلى إجمال حال الناس يوم القيامة بين أهل سعادة وأهل شقاوة .فالوجوه الناضرة وجوه أهل السعادة والوجوه الباسرة وجوه أهل الشقاء ، وذلك بين من كلتا الجملتين .وقد علم الناس المعنيَّ بالفريقين مما سبق نزوله من القرآن كقوله في سورة عبس ( 40 42 ) : { وَوُجوه يومئذٍ عليها غبرة ترهقها قترة أولئك هم الكفرة الفجرة } فعُلم …
plays offline — the recitation is inside this file
PickthallLooking toward their Lord;
Yusuf AliLooking towards their Lord;
Muhammad Junagarhiاپنے رب کی طرف دیکھتے ہوں گے.[1]
al-Muyassarوجوه أهل السعادة يوم القيامة مشرقة حسنة ناعمة، ترى خالقها ومالك أمرها، فتتمتع بذلك.
the agreed readinglooking towards their Lord — the commentaries stop here rather than pass over it, and the sūrah sets these faces directly against the ones described next.
اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے۔ تفسیر مقباس کے مطابق ناظرۃ کا ظاہری لفظ نظر سے ہے، یعنی اپنی آنکھ سے دیکھنا، اس میں ان چہروں کی عزت افزائی ہے کہ وہ اللہ کی جانب ایک خاص نظر سے دیکھیں گے جس میں کوئی کم درجہ والا شریک نہ ہوگا۔
إلى ربها ناظرة. جاء في تفسير مقباس أن ظاهر لفظ ناظرة أنه من نظر بمعنى عاين ببصره، إعلانا بتشريف تلك الوجوه أنها تنظر إلى جانب الله تعالى نظرا خاصا لا يشاركها فيه من يكون دون رتبتها.
26 of the 36 commentaries carry this āyah
all 26, in their own words
al-Tabarid.923 · ar · PD
القول في تأويل قوله تعالى: ﴿كَلا بَلْ تُحِبُّونَ الْعَاجِلَةَ (٢٠) وَتَذَرُونَ الآخِرَةَ (٢١) وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَاضِرَةٌ (٢٢) إِلَى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ (٢٣) وَوُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ بَاسِرَةٌ (٢٤) تَظُنُّ أَنْ يُفْعَلَ بِهَا فَاقِرَةٌ (٢٥) ﴾ . يقول تعالى ذكره لعباده المخاطبين بهذا القرآن المؤثرين زينة الحياة الدنيا على الآخرة: ليس الأمر كما تقولون أيها الناس من أنكم لا تبعثون بعد مماتكم، ولا تجازون بأعمالكم، لكن الذي دعاكم إلى قيل ذلك محبتكم الدنيا العاجلة، وإيثاركم شهواتها على آجل الآخرة ونعيمها، فأنتم تومنون بالعاجلة، وتكذّبون بالآجلة. كما:- ⁕ حدثنا بشر، قال: ثنا يزيد، قال: ثنا سعيد، عن قتادة …
نه لو كان المراد الرؤية لما انحصرت بتقديم المفعول، لأنها حينئذ غير منحصرة على تقدير رؤية الله تعالى، وما يعلم أن المتمتع برؤية جمال وجه الله تعالى لا يصرف عنه طرفه، ولا يؤثر عليه غيره، ولا يعدل به عز وعلا منظورا سواه، وحقيق له أن يحصر رؤيته إلى من ليس كمثله شيء، ونحن نشاهد العاشق في الدنيا إذا أظفرته برؤية محبوبه لم يصرف عنه لحظه، ولم يؤثر عليه، فكيف بالمحب لله عز وجل إذا أحظاه النظر إلى وجهه الكريم، نسأل الله العظيم أن لا يصرف عنا وجهه، وأن يعيذنا عن مزالق البدعة ومزلات الشبهة، وهو حسبنا ونعم الوكيل.]] . والناضرة: من نضرة النعيم إِلى رَبِّها ناظِرَةٌ تنظر إلى ربها خاصة لا تنظر إلى غيره، وهذا …
لَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ (Move not your tongue concerning to make haste therewith.) meaning, with the Qur'an. This is as Allah says, وَلَا تَعْجَلْ بِالْقُرْآنِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يُقْضَىٰ إِلَيْكَ وَحْيُهُ ۖ وَقُلْ رَبِّ زِدْنِي عِلْمًا (And be not in haste with the Qur'an before its revelation is completed to you, and say: "My Lord! Increase me in knowledge.")(20:114) Then Allah says, إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ (It is for Us to collect it) meaning, 'in your chest.' وَقُرْآنَهُ (and that it be recited.) meaning, 'that you recite it.' فَإِذَا قُرْآنَهُ (And when We have …
حفظ قرآن، تلاوت و تفسیر کا ذمہ دار اللہ تعالیٰ یہاں اللہ عزوجل اپنے نبی ﷺ کو تعلیم دیتا ہے کہ فرشتے سے وحی کس طرح حاصل کریں، آنحضور ﷺ اس کو اخذ کرنے میں بہت جلدی کرتے تھے اور قرأت میں فرشتے کے بالکل ساتھ ساتھ رہتے تھے، پس اللہ عزوجل حکم فرماتا ہے کہ جب فرشتہ وحی لے کر آئے آپ سنتے رہیں، پھر جس ڈر سے آپ ایسا کرتے تھے اسی طرح اس کا واضح کرانا اور تفسیر اور بیان آپ سے کرانے کے ذمہ داری بھی ہم ہی پر ہے، پس پہلی حالت یاد کرانا، دوسری تلاوت کرانا، تیسری تفسیر، مضمون اور توضیح مطلب کرانا تینوں کی کفالت اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لی، جیسے اور جگہ ہے آیت (وَلَا تَعْجَلْ بالْقُرْاٰنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ …
Tafsir al-Jalalaynd.1505 · ar · PD
إلى رَبّها ناظِرَة﴾ أيْ يَرَوْنَ اللَّه سُبْحانه وتَعالى فِي الآخِرَة
looking upon their Lord, in other words, they will see God, glorified and exalted be He, in the Hereafter.
al-Ṣāfī (Fayḍ al-Kāshānī)d.1680 · ar · PD
إلى ربها ناظرة قال قال ينظرون إلى وجه الله أي إلى رحمة الله ونعمته وفي العيون عن الرضا (عليه السلام) قال يعني مشرقة ينتظر ثواب ربها. وفي التوحيد والاحتجاج عن أمير المؤمنين (عليه السلام) في حديث قال ينتهي أولياء الله بعد ما يفرغ من الحساب إلى نهر يسمى الحيوان فيغتسلون فيه ويشربون منه فتبيض وجوههم إشراقا فيذهب عنهم كل قذى ووعث ثم يؤمرون بدخول الجنة فمن هذا المقام ينظرون إلى ربهم كيف يثيبهم قال فذلك قوله تعالى إلى ربها ناظرة وإنما يعني بالنظر إليه النظر إلى ثوابه تبارك وتعالى. وزاد في الاحتجاج والناظرة في بعض اللغة هي المنتظرة ألم تسمع إلى قوله [vol 5 p.256] فناظرة بم يرجع المرسلون أي منتظرة …
مومنین کے چہرے تروتازہ ہوں گے:یہ آخرت کا بیان ہوا یعنی مومنین کے چہرے اس روز تروتازہ اور ہشاش بشاش ہونگے۔ اور ان کی آنکھیں محبوب حقیقی کے دیدار مبارک سے روشن ہونگی۔ قرآن کریم اور احادیث متواترہ سے یقینی طور پر معلوم ہوچکا ہے کہ آخرت میں اللہ تعالیٰ کا دیدار ہوگا۔ گمراہ لوگ اس کے منکر ہیں کیونکہ یہ دولت ان کے نصیب میں نہیں۔ اللّٰہم لاتحرمنا من ہذہ النعمۃ التی لیس فوقہا نعمۃ ۔
ناضرةٌ}؛ أي: حسنة بهيَّة لها رونقٌ ونورٌ مما هم فيه من نعيم القلوب وبهجة النفوس ولذَّة الأرواح، {إلى ربِّها ناظرةٌ}؛ أي: ينظرون إلى ربِّهم على حسب مراتبهم؛ منهم مَنْ ينظره كلَّ يوم بكرةً وعشيًّا، ومنهم من ينظره كلَّ جمعة مرةً واحدةً، فيتمتَّعون بالنَّظر إلى وجهه الكريم وجماله الباهر الذي ليس كمثله شيءٌ؛ فإذا رأوه؛ نسوا ما هم فيه من النعيم، وحصل لهم من اللَّذَّة والسرور ما لا يمكن التعبير عنه، ونضرت وجوهُهم، فازدادوا جمالاً إلى جمالهم، فنسأل الله الكريم أن يجعَلنَا معهم. {24 ـ 25} وقال في المؤثرين العاجلة على الآجلة، [و]{وجوهٌ يومئذٍ باسرةٌ}؛ أي: معبسةٌ كدرةٌ خاشعةٌ ذليلةٌ، {تظنُّ أن يُفۡعَلَ …
رگز نہیں !بلکہ تم پسند کرتے ہو دنیا کو (20) اور چھوڑے ہوئے ہو آخرت کو (21)کئی چہرے اس دن ترو تازہ ہوں گے (22) اپنے رب کی طرف دیکھتے ہوں گے (23) اور کئی چہرے اس دن بے رونق ہوں گے (24) وہ یقین کریں گے کہ کیا جائے گا ان سے (معاملہ) کمر توڑ دینے والا (25) [21,20] وہ چیز جو تمھاری غفلت اور اللہ تعالیٰ کے وعظ و تذکیر سے روگردانی کی موجب ہے، یہ ہے کہ تم ﴿ تُحِبُّوۡنَ الۡعَاجِلَةَ﴾ ’’دنیا کو پسند کرتے ہو‘‘ اور تم اس کو حاصل کرنے اور اس کی لذت و شہوات میں کوشاں رہتے ہو، تم آخرت پر اس کو ترجیح دیتے اور آخرت کے لیے عمل کرنا چھوڑ دیتے ہو کیونکہ دنیا کی نعمتیں اور لذتیں جلد مل جاتی ہیں اور انسان جلد مل …
وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ نَّاضِرَةٌ اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ (Many faces, that day, will be glowing, looking towards their Lord,...75:23). The word nadirah means 'fresh'. In other words, many faces that day will be happy, fresh and radiant. The words 'looking towards their Lord' mean 'gazing at their Lord'. This proves that the inmates of Paradise will see Allah in the Hereafter with physical eyes. The scholars of Ahlus-sunnah (those following the classic way of interpreting the religion) are unanimous on this issue. The Mu'tazilites and the Kharijites deny the possibility of seeing Allah, even …
مفسرین میں سے بعض نے اسے مجازی معنی میں لیا ہے وہ کہتے ہیں کہ کسی کی طرف دیکھنے کے الفاظ محاورے کے طور پر اُس سے توقعات وابسطہ کرنے، اس کے فیصلہ کا انتظار کرنے، اس کے کرم کا امید وار ہونے کے معنی میں بولےجاتے ہیں، حتٰی کہ ایک اندھا بھی یہ کہتا ہے کہ میری نگاہ میں تو فلاں شخص کی طرف لگی ہوئی ہے کہ وہ میرے لیے کیا کرتا ہے ۔ لیکن بکثرت احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی جو تفسری منقول ہے وہ یہ ہے کہ آخرت میں اللہ کے مقرم بندوں کو اپنے رب کا دیدار نصیب ہوگا۔ بخاری کی روایت ہے کہ اِنَّکُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّکُمْ عِیَاناً۔”تم اپنے رب کو علانیہ دیکھو گے۔“مسلم اور ترمذی میں حضرت صُہیب کی …
Some commentators have understood this allegorically. They say that the words looking towards someone are used idiomatically for having expectations from some one, awaiting his decision and hoping for his mercy and kindness: so much so that even a blind person also says that he is looking towards some one in the hope to see how he helps him. But in a large number of the Ahadith the commentary that has been reported of it from the Prophet (peace be upon him) is that in the Hereafter the illustrious servants of Allah will be blessed with the vision of their Lord. According to a tradition in …
آیت 23{ اِلٰی رَبِّہَا نَاظِرَۃٌ۔ } ”اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے۔“ بعض مفسرین نے اس آیت سے یہ مفہوم مراد لیا ہے کہ وہ اپنے رب کی رحمت کے امیدوار ہوں گے۔ اس لیے کہ رویت ِ باری تعالیٰ میدانِ حشر میں نہیں ہوگی ‘ بلکہ اہل جنت ‘ جنت میں داخلے کے بعد جس سب سے بڑی نعمت سے سرشار ہوں گے وہ دیدارِ الٰہی ہوگی۔ لیکن کچھ علماء کا خیال ہے اور میری رائے بھی یہی ہے کہ اہل ایمان کو میدانِ محشر میں بھی کسی نہ کسی درجے میں رویت باری تعالیٰ سے مشرف کیا جائے گا۔ سورة المُطَفِّـفِیْن میں یہ مضمون زیادہ وضاحت کے ساتھ آئے گا۔
إِلَى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ (23) وأخبر عنها خبراً ثانياً بقوله : { إلى ربها ناظرة } وظاهر لفظ { ناظرة } أنه من نظَر بمعنى : عايَن ببصره إعلاناً بتشريف تلك الوجوه أنها تنظر إلى جانب الله تعالى نظراً خاصاً لا يشاركها فيه من يكون دون رتبهم ، فهذا معنى الآية بإجماله ثابت بظاهر القرآن وقد أيدتها الأخبار الصحيحة عن النبي صلى الله عليه وسلمفقد روى البخاري ومسلم عن أبي سعيد الخدري وأبي هريرة «أن أناساً قالوا يا رسول الله هل نرى ربنا يوم القيامة؟ قال : هَل تُضَارُّون في رؤية الشمس والقمر إذا كانت صحواً؟ قلنا : لا ، قال : فإنكم لا تُضَارُّون في رؤية ربكم يومئذٍ إلاّ كما تضارون في رؤيتهما» .وفي رواية …
اہل ایمان کے چہرے ہونگے جو اپنے حسن انجام کی وجہ سے مطمئن، مسرور اور منور ہونگے۔ مذید دیدار الٰہی سے بھی لطف اندوز ہونگیں۔ جیسا کہ صحیح حدیث سے ثابت ہے اور اہل سنت کا متفقہ عقیدہ ہے۔
(Looking towards their Lord) they behold the Countenance of their Lord and are not veiled from Him;
No commentary keyed to this āyah in: Fi Zilal al-Quran (Urdu), Hilali & Khan, notes (English), Jawāmiʿ al-jāmiʿ (al-Ṭabrisī), Majmaʿ al-bayān (al-Ṭabrisī), Nūr al-thaqalayn (al-Ḥuwayzī), Tafsīr al-Qummī, Tazkir ul Quran (Urdu), Tazkirul Quran (English), al-Mīzān (Ṭabāṭabāʾī), al-Tibyān (al-Ṭūsī).
the words of this āyah — root, frequency, family
إِلَى
occurs 742 timesamong the commonest 300 words
رَبّ
occurs 975 timesroot ربب occurs 980among the commonest 300 words
رَبّ975رَبّانِيِّن3رِبِّيّ1رَبائِب1
ناظِرَة
occurs 2 timesroot نظر occurs 129
نَظَرَ87يُنظَرُ12يَنتَظِرُ8مُنتَظِر6مُنظَر6ناظِر5
this āyah in 55 languages — 74 translations
Akan Harun Ismail · v1.0.3
Ahwε wͻn Wura Nyankopͻn.
Azərbaycan Ali Khan Musayev · v1.0.4
öz Rəbbinə baxacaqdır.
Bahasa Indonesia Ministry of Religious Affairs · v1.0.1
Memandang Tuhannya.
Bahasa Indonesia Sabiq Company · v1.1.3
23. Memandang Tuhannya.
Bahasa Indonesia The Complex · v1.0.1
Kepada Tuhan-nyalah mereka melihat.
Bosanski Muhammad Mahanovic · v1.1.0
u Gospodara svoga će gledati.
Bosanski Rowwad Translation Centre · v2.0.4
u Gospodara svoga će gledati.
Cebuano Rowwad Translation Center · v1.1.3
Nagtan-aw sa ilang Ginoo 'Allāh'.
Deutsch Frank Bubenheim · v1.1.4
zu ihrem Herrn schauen.
Deutsch Rowwad Translation Center · v1.0.15
(und) zu ihrem Herrn schauend.
English Hilali and Khan · v1.1.2
23. Looking at their Lord (Allâh).
English Noor International Center · v1.1.2
Looking at their Lord.[1805]
English Rowwad Translation Center · v1.0.19
looking at their Lord[7].
Español Isa Garcia · v1.0.2
23. contemplando a su Señor.
Español Noor International Center · v1.0.1
que contemplarán a su Señor;
Español issued by Noor International · v1.0.1
que contemplarán a su Señor;
Français Noor International Center · v1.0.0
23. qui contempleront leur Seigneur.
Français Rachid Maach · v1.0.3
qui, vers leur Seigneur, seront résolument tournés[7],
Fulfulde Rowwad Translation Center · v1.0.2
Hoɗe ndaara fa'ade e joom mu' en.
Hausa Abu Bakr Jumi · v1.2.2
Zuwa ga Ubangijinsu mãsu kallo ne.
Hrvatski Rowwad Translation Center · v1.0.1
u Gospodara svoga će gledati.
Kinyarwanda Rwanda Muslim Association · v1.0.5
Bureba Nyagasani wabwo.
Kirundi Yusuf Gahiti · v1.0.4
Baraba bitegereza Imana yabo Rurema Allah ukuri kwamye.
Kiswahili Ali Mohsin Al-Barwani · v1.0.1
Zinamwangallia Mola wao Mlezi. [23]
Kiswahili Rowad Translation Center · v1.0.5
Zinamwangallia Mola wao Mlezi.
Kurdî Muhammad Salih Bamoki · v1.1.1
تەماشای پەروەردگاریان دەکەن
Lietuvių Rowwad Translation Center · v1.0.8
23. žvelgiantys į savo Viešpatį.
Lingála Mohammed Balangogo · v1.0.2
Bizali kotala Nkolo na yango,
Maguindanaon Rowwad Translation Center · v1.0.4
Lu den bagilay kanu Kadenan nin.
Mòoré Rowwad Translation Center · v1.0.1
N togl b Soabã n getẽ.
Nederlands Rowwad Translation Center · v2.0.10
Naar hun Heer kijkend.
Oromoo Gali Ababor · v1.0.3
Gara Gooftaa ishee ilaaltuudha.
Oʻzbek Alaauddin Mansour · v1.0.0
Парвардигорларига боқиб тургувчидир![6]
Oʻzbek Rowwad Translation Center · v1.0.4
(Улар) Парвардигорларига боқиб тургувчидир!
Português Helmi Nasr · v1.4.1
De seu Senhor olhadoras.
Qafár Mahmoud Abdulqader Hamza · v1.0.1
23. Isi Rabbí fanah wagitta.(woh meqe mara kinnuk).
Română Islam4ro.com · v1.0.4
Care vor privi spre Domnul lor[6],
Shqip Hassan Nahi · v1.1.0
dhe Zotin e tyre do të shohin.
Shqip Rowwad Translation Center · v1.0.5
duke e shikuar Zotin e tyre.
Soomaali Abdullah Hasan Yaqoub · v1.0.26
23. Xagga Rabbigood iyagoo eegaya;
Tagalog Rowwad Translation Center · v1.1.4
sa Panginoon nila ay nakatingin.
Tiếng Việt Rowwad Translation Center · v1.0.8
Họ ngắm nhìn Thượng Đế của họ.
Türkçe Dr. Ali Ozek and others · v1.0.0
Rablerine bakacaklardır (O’nu göreceklerdir).
Türkçe Rowwad Translation Center · v1.0.4
Rabbine bakar. (O'nu göreceklerdir)
Türkçe Shaaban British · v1.1.0
Rabbine bakar.
Yorùbá Abu Rahimah Mikael · v1.0.9
Olúwa wọn ni wọn yóò máa wò.
Кыргызча Shamsuddin Hakimov · v1.0.2
Раббисине (үмүт менен) карап турат.
Македонски a group of Macedonian scholars · v1.0.1
23. во Господарот свој ќе гледаат.
Српски Rowwad Translation Center · v1.0.4
у Господара свога ће да гледају.
Тоҷикӣ Rowwad Translation Center · v1.0.2
Ба сӯйи Парвардигораш менигарад
ئۇيغۇرچە Muhammad Saleh · v1.0.2
(ئۇلار) پەرۋەردىگارىغا قاراپ تۇرىدۇ(23).
اردو Muhammad Junagarhi · v1.1.3
اپنے رب کی طرف دیکھتے ہوں گے.[1]
فارسی Rowwad Translation Center · v1.1.3
به سوی پروردگارشان مینگرند.
پښتو Rowwad Translation Center · v1.0.1
خپل پالونکي ته به كتونكي وي.
ߒߞߏ Baba Mamadi · v1.0.5
ߊ߬ߟߎ߬ ߦߴߊ߬ߟߎ߫ ߡߊ߰ߙߌ ߡߊߝߟߍ ߞߊ߲߬
हिन्दी Azizul Haq Al-Omari · v1.1.5
अपने पालनहार की ओर देख रहे होंगे।
অসমীয়া Rafiqul Islam Habibur-Rahman · v1.0.5
সিহঁত নিজ প্ৰতিপালকৰ প্ৰতি চাই থাকিব।
ਪੰਜਾਬੀ Arif Haleem · v1.0.1
ਆਪਣੇ ਰੱਬ ਵੱਲ ਵੇਖ ਰਹੇ ਹੋਣਗੇ।
ગુજરાતી Rabella Al-Omari · v1.1.3
૨૩. પોતાના પાલનહાર તરફ જોઇ રહ્યા હશે.
தமிழ் Abdulhamid Baqawi · v1.0.1
23. (அவை) தங்கள் இறைவனை நோக்கிய வண்ணமாக இருக்கும்.
தமிழ் Abridged Version · v1.0.2
தமது இறைவனை பார்த்துக் கொண்டிருக்கும்.
தமிழ் Omar Sharif · v1.0.3
தமது இறைவனை பார்த்துக் கொண்டிருக்கும்.
తెలుగు Abdurrahim ibn Muhammad · v1.0.6
తమ ప్రభువు (అల్లాహ్) వైపునకు చూస్తూ ఉంటాయి[1];
ಕನ್ನಡ Hamza Butur · v1.0.3
ಅದರ ಪರಿಪಾಲಕನ (ಅಲ್ಲಾಹನ) ಕಡೆಗೆ ನೋಡುತ್ತಿರುವುವು.
മലയാളം Abdul Hamid Haidar and Kunhi Muhammad · v1.0.3
അവയുടെ രക്ഷിതാവിന്റെ നേര്ക്ക് ദൃഷ്ടി തിരിച്ചവയുമായിരിക്കും.
සිංහල Rowwad Translation Center · v1.0.6
තම පරමාධිපති දෙස බලමින් සිටිති.
ไทย Rowwad Translation Center · v1.0.1
จ้องมองไปยังพระผู้อภิบาลของมัน
አማርኛ Africa Academy · v1.0.1
23. ወደ ጌታቸው ተመልካቾችም ናቸው::
አማርኛ Muhammad Sadiq · v1.1.2
ወደ ጌታቸው ተመልካቾች ናቸው፡፡
ភាសាខ្មែរ Islamic Community Development Association · v1.0.2
ដោយបានមើលទៅកាន់ម្ចាស់របស់ពួកគេ ។
ភាសាខ្មែរ Rowwad Translation Center · v1.0.4
ដោយសម្លឹងមើលទៅកាន់ព្រះជាម្ចាស់របស់គេ។
中文 Muhammad Makeen · v1.0.2
是仰视着他们的主的。
中文 Muhammad Suleiman · v1.0.8
是仰视着他们的养主的。
日本語 Saeed Sato · v1.0.13
まさにその主*を眺める。[1]
Al-Qiyamah 75 : 24
وَوُجُوهٌيَوْمَئِذٍۭبَاسِرَةٌ
wawujuwhun yawma'idhin baasirahun
plays offline — the recitation is inside this file
PickthallAnd that day will other faces be despondent,
Yusuf AliAnd some faces, that Day, will be sad and dismal,
Muhammad Junagarhiاور کتنے چہرے اس دن (بد رونق اور) اداس ہوں گے.[1]
al-Muyassarووجوه الأشقياء يوم القيامة عابسة كالحة، تتوقع أن تنزل بها مصيبة عظيمة، تقصم فَقار الظَّهْر.
the agreed readingAnd faces that Day are darkened — drawn and scowling, the commentaries gloss, from what they can already see coming.
اور اس دن کچھ چہرے بےرونق ہوں گے۔ رازی وضاحت کرتے ہیں کہ باسرۃ کا مطلب سخت تیوری چڑھانے والا ہے۔ بغوی بتاتے ہیں کہ اس کا مطلب ہے وہ منہ بسورے ہوئے، بگڑے ہوئے، غبار آلود اور سیاہ ہوں گے۔
ووجوه يومئذ باسرة. ذكر الرازي أن الباسر هو الشديد العبوس، والباسل أشد منه، ولكنه غلب في الشجاع إذا اشتد كلوحه، والمعنى أنها عابسة كالحة. وذكر البغوي أنهم عابسة كالحة مغبرة مسودة.
No Shīʿī edition could be anchored to this āyah by the alignment; the commentary exists in the books, the method could not point at it.
23 of the 36 commentaries carry this āyah
all 23, in their own words
al-Tabarid.923 · ar · PD
القول في تأويل قوله تعالى: ﴿كَلا بَلْ تُحِبُّونَ الْعَاجِلَةَ (٢٠) وَتَذَرُونَ الآخِرَةَ (٢١) وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَاضِرَةٌ (٢٢) إِلَى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ (٢٣) وَوُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ بَاسِرَةٌ (٢٤) تَظُنُّ أَنْ يُفْعَلَ بِهَا فَاقِرَةٌ (٢٥) ﴾ . يقول تعالى ذكره لعباده المخاطبين بهذا القرآن المؤثرين زينة الحياة الدنيا على الآخرة: ليس الأمر كما تقولون أيها الناس من أنكم لا تبعثون بعد مماتكم، ولا تجازون بأعمالكم، لكن الذي دعاكم إلى قيل ذلك محبتكم الدنيا العاجلة، وإيثاركم شهواتها على آجل الآخرة ونعيمها، فأنتم تومنون بالعاجلة، وتكذّبون بالآجلة. كما:- ⁕ حدثنا بشر، قال: ثنا يزيد، قال: ثنا سعيد، عن قتادة …
الضمير في بِهِ للقرآن، وكان رسول الله ﷺ إذا لقن الوحى نازع جبريل القراءة، ولم يصبر إلى أن يتمها، مسارعة إلى الحفظ وخوفا من أن يتفلت منه، فأمر بأن يستنصت له ملقيا إليه بقلبه وسمعه، حتى يقضى إليه وحيه، ثم يقفيه بالدراسة إلى أن يرسخ فيه. والمعنى: لا تحرّك لسانك بقراءة الوحى ما دام جبريل صلوات الله عليه يقرأ لِتَعْجَلَ بِهِ لتأخذه على عجلة، ولئلا يتفلت منك. ثم علل النهى عن العجلة بقوله إِنَّ عَلَيْنا جَمْعَهُ في صدرك وإثبات قراءته في لسانك فَإِذا قَرَأْناهُ جعل قراءة جبريل قراءته: والقرآن: القراءة فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ فكن مقفيا له فيه ولا تراسله، وطأ من نفسك أنه لا يبقى غير محفوظ، فنحن في ضمان …
لَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ (Move not your tongue concerning to make haste therewith.) meaning, with the Qur'an. This is as Allah says, وَلَا تَعْجَلْ بِالْقُرْآنِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يُقْضَىٰ إِلَيْكَ وَحْيُهُ ۖ وَقُلْ رَبِّ زِدْنِي عِلْمًا (And be not in haste with the Qur'an before its revelation is completed to you, and say: "My Lord! Increase me in knowledge.")(20:114) Then Allah says, إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ (It is for Us to collect it) meaning, 'in your chest.' وَقُرْآنَهُ (and that it be recited.) meaning, 'that you recite it.' فَإِذَا قُرْآنَهُ (And when We have …
لہ کی پکڑ آئی، ابھی ہمیں جہنم میں جانے کا حکم ہوا، جیسے اور جگہ ہے آیت (يَّوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوْهٌ وَّتَسْوَدُّ وُجُوْهٌ ۚ فَاَمَّا الَّذِيْنَ اسْوَدَّتْ وُجُوْھُھُمْ ۣاَكَفَرْتُمْ بَعْدَ اِيْمَانِكُمْ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ01006) 3۔ آل عمران :106) یعنی اس دن بعض چہرے گورے چٹے خوبصورت اور حسین ہوں گے اور بعض کالے منہ والے ہوں گے اور جگہ سے آیت (وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ خَاشِعَةٌ ۙ) 88۔ الغاشية :2) ، یعنی قیامت کے دن بہت سے چہرے خوف زدہ دہشت اور ڈر والے بد رونق اور ذلیل ہوں گے جو عمل کرتے رہے تکلیف اٹھاتے رہے لیکن آج بھڑکتی ہوئی آگ میں جا گھسے پھر فرمایا آیت (وُجُوْهٌ …
ناضرةٌ}؛ أي: حسنة بهيَّة لها رونقٌ ونورٌ مما هم فيه من نعيم القلوب وبهجة النفوس ولذَّة الأرواح، {إلى ربِّها ناظرةٌ}؛ أي: ينظرون إلى ربِّهم على حسب مراتبهم؛ منهم مَنْ ينظره كلَّ يوم بكرةً وعشيًّا، ومنهم من ينظره كلَّ جمعة مرةً واحدةً، فيتمتَّعون بالنَّظر إلى وجهه الكريم وجماله الباهر الذي ليس كمثله شيءٌ؛ فإذا رأوه؛ نسوا ما هم فيه من النعيم، وحصل لهم من اللَّذَّة والسرور ما لا يمكن التعبير عنه، ونضرت وجوهُهم، فازدادوا جمالاً إلى جمالهم، فنسأل الله الكريم أن يجعَلنَا معهم. {24 ـ 25} وقال في المؤثرين العاجلة على الآجلة، [و]{وجوهٌ يومئذٍ باسرةٌ}؛ أي: معبسةٌ كدرةٌ خاشعةٌ ذليلةٌ، {تظنُّ أن يُفۡعَلَ …
دیدار کر پائیں گے، وہ اللہ تعالیٰ کے کریم چہرے اور اس کے بے پناہ جمال سے، جس کی کوئی مثال نہیں، متمتع ہوں گے۔ جب وہ اپنے رب کا دیدار کریں گے تو وہ ان تمام نعمتوں کو بھول جائیں گے جو انھیں حاصل ہوں گی، انھیں اس دیدار سے ایسی لذت و مسرت حاصل ہو گی جس کی تعبیر ممکن نہیں، ان کے چہرے بارونق ہوں گے اور ان کی خوبصورتی اور جمال میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا ۔ ہم اللہ کریم سے سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں ان لوگوں کی معیت سے سرفراز کرے۔ [25,24] پھر اللہ تعالیٰ نے آخرت پر دنیا کو ترجیح دینے والوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ وَوُجُوۡهٌ يَّوۡمَىِٕذٍۭؔ بَاسِرَةٌ﴾ ’’اس دن کئی چہرے اداس ہوں گے۔‘‘ یعنی ترش رو، گرد سے اٹے …
ووجوہ ........................ فاقرة (75:25) ” اور کچھ چہرے اس دن اداس ہوں گے اور سمجھ رہے ہوں گے کہ ان کے ساتھ کمر توڑ برتاﺅ ہونے والا ہے “۔ یہ کون سے چہرے ہوں گے ، جو پریشان ، بدبخت اور سیاہ ردہوں گے۔ یہ اللہ کی نظرکرم سے محروم اور ناامید ہوں گے۔ اور یہ محرومی خود ان کی اپنی غلطیوں اور پسماندگیوں کی وجہ سے ہوگی۔ ان کی مادیت اور بےبصیرتی کی وجہ سے ہوگی۔ ان کے چہروں پر رنج والم اور حزن وملال چھپایا ہوا ہوگا اور رنج وملال کی وجہ سے چہروں پر سیاہی چھائی ہوئی ہوگی۔ کیونکہ ان کو یہ شدید خطرہ لاحق ہوگا کہ وہ بہت جلد ایسے حادثے سے دو چار ہونے والے ہیں جوان کی کمر توڑ کر رکھ دے گا۔ فاقرہ ریڑھ کی ہڈی …
وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ نَّاضِرَةٌ اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ (Many faces, that day, will be glowing, looking towards their Lord,...75:23). The word nadirah means 'fresh'. In other words, many faces that day will be happy, fresh and radiant. The words 'looking towards their Lord' mean 'gazing at their Lord'. This proves that the inmates of Paradise will see Allah in the Hereafter with physical eyes. The scholars of Ahlus-sunnah (those following the classic way of interpreting the religion) are unanimous on this issue. The Mu'tazilites and the Kharijites deny the possibility of seeing Allah, even …
وَوُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ بَاسِرَةٌ (24) وسوغ الابتداء بالنكرة في قوله : { وجوهٌ يومئذٍ ناضرة } أنها أُرِيدَ بها التفصيل والتقسيم لمقابلتِه بقوله : { ووجوهٌ يومئذٍ باسرة } ، على حد قول الشاعر :فيوم علينا ويومٌ لنا ... ويومٌ نُساء ويوم نسروأما الوجوه الباسرة فنوع ثان من وجوه الناس يومئذٍ هي وجوه أهل الشقاء . وأعيد لفظ { يومئذٍ } تأكيداً للاهتمام بالتذكير بذلك اليوم .و { باسرة } : كالحة مِن تيقن العذاب ، وتقدم عند قوله تعالى : { ثم عبس وبسر } في سورة المدثر ( 22 ) .
(And that day) the Day of Judgement (will other faces) the faces of the disbelievers and hypocrites (be despondent) gloomy; veiled from seeing their Lord,
No commentary keyed to this āyah in: Bayan ul Quran (Urdu), Hilali & Khan, notes (English), Jawāmiʿ al-jāmiʿ (al-Ṭabrisī), Majmaʿ al-bayān (al-Ṭabrisī), Nūr al-thaqalayn (al-Ḥuwayzī), Tafhim al-Qur'an - Maududi (English), Tafhim al-Qur'an - Maududi (Urdu), Tafsīr al-Qummī, Tazkir ul Quran (Urdu), Tazkirul Quran (English), al-Mīzān (Ṭabāṭabāʾī), al-Tibyān (al-Ṭūsī), al-Ṣāfī (Fayḍ al-Kāshānī).
the words of this āyah — root, frequency, family
و
occurs 9594 timesamong the commonest 300 words
وَجْه
occurs 72 timesroot وجه occurs 78among the commonest 300 words
وَجْه72وَجِيه2وَجَّهْ2وِجْهَة1تَوَجَّهَ1
يَوْم
occurs 475 timesroot يوم occurs 475among the commonest 300 words
إِذ
occurs 309 timesamong the commonest 300 words
باسِرَة
occurs ONCE in the whole Qurʾānroot بسر occurs 2
بَسَرَ1باسِرَة1
this āyah in 55 languages — 74 translations
Akan Harun Ismail · v1.0.3
Saa Da no ebinom nso anim bɛmuna kusuu.
Azərbaycan Ali Khan Musayev · v1.0.4
O gün (bir çox) üzlər də tutulub qaralacaq,
Bahasa Indonesia Ministry of Religious Affairs · v1.0.1
Dan wajah-wajah (orang kafir) pada hari itu muram,
Bahasa Indonesia Sabiq Company · v1.1.3
24. Dan wajah-wajah (orang kafir) pada hari itu muram,
Bahasa Indonesia The Complex · v1.0.1
Dan wajah-wajah (orang kafir) pada hari itu muram,
Bosanski Muhammad Mahanovic · v1.1.0
Taj dan neka lica smrknuta će biti,
Bosanski Rowwad Translation Centre · v2.0.4
Taj dan neka lica smrknuta će biti,
Cebuano Rowwad Translation Center · v1.1.3
Ug "uban" nga mga nawong nianang Adlawa mangitngit uban sa pagkawalay paglaum,
Deutsch Frank Bubenheim · v1.1.4
Und (die anderen) Gesichter werden an jenem Tag finster sein;
Deutsch Rowwad Translation Center · v1.0.15
Und (die anderen) Gesichter werden an jenem Tag düster sein;
English Hilali and Khan · v1.1.2
24. And some faces, that Day, will be Bâsirah (dark, gloomy, frowning, and sad),
English Noor International Center · v1.1.2
And [some] faces, that Day, will be contorted,
English Rowwad Translation Center · v1.0.19
And on that Day, some faces will be gloomy,
Español Isa Garcia · v1.0.2
24. Pero otros rostros estarán ensombrecidos,
Español Noor International Center · v1.0.1
y, ese día, habrá rostros ensombrecidos y ceñudos
Español issued by Noor International · v1.0.1
y, ese día, habrá rostros ensombrecidos y ceñudos
Français Noor International Center · v1.0.0
24. Et ce jour-là, (d’autres) visages seront livides,
Français Rachid Maach · v1.0.3
mais aussi des visages sombres et crispés,
Fulfulde Rowwad Translation Center · v1.0.2
E je'ece ñirɓaniiɗe ñande heen.
Hausa Abu Bakr Jumi · v1.2.2
Wasu huskõki, a rãnar nan, mãsu gintsẽwa ne.
Hrvatski Rowwad Translation Center · v1.0.1
Taj dan neka lica smrknuta će biti,
Kinyarwanda Rwanda Muslim Association · v1.0.5
Kuri uwo munsi kandi, uburanga (bw’abahakanyi) buzaba bwijimye,
Kirundi Yusuf Gahiti · v1.0.4
Abanyavyaha na bo kuri uwo musi, bazoba bijiriwe mu maso, babihiwe;
Kiswahili Ali Mohsin Al-Barwani · v1.0.1
Na zipo nyuso siku hiyo zitakao kunjana. [24]
Kiswahili Rowad Translation Center · v1.0.5
Na zipo nyuso siku hiyo zitakazokunjana.
Kurdî Muhammad Salih Bamoki · v1.1.1
وە زۆر ڕوخساریش لەو ڕۆژەدا گرژ وتاڵن
Lietuvių Rowwad Translation Center · v1.0.8
24. O (kai kurie) veidai Tą Dieną bus persikreipę,
Lingála Mohammed Balangogo · v1.0.2
Mpe mokolo wana bilongi bikoyinda,
Maguindanaon Rowwad Translation Center · v1.0.4
(Aden menem) manga biyas a manga maytem (namba su manga kafir).
Mòoré Rowwad Translation Center · v1.0.1
Nems yεs n weoog ra-kãng raarã.
Nederlands Rowwad Translation Center · v2.0.10
En sommige gezichten zullen die dag donker, duister, fronsend en bedroefd zijn.
Và vào Ngày đó, có những gương mặt buồn bã, ảm đạm.
Türkçe Dr. Ali Ozek and others · v1.0.0
Yüzler de vardır ki, o gün buruşacaktır;
Türkçe Rowwad Translation Center · v1.0.4
O gün birtakım yüzler de asıktır.
Türkçe Shaaban British · v1.1.0
O gün asık yüzler de vardır.
Yorùbá Abu Rahimah Mikael · v1.0.9
Àwọn ojú kan ní ọjọ́ yẹn sì máa bàjẹ́.
Кыргызча Shamsuddin Hakimov · v1.0.2
Ал эми, (ыймансыз) жүздөр ал күндө капаланып,
Македонски a group of Macedonian scholars · v1.0.1
24. Тој ден некои лица темни ќе бидат,
Српски Rowwad Translation Center · v1.0.4
Тог дана нека лица ће бити смркнута,
Тоҷикӣ Rowwad Translation Center · v1.0.2
Ва дар он рӯз чеҳраҳое абус [ва дарҳамкашида] аст
ئۇيغۇرچە Muhammad Saleh · v1.0.2
بۇ كۈندە، نۇرغۇن يۈزلەر تۇتۇق بولىدۇ(24).
اردو Muhammad Junagarhi · v1.1.3
اور کتنے چہرے اس دن (بد رونق اور) اداس ہوں گے.[1]
فارسی Rowwad Translation Center · v1.1.3
و در آن روز، [کافران و بدبختان دارای] چهرههایی عبوس [و درهمکشیده] هستند.
پښتو Rowwad Translation Center · v1.0.1
او ځينې مخونه به هغه ورځ بدرنګه وي.
ߒߞߏ Baba Mamadi · v1.0.5
ߢߘߊ ߘߏ߫ ߟߎ߫ ߝߣߊ߫ ߛߌ߲߬ߛߌ߲߬ߣߍ߲߫ ߏ߬ ߟߏ߲
हिन्दी Azizul Haq Al-Omari · v1.1.5
और कई चेहरे उस दिन बिगड़े हुए होंगे।
অসমীয়া Rafiqul Islam Habibur-Rahman · v1.0.5
আৰু সেইদিনা কিছুমান মুখমণ্ডল বিবৰ্ণ হৈ পৰিব,
ਪੰਜਾਬੀ Arif Haleem · v1.0.1
ਉਸ (ਕਿਆਮਤ) ਦਿਹਾੜੇ ਕਈ ਚਿਹਰੇ ਉਦਾਸ ਹੋਣਗੇ।
ગુજરાતી Rabella Al-Omari · v1.1.3
૨૪. અને કેટલાક ચહેરા તે દિવસે ઉદાસ હશે.
தமிழ் Abdulhamid Baqawi · v1.0.1
24. வேறு சில(ருடைய) முகங்களோ அந்நாளில் (துக்கத்தால்) வாடியவையாக இருக்கும்.
தமிழ் Abridged Version · v1.0.2
இன்னும், அந்நாளில் சில முகங்கள் கருத்து காய்ந்துபோய் இருக்கும்.
தமிழ் Omar Sharif · v1.0.3
இன்னும், அந்நாளில் சில முகங்கள் கருத்து காய்ந்துபோய் (விகாரமாக) இருக்கும்.
తెలుగు Abdurrahim ibn Muhammad · v1.0.6
మరికొన్ని ముఖాలు ఆ రోజు, కాంతిహీనమై ఉంటాయి[1];
ಕನ್ನಡ Hamza Butur · v1.0.3
ಅಂದು ಬಹಳಷ್ಟು ಮುಖಗಳು ವಿಷಣ್ಣವಾಗಿರುವುವು.
മലയാളം Abdul Hamid Haidar and Kunhi Muhammad · v1.0.3
ചില മുഖങ്ങള് അന്നു കരുവാളിച്ചതായിരിക്കും.
සිංහල Rowwad Translation Center · v1.0.6
තවද එදින ඇතැම් මුහුණු (අඳුරින් වෙළී) විරූපව පවතී.
ไทย Rowwad Translation Center · v1.0.1
และในวันนั้นหลายๆ ใบหน้าจะเศร้าสลด
አማርኛ Africa Academy · v1.0.1
24. (ሌሎች) ፊቶች ደግሞ በዚያ ቀን አጨፍጋጊዎች ናቸው።
አማርኛ Muhammad Sadiq · v1.1.2
ፊቶችም በዚያ ቀን ጨፍጋጊዎች ናቸው፡፡
ភាសាខ្មែរ Islamic Community Development Association · v1.0.2
រីឯមុខ(អ្នកដែលគ្មានជំនឿ)នៅថ្ងៃនោះគឺក្រញូវ
ភាសាខ្មែរ Rowwad Translation Center · v1.0.4
រីឯទឹកមុខ(ពួកគ្មានជំនឿ)នៅថ្ងៃនោះ គឺក្រញូវ
中文 Muhammad Makeen · v1.0.2
在那日,许多面目是愁苦的,
中文 Muhammad Suleiman · v1.0.8
在那日,许多面目是愁苦的,
日本語 Saeed Sato · v1.0.13
またその日、(不信仰者*たちの)しかめっ顔は、
Al-Qiyamah 75 : 25
تَظُنُّأَنيُفْعَلَبِهَافَاقِرَةٌ
tazunu aan yuf'ala bihaa faaqirahun
plays offline — the recitation is inside this file
PickthallThou wilt know that some great disaster is about to fall on them.
Yusuf AliIn the thought that some back-breaking calamity was about to be inflicted on them;
Muhammad Junagarhiسمجھتے ہوں گے کہ ان کے ساتھ کمر توڑ دینے واﻻ معاملہ[1] کیا جائے گا.
al-Muyassarووجوه الأشقياء يوم القيامة عابسة كالحة، تتوقع أن تنزل بها مصيبة عظيمة، تقصم فَقار الظَّهْر.
the agreed readingcertain that a back-breaking blow is to fall on them. The commentaries gloss the word as a calamity so heavy it breaks the spine.
وہ یقین کریں گے کہ ان کے ساتھ کمر توڑنے والا معاملہ ہو گا۔ تفسیر مقباس کے مطابق فاقرۃ سے مراد بہت بڑی مصیبت ہے۔ بغوی وضاحت کرتے ہیں کہ اس کا مطلب ہے وہ یقین کر لیں گے کہ ان کے ساتھ عذاب کی کوئی بڑی بات کی جائے گی، اور فاقرۃ سے مراد بڑی مصیبت ہے۔
تظن أن يفعل بها فاقرة. جاء في تفسير مقباس أن الفاقرة داهية عظيمة، وهو نائب فاعل يفعل بها. وذكر البغوي أنهم يستيقنون أن يعمل بها عظيمة من العذاب، والفاقرة الداهية العظيمة.
26 of the 36 commentaries carry this āyah
all 26, in their own words
al-Tabarid.923 · ar · PD
القول في تأويل قوله تعالى: ﴿كَلا بَلْ تُحِبُّونَ الْعَاجِلَةَ (٢٠) وَتَذَرُونَ الآخِرَةَ (٢١) وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَاضِرَةٌ (٢٢) إِلَى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ (٢٣) وَوُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ بَاسِرَةٌ (٢٤) تَظُنُّ أَنْ يُفْعَلَ بِهَا فَاقِرَةٌ (٢٥) ﴾ . يقول تعالى ذكره لعباده المخاطبين بهذا القرآن المؤثرين زينة الحياة الدنيا على الآخرة: ليس الأمر كما تقولون أيها الناس من أنكم لا تبعثون بعد مماتكم، ولا تجازون بأعمالكم، لكن الذي دعاكم إلى قيل ذلك محبتكم الدنيا العاجلة، وإيثاركم شهواتها على آجل الآخرة ونعيمها، فأنتم تومنون بالعاجلة، وتكذّبون بالآجلة. كما:- ⁕ حدثنا بشر، قال: ثنا يزيد، قال: ثنا سعيد، عن قتادة …
al-Tibyān (al-Ṭūsī)d.1067 · ar · PD
تظن أن يفعل بها فاقرة) (25) خمس عشرة آية قرأ (كلا بل يحبون العاجلة ويذرون الآخرة) بالياء فيهما ابن كثير [vol 10 p.193] وأبو عمرو وابن عامر على وجه الاخبار عنهم. الباقون بالتاء على وجه الخطاب لهم، لما حكى الله تعالى عن الكافر انه يقول يوم القيامة (أين المفر) والمهرب حكى ما يقال له، فإنه يقال له (كلا لا وزر) أي لا ملجأ. والوزر الملجأ من جبل يتحصن به أو غيره من الحصون المنيعة. ومنه الوزير المعين الذي يلجأ إليه في الأمور، يقال وزرت الحائط إذا قويته بأساس يعتمد عليه. وقال ابن عباس ومجاهد: لا وزر، معناه لا ملجا. وقال الحسن: لا جبل، لان العرب إذا دهمتهم الخيل بغتة، قالوا: الوزر، يعنون الجبل، قال ابن …
أو حالية، أى: أقل منك في الخيرات والمكارم.]] وسمعت سروية مستجدية بمكة وقت الظهر حين يغلق الناس أبوابهم، ويأوون إلى مقائلهم. تقول: عيينتى نويظرة إلى الله وإليكم، والمعنى: أنهم لا يتوقعون النعمة والكرامة إلا من ربهم، كما كانوا في الدنيا لا يخشون ولا يرجون إلا إياه، والباسر: الشديد العبوس، والباسل: أشد منه، ولكنه غلب في الشجاع إذا اشتد كلوحه تَظُنُّ تتوقع أن يفعل بها فعل هو في شدّته وفظاعته فاقِرَةٌ داهية تقصم فقار الظهر، كما توقعت الوجوه الناضرة أن يفعل بها كل خير.
Majmaʿ al-bayān (al-Ṭabrisī)d.1153 · ar · PD
تظن أن يفعل بها فاقرة (25). القراءة: قرأ أهل المدينة والكوفة: (تحبون وتذرون) بالتاء. والباقون بالياء. الحجة: من قرأ بالتاء فعلى معنى: قل لهم بل تحبون وتذرون. ومن قرأ بالياء فعلى معنى هم يحبون ويذرون. قال أبو علي: الياء على ما تقدم من ذكر الانسان، فإن المراد به الكثرة والعموم، كقوله: (إن الانسان خلق هلوعا) ثم قال: (إلا المصلين). اللغة: التحريك. تصيير الشئ من مكان إلى مكان، أو من جهة إلى جهة، بفعل الحركة فيه، والحركة ما به يتحرك المتحرك، والمتحرك هو المنتقل من جهة إلى غيرها. واللسان: آلة الكلام. والعجلة: طلب عمل الشئ قبل وقته الذي ينبغي أن يعمل فيه. ونقيضه الإبطاء. والسرعة: عمل الشئ في أول …
لَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ (Move not your tongue concerning to make haste therewith.) meaning, with the Qur'an. This is as Allah says, وَلَا تَعْجَلْ بِالْقُرْآنِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يُقْضَىٰ إِلَيْكَ وَحْيُهُ ۖ وَقُلْ رَبِّ زِدْنِي عِلْمًا (And be not in haste with the Qur'an before its revelation is completed to you, and say: "My Lord! Increase me in knowledge.")(20:114) Then Allah says, إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ (It is for Us to collect it) meaning, 'in your chest.' وَقُرْآنَهُ (and that it be recited.) meaning, 'that you recite it.' فَإِذَا قُرْآنَهُ (And when We have …
حفظ قرآن، تلاوت و تفسیر کا ذمہ دار اللہ تعالیٰ یہاں اللہ عزوجل اپنے نبی ﷺ کو تعلیم دیتا ہے کہ فرشتے سے وحی کس طرح حاصل کریں، آنحضور ﷺ اس کو اخذ کرنے میں بہت جلدی کرتے تھے اور قرأت میں فرشتے کے بالکل ساتھ ساتھ رہتے تھے، پس اللہ عزوجل حکم فرماتا ہے کہ جب فرشتہ وحی لے کر آئے آپ سنتے رہیں، پھر جس ڈر سے آپ ایسا کرتے تھے اسی طرح اس کا واضح کرانا اور تفسیر اور بیان آپ سے کرانے کے ذمہ داری بھی ہم ہی پر ہے، پس پہلی حالت یاد کرانا، دوسری تلاوت کرانا، تیسری تفسیر، مضمون اور توضیح مطلب کرانا تینوں کی کفالت اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لی، جیسے اور جگہ ہے آیت (وَلَا تَعْجَلْ بالْقُرْاٰنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ …
ناضرةٌ}؛ أي: حسنة بهيَّة لها رونقٌ ونورٌ مما هم فيه من نعيم القلوب وبهجة النفوس ولذَّة الأرواح، {إلى ربِّها ناظرةٌ}؛ أي: ينظرون إلى ربِّهم على حسب مراتبهم؛ منهم مَنْ ينظره كلَّ يوم بكرةً وعشيًّا، ومنهم من ينظره كلَّ جمعة مرةً واحدةً، فيتمتَّعون بالنَّظر إلى وجهه الكريم وجماله الباهر الذي ليس كمثله شيءٌ؛ فإذا رأوه؛ نسوا ما هم فيه من النعيم، وحصل لهم من اللَّذَّة والسرور ما لا يمكن التعبير عنه، ونضرت وجوهُهم، فازدادوا جمالاً إلى جمالهم، فنسأل الله الكريم أن يجعَلنَا معهم. {24 ـ 25} وقال في المؤثرين العاجلة على الآجلة، [و]{وجوهٌ يومئذٍ باسرةٌ}؛ أي: معبسةٌ كدرةٌ خاشعةٌ ذليلةٌ، {تظنُّ أن يُفۡعَلَ …
رگز نہیں !بلکہ تم پسند کرتے ہو دنیا کو (20) اور چھوڑے ہوئے ہو آخرت کو (21)کئی چہرے اس دن ترو تازہ ہوں گے (22) اپنے رب کی طرف دیکھتے ہوں گے (23) اور کئی چہرے اس دن بے رونق ہوں گے (24) وہ یقین کریں گے کہ کیا جائے گا ان سے (معاملہ) کمر توڑ دینے والا (25) [21,20] وہ چیز جو تمھاری غفلت اور اللہ تعالیٰ کے وعظ و تذکیر سے روگردانی کی موجب ہے، یہ ہے کہ تم ﴿ تُحِبُّوۡنَ الۡعَاجِلَةَ﴾ ’’دنیا کو پسند کرتے ہو‘‘ اور تم اس کو حاصل کرنے اور اس کی لذت و شہوات میں کوشاں رہتے ہو، تم آخرت پر اس کو ترجیح دیتے اور آخرت کے لیے عمل کرنا چھوڑ دیتے ہو کیونکہ دنیا کی نعمتیں اور لذتیں جلد مل جاتی ہیں اور انسان جلد مل …
وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ نَّاضِرَةٌ اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ (Many faces, that day, will be glowing, looking towards their Lord,...75:23). The word nadirah means 'fresh'. In other words, many faces that day will be happy, fresh and radiant. The words 'looking towards their Lord' mean 'gazing at their Lord'. This proves that the inmates of Paradise will see Allah in the Hereafter with physical eyes. The scholars of Ahlus-sunnah (those following the classic way of interpreting the religion) are unanimous on this issue. The Mu'tazilites and the Kharijites deny the possibility of seeing Allah, even …
آیت 25{ تَظُنُّ اَنْ یُّفْعَلَ بِہَا فَاقِرَۃٌ۔ } ”ان کو یقین ہوگا کہ اب ان کے ساتھ کمرتوڑ سلوک ہونے و الا ہے۔“ اس کے بعد اب قیامت صغریٰ یعنی انسان کی موت کے وقت کا نقشہ دکھایا جا رہا ہے۔ قیامت کبریٰ کا ذکر تو قبل ازیں ان آیات میں آچکا ہے : { فَاِذَا بَرِقَ الْبَصَرُ - وَخَسَفَ الْقَمَرُ H…}۔ لیکن انفرادی سطح پر تو ہر انسان کی موت ہی اس کی قیامت ہے۔ اسی لیے قیامت کبریٰ کے مقابلے میں ہر انسان کی موت کو اس کی ”قیامت صغریٰ“ کہا جاتا ہے۔ چناچہ ان آیات کا مطالعہ کرتے ہوئے ہر انسان کو اپنی ’ قیامت صغریٰ ‘ کا تصور اپنے ذہن میں مستحضر رکھنا چاہیے۔
تَظُنُّ أَنْ يُفْعَلَ بِهَا فَاقِرَةٌ (25)فجملة تَظُنّ أن يُفْعَل بها فاقرة } استئناف بياني لبيان سبب بسورها .و { فاقرة } : داهية عظيمة ، وهو نائب فاعل { يُفعل بها } ولم يقترن الفعل بعلامة التأنيث لأن مرفوعهُ ليس مؤنثاً حقيقياً ، مع وقوع الفصل بين الفعل ومرفوعه ، وكلا الأمرين يسوغ ترك علامة التأنيث . وإِفراد { فاقرة } إفراد الجنس ، أي نوعاً عظيماً من الداهية .والمعنى : أنهم أيقنوا بأن سيلاقوا دواهي لا يُكتنه كنهها .
plays offline — the recitation is inside this file
PickthallNay, but when the life cometh up to the throat
Yusuf AliYea, when (the soul) reaches to the collar-bone (in its exit),
Muhammad Junagarhiنہیں نہیں[1] جب روح ہنسلی تک[2] پہنچے گی.
al-Muyassarحقًّا إذا وصلت الروح إلى أعالي الصدر، وقال بعض الحاضرين لبعض: هل مِن راق يَرْقيه ويَشْفيه مما هو فيه؟ وأيقن المحتضر أنَّ الذي نزل به هو فراق الدنيا؛ لمعاينته ملائكة الموت، واتصلت شدة آخر الدنيا بشدة أول الآخرة، إلى الله تعالى مساق العباد يوم القيامة: إما إلى الجنة وإما إلى النار.
the agreed readingNo — when it reaches the collarbones: when the soul comes up to the bones of the throat, the commentaries agree, and the dying is nearly done.
ہرگز نہیں، جب جان ہنسلیوں تک پہنچ جائے گی۔ قرطبی وضاحت کرتے ہیں کہ کلا یہاں روکنے اور جھڑکنے کے لیے ہے، یعنی بعید ہے کہ کافر قیامت پر ایمان لائے، پھر آیت کا آغاز اذا بلغت التراقی سے ہوا، یعنی جب روح ان ہڈیوں تک پہنچ جائے۔ سعدی بتاتے ہیں کہ یہ حالتِ نزع کا بیان ہے، جب کرب شدید ہو جاتا ہے۔
كلا إذا بلغت التراقي. ذكر القرطبي أن كلا ردع وزجر، أي بعيد أن يؤمن الكافر بيوم القيامة، ثم استأنف فقال إذا بلغت التراقي أي بلغت النفس أو الروح. وذكر السعدي أنه إذا بلغت روحه التراقي، وهي العظام المكتنفة لثغرة النحر، فحينئذ يشتد الكرب.
26 of the 36 commentaries carry this āyah
all 26, in their own words
al-Tabarid.923 · ar · PD
القول في تأويل قوله تعالى: ﴿كَلا إِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِيَ (٢٦) وَقِيلَ مَنْ رَاقٍ (٢٧) وَظَنَّ أَنَّهُ الْفِرَاقُ (٢٨) وَالْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ (٢٩) إِلَى رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ الْمَسَاقُ (٣٠) ﴾ . يقول تعالى ذكره: ليس الأمر كما يظنّ هؤلاء المشركون من أنهم لا يعاقبون على شركهم ومعصيتهم ربهم بل إذا بلغت نفس أحدهم التراقي عند مماته وحشرج بها. وقال ابن زيد في قول الله: ﴿كَلا إِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِيَ﴾ قال: التراقي: نفسه. ⁕ حدثني بذلك يونس، قال: أخبرنا ابن وهب، قال: قال ابن زيد: ﴿وَقِيلَ مَنْ رَاقٍ﴾ يقول تعالى ذكره: وقال أهله: من ذا يرقيه ليشفيه مما قد نزل به، وطلبوا له الأطباء …
كَلَّا ردع عن إيثار الدنيا على الآخرة، كأنه قيل: ارتدعوا عن ذلك، وتنبهوا على ما بين أيديكم من الموت الذي عنده تنقطع العاجلة عنكم، وتنتقلون إلى الآجلة التي تبقون فيها مخلدين. والضمير في بَلَغَتِ للنفس وإن لم يجر لها ذكر، لأنّ الكلام الذي وقعت فيه يدل عليها، كما قال حاتم: أماويّ ما يغنى الثّراء عن الفتى ... إذا حشرجت يوما وضاق بها الصّدر [[أماوى ما يغنى الثراء عن الفتى ... إذا حشرجت يوما وضاق بها الصدر أماوى إن المال غاد ورائح ... ويبقى من المال الأحاديث والذكر وقد علم الأقوام لو أن حاتما ... أراد ثراء المال كان له وفر لحاتم الطائي، والهمزة النداء ومأوى: مرخم، أصله: ماوية، اسم أمه وهي بنت عفير …
كَلَّا إِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِيَ (Nay, when it reaches to the collarbones.) If we make the word "Kalla" negative, then this Ayah means, 'O son of Adam! You are not able to deny that which I informed you of at that time (death). This will become something witnessed by you with your own eyes.' If we consider the word "Kalla" to be a word of affirmation, then this would be the most obvious meaning. In this case it would mean that it is certainly true when the soul reaches the collarbones - meaning, 'your soul will be pulled out of your body and it will reach your collarbones.' This is similar …
جب ہماری روح حلق تک پہنچ جاتی ہے اور اس کے بعد کیا ہوتا ہے یہاں موت کا اور سکرات کی کیفیت کا بیان ہو رہا ہے اللہ تعالیٰ ہمیں اس وقت حق پر ثابت قدم رکھے۔ (کلا) کو اگر یہاں ڈانٹ کے معنی میں لیا جائے تو یہ معنی ہوں گے کہ " اے ابن آدم تو جو میری خبروں کو جھٹلاتا ہے یہ درست نہیں بلکہ ان کے مقدمات تو تو روزمرہ کھلم کھلا دیکھ رہا ہے " اور اگر اس لفظ کو (حقا) کے معنی میں لیں تو مطلب اور زیادہ ظاہر ہے یعنی یہ بات یقینی ہے کہ جب تیری روح تیرے جسم سے نکلنے لگے اور تیرے نرخرے تک پہنچ جائے (تراقی) جمع ہے (ترقوۃ) کی ان ہڈیوں کو کہتے ہیں جو سینے پر اور مونڈھوں کے درمیان میں ہیں جسے ہانس کی ہڈی کہتے ہیں …
Tafsir al-Jalalaynd.1505 · ar · PD
كَلّا﴾ بِمَعْنى ألا ﴿إذا بَلَغَتْ﴾ النَّفْس ﴿التَّراقِيَ﴾ عِظام الحَلْق
موت کے وقت جب روح ہنسلی میں آجائے گی:یعنی آخرت کو ہرگز دور مت سمجھو۔ اس سفر آخرت کی پہلی منزل تو موت ہے جو بالکل قریب ہے یہیں سے باقی منزلیں طے کرتے ہوئے آخری ٹھکانے پر جا پہنچو گے۔ گویا ہر آدمی کی موت اس کے حق میں بڑی قیامت کا ایک چھوٹا سا نمونہ ہے۔ جہاں مریض کی روح سمٹ کر ہنسلی تک پہنچی اور سانس حلق میں رکنے لگی سمجھو کہ سفر آخرت شروع ہو گیا۔
يَعِظُ تعالى عبادَه بذكر المحتضر حال السياق ، وأنَّه إذا بلغت روحه {التراقي}: وهي العظام المكتنفة لثُغْرَةِ النَّحر؛ فحينئذٍ يشتدُّ الكربُ، ويطلب كلَّ وسيلةٍ وسببٍ يظنُّ أن يحصل به الشفاء والراحة، ولهذا قال:{وقيلَ مَنۡ راقٍ}؛ أي: من يرقيه، من الرُّقية؛ لأنَّهم انقطعت آمالهم من الأسباب العاديَّة، فتعلَّقوا بالأسباب الإلهيَّة ، ولكنَّ القضاء والقدر إذا حتم وجاء؛ فلا مردَّ له، {وظنَّ أنَّه الفراقُ}: للدنيا، {والتفَّتِ السَّاقُ بالسَّاق}؛ أي: اجتمعت الشدائد والتفَّت، وعظُم الأمر، وصعُب الكرب، وأريد أن تخرجَ الرُّوح من البدن الذي ألفته ولم تزل معه، فتساق إلى الله تعالى ليجازيها بأعمالها ويقرِّرها …
رگز نہیں! جب پہنچ جائے گی (روح) ہنسلی تک (26) اور کہا جائے گا، کون ہے جھاڑ پھونک کرنے والا؟ (27) اور وہ یقین کرے گا کہ یہ فراق ہے (28) اور لپٹ جائے گی پنڈلی پنڈلی سے(29) آپ کے رب ہی کی طرف ہو گا اس دن چلنا (30) پس نہ تو اس نے تصدیق کی اور نہ نماز پڑھی (31) اور لیکن اس نے جھٹلایا اور رو گردانی کی (32) پھر وہ گیا اپنے اہل و عیال کی طرف اتراتا ہوا (33) ہلاکت ہے تیرے لیے پھر خرابی ہے (34) پھر ہلاکت ہے تیرے لیے پھر تبا ہی ہے (35) کیا سمجھتا ہے انسان یہ کہ چھوڑ دیا جائے گا وہ بے کار؟ (36) کیا نہیں تھا وہ ایک قطرہ منی کا جو (رحم میں) ٹپکایا جاتا ہے؟ (37) پھر وہ ہو گیا جما ہوا خون تواس(اللہ) نے پیدا …
موت کا منظر ہے اور یہ نص قرآنی اسے یوں پیش کررہا ہے گویا وہ آنکھوں کے سامنے ہے۔ یہ منظر آنکھوں کے سامنے یوں آرہا ہے جس طرح مصور کے قلم سے رنگ نکلتے ہی تصویر کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ کلا اذا ................ التراقی (75:26) ” ہرگز نہیں ، جب جان حلق تک پہنچ جائے “۔ جب روح حلق تک آجائے تو اس وقت انسان کی زندگی کے آخری لمحات ہوتے ہیں۔ ان لمحات میں انسان پر ذہول اور مدہوشی طاری ہوجاتی ہے۔ انسان پر شدت کی ایسی حالت طاری ہوجاتی ہے کہ نظریں ٹکٹی باندھ لیتی ہیں اور جس کی موت وقاع ہورہی ہوتی ہے ، اس کے ارد گرد دوست و رشتہ دار جمع ہوجاتے ہیں اور مرنے والے کو بچانے کے لئے ہر حیلہ اور ہر وسیلہ اختیار کرتے …
كَلَّآ اِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِيَ وَقِيْلَ مَنْ ۫رَاقٍ وَّظَنَّ اَنَّهُ الْفِرَاقُ وَالْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ اِلٰى رَبِّكَ يَوْمَىِٕذِۨ الْمَسَاقُ (When the soul [ of a patient ] reaches the clavicles, and it is said, "Who is an enchanter [ that can save him?] ", and he realizes that it is [ the time on departure [ from the world,] and one shank is intertwined with the other shank, then on that day, it is to your Lord that one has to be driven.... 75:26-30] In the preceding verses, reckoning on the Day of Reckoning and conditions of the inmates of Paradise and Hell were described. In …
اس ”ہرگز نہیں“کا تعلق اسی سلسلہ ٔ کلام سے ہے جو اوپر سے چلا آرہا ہے ،یعنی تمہارا یہ خیال غلط ہے کہ تمہیں مر کر فنا ہوجانا ہے اور اپنے رب کے حضور واپس جانا نہیں ہے۔
The word Nay relates to the context, and means: You are wrong in thinking that you will be annihilated after death and you will not return to your Lord.
ثم زجر - سبحانه - الذين يكذبون بيوم الدين ، ويؤثرون العاجلة على الآجلة ، زجَرهم بلون آخر من ألوان الردع والزجر ، حيث ذكرهم بأحوالهم الأليمة عندما يودعون هذه الدنيا فقال : ( كَلاَّ إِذَا بَلَغَتِ التراقي . وَقِيلَ مَنْ رَاقٍ . وَظَنَّ أَنَّهُ الفراق ) .والضمير فى ( بَلَغَتِ ) يعود إلى الروح المعلومة من المقام . كما فى قوله - تعالى - ( فَلَوْلاَ إِذَا بَلَغَتِ الحلقوم . . ) ومنه قول الشاعر :أماوى ما يغنى الثراء عن الفتى ... إذا حشرجت يوما وضاق بها الصدروالتراقى : جمع تَرْقُوه ، وهى العظام المحيطة بأعالى الصدر عن يمينه ، وعن شماله ، وهى موضع الحشرجة ، وجواب الشرط محذوف .أى : حتى إذا بلغت روح …
كَلَّا إِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِيَ (26) ردع ثان على قول الإِنسان { أيَّانَ يوم القيامة } [ القيامة : 6 ] ، مؤكِّد للردع الذي قبله في قوله : { كَلاَّ بل تحبّون العاجلة } [ القيامة : 20 ] . ومعناه زجر عن إحالة البعث فإنه واقع غير بعيد فكل أحد يشاهده حين الاحتضار للموت كما يؤذن به قوله : { إلى ربك يومئذٍ المَساق } أُتبع توصيف أشراط القيامة المباشرة لحلوله بتوصيف أشراط حلول التهيُّؤِ الأول للقائه من مفارقة الحياة الأولى .وعن المغيرة بن شعبة يقولون : القيامة القيامةُ ، وإنما قيامة أحدهم موته ، وعن علقمة أنه حضر جنازة فلما دفن قال : «أمَّا هذا فقد قامت قيامته» ، فحالة الاحْتضار هي آخر أحوال الحياة …
حقًّا إذا وصلت الروح إلى أعالي الصدر، وقال بعض الحاضرين لبعض: هل مِن راق يَرْقيه ويَشْفيه مما هو فيه؟ وأيقن المحتضر أنَّ الذي نزل به هو فراق الدنيا؛ لمعاينته ملائكة الموت، واتصلت شدة آخر الدنيا بشدة أول الآخرة، إلى الله تعالى مساق العباد يوم القيامة: إما إلى الجنة وإما إلى النار.
عنی یہ ممکن نہیں کہ کافر قیامت پر ایمان لے آئیں۔ - تراقی، ترقوہ کی جمع ہے ۔یہ گردن کے قریب، سینے اور کندھے کے درمیان ایک ہڈی ہے، یعنی جب موت آئے گی آہنی پنجہ تمہیں اپنی گرفت میں لے لے گا۔
The matter is not as the idolaters imagined - that they will not be punished when they die. When the soul of any one of them reaches the upper part of his chest.
(Nay) truly, (but when the life cometh up to the throat) when the soul of the body reaches the throat
No commentary keyed to this āyah in: Bayan ul Quran (Urdu), Hilali & Khan, notes (English), Jawāmiʿ al-jāmiʿ (al-Ṭabrisī), Majmaʿ al-bayān (al-Ṭabrisī), Nūr al-thaqalayn (al-Ḥuwayzī), Tafsīr al-Qummī, Tazkir ul Quran (Urdu), Tazkirul Quran (English), al-Mīzān (Ṭabāṭabāʾī), al-Tibyān (al-Ṭūsī).
the words of this āyah — root, frequency, family
كَلّا
occurs 33 times
إِذا
occurs 423 timesamong the commonest 300 words
بَلَغَ
occurs 40 timesroot بلغ occurs 77among the commonest 300 words
26. எனினும், (எவனேனும் நோய்வாய்ப்பட்டு, அவனின்) உயிர் தொண்டைக் குழியை அடைந்துவிட்டால்,
தமிழ் Abridged Version · v1.0.2
அவ்வாறல்ல! (-தங்களின் இணைவைத்தலுக்காகவும் பாவங்களுக்காகவும் தாங்கள் தண்டிக்கப்பட மாட்டோம் என்று இணைவைப்பவர்கள் எண்ணுவது போல் அல்ல. பாவியின்) உயிர் (பிரிகின்ற நேரத்தில் அது) தொண்டைக் குழியை அடைந்தால்,
தமிழ் Omar Sharif · v1.0.3
அவ்வாறல்ல! (-அவர்கள் தங்களது இணைவைத்தலுக்காகவும் பாவங்களுக்காகவும் தண்டிக்கப்பட மாட்டார்கள் என்று நினைப்பது போல் அல்ல. பாவிகளின்) உயிர் (பிரிகின்ற நேரத்தில் அது) தொண்டைக் குழியை அடைந்தால்,
తెలుగు Abdurrahim ibn Muhammad · v1.0.6
అలా కాదు! ప్రాణం గొంతులోకి వచ్చినపుడు[1];
ಕನ್ನಡ Hamza Butur · v1.0.3
ಇಲ್ಲ, ಆತ್ಮವು ಕೊರಳ ಮೂಳೆಗೆ ತಲುಪಿದಾಗ.
മലയാളം Abdul Hamid Haidar and Kunhi Muhammad · v1.0.3
അല്ല, (പ്രാണന്) തൊണ്ടക്കുഴിയില് എത്തുകയും,
සිංහල Rowwad Translation Center · v1.0.6
එසේ නොව (ප්රාණය) උගුරු දණ්ඩ දක්වා ළඟා වූ විට;
ไทย Rowwad Translation Center · v1.0.1
เปล่าเลย เมื่อวิญญาณขึ้นมาถึงคอหอย
አማርኛ Africa Academy · v1.0.1
26. (ሙስሊሞች አስተውሉ።) (ነፍስ) ወደ ጉሮሮ በደረሰች፤
አማርኛ Muhammad Sadiq · v1.1.2
ንቁ (ነፍስ) ብሪዎችን በደረሰች ጊዜ፤
ភាសាខ្មែរ Islamic Community Development Association · v1.0.2
មិនដូច្នោះទេ. នៅពេលដែលវា(ដង្ហើម)បានមកដល់ បំពង់ក។
ភាសាខ្មែរ Rowwad Translation Center · v1.0.4
មិនដូច្នោះឡើយ។ នៅពេលដែលព្រលឹងបានមកដល់បំពង់ក
中文 Muhammad Makeen · v1.0.2
真的,灵魂达到锁骨,
中文 Muhammad Suleiman · v1.0.8
真的,当〔灵魂〕达到锁骨时,
日本語 Saeed Sato · v1.0.13
断じて(、復活と報いなどでは)ない!(死期が到来して、)それ(魂)が鎖骨まで達し、[1]
Al-Qiyamah 75 : 27
وَقِيلَمَنْرَاقٍ
waqiyla man raaqin
plays offline — the recitation is inside this file
PickthallAnd men say: Where is the wizard (who can save him now)?
Yusuf AliAnd there will be a cry, "Who is a magician (to restore him)?"
Muhammad Junagarhiاور کہا جائے گا کہ کوئی جھاڑ پھونک[1] کرنے واﻻ ہے؟
al-Muyassarحقًّا إذا وصلت الروح إلى أعالي الصدر، وقال بعض الحاضرين لبعض: هل مِن راق يَرْقيه ويَشْفيه مما هو فيه؟ وأيقن المحتضر أنَّ الذي نزل به هو فراق الدنيا؛ لمعاينته ملائكة الموت، واتصلت شدة آخر الدنيا بشدة أول الآخرة، إلى الله تعالى مساق العباد يوم القيامة: إما إلى الجنة وإما إلى النار.
the agreed readingand it is said: who can heal him? Said by those around him, the commentaries agree, looking for anyone who might still cure him.
اور کہا جائے گا: کون ہے جو جھاڑ پھونک کرے؟ تفسیر مقباس کے مطابق اس کا مطلب ہے کسی نے کہا کون اس کے شفا کے لیے دم کرے گا؟ یعنی مریض کے گھر والوں نے کسی ایسے شخص کی تلاش کی جو دم کرنا جانتا ہو، مرض کی شدت بڑھنے کے وقت، جو عرب کا ایک معروف رواج تھا۔
وقيل من راق. جاء في تفسير مقباس أن معنى وقيل من راق: وقال قائل من يرقي هذا رقيات لشفائه، أي سأل أهل المريض عن وجدان أحد يرقي، وذلك عند توقع اشتداد المرض به والبحث عن عارف برقية المريض، عادة عربية.
No Shīʿī edition could be anchored to this āyah by the alignment; the commentary exists in the books, the method could not point at it.
25 of the 36 commentaries carry this āyah
all 25, in their own words
al-Tabarid.923 · ar · PD
القول في تأويل قوله تعالى: ﴿كَلا إِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِيَ (٢٦) وَقِيلَ مَنْ رَاقٍ (٢٧) وَظَنَّ أَنَّهُ الْفِرَاقُ (٢٨) وَالْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ (٢٩) إِلَى رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ الْمَسَاقُ (٣٠) ﴾ . يقول تعالى ذكره: ليس الأمر كما يظنّ هؤلاء المشركون من أنهم لا يعاقبون على شركهم ومعصيتهم ربهم بل إذا بلغت نفس أحدهم التراقي عند مماته وحشرج بها. وقال ابن زيد في قول الله: ﴿كَلا إِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِيَ﴾ قال: التراقي: نفسه. ⁕ حدثني بذلك يونس، قال: أخبرنا ابن وهب، قال: قال ابن زيد: ﴿وَقِيلَ مَنْ رَاقٍ﴾ يقول تعالى ذكره: وقال أهله: من ذا يرقيه ليشفيه مما قد نزل به، وطلبوا له الأطباء …
من المال» أى من آثاره، ولو كفت «علم» عن العمل في المفعول وعبر عن نفسه بالظاهر، لأن هذا الكلام تتحدث به نفوس الأقوام، فاعتبر صدوره منهم. وثراه المال: الغنى به، أو جمعه. والوفر: الزيادة والمال الكثير.]] وتقول العرب: أرسلت، يريدون: جاء المطر، ولا تكاد تسمعهم يذكرون السماء التَّراقِيَ العظام المكتنفة لثغرة النحر عن يمين وشمال. ذكرهم صعوبة الموت الذي هو أول مراحل الآخرة حين تبلغ الروح التراقي ودنا زهوقها: وقال حاضر وصاحبها- وهو المحتضر- بعضهم لبعض مَنْ راقٍ أيكم يرقيه مما به؟ وقيل: هو من كلام ملائكة الموت: أيكم يرقى بروحه؟ ملائكة الرحمة أم ملائكة العذاب؟ وَظَنَّ المحتضر أَنَّهُ الْفِراقُ أنّ هذا …
كَلَّا إِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِيَ (Nay, when it reaches to the collarbones.) If we make the word "Kalla" negative, then this Ayah means, 'O son of Adam! You are not able to deny that which I informed you of at that time (death). This will become something witnessed by you with your own eyes.' If we consider the word "Kalla" to be a word of affirmation, then this would be the most obvious meaning. In this case it would mean that it is certainly true when the soul reaches the collarbones - meaning, 'your soul will be pulled out of your body and it will reach your collarbones.' This is similar …
جب ہماری روح حلق تک پہنچ جاتی ہے اور اس کے بعد کیا ہوتا ہے یہاں موت کا اور سکرات کی کیفیت کا بیان ہو رہا ہے اللہ تعالیٰ ہمیں اس وقت حق پر ثابت قدم رکھے۔ (کلا) کو اگر یہاں ڈانٹ کے معنی میں لیا جائے تو یہ معنی ہوں گے کہ " اے ابن آدم تو جو میری خبروں کو جھٹلاتا ہے یہ درست نہیں بلکہ ان کے مقدمات تو تو روزمرہ کھلم کھلا دیکھ رہا ہے " اور اگر اس لفظ کو (حقا) کے معنی میں لیں تو مطلب اور زیادہ ظاہر ہے یعنی یہ بات یقینی ہے کہ جب تیری روح تیرے جسم سے نکلنے لگے اور تیرے نرخرے تک پہنچ جائے (تراقی) جمع ہے (ترقوۃ) کی ان ہڈیوں کو کہتے ہیں جو سینے پر اور مونڈھوں کے درمیان میں ہیں جسے ہانس کی ہڈی کہتے ہیں …
ون ہے جھاڑ پھونک کرنے والا:ایسی مایوسی کے وقت طبیبوں اور ڈاکٹروں کی کچھ نہیں چلتی جب لوگ ظاہری علاج و تدبیر سے عاجز آجاتے ہیں تو جھاڑ پھونک اور تعویذ گنڈوں کی سوجھتی ہے۔ کہتے ہیں کہ میاں کوئی ایسا شخص ہے جو جھاڑ پھونک کر کے اس کو مرنے سے بچا لے اور بعحض سلف نے کہا کہ مَنْ رَاقٍ فرشتوں کاکلام ہے جو ملک الموت کے ساتھ روح قبض کرنے کے وقت آتے ہیں وہ آپس میں پوچھتے ہیں کہ کون اس مردے کی روح کو لے جائیگا رحمت کے فرشتے یا عذاب کے؟ اس تقریر پر "راقی" سے مشتق ہوگا جس کے معنی اوپر چڑھنے کے ہیں۔ "رقیہ" سے نہ ہوگا۔ جو افسوں کے معنی میں ہے۔
يَعِظُ تعالى عبادَه بذكر المحتضر حال السياق ، وأنَّه إذا بلغت روحه {التراقي}: وهي العظام المكتنفة لثُغْرَةِ النَّحر؛ فحينئذٍ يشتدُّ الكربُ، ويطلب كلَّ وسيلةٍ وسببٍ يظنُّ أن يحصل به الشفاء والراحة، ولهذا قال:{وقيلَ مَنۡ راقٍ}؛ أي: من يرقيه، من الرُّقية؛ لأنَّهم انقطعت آمالهم من الأسباب العاديَّة، فتعلَّقوا بالأسباب الإلهيَّة ، ولكنَّ القضاء والقدر إذا حتم وجاء؛ فلا مردَّ له، {وظنَّ أنَّه الفراقُ}: للدنيا، {والتفَّتِ السَّاقُ بالسَّاق}؛ أي: اجتمعت الشدائد والتفَّت، وعظُم الأمر، وصعُب الكرب، وأريد أن تخرجَ الرُّوح من البدن الذي ألفته ولم تزل معه، فتساق إلى الله تعالى ليجازيها بأعمالها ويقرِّرها …
رگز نہیں! جب پہنچ جائے گی (روح) ہنسلی تک (26) اور کہا جائے گا، کون ہے جھاڑ پھونک کرنے والا؟ (27) اور وہ یقین کرے گا کہ یہ فراق ہے (28) اور لپٹ جائے گی پنڈلی پنڈلی سے(29) آپ کے رب ہی کی طرف ہو گا اس دن چلنا (30) پس نہ تو اس نے تصدیق کی اور نہ نماز پڑھی (31) اور لیکن اس نے جھٹلایا اور رو گردانی کی (32) پھر وہ گیا اپنے اہل و عیال کی طرف اتراتا ہوا (33) ہلاکت ہے تیرے لیے پھر خرابی ہے (34) پھر ہلاکت ہے تیرے لیے پھر تبا ہی ہے (35) کیا سمجھتا ہے انسان یہ کہ چھوڑ دیا جائے گا وہ بے کار؟ (36) کیا نہیں تھا وہ ایک قطرہ منی کا جو (رحم میں) ٹپکایا جاتا ہے؟ (37) پھر وہ ہو گیا جما ہوا خون تواس(اللہ) نے پیدا …
كَلَّآ اِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِيَ وَقِيْلَ مَنْ ۫رَاقٍ وَّظَنَّ اَنَّهُ الْفِرَاقُ وَالْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ اِلٰى رَبِّكَ يَوْمَىِٕذِۨ الْمَسَاقُ (When the soul [ of a patient ] reaches the clavicles, and it is said, "Who is an enchanter [ that can save him?] ", and he realizes that it is [ the time on departure [ from the world,] and one shank is intertwined with the other shank, then on that day, it is to your Lord that one has to be driven.... 75:26-30] In the preceding verses, reckoning on the Day of Reckoning and conditions of the inmates of Paradise and Hell were described. In …
اصل میں لفظ رَاق استعمال ہوا ہے جو رُقیہ سے بھی ماخوذ ہو سکتا ہے جس کے معنی تعویز گنڈے اور جھاڑ پھونک کے ہیں ، اورَتی سے بھی ، جس کے معنی چڑھنے کے ہیں ۔ اگر پہلے معنی لیے جائیں تو مطلب یہ ہو گا کہ آخر وقت میں جب مریض کے تیمار داری ہر دوا دارو سے مایوس ہوجائیں گے تو کہیں گے کہ ارے کسی جھاڑ پھونک کرنے والے ہی کو تلاش کرو جو اس کی جان بچا لے۔ اور اگر دوسرے معنی لیے جائیں تو مطلب یہ ہوگا کہ اس وقت فرشتے کہیں کہ اس روح کو کیسے لے کر جانا ہے؟ ملائکہ عذاب کو یا ملائکہ رحمت کو ؟ بالفاظ دیگر اسی وقت یہ فیصلہ ہو جائے گا کہ یہ مرنے والاکس حیثیت میں عالم ِآخرت کی طرف جارہا ہےنیک انسان ہو گا تو ملائکہ …
The word raqin in the original may he derived from ruqayyah, which means resort to charming, enchanting and exercising, and also from raqi, which means ascending. In the first case, the meaning would be: At last, when the attendants of the patient are disappointed with every remedy and cure, they will say: Let us at least call in an enchanter, who may save him. In the second case, the meaning would be: At that time the angels will say: which angels are to take his soul: the angels of punishment or the angels of mercy? In other words, at that very time the question will be decided in what …
وقوله - سبحانه - : ( وَقِيلَ مَنْ رَاقٍ ) بيان لما يقوله أحباب الإِنسان الذى بلغت روحه التراقى ، على سبيل التحسر والتوجع واستبعاد شفائه . و ( من ) اسم استفهام مبتدأ . و ( راق ) خبره ، وهو اسم فاعل من الرُّقية ، وهى كلام يقوله القائل ، أو فعل يفعله الفاعل من أجل شفاء المريض .والمراد به هنا : مطلق الطبيب الذى يرجى على يديه الشفاء لهذا المحتضر .أى : اذكروا - أيها الناس - وقت بلوغ الروح نهايتها ، ووقت أن وقف من يهمهم أمر المريض مستسلمين لقضاء الله - تعالى - وملتمسين من كل من بيده شفاء مريضهم ، أن يتقدم لإِنقاذه مما هو فيه من كرب ، ولكنهم لا يجدون أحدا يحقق لهم آمالهم .قال الآلوسى : قوله : ( …
آیت 27{ وَقِیْلَ مَنْسکتۃ رَاقٍ۔ } ”اور کہا جاتا ہے کہ ہے کوئی جھاڑ پھونک کرنے والا ؟“ یہ اس کیفیت کا نقشہ ہے جب بڑے بڑے ڈاکٹر جواب دے دیتے ہیں ‘ حکماء و اطباء معذرت کرلیتے ہیں اور عزیز و اقارب کہنا شروع کرد یتے ہیں کہ بس جی اب دعا کریں۔ اس وقت بڑے سے بڑا عقلیت پسند شخص بھی چاہتا ہے کہ کسی جھاڑ پھونک کرنے والے کو بلا لیا جائے یا کسی تعویذ گنڈے والے کو پوچھ لیا جائے۔ شاید کہ ایسی کسی ترکیب سے اس کا پیارا موت کے منہ میں جانے سے بچ جائے۔
وَقِيلَ مَنْ رَاقٍ (27) ومعنى { وقيل مَنْ رَاقٍ } وقال قائل : من يَرْقِي هذا رُقْيَات لشفائه؟ أي سأل أهلُ المريض عن وِجْدَاننِ أحد يرقي ، وذلك عند توقع اشتداد المرض به والبحث عن عارف برقية المريض عادة عَربية ورد ذكرها في حديث السَرِيَّة الذين أَتَوْا على حيّ من أحياء العرب إذْ لُدغ سيد ذلك الحي فعَرض لهم رجل من أهل الحي ، فقال : هل فيكم مِن راق؟ إن في الماء رجلاً لديغاً أو سليماً . رواه البخاري عن أبي سعيد الخدري وعبد الله بن عباس في الرقيا بفاتحة الكتاب .والرقيا بالقصر ، ويقال بهاء تأنيث : هي كلام خاص معتقَد نفعه يقوله قائل عند المريض واضعاً يده في وقت القراءة على موضع الوَجَع من المريض أو …
حقًّا إذا وصلت الروح إلى أعالي الصدر، وقال بعض الحاضرين لبعض: هل مِن راق يَرْقيه ويَشْفيه مما هو فيه؟ وأيقن المحتضر أنَّ الذي نزل به هو فراق الدنيا؛ لمعاينته ملائكة الموت، واتصلت شدة آخر الدنيا بشدة أول الآخرة، إلى الله تعالى مساق العباد يوم القيامة: إما إلى الجنة وإما إلى النار.
عنی حاضرین میں سے کوئی ہے جو جھاڑ پھونک کے ذریعہ سے تمہیں موت کے پنجے سے چھڑا لے۔ بعض نے اس کا ترجمہ یہ بھی کیا ہے کہ اس کی روح کون لے کر چڑھے گا ملائکہ رحمت یا ملائکہ عذاب؟ اس صورت میں یہ قول فرشتوں کا ہے۔
(And men say) and those around it among his family and others say: (Where is the wizard (who can save him now)?) Is there any physician who can cure him? It is also said this means: the angels say to one another: who will rise with his soul to Allah?
No commentary keyed to this āyah in: Fi Zilal al-Quran (Urdu), Hilali & Khan, notes (English), Jawāmiʿ al-jāmiʿ (al-Ṭabrisī), Majmaʿ al-bayān (al-Ṭabrisī), Nūr al-thaqalayn (al-Ḥuwayzī), Tafsīr al-Qummī, Tazkir ul Quran (Urdu), Tazkirul Quran (English), al-Mīzān (Ṭabāṭabāʾī), al-Tibyān (al-Ṭūsī), al-Ṣāfī (Fayḍ al-Kāshānī).
the words of this āyah — root, frequency, family
و
occurs 9594 timesamong the commonest 300 words
قالَ
occurs 1618 timesroot قول occurs 1722among the commonest 300 words
قالَ1618قَوْل92قائِل5قِيل4تَقَوَّلَ2أَقاوِيل1
مَن
occurs 871 timesamong the commonest 300 words
راق
occurs ONCE in the whole Qurʾānroot رقي occurs 4
تَرْقَى1رُقِيّ1يَرْتَقُ1راق1
this āyah in 55 languages — 74 translations
Akan Harun Ismail · v1.0.3
Wͻka sε: “Hwan na ͻbεgye no”.
Azərbaycan Ali Khan Musayev · v1.0.4
“Kimdir ovsun edən?”– deyiləcək.
Bahasa Indonesia Ministry of Religious Affairs · v1.0.1
dan dikatakan (kepadanya), "Siapa yang dapat menyembuhkan?"
Bahasa Indonesia Sabiq Company · v1.1.3
27. Dan dikatakan (kepadanya), “Siapa yang dapat menyembuhkan?”
Bahasa Indonesia The Complex · v1.0.1
dan dikatakan (kepadanya), "Siapakah yang dapat menyembuhkan?"
Bosanski Muhammad Mahanovic · v1.1.0
i vikne se: "Ko je vidar da vida?!",
Bosanski Rowwad Translation Centre · v2.0.4
i vikne se: "Ima li vidara?",
Cebuano Rowwad Translation Center · v1.1.3
Ug iga-ingon: "Kinsa ba ang makaayo kaniya ug makaluwas kaniya gikan sa kamatayon?"
Deutsch Frank Bubenheim · v1.1.4
und gesagt wird: Wer ist ein Zauberer (, der ihn retten kann)?,
Deutsch Rowwad Translation Center · v1.0.15
und gesagt wird: „Wer ist ein (Ruqya-)Heiler (, der ihn behandeln kann)?“,
English Hilali and Khan · v1.1.2
27. And it will be said: "Who can cure him (and save him from death)?"
English Noor International Center · v1.1.2
And it is said, "Who will cure [him]?"
English Rowwad Translation Center · v1.0.19
and it is said, “Is there any healer?”
Español Isa Garcia · v1.0.2
27. y digan [quienes están junto al agonizante]: “¿Hay alguien que pueda curarlo?”
Español Noor International Center · v1.0.1
y (alguien) diga: «¿Quién puede curarlo?»,
Español issued by Noor International · v1.0.1
y (alguien) diga: “¿Quién puede curarlo?”,
Français Noor International Center · v1.0.0
27. et qu’il sera demandé : « Quel exorciste (peut la sauver) ? »
Français Rachid Maach · v1.0.3
et que ceux qui l’entourent demandent si quelqu’un peut le sauver,
Fulfulde Rowwad Translation Center · v1.0.2
Wi'e hombo woni moccaoowa.
Hausa Abu Bakr Jumi · v1.2.2
kuma aka ce: "Wãne ne mai tawada?"
Hrvatski Rowwad Translation Center · v1.0.1
i vikne se: "Ima li vidara?"
Kinyarwanda Rwanda Muslim Association · v1.0.5
Hanyuma hakavugwa ngo “Ni nde wamutabara (akamurinda urupfu)?”
Kirundi Yusuf Gahiti · v1.0.4
Maze uwuri hafi, akabwirwa n’abari ng’aho ati: “Mbega yemwe, ni nde yomukiza!”;
plays offline — the recitation is inside this file
PickthallAnd he knoweth that it is the parting;
Yusuf AliAnd he will conclude that it was (the Time) of Parting;
Muhammad Junagarhiاور جان لیا اس نے کہ یہ وقت جدائی ہے.[1]
al-Muyassarحقًّا إذا وصلت الروح إلى أعالي الصدر، وقال بعض الحاضرين لبعض: هل مِن راق يَرْقيه ويَشْفيه مما هو فيه؟ وأيقن المحتضر أنَّ الذي نزل به هو فراق الدنيا؛ لمعاينته ملائكة الموت، واتصلت شدة آخر الدنيا بشدة أول الآخرة، إلى الله تعالى مساق العباد يوم القيامة: إما إلى الجنة وإما إلى النار.
the agreed readingand he is certain that it is the parting — the parting from the world, the commentaries gloss, known for certain now rather than feared.
اور وہ یقین کر لے گا کہ یہ جدائی ہے۔ تفسیر مقباس کے مطابق ظن سے مراد یقین کے قریب علم ہے، اور انہ کی ضمیر ضمیرِ شان ہے، یعنی وہ یقین کر لے گا کہ یہ بڑا معاملہ، یعنی جدائی ہے، یعنی زندگی سے جدائی۔
وظن أنه الفراق. جاء في تفسير مقباس أن الظن هو العلم المقارب لليقين، وضمير أنه ضمير شأن، أي وأيقن أنه، أي الأمر العظيم الفراق، أي فراق الحياة.
24 of the 36 commentaries carry this āyah
all 24, in their own words
al-Tabarid.923 · ar · PD
القول في تأويل قوله تعالى: ﴿كَلا إِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِيَ (٢٦) وَقِيلَ مَنْ رَاقٍ (٢٧) وَظَنَّ أَنَّهُ الْفِرَاقُ (٢٨) وَالْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ (٢٩) إِلَى رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ الْمَسَاقُ (٣٠) ﴾ . يقول تعالى ذكره: ليس الأمر كما يظنّ هؤلاء المشركون من أنهم لا يعاقبون على شركهم ومعصيتهم ربهم بل إذا بلغت نفس أحدهم التراقي عند مماته وحشرج بها. وقال ابن زيد في قول الله: ﴿كَلا إِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِيَ﴾ قال: التراقي: نفسه. ⁕ حدثني بذلك يونس، قال: أخبرنا ابن وهب، قال: قال ابن زيد: ﴿وَقِيلَ مَنْ رَاقٍ﴾ يقول تعالى ذكره: وقال أهله: من ذا يرقيه ليشفيه مما قد نزل به، وطلبوا له الأطباء …
من المال» أى من آثاره، ولو كفت «علم» عن العمل في المفعول وعبر عن نفسه بالظاهر، لأن هذا الكلام تتحدث به نفوس الأقوام، فاعتبر صدوره منهم. وثراه المال: الغنى به، أو جمعه. والوفر: الزيادة والمال الكثير.]] وتقول العرب: أرسلت، يريدون: جاء المطر، ولا تكاد تسمعهم يذكرون السماء التَّراقِيَ العظام المكتنفة لثغرة النحر عن يمين وشمال. ذكرهم صعوبة الموت الذي هو أول مراحل الآخرة حين تبلغ الروح التراقي ودنا زهوقها: وقال حاضر وصاحبها- وهو المحتضر- بعضهم لبعض مَنْ راقٍ أيكم يرقيه مما به؟ وقيل: هو من كلام ملائكة الموت: أيكم يرقى بروحه؟ ملائكة الرحمة أم ملائكة العذاب؟ وَظَنَّ المحتضر أَنَّهُ الْفِراقُ أنّ هذا …
كَلَّا إِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِيَ (Nay, when it reaches to the collarbones.) If we make the word "Kalla" negative, then this Ayah means, 'O son of Adam! You are not able to deny that which I informed you of at that time (death). This will become something witnessed by you with your own eyes.' If we consider the word "Kalla" to be a word of affirmation, then this would be the most obvious meaning. In this case it would mean that it is certainly true when the soul reaches the collarbones - meaning, 'your soul will be pulled out of your body and it will reach your collarbones.' This is similar …
جب ہماری روح حلق تک پہنچ جاتی ہے اور اس کے بعد کیا ہوتا ہے یہاں موت کا اور سکرات کی کیفیت کا بیان ہو رہا ہے اللہ تعالیٰ ہمیں اس وقت حق پر ثابت قدم رکھے۔ (کلا) کو اگر یہاں ڈانٹ کے معنی میں لیا جائے تو یہ معنی ہوں گے کہ " اے ابن آدم تو جو میری خبروں کو جھٹلاتا ہے یہ درست نہیں بلکہ ان کے مقدمات تو تو روزمرہ کھلم کھلا دیکھ رہا ہے " اور اگر اس لفظ کو (حقا) کے معنی میں لیں تو مطلب اور زیادہ ظاہر ہے یعنی یہ بات یقینی ہے کہ جب تیری روح تیرے جسم سے نکلنے لگے اور تیرے نرخرے تک پہنچ جائے (تراقی) جمع ہے (ترقوۃ) کی ان ہڈیوں کو کہتے ہیں جو سینے پر اور مونڈھوں کے درمیان میں ہیں جسے ہانس کی ہڈی کہتے ہیں …
مرنے والے کو جدائی کا احساس:یعنی مرنیوالا سمجھ چکا کہ تمام عزیز و اقارب اور محبوب ومالوف چیزوں سے اب اسکو جدا ہونا ہے یا یہ مطلب کہ روح بدن سے جدا ہونے والی ہے۔
يَعِظُ تعالى عبادَه بذكر المحتضر حال السياق ، وأنَّه إذا بلغت روحه {التراقي}: وهي العظام المكتنفة لثُغْرَةِ النَّحر؛ فحينئذٍ يشتدُّ الكربُ، ويطلب كلَّ وسيلةٍ وسببٍ يظنُّ أن يحصل به الشفاء والراحة، ولهذا قال:{وقيلَ مَنۡ راقٍ}؛ أي: من يرقيه، من الرُّقية؛ لأنَّهم انقطعت آمالهم من الأسباب العاديَّة، فتعلَّقوا بالأسباب الإلهيَّة ، ولكنَّ القضاء والقدر إذا حتم وجاء؛ فلا مردَّ له، {وظنَّ أنَّه الفراقُ}: للدنيا، {والتفَّتِ السَّاقُ بالسَّاق}؛ أي: اجتمعت الشدائد والتفَّت، وعظُم الأمر، وصعُب الكرب، وأريد أن تخرجَ الرُّوح من البدن الذي ألفته ولم تزل معه، فتساق إلى الله تعالى ليجازيها بأعمالها ويقرِّرها …
رگز نہیں! جب پہنچ جائے گی (روح) ہنسلی تک (26) اور کہا جائے گا، کون ہے جھاڑ پھونک کرنے والا؟ (27) اور وہ یقین کرے گا کہ یہ فراق ہے (28) اور لپٹ جائے گی پنڈلی پنڈلی سے(29) آپ کے رب ہی کی طرف ہو گا اس دن چلنا (30) پس نہ تو اس نے تصدیق کی اور نہ نماز پڑھی (31) اور لیکن اس نے جھٹلایا اور رو گردانی کی (32) پھر وہ گیا اپنے اہل و عیال کی طرف اتراتا ہوا (33) ہلاکت ہے تیرے لیے پھر خرابی ہے (34) پھر ہلاکت ہے تیرے لیے پھر تبا ہی ہے (35) کیا سمجھتا ہے انسان یہ کہ چھوڑ دیا جائے گا وہ بے کار؟ (36) کیا نہیں تھا وہ ایک قطرہ منی کا جو (رحم میں) ٹپکایا جاتا ہے؟ (37) پھر وہ ہو گیا جما ہوا خون تواس(اللہ) نے پیدا …
كَلَّآ اِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِيَ وَقِيْلَ مَنْ ۫رَاقٍ وَّظَنَّ اَنَّهُ الْفِرَاقُ وَالْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ اِلٰى رَبِّكَ يَوْمَىِٕذِۨ الْمَسَاقُ (When the soul [ of a patient ] reaches the clavicles, and it is said, "Who is an enchanter [ that can save him?] ", and he realizes that it is [ the time on departure [ from the world,] and one shank is intertwined with the other shank, then on that day, it is to your Lord that one has to be driven.... 75:26-30] In the preceding verses, reckoning on the Day of Reckoning and conditions of the inmates of Paradise and Hell were described. In …
والضمير فى المستتر فى قوله - تعالى - : ( وَظَنَّ أَنَّهُ الفراق ) يعود إلى هذا الإِنسان الذى أشرف على الموت ، والذى بلغت روحه نهاية حياتها ، والظن هنا بمعنى اليقين ، أو بمعنى العلم المقارب لليقين .أى : وأيقن هذا المحتضر ، أو توقع أن نهايته قد اقتربت ، وأنه عما قليل سيودع أهله وأحبابه . . وسيفارقهم فراقا لا لقاء بعده ، إلا يوم يقوم الناس للحساب .
آیت 28{ وَّظَنَّ اَنَّہُ الْفِرَاقُ۔ } ”اور وہ سمجھ جاتا ہے کہ اب جدائی کی گھڑی آن پہنچی ہے۔“ آدمی کو یقین ہوجاتا ہے کہ اب اہل و عیال سے بچھڑنے اور بڑے ارمانوں سے بنائے ہوئے گھر اور مال و اسباب کو چھوڑنے کا وقت آن پہنچا ہے۔
حقًّا إذا وصلت الروح إلى أعالي الصدر، وقال بعض الحاضرين لبعض: هل مِن راق يَرْقيه ويَشْفيه مما هو فيه؟ وأيقن المحتضر أنَّ الذي نزل به هو فراق الدنيا؛ لمعاينته ملائكة الموت، واتصلت شدة آخر الدنيا بشدة أول الآخرة، إلى الله تعالى مساق العباد يوم القيامة: إما إلى الجنة وإما إلى النار.
plays offline — the recitation is inside this file
PickthallAnd agony is heaped on agony;
Yusuf AliAnd one leg will be joined with another:
Muhammad Junagarhiاور پنڈلی سے پنڈلی لپٹ جائے گی.[1]
al-Muyassarحقًّا إذا وصلت الروح إلى أعالي الصدر، وقال بعض الحاضرين لبعض: هل مِن راق يَرْقيه ويَشْفيه مما هو فيه؟ وأيقن المحتضر أنَّ الذي نزل به هو فراق الدنيا؛ لمعاينته ملائكة الموت، واتصلت شدة آخر الدنيا بشدة أول الآخرة، إلى الله تعالى مساق العباد يوم القيامة: إما إلى الجنة وإما إلى النار.
the agreed readingand one leg is wound about the other — the commentaries read it both as the legs themselves at death and as the hardship of leaving this world twisted together with what is coming.
اور پنڈلی پنڈلی سے لپٹ جائے گی۔ تفسیر مقباس کے مطابق اگر اسے ظاہری معنی پر لیا جائے تو مطلب ہے مرنے والے کی دونوں پنڈلیوں کا اس کی موت کے بعد لپیٹا جانا، کیونکہ کفن اس کی پنڈلیوں پر لپیٹا جاتا ہے اور دونوں کو کفن کے کپڑے میں جوڑ دیا جاتا ہے۔ بغوی قتادہ کا قول نقل کرتے ہیں کہ اس کا مطلب ہے سختی پر سختی، اور عطاء کہتے ہیں موت کی سختی آخرت کی سختی کے ساتھ۔
والتفت الساق بالساق. جاء في تفسير مقباس أن قوله والتفت الساق بالساق إن حمل على ظاهره فالمعنى التفاف ساقي المحتضر بعد موته، إذ تلف الأكفان على ساقيه ويقرن بينهما في ثوب الكفن. وذكر البغوي عن قتادة أنه الشدة بالشدة، وقال عطاء: شدة الموت بشدة الآخرة.
28 of the 36 commentaries carry this āyah
all 28, in their own words
al-Tabarid.923 · ar · PD
القول في تأويل قوله تعالى: ﴿كَلا إِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِيَ (٢٦) وَقِيلَ مَنْ رَاقٍ (٢٧) وَظَنَّ أَنَّهُ الْفِرَاقُ (٢٨) وَالْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ (٢٩) إِلَى رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ الْمَسَاقُ (٣٠) ﴾ . يقول تعالى ذكره: ليس الأمر كما يظنّ هؤلاء المشركون من أنهم لا يعاقبون على شركهم ومعصيتهم ربهم بل إذا بلغت نفس أحدهم التراقي عند مماته وحشرج بها. وقال ابن زيد في قول الله: ﴿كَلا إِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِيَ﴾ قال: التراقي: نفسه. ⁕ حدثني بذلك يونس، قال: أخبرنا ابن وهب، قال: قال ابن زيد: ﴿وَقِيلَ مَنْ رَاقٍ﴾ يقول تعالى ذكره: وقال أهله: من ذا يرقيه ليشفيه مما قد نزل به، وطلبوا له الأطباء …
من المال» أى من آثاره، ولو كفت «علم» عن العمل في المفعول وعبر عن نفسه بالظاهر، لأن هذا الكلام تتحدث به نفوس الأقوام، فاعتبر صدوره منهم. وثراه المال: الغنى به، أو جمعه. والوفر: الزيادة والمال الكثير.]] وتقول العرب: أرسلت، يريدون: جاء المطر، ولا تكاد تسمعهم يذكرون السماء التَّراقِيَ العظام المكتنفة لثغرة النحر عن يمين وشمال. ذكرهم صعوبة الموت الذي هو أول مراحل الآخرة حين تبلغ الروح التراقي ودنا زهوقها: وقال حاضر وصاحبها- وهو المحتضر- بعضهم لبعض مَنْ راقٍ أيكم يرقيه مما به؟ وقيل: هو من كلام ملائكة الموت: أيكم يرقى بروحه؟ ملائكة الرحمة أم ملائكة العذاب؟ وَظَنَّ المحتضر أَنَّهُ الْفِراقُ أنّ هذا …
كَلَّا إِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِيَ (Nay, when it reaches to the collarbones.) If we make the word "Kalla" negative, then this Ayah means, 'O son of Adam! You are not able to deny that which I informed you of at that time (death). This will become something witnessed by you with your own eyes.' If we consider the word "Kalla" to be a word of affirmation, then this would be the most obvious meaning. In this case it would mean that it is certainly true when the soul reaches the collarbones - meaning, 'your soul will be pulled out of your body and it will reach your collarbones.' This is similar …
جب ہماری روح حلق تک پہنچ جاتی ہے اور اس کے بعد کیا ہوتا ہے یہاں موت کا اور سکرات کی کیفیت کا بیان ہو رہا ہے اللہ تعالیٰ ہمیں اس وقت حق پر ثابت قدم رکھے۔ (کلا) کو اگر یہاں ڈانٹ کے معنی میں لیا جائے تو یہ معنی ہوں گے کہ " اے ابن آدم تو جو میری خبروں کو جھٹلاتا ہے یہ درست نہیں بلکہ ان کے مقدمات تو تو روزمرہ کھلم کھلا دیکھ رہا ہے " اور اگر اس لفظ کو (حقا) کے معنی میں لیں تو مطلب اور زیادہ ظاہر ہے یعنی یہ بات یقینی ہے کہ جب تیری روح تیرے جسم سے نکلنے لگے اور تیرے نرخرے تک پہنچ جائے (تراقی) جمع ہے (ترقوۃ) کی ان ہڈیوں کو کہتے ہیں جو سینے پر اور مونڈھوں کے درمیان میں ہیں جسے ہانس کی ہڈی کہتے ہیں …
and the shank is intertwined with the [other] shank, that is, one of his shanks [will be intertwined] with his other shank at the moment of death; or [it means] the distress of parting with this world is intertwined with the distress of the arrival of the Hereafter;
مرنے والے پر دو سختیاں:یعنی بعض اوقات سکرات موت کی سختی سے ایک پنڈلی دوسری پنڈلی سے لپٹ لپٹ جاتی ہے۔ نیز نیچے کے بدن سے روح کا تعلق منقطع ہونے کے بعد پنڈلیوں کا ہلانا اور ایک کو دوسرے سے جدا رکھنا اس کے اختیار میں نہیں رہتا۔ اس لئے ایک پنڈلی دوسری پر بے اختیار جاگرتی ہے۔ اور بعض سلف نے کہا کہ عرب کے محاورات میں "ساق" کنایہ ہے سخت مصیبت سے۔ تو آیت کا ترجمہ یوں کیا جائے گا کہ "ملی ایک سختی دوسری سختی کے ساتھ" کیونکہ مرنے والے کو اس وقت دو سختیاں پیش آتی ہیں۔ پہلی سختی تو یہی دنیا سے جانا، مال و اسباب، اہل و عیال، جاہ وحشم، سب کو چھوڑنا دشمنوں کی خوشی و طعنہ زنی، اور دوستوں کے رنج و غم کا خیال …
يَعِظُ تعالى عبادَه بذكر المحتضر حال السياق ، وأنَّه إذا بلغت روحه {التراقي}: وهي العظام المكتنفة لثُغْرَةِ النَّحر؛ فحينئذٍ يشتدُّ الكربُ، ويطلب كلَّ وسيلةٍ وسببٍ يظنُّ أن يحصل به الشفاء والراحة، ولهذا قال:{وقيلَ مَنۡ راقٍ}؛ أي: من يرقيه، من الرُّقية؛ لأنَّهم انقطعت آمالهم من الأسباب العاديَّة، فتعلَّقوا بالأسباب الإلهيَّة ، ولكنَّ القضاء والقدر إذا حتم وجاء؛ فلا مردَّ له، {وظنَّ أنَّه الفراقُ}: للدنيا، {والتفَّتِ السَّاقُ بالسَّاق}؛ أي: اجتمعت الشدائد والتفَّت، وعظُم الأمر، وصعُب الكرب، وأريد أن تخرجَ الرُّوح من البدن الذي ألفته ولم تزل معه، فتساق إلى الله تعالى ليجازيها بأعمالها ويقرِّرها …
رگز نہیں! جب پہنچ جائے گی (روح) ہنسلی تک (26) اور کہا جائے گا، کون ہے جھاڑ پھونک کرنے والا؟ (27) اور وہ یقین کرے گا کہ یہ فراق ہے (28) اور لپٹ جائے گی پنڈلی پنڈلی سے(29) آپ کے رب ہی کی طرف ہو گا اس دن چلنا (30) پس نہ تو اس نے تصدیق کی اور نہ نماز پڑھی (31) اور لیکن اس نے جھٹلایا اور رو گردانی کی (32) پھر وہ گیا اپنے اہل و عیال کی طرف اتراتا ہوا (33) ہلاکت ہے تیرے لیے پھر خرابی ہے (34) پھر ہلاکت ہے تیرے لیے پھر تبا ہی ہے (35) کیا سمجھتا ہے انسان یہ کہ چھوڑ دیا جائے گا وہ بے کار؟ (36) کیا نہیں تھا وہ ایک قطرہ منی کا جو (رحم میں) ٹپکایا جاتا ہے؟ (37) پھر وہ ہو گیا جما ہوا خون تواس(اللہ) نے پیدا …
والتفت الساق بالساق (75:29) ” پنڈلی سے پنڈلی جڑ جائے “۔ ہر حیلہ اور ہر وسیلہ فیل ہوجائے اور یہ بات طے ہوجائے کہ آپ بیمارنے جانا ہی ہے جس طرح ہر زندہ نے آخر کار جانا ہوتا ہے۔
كَلَّآ اِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِيَ وَقِيْلَ مَنْ ۫رَاقٍ وَّظَنَّ اَنَّهُ الْفِرَاقُ وَالْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ اِلٰى رَبِّكَ يَوْمَىِٕذِۨ الْمَسَاقُ (When the soul [ of a patient ] reaches the clavicles, and it is said, "Who is an enchanter [ that can save him?] ", and he realizes that it is [ the time on departure [ from the world,] and one shank is intertwined with the other shank, then on that day, it is to your Lord that one has to be driven.... 75:26-30] In the preceding verses, reckoning on the Day of Reckoning and conditions of the inmates of Paradise and Hell were described. In …
مفسرین میں سے بعض نے لفظ ساق(پنڈلی) کو عام لُغوی معنی میں لیا ہے اور اس کے لحاظ سے مردہ یہ ہے کہ مرنے کے وقت جب ٹانگیں سوُکھ کر ایک دوسری سے جڑ جائیں گی۔ اور بعض نے عربی محاورے کے مطابق ایسے شدت اور سختی اور مصیبت کے معنی میں لیا ہے، یعنی اس وقت دومصیبتیں ایک ساتھ جمع ہو جائیں گی، ایک دنیا اور اس کی ہر چیز سے جدا ہو جانے کی مصیبت اور دوسری عالمِ آخرت میں ایک مجرم کی حیثیت سے گرفتا ر ہوکر جانے کی مصیبت، جس سے ہر کافر ومنافق اور ہر فاسق وفاجر کو سابقہ پیش آئے گا۔
Some commentators have taken the word saq (leg, shank) in its literal meaning, thereby implying that at death one lean leg will join the other lean leg; some others have taken it metaphorically in the sense of difficulty, vehemence and hardship so as to mean: At that time one affliction will be joined with another affliction, one of being separated from the world and all its enjoyments, and the other of being seized and taken to the Hereafter as a culprit, and this will be experienced by every disbeliever, hypocrite and sinner.
وقوله - تعالى - : ( والتفت الساق بالساق ) أى : وأيقن هذا المحتضر ، أو توقع أن نهايته قد اقتربت ، وأنه عما قليل سيودع أهله وأحبابه . . وسيفارقهم فراقا لا لقاء بعده ، إلا يوم يقوم الناس الناس للحساب .وقوله - تعالى - : ( والتفت الساق بالساق ) أى : والتوت والتصقت إحدى ساقيه بالأخرى . عند سكرات الموت وشدته ، فصارتا متلاصقين لا تكاد إحداهما تتزحزح عن الأخرى ، فكأنهما ملتفتان .ويصح أن يكون المعنى : والتفت الساق بالساق عند وضع هذا الذى أدركه الموت فى كفنه ، لأن هذا الكفن قد ضم جميع جسده ، والتصقت كل ساق بالأخرى .ومنهم من يرى أن هذه الآية الكريمة : كناية عن هول الموت وشدته كما فى قوله - تعالى - : ( …
آیت 29{ وَالْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ۔ } ”اور پنڈلی پنڈلی سے لپٹ جاتی ہے۔“ یہ عین جان کنی کے وقت کی اس کیفیت کا ذکر ہے جب جسم کے نچلے حصے سے انسان کی جان نکلنا شروع ہوجاتی ہے۔ اس وقت وہ ناقابل بیان کرب اور شدید تکلیف کی کیفیت میں ہوتا ہے۔
وَالْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ (29) وقوله : { والتفَّت الساقُ بالساق } إن حمل على ظاهره ، فالمعنى التفافُ ساقَي المحْتضر بعد موته إذ تُلَفُّ الأَكفان على ساقيْه ويُقرن بينهما في ثوب الكفن فكُلُّ ساق منهما ملتفة صحبةَ الساق الأخرى ، فالتعريف عوض عن المضاف إليه ، وهذا نهاية وصف الحالة التي تهيَّأ بها لمصيره إلى القبر الذي هو أول مراحل الآخرة .ويجوز أن يَكون ذلك تمثيلاً فإن العرب يستعملون الساق مثلاً في الشدة وجِدّ الأمر تمثيلاً بساق الساعي أو الناهض لعمل عظيم ، يقولون : قامت الحرب على ساق .
حقًّا إذا وصلت الروح إلى أعالي الصدر، وقال بعض الحاضرين لبعض: هل مِن راق يَرْقيه ويَشْفيه مما هو فيه؟ وأيقن المحتضر أنَّ الذي نزل به هو فراق الدنيا؛ لمعاينته ملائكة الموت، واتصلت شدة آخر الدنيا بشدة أول الآخرة، إلى الله تعالى مساق العباد يوم القيامة: إما إلى الجنة وإما إلى النار.
(V.29) Or it may mean: hardship and distress will be joined with another hardship and distress (i.e. distress of death, and of the thought as to what is going to happen to him in the Hereafter). (Tafsîr At-Tabarî ).
(And agony is heaped on agony) and severity is heaped upon severity: the severity of the last day of the life of the world and that of the first day of the Hereafter; and it is also said this means: and the dead person's legs are twisted around each other;
No commentary keyed to this āyah in: Jawāmiʿ al-jāmiʿ (al-Ṭabrisī), Majmaʿ al-bayān (al-Ṭabrisī), Nūr al-thaqalayn (al-Ḥuwayzī), Tafsīr al-Qummī, Tazkir ul Quran (Urdu), Tazkirul Quran (English), al-Mīzān (Ṭabāṭabāʾī), al-Tibyān (al-Ṭūsī).
the words of this āyah — root, frequency, family
و
occurs 9594 timesamong the commonest 300 words
الْتَفَّتِ
occurs ONCE in the whole Qurʾānroot لفف occurs 3
لَفِيف1الْتَفَّتِ1أَلْفاف1
ال
occurs 8377 timesamong the commonest 300 words
ساق
occurs 4 timesroot سوق occurs 17
سِيقَ7سُوق4ساق4سائِق1مَساق1
ب
occurs 2544 timesamong the commonest 300 words
this āyah in 55 languages — 74 translations
Akan Harun Ismail · v1.0.3
Na (owufoͻ no ho refa no) ma anantu ne anantu kᴐka bom.
Azərbaycan Ali Khan Musayev · v1.0.4
ayaq ayağa dolaşacağı zaman –
Bahasa Indonesia Ministry of Religious Affairs · v1.0.1
dan bertaut betis (kiri) dengan betis (kanan),[881]
Bahasa Indonesia Sabiq Company · v1.1.3
29. Dan bertaut betis (kiri) dengan betis (kanan),[881]
Bahasa Indonesia The Complex · v1.0.1
dan bertaut betis (kiri) dengan betis (kanan)[1534],
Bosanski Muhammad Mahanovic · v1.1.0
i noga se uz nogu savije.
Bosanski Rowwad Translation Centre · v2.0.4
i noga se uz nogu savije.
Cebuano Rowwad Translation Center · v1.1.3
Ug sa diha nga ang usa ka tiil idikit na ngadto sa pikas (nga mao ang pagputos aron sa paglubong);
Deutsch Frank Bubenheim · v1.1.4
und wenn (bei ihm) sich das eine Bein um das andere legt,
Deutsch Rowwad Translation Center · v1.0.15
und wenn (bei ihm) sich das eine Bein um das andere Bein legt,
English Hilali and Khan · v1.1.2
29. And one leg will be joined with another leg (shrouded).[3]
English Noor International Center · v1.1.2
And the leg is wound about the leg,[1807]
English Rowwad Translation Center · v1.0.19
when legs are brought together [in a shroud][9];
Español Isa Garcia · v1.0.2
29. y que sus piernas rígidas ya no podrán levantarlo de la agonía de la muerte.
Español Noor International Center · v1.0.1
y a la gravedad de dejar este mundo se le añada la de afrontar la otra vida[1100],
Español issued by Noor International · v1.0.1
y a la gravedad de dejar este mundo se le añada la de afrontar la otra vida[1100],
Français Noor International Center · v1.0.0
29. et que ses deux jambes se seront croisées,
Français Rachid Maach · v1.0.3
et que, aux affres de la mort, s’ajoutent les affres de l’autre monde[8],
و [کار بالا گیرد و] ساقها[ی پایش از سختیِ جان دادن] به هم بپیچد.
پښتو Rowwad Translation Center · v1.0.1
او پنډۍ په پنډۍ پورې ونښلي.
ߒߞߏ Baba Mamadi · v1.0.5
ߘߊ߬ߡߊ߲߬ߛߊ߫ ߜߍ߬ߟߍ߲ ߓߘߴߊ߬ ߡߙߐߡߙߐ߫ ߢߐ߲߮ ߡߊ߬
हिन्दी Azizul Haq Al-Omari · v1.1.5
और पिंडली, पिंडली[10] के साथ लिपट जाएगी।
অসমীয়া Rafiqul Islam Habibur-Rahman · v1.0.5
আৰু ভৰিৰ লগত ভৰি জোঁট খাই যাব।
ਪੰਜਾਬੀ Arif Haleem · v1.0.1
ਪਿੰਨੀ ਨਾਲ ਪਿੰਨੀ ਜੁੜ ਜਾਵੇਗੀ।[3]
ગુજરાતી Rabella Al-Omari · v1.1.3
૨૯. અને એક પિંડલી બીજી પિંડલી સાથે ભેગી થઇ જશે.
தமிழ் Abdulhamid Baqawi · v1.0.1
29. (அவனுடைய) கெண்டைக்கால், கெண்டைக் காலோடு பின்னிக் கொள்ளும்.
தமிழ் Abridged Version · v1.0.2
(மறுமையின்) கெண்டைக் காலுடன் (உலகத்தின்) கெண்டைக் கால் பின்னிக்கொண்டால், (உலகத்தின் கடுமையான இறுதி நிலையும் மறுமையின் பயங்கரமான முதல் நிலையும் மனிதனுக்குள் அப்போது ஒன்று சேரும்.)
தமிழ் Omar Sharif · v1.0.3
இன்னும், (மறுமை எனும்) கெண்டைக் காலுடன் (உலகம் எனும்) கெண்டைக் கால் பின்னிக்கொண்டால், (உலகத்தின் கடுமையான இறுதி நிலையும் மறுமையின் பயங்கரமான முதல் நிலையும் மனிதனுக்குள் அப்போது ஒன்று சேரும்.)
తెలుగు Abdurrahim ibn Muhammad · v1.0.6
మరియు ఒక పిక్క మరొక పిక్కతో కలిసిపోతుంది[1].
ಕನ್ನಡ Hamza Butur · v1.0.3
ಕಣಕಾಲು ಕಣಕಾಲಿನೊಂದಿಗೆ ಸುತ್ತುವಾಗ.
മലയാളം Abdul Hamid Haidar and Kunhi Muhammad · v1.0.3
plays offline — the recitation is inside this file
PickthallUnto thy Lord that day will be the driving.
Yusuf AliThat Day the Drive will be (all) to thy Lord!
Muhammad Junagarhiآج تیرے پروردگار کی طرف چلنا ہے.
al-Muyassarحقًّا إذا وصلت الروح إلى أعالي الصدر، وقال بعض الحاضرين لبعض: هل مِن راق يَرْقيه ويَشْفيه مما هو فيه؟ وأيقن المحتضر أنَّ الذي نزل به هو فراق الدنيا؛ لمعاينته ملائكة الموت، واتصلت شدة آخر الدنيا بشدة أول الآخرة، إلى الله تعالى مساق العباد يوم القيامة: إما إلى الجنة وإما إلى النار.
the agreed readingto your Lord that Day is the driving. The commentaries carry the death-scene together: those around him looking for anyone who could cure him, and the dying man knowing he is leaving the world.
اس دن تمہارے رب ہی کی طرف روانگی ہے۔ رازی وضاحت کرتے ہیں کہ مساق ساق یسوق سے مصدر ہے، جیسے مقال قال یقول سے، پھر اس میں دو پہلو ہیں، ایک یہ کہ مراد یہ ہے کہ جس کی طرف لے جایا جا رہا ہے وہ رب ہے۔ تفسیر مقباس بتاتی ہے کہ یہ اس حالت کے بیان کا اختتام ہے جو اسے قبر کی طرف اس کے انجام کے لیے تیار کرتی ہے، جو آخرت کا پہلا مرحلہ ہے۔
إلى ربك يومئذ المساق. ذكر الرازي أن المساق مصدر من ساق يسوق، كالمقال من قال يقول، ثم فيه وجهان: أحدهما أن يكون المراد أن المسوق إليه هو الرب. وجاء في تفسير مقباس أن هذا نهاية وصف الحالة التي تهيأ بها لمصيره إلى القبر الذي هو أول مراحل الآخرة.
26 of the 36 commentaries carry this āyah
all 26, in their own words
al-Tabarid.923 · ar · PD
القول في تأويل قوله تعالى: ﴿كَلا إِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِيَ (٢٦) وَقِيلَ مَنْ رَاقٍ (٢٧) وَظَنَّ أَنَّهُ الْفِرَاقُ (٢٨) وَالْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ (٢٩) إِلَى رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ الْمَسَاقُ (٣٠) ﴾ . يقول تعالى ذكره: ليس الأمر كما يظنّ هؤلاء المشركون من أنهم لا يعاقبون على شركهم ومعصيتهم ربهم بل إذا بلغت نفس أحدهم التراقي عند مماته وحشرج بها. وقال ابن زيد في قول الله: ﴿كَلا إِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِيَ﴾ قال: التراقي: نفسه. ⁕ حدثني بذلك يونس، قال: أخبرنا ابن وهب، قال: قال ابن زيد: ﴿وَقِيلَ مَنْ رَاقٍ﴾ يقول تعالى ذكره: وقال أهله: من ذا يرقيه ليشفيه مما قد نزل به، وطلبوا له الأطباء …
كَلَّا ردع عن إيثار الدنيا على الآخرة، كأنه قيل: ارتدعوا عن ذلك، وتنبهوا على ما بين أيديكم من الموت الذي عنده تنقطع العاجلة عنكم، وتنتقلون إلى الآجلة التي تبقون فيها مخلدين. والضمير في بَلَغَتِ للنفس وإن لم يجر لها ذكر، لأنّ الكلام الذي وقعت فيه يدل عليها، كما قال حاتم: أماويّ ما يغنى الثّراء عن الفتى ... إذا حشرجت يوما وضاق بها الصّدر [[أماوى ما يغنى الثراء عن الفتى ... إذا حشرجت يوما وضاق بها الصدر أماوى إن المال غاد ورائح ... ويبقى من المال الأحاديث والذكر وقد علم الأقوام لو أن حاتما ... أراد ثراء المال كان له وفر لحاتم الطائي، والهمزة النداء ومأوى: مرخم، أصله: ماوية، اسم أمه وهي بنت عفير …
كَلَّا إِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِيَ (Nay, when it reaches to the collarbones.) If we make the word "Kalla" negative, then this Ayah means, 'O son of Adam! You are not able to deny that which I informed you of at that time (death). This will become something witnessed by you with your own eyes.' If we consider the word "Kalla" to be a word of affirmation, then this would be the most obvious meaning. In this case it would mean that it is certainly true when the soul reaches the collarbones - meaning, 'your soul will be pulled out of your body and it will reach your collarbones.' This is similar …
جب ہماری روح حلق تک پہنچ جاتی ہے اور اس کے بعد کیا ہوتا ہے یہاں موت کا اور سکرات کی کیفیت کا بیان ہو رہا ہے اللہ تعالیٰ ہمیں اس وقت حق پر ثابت قدم رکھے۔ (کلا) کو اگر یہاں ڈانٹ کے معنی میں لیا جائے تو یہ معنی ہوں گے کہ " اے ابن آدم تو جو میری خبروں کو جھٹلاتا ہے یہ درست نہیں بلکہ ان کے مقدمات تو تو روزمرہ کھلم کھلا دیکھ رہا ہے " اور اگر اس لفظ کو (حقا) کے معنی میں لیں تو مطلب اور زیادہ ظاہر ہے یعنی یہ بات یقینی ہے کہ جب تیری روح تیرے جسم سے نکلنے لگے اور تیرے نرخرے تک پہنچ جائے (تراقی) جمع ہے (ترقوۃ) کی ان ہڈیوں کو کہتے ہیں جو سینے پر اور مونڈھوں کے درمیان میں ہیں جسے ہانس کی ہڈی کہتے ہیں …
Tafsir al-Jalalaynd.1505 · ar · PD
إلى رَبّك يَوْمئِذٍ المَساق﴾ أيْ السَّوْق وهَذا يَدُلّ عَلى العامِل فِي إذا والمَعْنى إذا بَلَغَتْ النَّفْس الحُلْقُوم تُساق إلى حُكْم رَبّها
on that day to your Lord will be the driving [of the souls] (al-masāq means al-sawq; this indicates the operator of the [above] idhā, ‘when’, the meaning being: ‘when the soul reaches the throat, it will be driven towards the judgement of its Lord’).
al-Ṣāfī (Fayḍ al-Kāshānī)d.1680 · ar · PD
إلى ربك يومئذ المساق القمي قال يساقون إلى الله. وفي الكافي عن الباقر (عليه السلام) إنه سئل عن هذه الآية فقال ذلك ابن آدم إذا حل به الموت قال هل من طبيب أنه الفراق أيقن بمفارقة الأحبة قال والتفت الساق بالساق التفت الدنيا بالآخرة إلى ربك يومئذ المساق قال المصير إلى رب العالمين. (31) فلا صدق ما يجب تصديقه ولا صلى ما فرض عليه. (32) ولكن كذب وتولى عن الطاعة. (33) ثم ذهب إلى أهله يتمطى يتبختر افتخارا بذلك من المط. (34) أولى لك فأولى قيل أي ويل لك. (35) ثم أولى لك فأولى أي يتكرر ذلك عليك مرة بعد أخرى. وفي العيون عن الجواد (عليه السلام) إنه سئل عن هذه الآية فقال يقول الله عز وجل بعدا لك من خير الدنيا …
رب کی طرف کھنچ کر جانا:یعنی سفر آخرت کی ابتداء یہاں سے ہے۔ گویا اب بندہ اپنے رب کی طرف کھنچنا شروع ہوا۔ مگر افسوس اپنی غفلت و حماقت سے کوئی سامان سفر کا پہلے سے درست نہ کیا نہ اتنے بڑے سفر کے لئے کوئی توشہ ساتھ لیا۔
يَعِظُ تعالى عبادَه بذكر المحتضر حال السياق ، وأنَّه إذا بلغت روحه {التراقي}: وهي العظام المكتنفة لثُغْرَةِ النَّحر؛ فحينئذٍ يشتدُّ الكربُ، ويطلب كلَّ وسيلةٍ وسببٍ يظنُّ أن يحصل به الشفاء والراحة، ولهذا قال:{وقيلَ مَنۡ راقٍ}؛ أي: من يرقيه، من الرُّقية؛ لأنَّهم انقطعت آمالهم من الأسباب العاديَّة، فتعلَّقوا بالأسباب الإلهيَّة ، ولكنَّ القضاء والقدر إذا حتم وجاء؛ فلا مردَّ له، {وظنَّ أنَّه الفراقُ}: للدنيا، {والتفَّتِ السَّاقُ بالسَّاق}؛ أي: اجتمعت الشدائد والتفَّت، وعظُم الأمر، وصعُب الكرب، وأريد أن تخرجَ الرُّوح من البدن الذي ألفته ولم تزل معه، فتساق إلى الله تعالى ليجازيها بأعمالها ويقرِّرها …
رگز نہیں! جب پہنچ جائے گی (روح) ہنسلی تک (26) اور کہا جائے گا، کون ہے جھاڑ پھونک کرنے والا؟ (27) اور وہ یقین کرے گا کہ یہ فراق ہے (28) اور لپٹ جائے گی پنڈلی پنڈلی سے(29) آپ کے رب ہی کی طرف ہو گا اس دن چلنا (30) پس نہ تو اس نے تصدیق کی اور نہ نماز پڑھی (31) اور لیکن اس نے جھٹلایا اور رو گردانی کی (32) پھر وہ گیا اپنے اہل و عیال کی طرف اتراتا ہوا (33) ہلاکت ہے تیرے لیے پھر خرابی ہے (34) پھر ہلاکت ہے تیرے لیے پھر تبا ہی ہے (35) کیا سمجھتا ہے انسان یہ کہ چھوڑ دیا جائے گا وہ بے کار؟ (36) کیا نہیں تھا وہ ایک قطرہ منی کا جو (رحم میں) ٹپکایا جاتا ہے؟ (37) پھر وہ ہو گیا جما ہوا خون تواس(اللہ) نے پیدا …
الی ............ المساق (75:30) ” وہ دن ہوگا تیرے رب کی طرف روانگی کا “۔ یہ منظر اس قدر زندہ اور متحرک ہے کہ انسان کو ریل پر چلتا ہوا نظر آتا ہے۔ اور ہر لفظ ایک حرکت کو مصور کررہا ہے۔ ہر لمحہ اور ہر قفرہ دوڑ دھوپ اور حرکت کو ظاہر کرتا ہے۔ جوں جوں موت قریب آتی ہے لوگوں کی حرکت اور جزع فزع میں تیزی آتی ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ جس کی طرف پورا مجمع بڑھ رہا ہوتا ہے۔ اس کے مقابلے میں تمام علاج ناکام ہوگئے ہیں۔ اور آخری منظر آتا ہے۔ الی ربک .................... المساق (75:30) ” یہ تو تیرے رب کی طرف چلنے کا دن ہے “۔ اب پردہ گرتا ہے ، لیکن ہمارے تخیل کے پردے پر تصویر جمی ہوئی ہے۔ ہمارے احساسات پر …
كَلَّآ اِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِيَ وَقِيْلَ مَنْ ۫رَاقٍ وَّظَنَّ اَنَّهُ الْفِرَاقُ وَالْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ اِلٰى رَبِّكَ يَوْمَىِٕذِۨ الْمَسَاقُ (When the soul [ of a patient ] reaches the clavicles, and it is said, "Who is an enchanter [ that can save him?] ", and he realizes that it is [ the time on departure [ from the world,] and one shank is intertwined with the other shank, then on that day, it is to your Lord that one has to be driven.... 75:26-30] In the preceding verses, reckoning on the Day of Reckoning and conditions of the inmates of Paradise and Hell were described. In …
وقوله - سبحانه - : ( إلى رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ المساق ) أى : إلى ربك - أيها الرسول الكريم - مساق الناس ومرجعهم - لا إلى غيره - يوم القيامة . . لكى يحاسبوا على أعمالهم .فالمساق مصدر ميمى من ساق الشئ إذا سيره أمامه إلى حيث يريد .
آیت 30{ اِلٰی رَبِّکَ یَوْمَئِذِ نِالْمَسَاقُ۔ } ”اس دن تو تیرے رب ہی کی طرف دھکیلے جانا ہے۔“ نوٹ کیجیے ‘ گزشتہ آیات کے بعد ہم آواز الفاظ سے بننے والا مخصوص صوتی آہنگ ایک مرتبہ پھر تبدیل ہورہا ہے۔
There is only one reason for neglect of the Hereafter and that is the desire to obtain an immediate reward for all one’s striving (kalla bal tuhibbuna’l ‘ajilah). In relation to the Hereafter, the result of one’s actions seems infinitely remote. Therefore, man disregards it. But in relation to this world, instant gratification appears to be a distinct possibility, so man rushes towards it. It is obvious that ultimately death overtakes every human being and nullifies all successes. Yet nobody learns a lesson from this, until he himself faces death—which takes away all opportunities for …
آخرت کی طرف سے غفلت کی وجہ ہمیشہ صرف ایک ہوتی ہے، اور وہ حبِّ عاجلہ ہے۔ یعنی اپنے عمل کا فوری نتیجہ چاہنا۔ آخرت کے لیے عمل کا نتیجہ دیر میں ملتا ہے ۔ اس لیے آدمی اس کو نظر انداز کردیتا ہے، اور دنیا کے لیے عمل کا نتیجہ فوراً ملتا ہوا نظر آتا ہے۔ اس لیے آدمی اس کی طرف دوڑ پڑتا ہے۔ لوگ دیکھتے ہیں کہ ہر آدمی پر آخر کار موت طاری ہوتی ہے اور اس کی تمام کامیابیوں کو باطل کردیتی ہے۔ مگر کوئی شخص اس سے سبق نہیں لیتا۔ یہاں تک کہ خود اس کی موت کا لمحہ آجائے اور وہ اس سے سبق لینے کی مہلت چھین لے۔
إِلَى رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ الْمَسَاقُ (30)فالتعريف عوض عن المضاف إليه ، وهذا نهاية وصف الحالة التي تهيَّأ بها لمصيره إلى القبر الذي هو أول مراحل الآخرة .ويجوز أن يَكون ذلك تمثيلاً فإن العرب يستعملون الساق مثلاً في الشدة وجِدّ الأمر تمثيلاً بساق الساعي أو الناهض لعمل عظيم ، يقولون : قامت الحرب على ساق .
حقًّا إذا وصلت الروح إلى أعالي الصدر، وقال بعض الحاضرين لبعض: هل مِن راق يَرْقيه ويَشْفيه مما هو فيه؟ وأيقن المحتضر أنَّ الذي نزل به هو فراق الدنيا؛ لمعاينته ملائكة الموت، واتصلت شدة آخر الدنيا بشدة أول الآخرة، إلى الله تعالى مساق العباد يوم القيامة: إما إلى الجنة وإما إلى النار.
plays offline — the recitation is inside this file
PickthallFor he neither trusted, nor prayed.
Yusuf AliSo he gave nothing in charity, nor did he pray!-
Muhammad Junagarhiاس نے نہ تو تصدیق کی نہ نماز ادا کی.[1]
al-Muyassarفلا آمن الكافر بالرسول والقرآن، ولا أدّى لله تعالى فرائض الصلاة، ولكن كذَّب بالقرآن، وأعرض عن الإيمان، ثم مضى إلى أهله يتبختر مختالًا في مشيته. هلاك لك فهلاك، ثم هلاك لك فهلاك.
the agreed readingFor he neither affirmed the truth nor prayed — he did not believe it, the commentaries gloss, and he did not do what belief requires.
پس اس نے نہ سچ مانا اور نہ نماز پڑھی۔ قرطبی وضاحت کرتے ہیں کہ اس کا مطلب ہے ابوجہل نے نہ تصدیق کی اور نہ نماز پڑھی، اور بعض کہتے ہیں یہ سورت کے شروع میں مذکور الانسان کی طرف لوٹتا ہے اور یہ اسم جنس ہے، اور پہلا قول ابن عباس کا ہے۔
فلا صدق ولا صلى. ذكر القرطبي أن معناه لم يصدق أبو جهل ولم يصل. وقيل يرجع هذا إلى الإنسان في أول السورة، وهو اسم جنس. والأول قول ابن عباس.
23 of the 36 commentaries carry this āyah
all 23, in their own words
al-Tabarid.923 · ar · PD
القول في تأويل قوله تعالى: ﴿فَلا صَدَّقَ وَلا صَلَّى (٣١) وَلَكِنْ كَذَّبَ وَتَوَلَّى (٣٢) ثُمَّ ذَهَبَ إِلَى أَهْلِهِ يَتَمَطَّى (٣٣) أَوْلَى لَكَ فَأَوْلَى (٣٤) ثُمَّ أَوْلَى لَكَ فَأَوْلَى (٣٥) أَيَحْسَبُ الإنْسَانُ أَنْ يُتْرَكَ سُدًى (٣٦) ﴾ . يقول تعالى ذكره: فلم يصدّق بكتاب الله، ولم يصلّ له صلاة، ولكنه كذّب بكتاب الله، وتولى فأدبر عن طاعة الله. وبنحو الذي قلنا في ذلك قال أهل التأويل. ذكر من قال ذلك: ⁕ حدثنا بشر، قال: ثنا يزيد، قال: ثنا سعيد، عن قتادة ﴿فَلا صَدَّقَ وَلا صَلَّى﴾ لا صدّق بكتاب الله، ولا صلى لله ﴿وَلَكِنْ كَذَّبَ وَتَوَلَّى﴾ كذّب بكتاب الله، وتولى عن طاعة الله. * * وقوله: …
فَلا صَدَّقَ وَلا صَلَّى يعنى الإنسان في قوله أَيَحْسَبُ الْإِنْسانُ أَلَّنْ نَجْمَعَ عِظامَهُ ألا ترى إلى قوله أَيَحْسَبُ الْإِنْسانُ أَنْ يُتْرَكَ سُدىً وهو معطوف على يَسْئَلُ أَيَّانَ يَوْمُ الْقِيامَةِ أى: لا يؤمن بالبعث، فلا صدق بالرسول والقرآن، ولا صلى. ويجوز أن يراد: فلا صدق ماله، بمعنى: فلا زكاه. وقيل: نزلت في أبى جهل يَتَمَطَّى يتبختر. وأصله يتمطط، أى: يتمدد، لأنّ المتبختر يمدّ خطاه. وقيل: هو من المطا وهو الظهر، لأنه يلويه. وفي الحديث: «إذا مشت أمتى المطيطاء وخدمتهم فارس والروم فقد جعل بأسهم بينهم» [[أخرجه الترمذي وإسحاق وابن أبى شيبة وأبو يعلى. وابن عدى من رواية موسى بن عبيدة عن عبد …
كَلَّا إِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِيَ (Nay, when it reaches to the collarbones.) If we make the word "Kalla" negative, then this Ayah means, 'O son of Adam! You are not able to deny that which I informed you of at that time (death). This will become something witnessed by you with your own eyes.' If we consider the word "Kalla" to be a word of affirmation, then this would be the most obvious meaning. In this case it would mean that it is certainly true when the soul reaches the collarbones - meaning, 'your soul will be pulled out of your body and it will reach your collarbones.' This is similar …
جب ہماری روح حلق تک پہنچ جاتی ہے اور اس کے بعد کیا ہوتا ہے یہاں موت کا اور سکرات کی کیفیت کا بیان ہو رہا ہے اللہ تعالیٰ ہمیں اس وقت حق پر ثابت قدم رکھے۔ (کلا) کو اگر یہاں ڈانٹ کے معنی میں لیا جائے تو یہ معنی ہوں گے کہ " اے ابن آدم تو جو میری خبروں کو جھٹلاتا ہے یہ درست نہیں بلکہ ان کے مقدمات تو تو روزمرہ کھلم کھلا دیکھ رہا ہے " اور اگر اس لفظ کو (حقا) کے معنی میں لیں تو مطلب اور زیادہ ظاہر ہے یعنی یہ بات یقینی ہے کہ جب تیری روح تیرے جسم سے نکلنے لگے اور تیرے نرخرے تک پہنچ جائے (تراقی) جمع ہے (ترقوۃ) کی ان ہڈیوں کو کہتے ہیں جو سینے پر اور مونڈھوں کے درمیان میں ہیں جسے ہانس کی ہڈی کہتے ہیں …
For he, man, neither affirmed [the truth] nor prayed,
al-Ṣāfī (Fayḍ al-Kāshānī)d.1680 · ar · PD
فلا صدق ولا صلى الآيات فصعد رسول الله (صلى الله عليه وآله) المنبر وهو يريد البراءة منه فأنزل الله لا تحرك به لسانك لتعجل به فسكت رسول الله (صلى الله عليه وآله). وفي المجمع عن النبي (صلى الله عليه وآله) انه أخذ بيد أبي جهل ثم قال له
يَعِظُ تعالى عبادَه بذكر المحتضر حال السياق ، وأنَّه إذا بلغت روحه {التراقي}: وهي العظام المكتنفة لثُغْرَةِ النَّحر؛ فحينئذٍ يشتدُّ الكربُ، ويطلب كلَّ وسيلةٍ وسببٍ يظنُّ أن يحصل به الشفاء والراحة، ولهذا قال:{وقيلَ مَنۡ راقٍ}؛ أي: من يرقيه، من الرُّقية؛ لأنَّهم انقطعت آمالهم من الأسباب العاديَّة، فتعلَّقوا بالأسباب الإلهيَّة ، ولكنَّ القضاء والقدر إذا حتم وجاء؛ فلا مردَّ له، {وظنَّ أنَّه الفراقُ}: للدنيا، {والتفَّتِ السَّاقُ بالسَّاق}؛ أي: اجتمعت الشدائد والتفَّت، وعظُم الأمر، وصعُب الكرب، وأريد أن تخرجَ الرُّوح من البدن الذي ألفته ولم تزل معه، فتساق إلى الله تعالى ليجازيها بأعمالها ويقرِّرها …
رگز نہیں! جب پہنچ جائے گی (روح) ہنسلی تک (26) اور کہا جائے گا، کون ہے جھاڑ پھونک کرنے والا؟ (27) اور وہ یقین کرے گا کہ یہ فراق ہے (28) اور لپٹ جائے گی پنڈلی پنڈلی سے(29) آپ کے رب ہی کی طرف ہو گا اس دن چلنا (30) پس نہ تو اس نے تصدیق کی اور نہ نماز پڑھی (31) اور لیکن اس نے جھٹلایا اور رو گردانی کی (32) پھر وہ گیا اپنے اہل و عیال کی طرف اتراتا ہوا (33) ہلاکت ہے تیرے لیے پھر خرابی ہے (34) پھر ہلاکت ہے تیرے لیے پھر تبا ہی ہے (35) کیا سمجھتا ہے انسان یہ کہ چھوڑ دیا جائے گا وہ بے کار؟ (36) کیا نہیں تھا وہ ایک قطرہ منی کا جو (رحم میں) ٹپکایا جاتا ہے؟ (37) پھر وہ ہو گیا جما ہوا خون تواس(اللہ) نے پیدا …
روایات میں آتا ہے کہ یہ آیات ایک مخصوص شخص کے حق میں نازل ہوئیں ، بعض روایات میں اس شخص کا نام بھی لیا گیا کہ یہ عمرو ابن ہشام ابوجہل تھا۔ یہ شخص بعض اوقات رسول اللہ کے پاس آتا تھا اور قرآن کریم سنتا تھا۔ لیکن پھر چلا جاتا تھا اور ایمان نہ لاتا تھا۔ اور نہ آپ کی اطاعت کرتا تھا۔ نہ اللہ سے ڈرتا تھا۔ اور نہ مودبانہ رویہ اختیار کرتا تھا۔ بلکہ یہ حضور اکرم ﷺ کو مزید اذیت دینے لگتا تھا۔ آپ کو برا بھلا کہتا اور لوگوں کو دین اسلام میں آنے سے روکتا۔ پھر یہ اپنی ان کاروائیوں پر اتراتا ، اور اپنے کارناموں پر فخر کرتا جیسا کہ اس آیت میں کہا گیا۔ قرآن کریم یہاں اس شخص کے ساتھ مزح کرتا ہے اور نہایت ہی …
كَلَّآ اِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِيَ وَقِيْلَ مَنْ ۫رَاقٍ وَّظَنَّ اَنَّهُ الْفِرَاقُ وَالْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ اِلٰى رَبِّكَ يَوْمَىِٕذِۨ الْمَسَاقُ (When the soul [ of a patient ] reaches the clavicles, and it is said, "Who is an enchanter [ that can save him?] ", and he realizes that it is [ the time on departure [ from the world,] and one shank is intertwined with the other shank, then on that day, it is to your Lord that one has to be driven.... 75:26-30] In the preceding verses, reckoning on the Day of Reckoning and conditions of the inmates of Paradise and Hell were described. In …
ثم بين - سبحانه - جانبا من الأسباب التى أدت إلى سوء عاقبة المكذبين للحق ، فقال - تعالى - : ( فَلاَ صَدَّقَ وَلاَ صلى . ولكن كَذَّبَ وتولى . ثُمَّ ذَهَبَ إلى أَهْلِهِ يتمطى ) .والفاء للتفريع على ما تقدم ، من قوله - تعالى - : ( أَيَحْسَبُ الإنسان أَلَّن نَّجْمَعَ عِظَامَهُ ) إلخ .أو للتفريع والعطف على قوله - سبحانه - : ( إلى رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ المساق ) . . أى : أن هذا الإِنسان الذى أنكر الحساب والجزاء ، وفارق الحياة ، كانت عاقبة أمره خسرا ، فلا هو صدق بالحق الذى جاءه الرسول صلى الله عليه وسلم ولا هو أدى الصلاة التى فرضها الله - تعالى - عليه ز
فَلَا صَدَّقَ وَلَا صَلَّى (31) تفريع على قوله : { يسأل أيان يوم القيامة } [ القيامة : 6 ] .فالضمير عائد إلى الإِنسان في قوله : { أيحسب الإِنسان أن لن نجمع عظامه } [ القيامة : 3 ] أي لجهله البعث لم يستعد له .وحذف مفعول { كذّب } ليشمل كلَّ ما كذب به المشركون ، والتقدير : كذب الرسولَ والقرآنَ وبالبعث ، وتولى عن الاستجابة لشرائع الإِسلام .ويجوز أن يكون الفاء تفريعاً وعطفاً على قوله : { إلى ربك يومئذٍ المساق } [ القيامة : 30 ] ، أي فقد فارق الحياة وسيق إلى لقاء الله خالياً من العُدّة لذلك اللقاء .وفي الكلام على كلا الوجهين حذف يدل عليه السياق تقديره : فقد علم أنه قد خسر وتندم على ما أضاعه من …
فلا آمن الكافر بالرسول والقرآن، ولا أدّى لله تعالى فرائض الصلاة، ولكن كذَّب بالقرآن، وأعرض عن الإيمان، ثم مضى إلى أهله يتبختر مختالًا في مشيته. هلاك لك فهلاك، ثم هلاك لك فهلاك.
(For he) i.e. Abu Jahl (neither trusted) neither believed in Allah's divine Oneness, (nor prayed) nor embraced Islam and became of those who perform the prayer.
No commentary keyed to this āyah in: Bayan ul Quran (Urdu), Hilali & Khan, notes (English), Jawāmiʿ al-jāmiʿ (al-Ṭabrisī), Majmaʿ al-bayān (al-Ṭabrisī), Nūr al-thaqalayn (al-Ḥuwayzī), Tafhim al-Qur'an - Maududi (English), Tafhim al-Qur'an - Maududi (Urdu), Tafsir-e-Usmani (Urdu), Tafsīr al-Qummī, Tazkir ul Quran (Urdu), Tazkirul Quran (English), al-Mīzān (Ṭabāṭabāʾī), al-Tibyān (al-Ṭūsī).
plays offline — the recitation is inside this file
PickthallBut he denied and flouted.
Yusuf AliBut on the contrary, he rejected Truth and turned away!
Muhammad Junagarhiبلکہ جھٹلایا اور روگردانی کی.[1]
al-Muyassarفلا آمن الكافر بالرسول والقرآن، ولا أدّى لله تعالى فرائض الصلاة، ولكن كذَّب بالقرآن، وأعرض عن الإيمان، ثم مضى إلى أهله يتبختر مختالًا في مشيته. هلاك لك فهلاك، ثم هلاك لك فهلاك.
the agreed readingbut denied and turned away — denied the Qur'ān, the commentaries agree, and turned his back on believing.
بلکہ اس نے جھٹلایا اور منہ پھیر لیا۔ جلالین وضاحت کرتے ہیں کہ کذب کا مطلب قرآن کو جھٹلانا ہے، اور تولی کا مطلب ایمان سے منہ موڑنا ہے۔ تفسیر مقباس بتاتی ہے کہ اس کا مطلب ہے اس نے رسول ﷺ کی لائی ہوئی بات پر ایمان نہ لایا۔
ولكن كذب وتولى. فسر الجلالين كذب بأنه كذب بالقرآن، وتولى بأنه تولى عن الإيمان. وجاء في تفسير مقباس أن المعنى فلا آمن بما جاء به الرسول صلى الله عليه وسلم.
No Shīʿī edition could be anchored to this āyah by the alignment; the commentary exists in the books, the method could not point at it.
21 of the 36 commentaries carry this āyah
all 21, in their own words
al-Tabarid.923 · ar · PD
القول في تأويل قوله تعالى: ﴿فَلا صَدَّقَ وَلا صَلَّى (٣١) وَلَكِنْ كَذَّبَ وَتَوَلَّى (٣٢) ثُمَّ ذَهَبَ إِلَى أَهْلِهِ يَتَمَطَّى (٣٣) أَوْلَى لَكَ فَأَوْلَى (٣٤) ثُمَّ أَوْلَى لَكَ فَأَوْلَى (٣٥) أَيَحْسَبُ الإنْسَانُ أَنْ يُتْرَكَ سُدًى (٣٦) ﴾ . يقول تعالى ذكره: فلم يصدّق بكتاب الله، ولم يصلّ له صلاة، ولكنه كذّب بكتاب الله، وتولى فأدبر عن طاعة الله. وبنحو الذي قلنا في ذلك قال أهل التأويل. ذكر من قال ذلك: ⁕ حدثنا بشر، قال: ثنا يزيد، قال: ثنا سعيد، عن قتادة ﴿فَلا صَدَّقَ وَلا صَلَّى﴾ لا صدّق بكتاب الله، ولا صلى لله ﴿وَلَكِنْ كَذَّبَ وَتَوَلَّى﴾ كذّب بكتاب الله، وتولى عن طاعة الله. * * وقوله: …
كَلَّا إِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِيَ (Nay, when it reaches to the collarbones.) If we make the word "Kalla" negative, then this Ayah means, 'O son of Adam! You are not able to deny that which I informed you of at that time (death). This will become something witnessed by you with your own eyes.' If we consider the word "Kalla" to be a word of affirmation, then this would be the most obvious meaning. In this case it would mean that it is certainly true when the soul reaches the collarbones - meaning, 'your soul will be pulled out of your body and it will reach your collarbones.' This is similar …
جب ہماری روح حلق تک پہنچ جاتی ہے اور اس کے بعد کیا ہوتا ہے یہاں موت کا اور سکرات کی کیفیت کا بیان ہو رہا ہے اللہ تعالیٰ ہمیں اس وقت حق پر ثابت قدم رکھے۔ (کلا) کو اگر یہاں ڈانٹ کے معنی میں لیا جائے تو یہ معنی ہوں گے کہ " اے ابن آدم تو جو میری خبروں کو جھٹلاتا ہے یہ درست نہیں بلکہ ان کے مقدمات تو تو روزمرہ کھلم کھلا دیکھ رہا ہے " اور اگر اس لفظ کو (حقا) کے معنی میں لیں تو مطلب اور زیادہ ظاہر ہے یعنی یہ بات یقینی ہے کہ جب تیری روح تیرے جسم سے نکلنے لگے اور تیرے نرخرے تک پہنچ جائے (تراقی) جمع ہے (ترقوۃ) کی ان ہڈیوں کو کہتے ہیں جو سینے پر اور مونڈھوں کے درمیان میں ہیں جسے ہانس کی ہڈی کہتے ہیں …
نۡ راقٍ}؛ أي: من يرقيه، من الرُّقية؛ لأنَّهم انقطعت آمالهم من الأسباب العاديَّة، فتعلَّقوا بالأسباب الإلهيَّة ، ولكنَّ القضاء والقدر إذا حتم وجاء؛ فلا مردَّ له، {وظنَّ أنَّه الفراقُ}: للدنيا، {والتفَّتِ السَّاقُ بالسَّاق}؛ أي: اجتمعت الشدائد والتفَّت، وعظُم الأمر، وصعُب الكرب، وأريد أن تخرجَ الرُّوح من البدن الذي ألفته ولم تزل معه، فتساق إلى الله تعالى ليجازيها بأعمالها ويقرِّرها بفعالها؛ فهذا الزجر الذي ذكره الله يسوقُ القلوب إلى ما فيه نجاتُها ويزجُرُها عمَّا فيه هلاكها. {31 ـ 33} ولكنَّ المعاند الذي لا تنفع فيه الآياتُ لا يزال مستمرًّا على غيِّه وكفره وعناده، {فلا صدَّقَ}؛ أي لا آمن بالله …
رگز نہیں! جب پہنچ جائے گی (روح) ہنسلی تک (26) اور کہا جائے گا، کون ہے جھاڑ پھونک کرنے والا؟ (27) اور وہ یقین کرے گا کہ یہ فراق ہے (28) اور لپٹ جائے گی پنڈلی پنڈلی سے(29) آپ کے رب ہی کی طرف ہو گا اس دن چلنا (30) پس نہ تو اس نے تصدیق کی اور نہ نماز پڑھی (31) اور لیکن اس نے جھٹلایا اور رو گردانی کی (32) پھر وہ گیا اپنے اہل و عیال کی طرف اتراتا ہوا (33) ہلاکت ہے تیرے لیے پھر خرابی ہے (34) پھر ہلاکت ہے تیرے لیے پھر تبا ہی ہے (35) کیا سمجھتا ہے انسان یہ کہ چھوڑ دیا جائے گا وہ بے کار؟ (36) کیا نہیں تھا وہ ایک قطرہ منی کا جو (رحم میں) ٹپکایا جاتا ہے؟ (37) پھر وہ ہو گیا جما ہوا خون تواس(اللہ) نے پیدا …
كَلَّآ اِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِيَ وَقِيْلَ مَنْ ۫رَاقٍ وَّظَنَّ اَنَّهُ الْفِرَاقُ وَالْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ اِلٰى رَبِّكَ يَوْمَىِٕذِۨ الْمَسَاقُ (When the soul [ of a patient ] reaches the clavicles, and it is said, "Who is an enchanter [ that can save him?] ", and he realizes that it is [ the time on departure [ from the world,] and one shank is intertwined with the other shank, then on that day, it is to your Lord that one has to be driven.... 75:26-30] In the preceding verses, reckoning on the Day of Reckoning and conditions of the inmates of Paradise and Hell were described. In …
وَلَكِنْ كَذَّبَ وَتَوَلَّى (32) وهو المناسب لقوله : { ولكن كذّب } .والمعنى : فلا ءامن بما جاء به الرسول صلى الله عليه وسلم وبَعض المفسرين فَسَّر { صدَّق } بمعنى أعطى الصَّدَقة ، وهو غير جار على قياس التصريف إذ حقه أن يقال : تَصَدق ، على أنه لا يساعد الاستدراك في قوله : { ولكن كذب } .وعُطف { ولا صلّى } على نفس التصديق تشويهاً له بأن حاله مبائن لأحْوَال أهل الإِسلام . والمعنى : فلم يؤمن ولم يسلم .و { لا } نافية دخلت على الفعل الماضي والأكثر في دخولها على الماضي أن يعطف عليها نفي آخر وذلك حين يقصد المتكلم أمرين مثل ما هنا وقول زهير :فَلا هو أخفاها ولم يتقدم ... وهذا معنى قول الكسائي « ( لا ) …
فلا آمن الكافر بالرسول والقرآن، ولا أدّى لله تعالى فرائض الصلاة، ولكن كذَّب بالقرآن، وأعرض عن الإيمان، ثم مضى إلى أهله يتبختر مختالًا في مشيته. هلاك لك فهلاك، ثم هلاك لك فهلاك.
32. ஆயினும் (அவன் அவற்றைப்) பொய்யாக்கி வைத்து(த் தொழாதும்) விலகிக்கொண்டான்.
தமிழ் Abridged Version · v1.0.2
எனினும், அவன் பொய்ப்பித்தான்; விலகிச் சென்றான்.
தமிழ் Omar Sharif · v1.0.3
எனினும், அவன் பொய்ப்பித்தான்; விலகிச் சென்றான்.
తెలుగు Abdurrahim ibn Muhammad · v1.0.6
మరియు అతడు (ఈ సందేశాన్ని) అసత్యమన్నాడు మరియు దాని నుండి వెనుదిరిగాడు!
ಕನ್ನಡ Hamza Butur · v1.0.3
ಆದರೆ ಅವನು ನಿಷೇಧಿಸಿದನು ಮತ್ತು ಮುಖ ತಿರುಗಿಸಿ ನಡೆದನು.
മലയാളം Abdul Hamid Haidar and Kunhi Muhammad · v1.0.3
പക്ഷെ അവന് നിഷേധിക്കുകയും പിന്തിരിയുകയും ചെയ്തു.
සිංහල Rowwad Translation Center · v1.0.6
එහෙත් ඔහු බොරු කළේ ය. තවද පිටුපෑවේ ය.
ไทย Rowwad Translation Center · v1.0.1
แต่เขาเพียรพยายามกล่าวเท็จและหนีห่างออกไป
አማርኛ Africa Academy · v1.0.1
32. ግን በአላህ አስተባበለ፤ ከእምነት ዞረም::
አማርኛ Muhammad Sadiq · v1.1.2
ግን አስተባበለ፤ (ከእምነት) ዞረም፡፡
ភាសាខ្មែរ Islamic Community Development Association · v1.0.2
ក៏ប៉ុន្ដែគេបានបដិសេធ និងបានបែរចេញ(ពីការពិត)។
ភាសាខ្មែរ Rowwad Translation Center · v1.0.4
ក៏ប៉ុន្ដែ គេបានបដិសេធ និងបែរចេញ។
中文 Muhammad Makeen · v1.0.2
他否认真理,背弃正道,
中文 Muhammad Suleiman · v1.0.8
但他却否认了,他背弃了,
日本語 Saeed Sato · v1.0.13
それどころか(クルアーン*を)噓呼ばわりし、(信仰から)背いた。
Al-Qiyamah 75 : 33
ثُمَّذَهَبَإِلَىٰٓأَهْلِهِۦيَتَمَطَّىٰٓ
thuma dhahaba iilaaa aahlihi yatamataaa
plays offline — the recitation is inside this file
PickthallThen went he to his folk with glee.
Yusuf AliThen did he stalk to his family in full conceit!
Muhammad Junagarhiپھر اپنے گھر والوں کے پاس اتراتا ہوا گیا.[1]
al-Muyassarفلا آمن الكافر بالرسول والقرآن، ولا أدّى لله تعالى فرائض الصلاة، ولكن كذَّب بالقرآن، وأعرض عن الإيمان، ثم مضى إلى أهله يتبختر مختالًا في مشيته. هلاك لك فهلاك، ثم هلاك لك فهلاك.
the agreed readingthen went off to his people, swaggering. The commentaries agree the three describe the same man, and that the strutting is what he did after refusing.
پھر وہ اکڑتا ہوا اپنے گھر والوں کے پاس چلا گیا۔ تفسیر مقباس کے مطابق یتمطی کا مطلب ہے مطیطاء کی چال چلنا، یعنی اکڑ کر چلنا۔ اس کی اصل یتمطط ہے، یعنی خود کو کھینچنا، کیونکہ اکڑ کر چلنے والا اپنے قدم لمبے کرتا ہے، اور یہ خود پسند شخص کی چال ہے۔
ثم ذهب إلى أهله يتمطى. جاء في تفسير مقباس أن يتمطى يمشي المطيطاء وهي التبختر. وأصل يتمطى يتمطط، أي يتمدد لأن المتبختر يمد خطاه وهي مشية المعجب بنفسه.
No Shīʿī edition could be anchored to this āyah by the alignment; the commentary exists in the books, the method could not point at it.
25 of the 36 commentaries carry this āyah
all 25, in their own words
al-Tabarid.923 · ar · PD
القول في تأويل قوله تعالى: ﴿فَلا صَدَّقَ وَلا صَلَّى (٣١) وَلَكِنْ كَذَّبَ وَتَوَلَّى (٣٢) ثُمَّ ذَهَبَ إِلَى أَهْلِهِ يَتَمَطَّى (٣٣) أَوْلَى لَكَ فَأَوْلَى (٣٤) ثُمَّ أَوْلَى لَكَ فَأَوْلَى (٣٥) أَيَحْسَبُ الإنْسَانُ أَنْ يُتْرَكَ سُدًى (٣٦) ﴾ . يقول تعالى ذكره: فلم يصدّق بكتاب الله، ولم يصلّ له صلاة، ولكنه كذّب بكتاب الله، وتولى فأدبر عن طاعة الله. وبنحو الذي قلنا في ذلك قال أهل التأويل. ذكر من قال ذلك: ⁕ حدثنا بشر، قال: ثنا يزيد، قال: ثنا سعيد، عن قتادة ﴿فَلا صَدَّقَ وَلا صَلَّى﴾ لا صدّق بكتاب الله، ولا صلى لله ﴿وَلَكِنْ كَذَّبَ وَتَوَلَّى﴾ كذّب بكتاب الله، وتولى عن طاعة الله. * * وقوله: …
فَلا صَدَّقَ وَلا صَلَّى يعنى الإنسان في قوله أَيَحْسَبُ الْإِنْسانُ أَلَّنْ نَجْمَعَ عِظامَهُ ألا ترى إلى قوله أَيَحْسَبُ الْإِنْسانُ أَنْ يُتْرَكَ سُدىً وهو معطوف على يَسْئَلُ أَيَّانَ يَوْمُ الْقِيامَةِ أى: لا يؤمن بالبعث، فلا صدق بالرسول والقرآن، ولا صلى. ويجوز أن يراد: فلا صدق ماله، بمعنى: فلا زكاه. وقيل: نزلت في أبى جهل يَتَمَطَّى يتبختر. وأصله يتمطط، أى: يتمدد، لأنّ المتبختر يمدّ خطاه. وقيل: هو من المطا وهو الظهر، لأنه يلويه. وفي الحديث: «إذا مشت أمتى المطيطاء وخدمتهم فارس والروم فقد جعل بأسهم بينهم» [[أخرجه الترمذي وإسحاق وابن أبى شيبة وأبو يعلى. وابن عدى من رواية موسى بن عبيدة عن عبد …
كَلَّا إِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِيَ (Nay, when it reaches to the collarbones.) If we make the word "Kalla" negative, then this Ayah means, 'O son of Adam! You are not able to deny that which I informed you of at that time (death). This will become something witnessed by you with your own eyes.' If we consider the word "Kalla" to be a word of affirmation, then this would be the most obvious meaning. In this case it would mean that it is certainly true when the soul reaches the collarbones - meaning, 'your soul will be pulled out of your body and it will reach your collarbones.' This is similar …
جب ہماری روح حلق تک پہنچ جاتی ہے اور اس کے بعد کیا ہوتا ہے یہاں موت کا اور سکرات کی کیفیت کا بیان ہو رہا ہے اللہ تعالیٰ ہمیں اس وقت حق پر ثابت قدم رکھے۔ (کلا) کو اگر یہاں ڈانٹ کے معنی میں لیا جائے تو یہ معنی ہوں گے کہ " اے ابن آدم تو جو میری خبروں کو جھٹلاتا ہے یہ درست نہیں بلکہ ان کے مقدمات تو تو روزمرہ کھلم کھلا دیکھ رہا ہے " اور اگر اس لفظ کو (حقا) کے معنی میں لیں تو مطلب اور زیادہ ظاہر ہے یعنی یہ بات یقینی ہے کہ جب تیری روح تیرے جسم سے نکلنے لگے اور تیرے نرخرے تک پہنچ جائے (تراقی) جمع ہے (ترقوۃ) کی ان ہڈیوں کو کہتے ہیں جو سینے پر اور مونڈھوں کے درمیان میں ہیں جسے ہانس کی ہڈی کہتے ہیں …
Tafsir al-Jalalaynd.1505 · ar · PD
ثُمَّ ذَهَبَ إلى أهْله يَتَمَطّى﴾ يَتَبَخْتَر فِي مِشْيَته إعْجابًا
عنی بجائے سچا سمجھنے اور یقین لانے کے پیغمبروں کو جھوٹا بتلاتا رہا، اور بجائے نماز پڑھنے اور مالک کی طرف متوجہ ہونے کے ہمشہ ادھر سے منہ موڑ کر چلا۔ نہ صرف یہی بلکہ اپنی اس سرکشی اور بدبختی پر اتراتا اور اکڑتا ہوا اپنے متعلقین کے پاس جاتا تھا۔ گویا کوئی بہت بڑی بہادری اور ہنر مندی کاکام کر کے آرہا ہے۔
السَّاق}؛ أي: اجتمعت الشدائد والتفَّت، وعظُم الأمر، وصعُب الكرب، وأريد أن تخرجَ الرُّوح من البدن الذي ألفته ولم تزل معه، فتساق إلى الله تعالى ليجازيها بأعمالها ويقرِّرها بفعالها؛ فهذا الزجر الذي ذكره الله يسوقُ القلوب إلى ما فيه نجاتُها ويزجُرُها عمَّا فيه هلاكها. {31 ـ 33} ولكنَّ المعاند الذي لا تنفع فيه الآياتُ لا يزال مستمرًّا على غيِّه وكفره وعناده، {فلا صدَّقَ}؛ أي لا آمن بالله وملائكته وكتبه ورسله واليوم الآخر والقدر خيره وشرِّه، {ولا صلَّى. ولكن كذَّبَ}: بالحقِّ في مقابلة التصديق، {وتولَّى}: عن الأمر والنَّهي، هذا وهو مطمئنٌّ قلبهُ غير خائفٍ من ربِّه، بل {ذهب إلى أهله يَتَمَطَّى}؛ أي: …
رگز نہیں! جب پہنچ جائے گی (روح) ہنسلی تک (26) اور کہا جائے گا، کون ہے جھاڑ پھونک کرنے والا؟ (27) اور وہ یقین کرے گا کہ یہ فراق ہے (28) اور لپٹ جائے گی پنڈلی پنڈلی سے(29) آپ کے رب ہی کی طرف ہو گا اس دن چلنا (30) پس نہ تو اس نے تصدیق کی اور نہ نماز پڑھی (31) اور لیکن اس نے جھٹلایا اور رو گردانی کی (32) پھر وہ گیا اپنے اہل و عیال کی طرف اتراتا ہوا (33) ہلاکت ہے تیرے لیے پھر خرابی ہے (34) پھر ہلاکت ہے تیرے لیے پھر تبا ہی ہے (35) کیا سمجھتا ہے انسان یہ کہ چھوڑ دیا جائے گا وہ بے کار؟ (36) کیا نہیں تھا وہ ایک قطرہ منی کا جو (رحم میں) ٹپکایا جاتا ہے؟ (37) پھر وہ ہو گیا جما ہوا خون تواس(اللہ) نے پیدا …
كَلَّآ اِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِيَ وَقِيْلَ مَنْ ۫رَاقٍ وَّظَنَّ اَنَّهُ الْفِرَاقُ وَالْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ اِلٰى رَبِّكَ يَوْمَىِٕذِۨ الْمَسَاقُ (When the soul [ of a patient ] reaches the clavicles, and it is said, "Who is an enchanter [ that can save him?] ", and he realizes that it is [ the time on departure [ from the world,] and one shank is intertwined with the other shank, then on that day, it is to your Lord that one has to be driven.... 75:26-30] In the preceding verses, reckoning on the Day of Reckoning and conditions of the inmates of Paradise and Hell were described. In …
مطلب یہ ہے کہ جو شخص آخرت کو ماننے کے لیے تیار نہ تھا اس نے وہ سب کچھ سُنا جو اوپر کی آیات میں بیان کیا گیا ہے، مگر پھر بھی وہ اپنے انکار ہی پر اڑا رہا اور یہ آیات سننے کے بعد اکڑتا ہوا اپنے گھر کی طرف چل دیا۔ مجاہد، قتادہ اور ابنِ زید کہتے ہیں کہ یہ شخص ابوجہل تھا۔ آیت کے الفاظ سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کوئی ایک شخص تھا جس نے سورہ قیامہ کی مذکورہ بالا آیات سننے کے بعد یہ طرزِ عمل اختیار کیا۔ اس آیت کے یہ الفاظ کہ ” اس نے نہ سچ مانا اور نہ نماز پڑھی“خاص طور پر توجہ کے مستحق ہیں۔ ان سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول اور اس کی کتاب کی صداقت تسلیم کرنے کا اوّلین اور لازمی تقاضا یہ …
It means that the one who was not prepared to believe in the Hereafter, heard all that has been described in the above verses; yet he persisted in his denial, and hearing these verses went back to his household, arrogantly. Mujahid, Qatadah and Ibn Zaid say that this person was Abu Jahl. The words of the verse also indicate that it was some particular person, who adopted such a conduct after having heard the above-mentioned verse of Surah Al- Qiyamah. The words, He neither affirmed the truth nor offered the Prayer, are particularly noteworthy. They clearly show that the first and necessary …
ثم بعد ذلك : ( ذَهَبَ إلى أَهْلِهِ يتمطى ) أى : ذهب إلى أهله متبخترا متفاخرا ، متباهيا بإصراره على كفره وفجوره .وقوله : ( يتمطى ) من المط بمعنى المد . وأصله : يتمطط ، قلبت فيه الطاء حرف علة ، ووصف المتبختر فى مشيه بذلك ، لأنه يمط خطاه ، ويمدها على سبيل الإِعجاب بنفسه ، والتباهى بما هو عليه من كفر وضلال .ولم يذكر - سبحانه - المتعلق والمفعول فى الآيات الكريمة ، للإِشعار بأن هذا الإِنسان الجاحد الجاهل . . لم يصدق بشئ من الحق ، ولم يؤد الله - تعالى - فرضا ولا سنة ، ولكنه استمر على تكذيبه وإعراضه عن الصراط المستقيم ، ولم يكتف بكل ذلك ، بل تفاخر وتباهى أمام وغيره بما هو عليه من باطل .
آیت 33{ ثُمَّ ذَہَبَ اِلٰٓی اَہْلِہٖ یَتَمَطّٰی۔ } ”پھر چل دیا اپنے گھر والوں کے پاس اکڑتا ہوا۔“ ان آیات میں ایک شخص کی حق دشمنی ‘ ڈھٹائی اور اکڑفوں کی لفظی تصویر دکھائی گئی ہے۔ یہ تصویر سردارانِ قریش میں سے کسی خاص شخص کی بھی ہوسکتی ہے اور مجموعی طور پر ان کے عمومی کردار کی بھی۔ سردارانِ قریش کے اس رویے کی جھلک سورة صٓ کی اس آیت میں بھی دکھائی دیتی ہے : { وَانْطَلَقَ الْمَلَاُ مِنْہُمْ اَنِ امْشُوْا وَاصْبِرُوْا عَلٰٓی اٰلِہَتِکُمْج اِنَّ ہٰذَا لَشَیْئٌ یُّرَادُ۔ } ”اور چل پڑے ان کے سردار یہ کہتے ہوئے کہ چلو جائو اور جمے رہو اپنے معبودوں پر ‘ یقینا اس بات میں تو کوئی غرض پوشیدہ ہے۔“
ثُمَّ ذَهَبَ إِلَى أَهْلِهِ يَتَمَطَّى (33) و { يتمطّى } : يمشي المُطَيْطَاءَ ( بضم الميم وفتح الطاء بعدها ياء ثم طاء مقصورة وممدودة ) وهي التبختر .وأصل { يتمطى } : يتمطط ، أي يتمدد لأن المتبختر يمُدّ خطاه وهي مشية المعجب بنفسه . وهنا انتهى وصف الإِنسان المكذب .والمعنى : أنه أهمل الاستعداد للآخرة ولم يعبأ بدعوة الرسول صلى الله عليه وسلم وذهب إلى أهله مزدهياً بنفسه غير مفكر في مصيره .قال ابن عطية : قال جمهور المتأولين : هذه الآية كلها من قوله : { فَلا صدّق ولا صلّى } نزلت في أبي جهل بن هشام ، قال : ثم كادت هذه الآية تصرح به في قوله تعالى : { يتمطى } فإنها كانت مشية بني مخزوم وكان أبو جهل يكثر …
فلا آمن الكافر بالرسول والقرآن، ولا أدّى لله تعالى فرائض الصلاة، ولكن كذَّب بالقرآن، وأعرض عن الإيمان، ثم مضى إلى أهله يتبختر مختالًا في مشيته. هلاك لك فهلاك، ثم هلاك لك فهلاك.
plays offline — the recitation is inside this file
PickthallNearer unto thee and nearer,
Yusuf AliWoe to thee, (O men!), yea, woe!
Muhammad Junagarhiافسوس ہے تجھ پر حسرت ہے تجھ پر.
al-Muyassarفلا آمن الكافر بالرسول والقرآن، ولا أدّى لله تعالى فرائض الصلاة، ولكن كذَّب بالقرآن، وأعرض عن الإيمان، ثم مضى إلى أهله يتبختر مختالًا في مشيته. هلاك لك فهلاك، ثم هلاك لك فهلاك.
the agreed readingNearer to you and nearer — a threat, the commentaries agree, of what he would rather not have come near him at all.
قریب ہے تیرے لیے پھر قریب ہے۔ جلالین وضاحت کرتے ہیں کہ اولی لک میں غیبت سے التفات ہے، اور یہ لفظ اسمِ فعل ہے، اور لام تبیین کے لیے ہے، یعنی تیرے قریب ہے وہ چیز جسے تو ناپسند کرتا ہے، اور فاولی کا مطلب ہے وہ چیز تیرے لیے دوسروں سے زیادہ قریب ہے۔
أولى لك فأولى. فسر الجلالين أولى لك بأن فيه التفاتا عن الغيبة، والكلمة اسم فعل واللام للتبيين، أي وليك ما تكره، وفأولى أي فهو أولى بك من غيرك.
No Shīʿī edition could be anchored to this āyah by the alignment; the commentary exists in the books, the method could not point at it.
21 of the 36 commentaries carry this āyah
all 21, in their own words
al-Tabarid.923 · ar · PD
القول في تأويل قوله تعالى: ﴿فَلا صَدَّقَ وَلا صَلَّى (٣١) وَلَكِنْ كَذَّبَ وَتَوَلَّى (٣٢) ثُمَّ ذَهَبَ إِلَى أَهْلِهِ يَتَمَطَّى (٣٣) أَوْلَى لَكَ فَأَوْلَى (٣٤) ثُمَّ أَوْلَى لَكَ فَأَوْلَى (٣٥) أَيَحْسَبُ الإنْسَانُ أَنْ يُتْرَكَ سُدًى (٣٦) ﴾ . يقول تعالى ذكره: فلم يصدّق بكتاب الله، ولم يصلّ له صلاة، ولكنه كذّب بكتاب الله، وتولى فأدبر عن طاعة الله. وبنحو الذي قلنا في ذلك قال أهل التأويل. ذكر من قال ذلك: ⁕ حدثنا بشر، قال: ثنا يزيد، قال: ثنا سعيد، عن قتادة ﴿فَلا صَدَّقَ وَلا صَلَّى﴾ لا صدّق بكتاب الله، ولا صلى لله ﴿وَلَكِنْ كَذَّبَ وَتَوَلَّى﴾ كذّب بكتاب الله، وتولى عن طاعة الله. * * وقوله: …
كَلَّا إِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِيَ (Nay, when it reaches to the collarbones.) If we make the word "Kalla" negative, then this Ayah means, 'O son of Adam! You are not able to deny that which I informed you of at that time (death). This will become something witnessed by you with your own eyes.' If we consider the word "Kalla" to be a word of affirmation, then this would be the most obvious meaning. In this case it would mean that it is certainly true when the soul reaches the collarbones - meaning, 'your soul will be pulled out of your body and it will reach your collarbones.' This is similar …
جب ہماری روح حلق تک پہنچ جاتی ہے اور اس کے بعد کیا ہوتا ہے یہاں موت کا اور سکرات کی کیفیت کا بیان ہو رہا ہے اللہ تعالیٰ ہمیں اس وقت حق پر ثابت قدم رکھے۔ (کلا) کو اگر یہاں ڈانٹ کے معنی میں لیا جائے تو یہ معنی ہوں گے کہ " اے ابن آدم تو جو میری خبروں کو جھٹلاتا ہے یہ درست نہیں بلکہ ان کے مقدمات تو تو روزمرہ کھلم کھلا دیکھ رہا ہے " اور اگر اس لفظ کو (حقا) کے معنی میں لیں تو مطلب اور زیادہ ظاہر ہے یعنی یہ بات یقینی ہے کہ جب تیری روح تیرے جسم سے نکلنے لگے اور تیرے نرخرے تک پہنچ جائے (تراقی) جمع ہے (ترقوۃ) کی ان ہڈیوں کو کہتے ہیں جو سینے پر اور مونڈھوں کے درمیان میں ہیں جسے ہانس کی ہڈی کہتے ہیں …
[Woe be] nearer to you (there is a shift from the third [to the second] person address here; the term [awlā] is a noun of action, with the [following] lām being explicative, in other words, ‘what you are averse to is [now] near to you’) and nearer, that is because you are more deserving of it [woe] than anyone else,
السَّاق}؛ أي: اجتمعت الشدائد والتفَّت، وعظُم الأمر، وصعُب الكرب، وأريد أن تخرجَ الرُّوح من البدن الذي ألفته ولم تزل معه، فتساق إلى الله تعالى ليجازيها بأعمالها ويقرِّرها بفعالها؛ فهذا الزجر الذي ذكره الله يسوقُ القلوب إلى ما فيه نجاتُها ويزجُرُها عمَّا فيه هلاكها. {31 ـ 33} ولكنَّ المعاند الذي لا تنفع فيه الآياتُ لا يزال مستمرًّا على غيِّه وكفره وعناده، {فلا صدَّقَ}؛ أي لا آمن بالله وملائكته وكتبه ورسله واليوم الآخر والقدر خيره وشرِّه، {ولا صلَّى. ولكن كذَّبَ}: بالحقِّ في مقابلة التصديق، {وتولَّى}: عن الأمر والنَّهي، هذا وهو مطمئنٌّ قلبهُ غير خائفٍ من ربِّه، بل {ذهب إلى أهله يَتَمَطَّى}؛ أي: …
رگز نہیں! جب پہنچ جائے گی (روح) ہنسلی تک (26) اور کہا جائے گا، کون ہے جھاڑ پھونک کرنے والا؟ (27) اور وہ یقین کرے گا کہ یہ فراق ہے (28) اور لپٹ جائے گی پنڈلی پنڈلی سے(29) آپ کے رب ہی کی طرف ہو گا اس دن چلنا (30) پس نہ تو اس نے تصدیق کی اور نہ نماز پڑھی (31) اور لیکن اس نے جھٹلایا اور رو گردانی کی (32) پھر وہ گیا اپنے اہل و عیال کی طرف اتراتا ہوا (33) ہلاکت ہے تیرے لیے پھر خرابی ہے (34) پھر ہلاکت ہے تیرے لیے پھر تبا ہی ہے (35) کیا سمجھتا ہے انسان یہ کہ چھوڑ دیا جائے گا وہ بے کار؟ (36) کیا نہیں تھا وہ ایک قطرہ منی کا جو (رحم میں) ٹپکایا جاتا ہے؟ (37) پھر وہ ہو گیا جما ہوا خون تواس(اللہ) نے پیدا …
ایک عام اصطلاحی انداز تعبیر ہے ، عربی روز مرہ کے مطابق ، مگر اس کے اندر تہدید اور ڈوراوا بھی ہوتا ہے۔ ایک بار حضور اکرم ﷺ نے ابوجہل کو گلے سے پکڑا اور کہا : اولی لک ................ فاولی (57 : 53) تو اللہ کے اس دشمن نے کہا : ” محمد کیا تم مجھے دھمکی دیتے ہو ؟ خدا کی قسم نہ تم اور نہ تمہارا رب میرا کچھ بگاڑ سکتے ہو اور میں ان تمام لوگوں سے زیادہ معزز ہوں جو مکہ کے دونوں پہاڑوں کے درمیان کبھی چلے ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے بدر کے دن اسے پکڑا اور یوں حضرت محمد ﷺ اور رب محمد ﷺ نے اس کا سب کھیل بگاڑ دیا۔ اور ابوجہل سے قبل فرعون نے بھی اپنی قوم سے کہا تھا۔ ماعلمت .................... غیری ” میں تمہارے …
اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰى ثُمَّ اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰى '[ It will be said to such a man,] Woe to you, then woe to you! Again, woe to you, then woe to you!...(75:34-35) The word aula is the inverted form of wail which means ' The expression 'woe' has been mentioned four times for the has made it his habit to deny and reject, and was steeped in died in that state. Therefore, destruction has been heaped times: [ 1] at the time of death; [ 2] in the grave; [ 3] at Resurrection; and finally [ 4] at the time of entering Hell. destruction'. person who wealth, and on him four the time of
وقوله - سبحانه - : ( أولى لَكَ فأولى . ثُمَّ أولى لَكَ فأولى ) دعاء على هذا الإِنسان الشقى ، المصر على إعراضه عن الحق . . بالهلاك وسوء العاقبة . و ( أولى ) اسم تفضيل من وَلِىَ ، وفاعله ضمير محذوف يقدره كل قائل أو سامع بما يدل على المكروه .والكاف فى قوله ( لك ) للتبين ، والكاف خطاب لهذا الإِنسان المخصوص بالدعاء عليه .وقوله : ( فأولى ) تأكيد لقوله ( أولى لَك ) .
أَوْلَى لَكَ فَأَوْلَى (34) فقوله : { أولَى لك } وعيد ، وهي كلمة تَوعُّد تجري مَجرى المَثَل في لزوم هذا اللفظ لكن تلحقه علامات الخطاب والغيبة والتكلم ، والمراد به ما يراد بقولهم : ويل لك ، من دعاء على المجرور باللام بعدها ، أي دعاء بأن يكون المكروه أدنى شيء منه .{ فأوْلى } : اسم تفضيل من وَلي ، وفاعله ضمير محذوف عائد على مقدر معلوم في العرف ، فيقدره كل سامع بما يدل على المكروه ، قال الأصمعي : معناه : قاربكَ ما تَكره ، قالت الخنساء :همَمْتُ بنفسيَ كُلَّ الهموم ... فأولى لنفسيَ أولى لهاوكان القانص إذا أفلتَه الصيدُ يخاطب الصيد بقوله : { أولى لك } وقد قيل : إن منه قوله تعالى : { فأولى لهم } من …
فلا آمن الكافر بالرسول والقرآن، ولا أدّى لله تعالى فرائض الصلاة، ولكن كذَّب بالقرآن، وأعرض عن الإيمان، ثم مضى إلى أهله يتبختر مختالًا في مشيته. هلاك لك فهلاك، ثم هلاك لك فهلاك.
The Prophet (pbuh) received him, grabbed him and shook him once or twice and then said: (Nearer unto thee and nearer) this is a threat to you, O Abu Jahl, it is indeed a threat.
No commentary keyed to this āyah in: Ahsan al-Bayan (Urdu), Bayan ul Quran (Urdu), Hilali & Khan, notes (English), Jawāmiʿ al-jāmiʿ (al-Ṭabrisī), Majmaʿ al-bayān (al-Ṭabrisī), Nūr al-thaqalayn (al-Ḥuwayzī), Tafhim al-Qur'an - Maududi (English), Tafhim al-Qur'an - Maududi (Urdu), Tafsir-e-Usmani (Urdu), Tafsīr al-Qummī, Tazkir ul Quran (Urdu), Tazkirul Quran (English), al-Mīzān (Ṭabāṭabāʾī), al-Tibyān (al-Ṭūsī), al-Ṣāfī (Fayḍ al-Kāshānī).
plays offline — the recitation is inside this file
PickthallAgain nearer unto thee and nearer (is the doom).
Yusuf AliAgain, Woe to thee, (O men!), yea, woe!
Muhammad Junagarhiوائے ہے اور خرابی ہے تیرے لیے.[1]
al-Muyassarفلا آمن الكافر بالرسول والقرآن، ولا أدّى لله تعالى فرائض الصلاة، ولكن كذَّب بالقرآن، وأعرض عن الإيمان، ثم مضى إلى أهله يتبختر مختالًا في مشيته. هلاك لك فهلاك، ثم هلاك لك فهلاك.
the agreed readingthen nearer to you and nearer. The commentaries take the doubling as a threat pressed twice over, the second saying nothing new except that it is said again.
پھر قریب ہے تیرے لیے پھر قریب ہے۔ تفسیر مقباس کے مطابق یہ اس پر پہلی بددعا اور اس کی تاکید کی مزید تاکید ہے۔ ثم کا لفظ جملے کو عطف کرنے کے لیے لایا گیا، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ تاکید وعید میں اضافہ ہے، اور پہلے وعید اور اس کی تاکید سے بھی زیادہ سخت دھمکی ہے۔
ثم أولى لك فأولى. جاء في تفسير مقباس أن قوله ثم أولى لك فأولى تأكيد للدعاء عليه ولتأكيده السابق، وجيء بحرف ثم لعطف الجملة دلالة على أن هذا التأكيد ارتقاء في الوعيد، وتهديد بأشد مما أفاده التهديد الأول وتأكيده.
26 of the 36 commentaries carry this āyah
all 26, in their own words
al-Tabarid.923 · ar · PD
القول في تأويل قوله تعالى: ﴿فَلا صَدَّقَ وَلا صَلَّى (٣١) وَلَكِنْ كَذَّبَ وَتَوَلَّى (٣٢) ثُمَّ ذَهَبَ إِلَى أَهْلِهِ يَتَمَطَّى (٣٣) أَوْلَى لَكَ فَأَوْلَى (٣٤) ثُمَّ أَوْلَى لَكَ فَأَوْلَى (٣٥) أَيَحْسَبُ الإنْسَانُ أَنْ يُتْرَكَ سُدًى (٣٦) ﴾ . يقول تعالى ذكره: فلم يصدّق بكتاب الله، ولم يصلّ له صلاة، ولكنه كذّب بكتاب الله، وتولى فأدبر عن طاعة الله. وبنحو الذي قلنا في ذلك قال أهل التأويل. ذكر من قال ذلك: ⁕ حدثنا بشر، قال: ثنا يزيد، قال: ثنا سعيد، عن قتادة ﴿فَلا صَدَّقَ وَلا صَلَّى﴾ لا صدّق بكتاب الله، ولا صلى لله ﴿وَلَكِنْ كَذَّبَ وَتَوَلَّى﴾ كذّب بكتاب الله، وتولى عن طاعة الله. * * وقوله: …
كَلَّا إِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِيَ (Nay, when it reaches to the collarbones.) If we make the word "Kalla" negative, then this Ayah means, 'O son of Adam! You are not able to deny that which I informed you of at that time (death). This will become something witnessed by you with your own eyes.' If we consider the word "Kalla" to be a word of affirmation, then this would be the most obvious meaning. In this case it would mean that it is certainly true when the soul reaches the collarbones - meaning, 'your soul will be pulled out of your body and it will reach your collarbones.' This is similar …
جب ہماری روح حلق تک پہنچ جاتی ہے اور اس کے بعد کیا ہوتا ہے یہاں موت کا اور سکرات کی کیفیت کا بیان ہو رہا ہے اللہ تعالیٰ ہمیں اس وقت حق پر ثابت قدم رکھے۔ (کلا) کو اگر یہاں ڈانٹ کے معنی میں لیا جائے تو یہ معنی ہوں گے کہ " اے ابن آدم تو جو میری خبروں کو جھٹلاتا ہے یہ درست نہیں بلکہ ان کے مقدمات تو تو روزمرہ کھلم کھلا دیکھ رہا ہے " اور اگر اس لفظ کو (حقا) کے معنی میں لیں تو مطلب اور زیادہ ظاہر ہے یعنی یہ بات یقینی ہے کہ جب تیری روح تیرے جسم سے نکلنے لگے اور تیرے نرخرے تک پہنچ جائے (تراقی) جمع ہے (ترقوۃ) کی ان ہڈیوں کو کہتے ہیں جو سینے پر اور مونڈھوں کے درمیان میں ہیں جسے ہانس کی ہڈی کہتے ہیں …
then [may woe be] nearer to you and nearer! — [repeated] for emphasis.
al-Ṣāfī (Fayḍ al-Kāshānī)d.1680 · ar · PD
ثم أولى لك فأولى فقال أبو جهل بأي شئ تهددني لا تستطيع أنت ولا ربك أن تفعلا بي شيئا أو اني لأعز أهل هذا الوادي فأنزل الله سبحانه كما قال له رسول الله (صلى الله عليه وآله). (36)
Nūr al-thaqalayn (al-Ḥuwayzī)d.1700 · ar · PD
ثم أولى لك فأولى " قال: يقول الله عز وجل بعدا لك من خير الدنيا، وبعدا لك من خير الآخرة. 29 - في مجمع البيان وجاءت الرواية أن رسول الله صلى الله عليه وآله أخذ بيد أبى جهل ثم قال له: " أولى لك فأولى * ثم أولى لك فأولى " فقال أبو جهل: بأي شئ تهددني لا تستطيع أنت ولا ربك ان تفعلا بي شيئا، وانى لاعز أهل هذا الوادي فأنزل الله سبحانه كما قال له رسول الله صلى الله عليه وآله. 30 - في تفسير علي بن إبراهيم وقوله:
عنی او بدبخت اب تیری کمبختی آئی، ایک مرتبہ نہیں کئ مرتبہ اب تیرے لئے خرابی اور تباہی پر تباہی ہے۔ تجھ سے بڑھ کر اللہ کی نئی نئی سزاؤں کا مستحق اور کون ہوگا۔ (تنبیہ) شاید اوّل خرابی یقین نہ لانے اور نماز نہ پڑھنے پر، دوسری اس سے بڑھ کر جھٹلانے اور منہ موڑنے پر، تیسری اور چوتھی ان دونوں امور میں سے ہر ایک کو قابل فخر سمجھنے پر ہو۔ جس کی طرف ثُمَّ ذَھَبَ اِلٰٓی اَھْلِہٖ یَتَمَطّٰی میں اشارہ ہے۔ واللہ اعلم۔
السَّاق}؛ أي: اجتمعت الشدائد والتفَّت، وعظُم الأمر، وصعُب الكرب، وأريد أن تخرجَ الرُّوح من البدن الذي ألفته ولم تزل معه، فتساق إلى الله تعالى ليجازيها بأعمالها ويقرِّرها بفعالها؛ فهذا الزجر الذي ذكره الله يسوقُ القلوب إلى ما فيه نجاتُها ويزجُرُها عمَّا فيه هلاكها. {31 ـ 33} ولكنَّ المعاند الذي لا تنفع فيه الآياتُ لا يزال مستمرًّا على غيِّه وكفره وعناده، {فلا صدَّقَ}؛ أي لا آمن بالله وملائكته وكتبه ورسله واليوم الآخر والقدر خيره وشرِّه، {ولا صلَّى. ولكن كذَّبَ}: بالحقِّ في مقابلة التصديق، {وتولَّى}: عن الأمر والنَّهي، هذا وهو مطمئنٌّ قلبهُ غير خائفٍ من ربِّه، بل {ذهب إلى أهله يَتَمَطَّى}؛ أي: …
رگز نہیں! جب پہنچ جائے گی (روح) ہنسلی تک (26) اور کہا جائے گا، کون ہے جھاڑ پھونک کرنے والا؟ (27) اور وہ یقین کرے گا کہ یہ فراق ہے (28) اور لپٹ جائے گی پنڈلی پنڈلی سے(29) آپ کے رب ہی کی طرف ہو گا اس دن چلنا (30) پس نہ تو اس نے تصدیق کی اور نہ نماز پڑھی (31) اور لیکن اس نے جھٹلایا اور رو گردانی کی (32) پھر وہ گیا اپنے اہل و عیال کی طرف اتراتا ہوا (33) ہلاکت ہے تیرے لیے پھر خرابی ہے (34) پھر ہلاکت ہے تیرے لیے پھر تبا ہی ہے (35) کیا سمجھتا ہے انسان یہ کہ چھوڑ دیا جائے گا وہ بے کار؟ (36) کیا نہیں تھا وہ ایک قطرہ منی کا جو (رحم میں) ٹپکایا جاتا ہے؟ (37) پھر وہ ہو گیا جما ہوا خون تواس(اللہ) نے پیدا …
اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰى ثُمَّ اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰى '[ It will be said to such a man,] Woe to you, then woe to you! Again, woe to you, then woe to you!...(75:34-35) The word aula is the inverted form of wail which means ' The expression 'woe' has been mentioned four times for the has made it his habit to deny and reject, and was steeped in died in that state. Therefore, destruction has been heaped times: [ 1] at the time of death; [ 2] in the grave; [ 3] at Resurrection; and finally [ 4] at the time of entering Hell. destruction'. person who wealth, and on him four the time of
مفسرین نے اَوْلٰی لَکَ کے متعدد معنی بیان کیے ہیں۔ تُف ہے تجھ پر ۔ ہلاکت ہے تیرے لیے۔ خرابی، یا تباہی ، یا کمبختی ہے تیرے لیے۔ لیکن ہمارے نزدیک موقع ومحل کے لحاظ سے اس کا مناسب تیرن مفہوم وہ ہے جو حافظ ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں بیان کیا ہے کہ ”جب تو اپنے خالق کفر کرنے کی جُرت کر چکا ہے تو پھر تجھ جیسے آدمی یہی چال زیب دیتی ہے جو تو چل رہا ہے۔“یہ اسی طرح کا طنزیہ کلام ہے جسے قرآن مجید میں ایک اور جگہ فرمایا گیا ہے کہ دوزخ میں عذاب دیتے ہوئےمجرم انسان سے کہا جائے گا کہ ذُقْ اِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْکَرِیْمُ،”لے چکھ اس کا مزا، بڑا زبردست عزت دار آدمی ہے تو ۔“(الدخان،۔49)
The commentators have given several meanings of the word aula laka: shame on you, may you perish, woe to you, may you hasten to your doom. But in our opinion, in view of the context, the most appropriate meaning is that which Hafiz Ibn Kathir has given in his commentary: When you have had the boldness to disown your Creator, then it only behooves a person like you to persist in the sort of conduct you display. This is the same sort of sarcastic remark as occurred in(Surah Ad-Dukhan, Ayat 49). While meting out punishment to the culprit in Hell, it will be said: Taste this, a mighty and …
وجملة ( ثُمَّ أولى لَكَ فأولى ) مؤكدة للجملة الأولى . أى : أجدر بك هذا الهلاك الذى ينتظرك قريبا - أيها الإِنسان - الجاحد ، ثم أجدر بك ، لأنك أصررت على كل ما هو باطل وسوء .قال القرطبى ما ملخصه : هذا تهديد بعد تهديد ، ووعيد بعد وعيد . .روى أن رسول الله صلى الله عليه وسلم خرج من المسجد ذات يوم ، فاستقبله أبو جهل على باب المسجد ، فأخذ رسول الله صلى الله عليه وسلم بيده ، فهزه مرة أو مرتين ثم قال : " أولى لك فأولى " فقال أبو جهل : أتهددنى - يا محمد - فو الله إنى لأعز أهل هذا الوادى وأكرمه ، ونزل على رسول الله صلى الله عليه وسلم كما قال لأبى جهل .وجئ بحرف " ثم " فى عطف الجملة الثانية على الأولى …
ثُمَّ أَوْلَى لَكَ فَأَوْلَى (35)وقوله : { ثم أولى لك فأولى } تأكيد للدعاء عليه ولتأكيده السابق .وجيء بحرف { ثم } لعطف الجملة دلالة على أن هذا التأكيد ارتقاء في الوعيد ، وتهديد بأشدَّ مما أفاده التهديد الأول وتأكيدُه كقوله تعالى : { كلا سوف تعلمون ثم كلا سوف تعلمون } [ التكاثر : 3 ، 4 ] .وأحسب أن المراد : كُلُّ إنسان كافر كما يقتضيه أول الكلام من قوله { أيحسب الإِنسان أن لن نجمع عظامه } إلى قوله : { بل الإِنسان على نفسه بصيرة } [ القيامة : 3 14 ] ، وما أبو جهل إلاّ مِن أولهم ، وأن النبي صلى الله عليه وسلم توعده باللفظ الذي أنزله الله تهديداً لأمثاله .وكلمات المتقدمين في كون الشيء سبب نزول شيء …
فلا آمن الكافر بالرسول والقرآن، ولا أدّى لله تعالى فرائض الصلاة، ولكن كذَّب بالقرآن، وأعرض عن الإيمان، ثم مضى إلى أهله يتبختر مختالًا في مشيته. هلاك لك فهلاك، ثم هلاك لك فهلاك.
(Again nearer unto thee and nearer (is the doom)) beware, O Abu Jahl.
No commentary keyed to this āyah in: Bayan ul Quran (Urdu), Fi Zilal al-Quran (Urdu), Hilali & Khan, notes (English), Jawāmiʿ al-jāmiʿ (al-Ṭabrisī), Majmaʿ al-bayān (al-Ṭabrisī), Tafsīr al-Qummī, Tazkir ul Quran (Urdu), Tazkirul Quran (English), al-Mīzān (Ṭabāṭabāʾī), al-Tibyān (al-Ṭūsī).
plays offline — the recitation is inside this file
PickthallThinketh man that he is to be left aimless?
Yusuf AliDoes man think that he will be left uncontrolled, (without purpose)?
Muhammad Junagarhiکیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اسے بیکار چھوڑ دیا جائے گا.[1]
al-Muyassarأيظنُّ هذا الإنسان المنكر للبعث أن يُترك هَمَلًا لا يُؤمر ولا يُنْهى، ولا يحاسب ولا يعاقب؟ ألم يك هذا الإنسان نطفة ضعيفة من ماء مهين يراق ويصب في الأرحام، ثم صار قطعة من دم جامد، فخلقه الله بقدرته وسوّى صورته في أحسن تقويم؟ فجعل من هذا الإنسان الصنفين: الذكر والأنثى، أليس ذلك الإله الخالق لهذه الأشياء بقادر على إعادة الخلق بعد فنائهم؟ بلى إنه -سبحانه وتعالى- لقادر على ذلك.
the agreed readingDoes man think he will be left to himself, with nothing required of him and nothing asked?
کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اسے یوں ہی چھوڑ دیا جائے گا؟ قرطبی بتاتے ہیں کہ اس کا مطلب ہے ابن آدم یہ گمان کرتا ہے کہ اسے مہمل چھوڑ دیا جائے گا، نہ اسے حکم دیا جائے اور نہ منع کیا جائے، یہ ابن زید اور مجاہد کا قول ہے۔
أيحسب الإنسان أن يترك سدى. ذكر القرطبي أن معناه يظن ابن آدم أن يخلى مهملا، فلا يؤمر ولا ينهى، قاله ابن زيد ومجاهد، ومنه إبل سدى ترعى بلا راع.
28 of the 36 commentaries carry this āyah
all 28, in their own words
al-Tabarid.923 · ar · PD
القول في تأويل قوله تعالى: ﴿فَلا صَدَّقَ وَلا صَلَّى (٣١) وَلَكِنْ كَذَّبَ وَتَوَلَّى (٣٢) ثُمَّ ذَهَبَ إِلَى أَهْلِهِ يَتَمَطَّى (٣٣) أَوْلَى لَكَ فَأَوْلَى (٣٤) ثُمَّ أَوْلَى لَكَ فَأَوْلَى (٣٥) أَيَحْسَبُ الإنْسَانُ أَنْ يُتْرَكَ سُدًى (٣٦) ﴾ . يقول تعالى ذكره: فلم يصدّق بكتاب الله، ولم يصلّ له صلاة، ولكنه كذّب بكتاب الله، وتولى فأدبر عن طاعة الله. وبنحو الذي قلنا في ذلك قال أهل التأويل. ذكر من قال ذلك: ⁕ حدثنا بشر، قال: ثنا يزيد، قال: ثنا سعيد، عن قتادة ﴿فَلا صَدَّقَ وَلا صَلَّى﴾ لا صدّق بكتاب الله، ولا صلى لله ﴿وَلَكِنْ كَذَّبَ وَتَوَلَّى﴾ كذّب بكتاب الله، وتولى عن طاعة الله. * * وقوله: …
فَخَلَقَ فقدر فَسَوَّى فعدل مِنْهُ من الإنسان الزَّوْجَيْنِ الصنفين أَلَيْسَ ذلِكَ الذي أنشأ هذا الإنشاء بِقادِرٍ على الإعادة. وروى أنّ رسول الله صلى الله عليه وسلم كان إذا قرأها قال سبحانك بلى [[أبو داود: من رواية موسى بن أبى عائشة عن رجل سمعه عن النبي ﷺ ورواه الحاكم من رواية إسماعيل بن أمية عن أبى اليسع عن أبى هريرة نحوه «قلت» راويه عن إسماعيل عند الحاكم يزيد بن عياض متروك. ولكن أخرجه أحمد وأبو داود والترمذي من طريق سفيان بن عيينة عن إسماعيل عن رجل عن أبى هريرة. واختلف فيه على إسماعيل على أوجه أخرى ذكرتها في حاشية الأطراف.]] . عن رسول الله ﷺ: «من قرأ سورة القيامة شهدت له أنا وجبريل يوم …
Fakhr al-Din al-Razid.1210 · ar · PD
فَأوْلى﴾ أيِ احْذَرْ، فَقَدْ قَرُبَ مِنكَ ما لا قِبَلَ لَكَ بِهِ مِنَ المَكْرُوهِ. قَوْلُهُ تَعالى: ﴿أيَحْسَبُ الإنْسانُ أنْ يُتْرَكَ سُدًى﴾ أيْ: مُهْمَلًا، لا يُؤْمَرُ ولا يُنْهى، ولا يُكَلَّفُ في الدُّنْيا ولا يُحاسَبُ بِعَمَلِهِ في الآخِرَةِ، والسُّدى في اللُّغَةِ المُهْمَلُ، يُقالُ: أسْدَيْتُ إبِلِي إسْداءً أهْمَلْتُها. واعْلَمْ أنَّهُ تَعالى لَمّا ذَكَرَ في أوَّلِ السُّورَةِ - قَوْلَهُ ﴿أيَحْسَبُ الإنْسانُ ألَّنْ نَجْمَعَ عِظامَهُ﴾ أعادَ في آخِرِ السُّورَةِ ذَلِكَ، وذَكَرَ في صِحَّةِ البَعْثِ والقِيامَةِ دَلِيلَيْنِ: الأوَّلُ: قَوْلُهُ ﴿أيَحْسَبُ الإنْسانُ أنْ يُتْرَكَ سُدًى﴾، ونَظِيرُهُ …
كَلَّا إِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِيَ (Nay, when it reaches to the collarbones.) If we make the word "Kalla" negative, then this Ayah means, 'O son of Adam! You are not able to deny that which I informed you of at that time (death). This will become something witnessed by you with your own eyes.' If we consider the word "Kalla" to be a word of affirmation, then this would be the most obvious meaning. In this case it would mean that it is certainly true when the soul reaches the collarbones - meaning, 'your soul will be pulled out of your body and it will reach your collarbones.' This is similar …
جب ہماری روح حلق تک پہنچ جاتی ہے اور اس کے بعد کیا ہوتا ہے یہاں موت کا اور سکرات کی کیفیت کا بیان ہو رہا ہے اللہ تعالیٰ ہمیں اس وقت حق پر ثابت قدم رکھے۔ (کلا) کو اگر یہاں ڈانٹ کے معنی میں لیا جائے تو یہ معنی ہوں گے کہ " اے ابن آدم تو جو میری خبروں کو جھٹلاتا ہے یہ درست نہیں بلکہ ان کے مقدمات تو تو روزمرہ کھلم کھلا دیکھ رہا ہے " اور اگر اس لفظ کو (حقا) کے معنی میں لیں تو مطلب اور زیادہ ظاہر ہے یعنی یہ بات یقینی ہے کہ جب تیری روح تیرے جسم سے نکلنے لگے اور تیرے نرخرے تک پہنچ جائے (تراقی) جمع ہے (ترقوۃ) کی ان ہڈیوں کو کہتے ہیں جو سینے پر اور مونڈھوں کے درمیان میں ہیں جسے ہانس کی ہڈی کہتے ہیں …
Tafsir al-Jalalaynd.1505 · ar · PD
أيَحْسَبُ﴾ يَظُنّ ﴿الإنْسان أنْ يُتْرَك سُدًى﴾ هَمْلًا لا يُكَلَّف بِالشَّرائِعِ لا يَحْسَب ذَلِكَ
Does man suppose that he is to be left aimless?, left to his own devices without being obligated to the [prescribed] laws: let him not suppose that!
al-Ṣāfī (Fayḍ al-Kāshānī)d.1680 · ar · PD
أيحسب الانسان أن يترك سدى مهملا القمي قال لا يحاسب ولا يعذب ولا يسئل عن شئ. (37)
Nūr al-thaqalayn (al-Ḥuwayzī)d.1700 · ar · PD
أيحسب الانسان ان يترك سدى قال لا يحاسب ولا يعذب ولا يسئل عن شئ. 31 - في كتاب علل الشرايع باسناده إلى جعفر بن محمد بن عمارة عن أبيه قال: سألت الصادق جعفر بن محمد عليهما السلام فقلت: لم خلق الله الخلق؟ فقال: ان الله تبارك وتعالى لم يخلق خلقه عبثا ولم يتركهم سدى بل خلقهم لاظهار قدرته وليكلفهم طاعته، فيستوجبوا بذلك رضوانه، وما خلقهم ليجلب منهم منفعة، ولا ليدفع بهم مضرة بل خلقهم لينفعهم ويوصلهم إلى نعيم. 32 - وباسناده إلى مسعدة بن زيادة قال: قال رجل لجعفر بن محمد عليه السلام: يا أبا عبد الله [vol 5 p.466] انا خلقنا للعجب قال: وما ذلك لله أنت؟ قال: خلقنا للفناء؟ فقال: يا بن أخ خلقنا للبقاء وكيف …
عنی کیا آدمی یہ سمجھتا ہے کہ اس کو یونہی مہمل چھوڑ دیا جائے گا؟ اور امرونہی کی کوئی قید اس پر نہ ہوگی؟ یا مرے پیچھے اٹھایا نہ جائے گا؟ اور سب نیک و بد کا حساب نہ لیں گے؟
صدَّقَ}؛ أي لا آمن بالله وملائكته وكتبه ورسله واليوم الآخر والقدر خيره وشرِّه، {ولا صلَّى. ولكن كذَّبَ}: بالحقِّ في مقابلة التصديق، {وتولَّى}: عن الأمر والنَّهي، هذا وهو مطمئنٌّ قلبهُ غير خائفٍ من ربِّه، بل {ذهب إلى أهله يَتَمَطَّى}؛ أي: ليس على بَالِه شيءٌ. {34 ـ 35} ثم توعَّده بقوله: {أولى لك فأولى. ثم أولى لك فأولى}: وهذه كلماتُ وعيدٍ؛ كرَّرها لتكرير وعيدِهِ. {36 ـ 40} ثم ذكَّر الإنسان بخَلْقِهِ الأوَّل، فقال:{أيحسبُ الإنسانُ أن يُتۡرَكَ سُدىً}؛ أي: مهملاً لا يؤمر ولا ينهى ولا يُثاب ولا يعاقب؟ هذا حسبانٌ باطلٌ وظنٌّ بالله غير ما يليق بحكمته. {ألم يكُ نطفةً مِن مَنِيٍّ يُمۡنى. ثمَّ كان}: …
رگز نہیں! جب پہنچ جائے گی (روح) ہنسلی تک (26) اور کہا جائے گا، کون ہے جھاڑ پھونک کرنے والا؟ (27) اور وہ یقین کرے گا کہ یہ فراق ہے (28) اور لپٹ جائے گی پنڈلی پنڈلی سے(29) آپ کے رب ہی کی طرف ہو گا اس دن چلنا (30) پس نہ تو اس نے تصدیق کی اور نہ نماز پڑھی (31) اور لیکن اس نے جھٹلایا اور رو گردانی کی (32) پھر وہ گیا اپنے اہل و عیال کی طرف اتراتا ہوا (33) ہلاکت ہے تیرے لیے پھر خرابی ہے (34) پھر ہلاکت ہے تیرے لیے پھر تبا ہی ہے (35) کیا سمجھتا ہے انسان یہ کہ چھوڑ دیا جائے گا وہ بے کار؟ (36) کیا نہیں تھا وہ ایک قطرہ منی کا جو (رحم میں) ٹپکایا جاتا ہے؟ (37) پھر وہ ہو گیا جما ہوا خون تواس(اللہ) نے پیدا …
آخری مقطع ہے جو نہایت اثر آفرین ہے اور اس میں گہرے حقائق کی طرف اشارہ ہیں۔ ان حقائق کے بارے میں اس وقت کے سامعین نے کبھی غور ہی نہ کیا تھا۔ ان حقائق میں سے زیادہ انسان کی تخلیق اور اس دنیا میں اس کی حیات کے نشوونما کے لئے تدابیر کی طرف اشارات ہیں۔ ایحسب ........................ سدی (36:75) ” کیا انسان نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ اسے یونہی مہمل چھوڑ دیا جائے گا ؟ “ اہل عرب کے نزدیک زندگی ایک ایسی حرکت تھی جس کا نہ کوئی سبب تھا اور نہ کوئی علت تھی۔ نہ کوئی مقصد اور نہ غایت تھی۔ لوگ ماں کے پیٹ سے پیدا ہوتے تھے اور قبروں میں جاتے تھے۔ اور پیدائش اور موت کے درمیان کا عرصہ لہو ولعب کے لئے مخصوص تھا۔ …
اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰى ثُمَّ اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰى '[ It will be said to such a man,] Woe to you, then woe to you! Again, woe to you, then woe to you!...(75:34-35) The word aula is the inverted form of wail which means ' The expression 'woe' has been mentioned four times for the has made it his habit to deny and reject, and was steeped in died in that state. Therefore, destruction has been heaped times: [ 1] at the time of death; [ 2] in the grave; [ 3] at Resurrection; and finally [ 4] at the time of entering Hell. destruction'. person who wealth, and on him four the time of
اب کلام کو ختم کرتے ہوئے اسی مضمون کا اعادہ کیا جا رہا ہے جس سے کلام کا آغاز کیا گیا تھا، یعنی زندگی بعدِموت ضروری بھی ہے اور ممکن بھی۔ عربی زبان میں اِبِل سُدی اُس اونٹ کے لیے بولتے ہیں جو یونہی چھوٹا پھر رہا ہو، جدھر چاہے چڑھتا پھرے، کوئی اس کی نگرانی کرنے والا نہ ہو۔ اسی معنی میں ہم شُتر بے مہار کا لفظ بولتے ہیں ۔ پس آیت کا مطلب یہ ہے کہ کیا انسان نے اپنے آپ کو شُتر بے مہار سمجھ رکھا ہے کہ اس کے خالق نے اس زمین میں غیر ذمّہ دار بنا کر چھوڑ دیا ہو ؟ کوئی فرض اس پر عائد نہ ہو؟ کوئی چیز اس کے لیے ممنوع نہ ہو؟ اور کوئی وقت ایسا آنے والا نہ ہو جب اس سےاس کے اعمال کی باز پُرس کی جائے؟ یہی بات …
Now, in conclusion, the same theme is being repeated with which the discourse began life-after-death is necessary as well as possible. The word suda when used with regard to a camel implies a camel who is wandering aimlessly, grazing at will, without there being anybody to look after him. Thus, the verse means: Does man think that he has been left to himself to wander at will as if his Creator had laid no responsibility on him, had imposed no duty on him, had forbidden nothing to him, that at no time in future he would be required to account for his deeds. This same theme has been expressed …
ثم ختم - سبحانه - السورة الكريمة بالإِشارة إلى الحكمة من البعث والجزاء ، وببيان جانب من مظاهر قدرته فقال : ( أَيَحْسَبُ الإنسان أَن يُتْرَكَ سُدًى ) .والاستفهام للإِنكار كما قال فى قوله - تعالى - قبل ذلك : ( أَيَحْسَبُ الإنسان أَلَّن نَّجْمَعَ عِظَامَهُ ) و " سُدَى " - بضم السين مع القصر - بمعنى مهمل . يقال : إبل سُدًى ، أى : مهملة ليس لها راع يحميها . . وهو حال من فاعل " يترك " .أى : أيظن هذا الإِنسان الذى أنكر البعث والجزاء ، أن نتركه هكذا مهملا ، فلا نجازيه على أعماله التى عملها فى الدنيا؟ إن كان يحسب ذلك هفو فى وهم وضلال ، لأن حكمتنا قد اقتضت أن نكرم المتقين ، وأن تعاقب المكذبين .
آیت 36{ اَیَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ یُّتْرَکَ سُدًی۔ } ”کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اسے یوں ہی چھوڑ دیا جائے گا ؟“ کیا یہ لوگ اپنی دنیوی زندگی کو ہی اصل زندگی سمجھے بیٹھے ہیں ؟ کیا یہ سمجھتے ہیں کہ انہیں دوبارہ زندہ نہیں کیا جائے گا اور ان کا حساب کتاب نہیں ہوگا ؟ اور انہیں ان کے کرتوتوں کا خمیازہ نہیں بھگتنا پڑے گا ؟
أَيَحْسَبُ الْإِنْسَانُ أَنْ يُتْرَكَ سُدًى (36)استئناف ابتدائي عاد به الكلام إلى الاستدلال على إمكان البعث وهو ما ابتُدىء به فارتبط بقوله : { أيحسب الإِنسان أن لن نجمع عظامه } [ القيامة : 3 ] فكأنه قيل : أيحسب أن لن نجمع عظامه ويحسبُ أن نتركه في حالة العدم .وزيد هنا أن مقتضى الحكمة الإلهية إيقاعُه بقوله : { أن يُترك سُدى } كما ستعلمه .والاستفهام إنكاري مثل الذي سبقه في قوله تعالى : { أيحسب الإِنسان أن لن نجمع عظامه } [ القيامة : 3 ] .وأصل معنى الترك : مفارقة شيء شيئاً اختياراً من التَّارك ، ويطلق مجازاً على إهمال أحد شيئاً وعدم عنايته بأحواله وبتعهده ، وهو هنا مستعمل في المعنى المجازي …
أيظنُّ هذا الإنسان المنكر للبعث أن يُترك هَمَلًا لا يُؤمر ولا يُنْهى، ولا يحاسب ولا يعاقب؟ ألم يك هذا الإنسان نطفة ضعيفة من ماء مهين يراق ويصب في الأرحام، ثم صار قطعة من دم جامد، فخلقه الله بقدرته وسوّى صورته في أحسن تقويم؟ فجعل من هذا الإنسان الصنفين: الذكر والأنثى، أليس ذلك الإله الخالق لهذه الأشياء بقادر على إعادة الخلق بعد فنائهم؟ بلى إنه -سبحانه وتعالى- لقادر على ذلك.
عنی اس کو کسی چیز کا حکم دیا جائے گا، نہ کسی چیز سے منع کیا جائے گا، نہ اس کا محاسبہ ہوگا۔ یا اس کی قبر میں ہمیشہ کے لئے چھوڑ دیا جائے گا، وہاں سے اسے دوبارہ زندہ نہیں کیا جائے گا۔
The Qur'an also said: (Thinks man) the disbelieving man, i.e. Abu Jahl (that he is to be left aimless) neglected, without any commands, prohibitions or admonition?
No commentary keyed to this āyah in: Hilali & Khan, notes (English), Jawāmiʿ al-jāmiʿ (al-Ṭabrisī), Majmaʿ al-bayān (al-Ṭabrisī), Tafsīr al-Qummī, Tazkir ul Quran (Urdu), Tazkirul Quran (English), al-Mīzān (Ṭabāṭabāʾī), al-Tibyān (al-Ṭūsī).
the words of this āyah — root, frequency, family
أ
occurs 513 timesamong the commonest 300 words
حَسِبَ
occurs 44 timesroot حسب occurs 109among the commonest 300 words
حَسِبَ44حِساب39حَسْب11حَسِيب4حاسَبْ3حُسْبان3
ال
occurs 8377 timesamong the commonest 300 words
إِنسان
occurs 71 timesroot أنس occurs 338among the commonest 300 words
ناس241إِنسان71إِنس18آنَسَ5إِنسِيّ1تَسْتَأْنِسُ1
أَن
occurs 616 timesamong the commonest 300 words
تَرَكَ
occurs 40 timesroot ترك occurs 43among the commonest 300 words
تَرَكَ40تارِك3
سُدًى
occurs ONCE in the whole Qurʾānroot سدي occurs 1
this āyah in 55 languages — 74 translations
Akan Harun Ismail · v1.0.3
Enti onipa dwen sε yεbεgyae no kwa?
Azərbaycan Ali Khan Musayev · v1.0.4
Yoxsa insan başlı-başına buraxılacağınımı güman edir?!
Bahasa Indonesia Ministry of Religious Affairs · v1.0.1
Apakah manusia mengira, dia akan dibiarkan begitu saja (tanpa pertanggung-jawaban)?
Bahasa Indonesia Sabiq Company · v1.1.3
36. Apakah manusia mengira, dia akan dibiarkan begitu saja (tanpa pertanggungjawaban)?
Bahasa Indonesia The Complex · v1.0.1
Apakah manusia mengira, bahwa ia akan dibiarkan begitu saja (tanpa pertanggungjawaban)?
Bosanski Muhammad Mahanovic · v1.1.0
Zar čovjek misli da će zaludu ostavljen biti?!
Bosanski Rowwad Translation Centre · v2.0.4
Zar čovjek misli da će zaludu ostavljen biti?!
Cebuano Rowwad Translation Center · v1.1.3
Naghunahuna ba ang tawo nga siya pasagdan nga maglatagaw nga walay katuyoan (ug dili mobalik ngadto sa Allah alang sa Paghukom)?.
Deutsch Frank Bubenheim · v1.1.4
Meint der Mensch (etwa), daß er außer acht gelassen wird?
Deutsch Rowwad Translation Center · v1.0.15
Denkt der Mensch (etwa), dass er einfach so ungebunden gelassen wird?
English Hilali and Khan · v1.1.2
36. Does man think that he will be left neglected (without being punished or rewarded for the obligatory duties enjoined by his Lord Allâh on him)?
English Noor International Center · v1.1.2
Does man think that he will be left neglected?[1809]
English Rowwad Translation Center · v1.0.19
Does man think that he will be left neglected[10]?
Español Isa Garcia · v1.0.2
36. ¿Acaso cree el ser humano que no será responsable de sus actos?
Español Noor International Center · v1.0.1
¿Acaso cree el hombre que podrá hacer lo que quiera (sin que tenga que rendir cuentas)?
Español issued by Noor International · v1.0.1
¿Acaso cree el hombre que podrá hacer lo que quiera (sin que tenga que rendir cuentas)?
Français Noor International Center · v1.0.0
36. L’homme s’imagine-il qu’il n’aura pas de compte à rendre ?
Français Rachid Maach · v1.0.3
L’homme croit-il qu’il ne sera ni ressuscité, ni jugé ?
Fulfulde Rowwad Translation Center · v1.0.2
Mbele aade o sikku o accete hombo duda.
Hausa Abu Bakr Jumi · v1.2.2
Shin, mutum nã zaton a bar shi sagaga (wãto bãbu nufin kõme game da shi)?
Hrvatski Rowwad Translation Center · v1.0.1
Zar čovjek misli da će zaludu ostavljen biti?!
Kinyarwanda Rwanda Muslim Association · v1.0.5
Ese umuntu yibwira ko azarekwa gusa (atabajijwe ibyo yakoze ngo abihemberwe cyangwa ngo abihanirwe)?
Kirundi Yusuf Gahiti · v1.0.4
Mbega, umuhakanyi w’izuka ry’ibiremwa, yibaza ko azokwihozwa akarekwa uko ashaka, ntahabwe amabwirizwa ngo aheze abazwe ko yayubahirije!
36. Ar žmogus galvoja, kad jis bus paliktas apleistas?
Lingála Mohammed Balangogo · v1.0.2
Moto azalaki kokanisa ete bakotika ye sé pamba bongo (sima ya kokela ye)?
Maguindanaon Rowwad Translation Center · v1.0.4
Ngintu antapen a manusya i pasagaden sekanin sa di makambuwat sa gay a mawli?
Mòoré Rowwad Translation Center · v1.0.1
Ninsaal tẽedame tɩ b na n bas-a-la zaalem bala.
Nederlands Rowwad Translation Center · v2.0.10
Denkt de mens dat hij met rust zal worden gelaten (door zich niets aan te trekken van Allah Zijn wetten)?
Oromoo Gali Ababor · v1.0.3
Sila namni akkanumaan dhiifamuu yaadaa?
Oʻzbek Alaauddin Mansour · v1.0.0
Инсон ўзини (бу дунёда дину иймонга буюрилмасдан, Охиратда эса қайта тирилиб ҳисоб-китоб қилинмасдан) бекор ташлаб қўйилишини ўйларми (тамаъ қилурми)?!
Oʻzbek Rowwad Translation Center · v1.0.4
Инсон, бекор ташлаб қўйиламан, деб ўйлайдими?
Português Helmi Nasr · v1.4.1
O ser humano supõe que será deixado negligenciado?
plays offline — the recitation is inside this file
PickthallWas he not a drop of fluid which gushed forth?
Yusuf AliWas he not a drop of sperm emitted (in lowly form)?
Muhammad Junagarhiکیا وه ایک گاڑھے پانی کا قطره نہ تھا جو ٹپکایا گیا تھا؟
al-Muyassarأيظنُّ هذا الإنسان المنكر للبعث أن يُترك هَمَلًا لا يُؤمر ولا يُنْهى، ولا يحاسب ولا يعاقب؟ ألم يك هذا الإنسان نطفة ضعيفة من ماء مهين يراق ويصب في الأرحام، ثم صار قطعة من دم جامد، فخلقه الله بقدرته وسوّى صورته في أحسن تقويم؟ فجعل من هذا الإنسان الصنفين: الذكر والأنثى، أليس ذلك الإله الخالق لهذه الأشياء بقادر على إعادة الخلق بعد فنائهم؟ بلى إنه -سبحانه وتعالى- لقادر على ذلك.
the agreed readingWas he not a drop of fluid poured out — poured into the womb, the commentaries gloss, with nothing about it to build a claim on.
کیا وہ منی کے ایک قطرے سے نہ تھا جو ٹپکایا جاتا ہے؟ جلالین وضاحت کرتے ہیں کہ الم یک کا مطلب ہے کان، اور نطفۃ من منی یمنی کا مطلب ہے رحم میں ٹپکایا جانے والا قطرہ۔ تفسیر مقباس بتاتی ہے کہ یہ ایک ابتدائی جملہ ہے جو انکار کی علت اور وضاحت ہے، جو پچھلی آیت ایحسب الانسان ان یترک کے استدلال کے لیے لایا گیا۔
ألم يك نطفة من مني يمنى. فسر الجلالين ألم يك بأنه بمعنى كان، ونطفة من مني يمنى تصب في الرحم. وجاء في تفسير مقباس أن هذا استئناف هو علة وبيان للإنكار المسوق للاستدلال بقوله أيحسب الإنسان أن يترك.
23 of the 36 commentaries carry this āyah
all 23, in their own words
al-Tabarid.923 · ar · PD
القول في تأويل قوله تعالى: ﴿أَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِنْ مَنِيٍّ يُمْنَى (٣٧) ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوَّى (٣٨) فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالأنْثَى (٣٩) أَلَيْسَ ذَلِكَ بِقَادِرٍ عَلَى أَنْ يُحْيِيَ الْمَوْتَى (٤٠) ﴾ . يقول تعالى ذكره: ألم يك هذا المنكر قدرة الله على إحيائه من بعد مماته، وإيجاده من بعد فنائه ﴿نُطْفَةً﴾ يعني: ماء قليلا في صلب الرجل من منيّ. واختلفت القرّاء في قراءة قوله: ﴿يُمْنَى﴾ فقرأه عامة قرّاء المدينة والكوفة: ﴿تُمْنَى﴾ بالتاء بمعنى: تمنى النطفة، وقرأ ذلك بعض قرّاء مكة والبصرة: ﴿يُمْنَى﴾ بالياء، بمعنى: يمنى المنيّ. والصواب من القول أنهما قراءتان …
فَخَلَقَ فقدر فَسَوَّى فعدل مِنْهُ من الإنسان الزَّوْجَيْنِ الصنفين أَلَيْسَ ذلِكَ الذي أنشأ هذا الإنشاء بِقادِرٍ على الإعادة. وروى أنّ رسول الله صلى الله عليه وسلم كان إذا قرأها قال سبحانك بلى [[أبو داود: من رواية موسى بن أبى عائشة عن رجل سمعه عن النبي ﷺ ورواه الحاكم من رواية إسماعيل بن أمية عن أبى اليسع عن أبى هريرة نحوه «قلت» راويه عن إسماعيل عند الحاكم يزيد بن عياض متروك. ولكن أخرجه أحمد وأبو داود والترمذي من طريق سفيان بن عيينة عن إسماعيل عن رجل عن أبى هريرة. واختلف فيه على إسماعيل على أوجه أخرى ذكرتها في حاشية الأطراف.]] . عن رسول الله ﷺ: «من قرأ سورة القيامة شهدت له أنا وجبريل يوم …
Fakhr al-Din al-Razid.1210 · ar · PD
الدَّلِيلُ الثّانِي عَلى صِحَّةِ القَوْلِ بِالحَشْرِ: الِاسْتِدْلالُ بِالخِلْقَةِ الأُولى عَلى الإعادَةِ، وهو المُرادُ مِن قَوْلِهِ تَعالى: ﴿ألَمْ يَكُ نُطْفَةً مِن مَنِيٍّ يُمْنى﴾، وفِيهِ مَسْألَتانِ: المَسْألَةُ الأُولى: النُّطْفَةُ هي الماءُ القَلِيلُ، وجَمْعُها نِطافٌ ونُطَفٌ، يَقُولُ: ألَمْ يَكُ ماءً قَلِيلًا في صُلْبِ الرَّجُلِ وتَرائِبِ المَرْأةِ ؟ وقَوْلُهُ: ﴿مِن مَنِيٍّ يُمْنى﴾ أيْ: يُصَبُّ في الرَّحِمِ، وذَكَرْنا الكَلامَ في ”يُمْنى“ عِنْدَ قَوْلِهِ: ﴿مِن نُطْفَةٍ إذا تُمْنى﴾ وقَوْلِهِ: ﴿أفَرَأيْتُمْ ما تُمْنُونَ﴾ [ الواقِعَةِ: ٥٨] فَإنْ قِيلَ: ما الفائِدَةُ في ”يُمْنى“ في قَوْلِهِ: …
كَلَّا إِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِيَ (Nay, when it reaches to the collarbones.) If we make the word "Kalla" negative, then this Ayah means, 'O son of Adam! You are not able to deny that which I informed you of at that time (death). This will become something witnessed by you with your own eyes.' If we consider the word "Kalla" to be a word of affirmation, then this would be the most obvious meaning. In this case it would mean that it is certainly true when the soul reaches the collarbones - meaning, 'your soul will be pulled out of your body and it will reach your collarbones.' This is similar …
جب ہماری روح حلق تک پہنچ جاتی ہے اور اس کے بعد کیا ہوتا ہے یہاں موت کا اور سکرات کی کیفیت کا بیان ہو رہا ہے اللہ تعالیٰ ہمیں اس وقت حق پر ثابت قدم رکھے۔ (کلا) کو اگر یہاں ڈانٹ کے معنی میں لیا جائے تو یہ معنی ہوں گے کہ " اے ابن آدم تو جو میری خبروں کو جھٹلاتا ہے یہ درست نہیں بلکہ ان کے مقدمات تو تو روزمرہ کھلم کھلا دیکھ رہا ہے " اور اگر اس لفظ کو (حقا) کے معنی میں لیں تو مطلب اور زیادہ ظاہر ہے یعنی یہ بات یقینی ہے کہ جب تیری روح تیرے جسم سے نکلنے لگے اور تیرے نرخرے تک پہنچ جائے (تراقی) جمع ہے (ترقوۃ) کی ان ہڈیوں کو کہتے ہیں جو سینے پر اور مونڈھوں کے درمیان میں ہیں جسے ہانس کی ہڈی کہتے ہیں …
صدَّقَ}؛ أي لا آمن بالله وملائكته وكتبه ورسله واليوم الآخر والقدر خيره وشرِّه، {ولا صلَّى. ولكن كذَّبَ}: بالحقِّ في مقابلة التصديق، {وتولَّى}: عن الأمر والنَّهي، هذا وهو مطمئنٌّ قلبهُ غير خائفٍ من ربِّه، بل {ذهب إلى أهله يَتَمَطَّى}؛ أي: ليس على بَالِه شيءٌ. {34 ـ 35} ثم توعَّده بقوله: {أولى لك فأولى. ثم أولى لك فأولى}: وهذه كلماتُ وعيدٍ؛ كرَّرها لتكرير وعيدِهِ. {36 ـ 40} ثم ذكَّر الإنسان بخَلْقِهِ الأوَّل، فقال:{أيحسبُ الإنسانُ أن يُتۡرَكَ سُدىً}؛ أي: مهملاً لا يؤمر ولا ينهى ولا يُثاب ولا يعاقب؟ هذا حسبانٌ باطلٌ وظنٌّ بالله غير ما يليق بحكمته. {ألم يكُ نطفةً مِن مَنِيٍّ يُمۡنى. ثمَّ كان}: …
رگز نہیں! جب پہنچ جائے گی (روح) ہنسلی تک (26) اور کہا جائے گا، کون ہے جھاڑ پھونک کرنے والا؟ (27) اور وہ یقین کرے گا کہ یہ فراق ہے (28) اور لپٹ جائے گی پنڈلی پنڈلی سے(29) آپ کے رب ہی کی طرف ہو گا اس دن چلنا (30) پس نہ تو اس نے تصدیق کی اور نہ نماز پڑھی (31) اور لیکن اس نے جھٹلایا اور رو گردانی کی (32) پھر وہ گیا اپنے اہل و عیال کی طرف اتراتا ہوا (33) ہلاکت ہے تیرے لیے پھر خرابی ہے (34) پھر ہلاکت ہے تیرے لیے پھر تبا ہی ہے (35) کیا سمجھتا ہے انسان یہ کہ چھوڑ دیا جائے گا وہ بے کار؟ (36) کیا نہیں تھا وہ ایک قطرہ منی کا جو (رحم میں) ٹپکایا جاتا ہے؟ (37) پھر وہ ہو گیا جما ہوا خون تواس(اللہ) نے پیدا …
الم یک ................ یمنی (37) ثم ................ فسوی (38) فجعل ........................(39) (37:75 تا 39) ”” کیا وہ ایک حقیر پانی کا نطفہ نہ تھا جو (رحم مادر میں) ٹپکایا جاتا ہے ؟ پھر وہ ایک لو تھڑا بنا ، پھر اللہ نے اس کا جسم بنایا اور اس کے اعضا درست کیے ، پھر اس سے مرد اور عورت کی دو قسمیں بنائیں “۔ یہ انسان کیا ہے ؟ یہ کس سے بنایا گیا ہے ؟ کس طرح تھا اور کس طرح ہوگیا۔ اور زندگی کا یہ سفر اس نے کہاں سے شروع کیا اور کہاں تک پہنچا۔ اس کرہ ارض پر وہ کیسے پہنچا جو ایک چھوٹا سا ستارہ ہے۔ کیا وہ پانی کا چھوٹا سا نطفہ نہیں تھا ، پانی کی ایک بوند جو ٹپکتی ہے۔ کیا انسان ایک نہایت ہی خوردبینی …
اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰى ثُمَّ اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰى '[ It will be said to such a man,] Woe to you, then woe to you! Again, woe to you, then woe to you!...(75:34-35) The word aula is the inverted form of wail which means ' The expression 'woe' has been mentioned four times for the has made it his habit to deny and reject, and was steeped in died in that state. Therefore, destruction has been heaped times: [ 1] at the time of death; [ 2] in the grave; [ 3] at Resurrection; and finally [ 4] at the time of entering Hell. destruction'. person who wealth, and on him four the time of
والاستفهام فى قوله : ( أَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِّن مَّنِيٍّ يمنى . . ) للتقرير ، والنطفة : القليل من الماء و ( يمنى ) يراق هذا المنى فى رحم المرأة .أى : كيف يحسب هذا الإِنسان أنه سيترك سدى؟ ألم يك فى الأصل قطرة ماء تصب من الرجل فى رحم المرأة وتراق فيه؟ بل إنه كان كذلك .
أَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِنْ مَنِيٍّ يُمْنَى (37) استئناف هو علة وبيان للإِنكار المسوق للاستدلال بقوله : { أيحسب الإِنسان أن يُترك } [ القيامة : 36 ] الذي جعل تكريراً وتأييداً لمضمون قوله : { أيحسب الإِنسان أن لن نجمع عظامه الآية ، أي أنَّ خلق الإِنسان من مادة ضعيفة وتدرجه في أطوار كيانِهِ دليل على إثبات القدرة على إنشائه إنشاء ثانياً بعد تفرق أجزائه واضمحلالها ، فيتصل معنى الكلام هكذا : أيحسب الإِنسان أن لن نجمع عظامه ويُعد ذلك متعذراً . ألم نَبْدَأ خلقه إذْ كوَّنَّاه نطفة ثم تطوَّر خلقُه أطوَاراً فماذا يعجزنا أن نعيد خلقه ثانياً كذلك ، قال تعالى : { كما بدأنا أول خلق نعيده } [ الأنبياء : 104 ] …
أيظنُّ هذا الإنسان المنكر للبعث أن يُترك هَمَلًا لا يُؤمر ولا يُنْهى، ولا يحاسب ولا يعاقب؟ ألم يك هذا الإنسان نطفة ضعيفة من ماء مهين يراق ويصب في الأرحام، ثم صار قطعة من دم جامد، فخلقه الله بقدرته وسوّى صورته في أحسن تقويم؟ فجعل من هذا الإنسان الصنفين: الذكر والأنثى، أليس ذلك الإله الخالق لهذه الأشياء بقادر على إعادة الخلق بعد فنائهم؟ بلى إنه -سبحانه وتعالى- لقادر على ذلك.
(Was he not) i.e. Abu Jahl (a drop of fluid) man's sperm drops (which gushed forth) in the woman's womb; and it is also said: created in the woman's womb?
No commentary keyed to this āyah in: Ahsan al-Bayan (Urdu), Bayan ul Quran (Urdu), Hilali & Khan, notes (English), Jawāmiʿ al-jāmiʿ (al-Ṭabrisī), Majmaʿ al-bayān (al-Ṭabrisī), Tafhim al-Qur'an - Maududi (English), Tafhim al-Qur'an - Maududi (Urdu), Tafsīr al-Qummī, Tazkir ul Quran (Urdu), Tazkirul Quran (English), al-Mīzān (Ṭabāṭabāʾī), al-Tibyān (al-Ṭūsī), al-Ṣāfī (Fayḍ al-Kāshānī).
the words of this āyah — root, frequency, family
أ
occurs 513 timesamong the commonest 300 words
لَم
occurs 348 timesamong the commonest 300 words
كانَ
occurs 1358 timesroot كون occurs 1390among the commonest 300 words
plays offline — the recitation is inside this file
PickthallThen he became a clot; then (Allah) shaped and fashioned
Yusuf AliThen did he become a leech-like clot; then did (Allah) make and fashion (him) in due proportion.
Muhammad Junagarhiپھر وه لہو کا لوتھڑا ہوگیا پھر اللہ نے اسے پیدا کیا اور درست بنا دیا.[1]
al-Muyassarأيظنُّ هذا الإنسان المنكر للبعث أن يُترك هَمَلًا لا يُؤمر ولا يُنْهى، ولا يحاسب ولا يعاقب؟ ألم يك هذا الإنسان نطفة ضعيفة من ماء مهين يراق ويصب في الأرحام، ثم صار قطعة من دم جامد، فخلقه الله بقدرته وسوّى صورته في أحسن تقويم؟ فجعل من هذا الإنسان الصنفين: الذكر والأنثى، أليس ذلك الإله الخالق لهذه الأشياء بقادر على إعادة الخلق بعد فنائهم؟ بلى إنه -سبحانه وتعالى- لقادر على ذلك.
the agreed readingthen a clinging clot? Then He created and shaped him — set his limbs in order, the commentaries gloss, and made him even.
پھر وہ ایک لوتھڑا بنا، پھر اللہ نے پیدا کیا اور اسے درست کیا۔ تفسیر مقباس کے مطابق علقۃ سے مراد جمے ہوئے خون کا چھوٹا ٹکڑا ہے، اور کان علقۃ کا ثم سے عطف اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ لوتھڑا بننا نطفہ ہونے سے زیادہ حیرت انگیز ہے، کیونکہ وہ پانی ہونے کے بعد لوتھڑا بنا۔
ثم كان علقة فخلق فسوى. جاء في تفسير مقباس أن العلقة القطعة الصغيرة من الدم المتعقد، وعطف فعل كان علقة بحرف ثم للدلالة على التراخي الرتبي، فإن كونه علقة أعجب من كونه نطفة لأنه صار علقة بعد أن كان ماء.
24 of the 36 commentaries carry this āyah
all 24, in their own words
al-Tabarid.923 · ar · PD
القول في تأويل قوله تعالى: ﴿أَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِنْ مَنِيٍّ يُمْنَى (٣٧) ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوَّى (٣٨) فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالأنْثَى (٣٩) أَلَيْسَ ذَلِكَ بِقَادِرٍ عَلَى أَنْ يُحْيِيَ الْمَوْتَى (٤٠) ﴾ . يقول تعالى ذكره: ألم يك هذا المنكر قدرة الله على إحيائه من بعد مماته، وإيجاده من بعد فنائه ﴿نُطْفَةً﴾ يعني: ماء قليلا في صلب الرجل من منيّ. واختلفت القرّاء في قراءة قوله: ﴿يُمْنَى﴾ فقرأه عامة قرّاء المدينة والكوفة: ﴿تُمْنَى﴾ بالتاء بمعنى: تمنى النطفة، وقرأ ذلك بعض قرّاء مكة والبصرة: ﴿يُمْنَى﴾ بالياء، بمعنى: يمنى المنيّ. والصواب من القول أنهما قراءتان …
فَخَلَقَ فقدر فَسَوَّى فعدل مِنْهُ من الإنسان الزَّوْجَيْنِ الصنفين أَلَيْسَ ذلِكَ الذي أنشأ هذا الإنشاء بِقادِرٍ على الإعادة. وروى أنّ رسول الله صلى الله عليه وسلم كان إذا قرأها قال سبحانك بلى [[أبو داود: من رواية موسى بن أبى عائشة عن رجل سمعه عن النبي ﷺ ورواه الحاكم من رواية إسماعيل بن أمية عن أبى اليسع عن أبى هريرة نحوه «قلت» راويه عن إسماعيل عند الحاكم يزيد بن عياض متروك. ولكن أخرجه أحمد وأبو داود والترمذي من طريق سفيان بن عيينة عن إسماعيل عن رجل عن أبى هريرة. واختلف فيه على إسماعيل على أوجه أخرى ذكرتها في حاشية الأطراف.]] . عن رسول الله ﷺ: «من قرأ سورة القيامة شهدت له أنا وجبريل يوم …
كَلَّا إِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِيَ (Nay, when it reaches to the collarbones.) If we make the word "Kalla" negative, then this Ayah means, 'O son of Adam! You are not able to deny that which I informed you of at that time (death). This will become something witnessed by you with your own eyes.' If we consider the word "Kalla" to be a word of affirmation, then this would be the most obvious meaning. In this case it would mean that it is certainly true when the soul reaches the collarbones - meaning, 'your soul will be pulled out of your body and it will reach your collarbones.' This is similar …
جب ہماری روح حلق تک پہنچ جاتی ہے اور اس کے بعد کیا ہوتا ہے یہاں موت کا اور سکرات کی کیفیت کا بیان ہو رہا ہے اللہ تعالیٰ ہمیں اس وقت حق پر ثابت قدم رکھے۔ (کلا) کو اگر یہاں ڈانٹ کے معنی میں لیا جائے تو یہ معنی ہوں گے کہ " اے ابن آدم تو جو میری خبروں کو جھٹلاتا ہے یہ درست نہیں بلکہ ان کے مقدمات تو تو روزمرہ کھلم کھلا دیکھ رہا ہے " اور اگر اس لفظ کو (حقا) کے معنی میں لیں تو مطلب اور زیادہ ظاہر ہے یعنی یہ بات یقینی ہے کہ جب تیری روح تیرے جسم سے نکلنے لگے اور تیرے نرخرے تک پہنچ جائے (تراقی) جمع ہے (ترقوۃ) کی ان ہڈیوں کو کہتے ہیں جو سینے پر اور مونڈھوں کے درمیان میں ہیں جسے ہانس کی ہڈی کہتے ہیں …
صدَّقَ}؛ أي لا آمن بالله وملائكته وكتبه ورسله واليوم الآخر والقدر خيره وشرِّه، {ولا صلَّى. ولكن كذَّبَ}: بالحقِّ في مقابلة التصديق، {وتولَّى}: عن الأمر والنَّهي، هذا وهو مطمئنٌّ قلبهُ غير خائفٍ من ربِّه، بل {ذهب إلى أهله يَتَمَطَّى}؛ أي: ليس على بَالِه شيءٌ. {34 ـ 35} ثم توعَّده بقوله: {أولى لك فأولى. ثم أولى لك فأولى}: وهذه كلماتُ وعيدٍ؛ كرَّرها لتكرير وعيدِهِ. {36 ـ 40} ثم ذكَّر الإنسان بخَلْقِهِ الأوَّل، فقال:{أيحسبُ الإنسانُ أن يُتۡرَكَ سُدىً}؛ أي: مهملاً لا يؤمر ولا ينهى ولا يُثاب ولا يعاقب؟ هذا حسبانٌ باطلٌ وظنٌّ بالله غير ما يليق بحكمته. {ألم يكُ نطفةً مِن مَنِيٍّ يُمۡنى. ثمَّ كان}: …
رگز نہیں! جب پہنچ جائے گی (روح) ہنسلی تک (26) اور کہا جائے گا، کون ہے جھاڑ پھونک کرنے والا؟ (27) اور وہ یقین کرے گا کہ یہ فراق ہے (28) اور لپٹ جائے گی پنڈلی پنڈلی سے(29) آپ کے رب ہی کی طرف ہو گا اس دن چلنا (30) پس نہ تو اس نے تصدیق کی اور نہ نماز پڑھی (31) اور لیکن اس نے جھٹلایا اور رو گردانی کی (32) پھر وہ گیا اپنے اہل و عیال کی طرف اتراتا ہوا (33) ہلاکت ہے تیرے لیے پھر خرابی ہے (34) پھر ہلاکت ہے تیرے لیے پھر تبا ہی ہے (35) کیا سمجھتا ہے انسان یہ کہ چھوڑ دیا جائے گا وہ بے کار؟ (36) کیا نہیں تھا وہ ایک قطرہ منی کا جو (رحم میں) ٹپکایا جاتا ہے؟ (37) پھر وہ ہو گیا جما ہوا خون تواس(اللہ) نے پیدا …
اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰى ثُمَّ اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰى '[ It will be said to such a man,] Woe to you, then woe to you! Again, woe to you, then woe to you!...(75:34-35) The word aula is the inverted form of wail which means ' The expression 'woe' has been mentioned four times for the has made it his habit to deny and reject, and was steeped in died in that state. Therefore, destruction has been heaped times: [ 1] at the time of death; [ 2] in the grave; [ 3] at Resurrection; and finally [ 4] at the time of entering Hell. destruction'. person who wealth, and on him four the time of
ثم ( كَانَ ) بعد ذلك ( عَلَقَةً ) أى : قطعة دم متجمد ( فَخَلَقَ فسوى ) أى : فخلقه الله - تعالى - خلقا آخر بقدرته ، وسواه فى أحسن تقويم ، كما قال : ( لَقَدْ خَلَقْنَا الإنسان في أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ . . ).
آیت 38{ ثُمَّ کَانَ عَلَقَۃً } ”پھر وہ ایک علقہ بنا“ یعنی پانی کی اس بوند نے جونک جیسی شکل اختیار کرلی جو رحم مادر کی دیوار کے ساتھ چمٹی رہی۔ { فَخَلَقَ فَسَوّٰی۔ } ”پھر اللہ نے اس کو بنایا اور اس کے اعضاء درست کیے۔“ اللہ تعالیٰ نے علقہ کو گوشت کے لوتھڑے مضغہ میں تبدیل کیا اور پھر اس کا جسم بنایا ‘ جس میں آنکھیں ‘ ناک ‘ کان اور اپنی اپنی جگہ پر دوسرے تمام اعضاء بنا دیے۔ اور یہ سب کچھ ہوتا رہا : { فِیْ ظُلُمٰتٍ ثَلٰـثٍط } الزمر : 6 شکم مادر کے تین پردوں کے اندر۔
ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوَّى (38) والعلقة : القطعة الصغيرة من الدم المتعقد .وعطف فعل كان علقة } بحرف { ثم } للدلالة على التراخي الرتبي فإنّ كَوْنه علقة أعجب من كونه نطفةً لأنه صار علقة بعد أن كان ماءً فاختلط بما تفرزه رحم الأنثى من البويضات فكان من مجموعهما عَلقة كما تقدم في فائدة التقييد بقوله في سورة النجم ( 46 ){ من نطفة إذا تمنى }ولما كان تكوينه علقة هو مبدأ خلق الجسم عطف عليه قوله : فخلق } بالفاء ، لأن العلقة يعقبها أن تصير مضغة إلى أن يتم خلق الجسد وتنفخ فيه الروح .وضمير { خلق } عائد إلى { ربك } [ القيامة : 30 ] . وكذلك عطف { فسَوّى } بالفاء .
أيظنُّ هذا الإنسان المنكر للبعث أن يُترك هَمَلًا لا يُؤمر ولا يُنْهى، ولا يحاسب ولا يعاقب؟ ألم يك هذا الإنسان نطفة ضعيفة من ماء مهين يراق ويصب في الأرحام، ثم صار قطعة من دم جامد، فخلقه الله بقدرته وسوّى صورته في أحسن تقويم؟ فجعل من هذا الإنسان الصنفين: الذكر والأنثى، أليس ذلك الإله الخالق لهذه الأشياء بقادر على إعادة الخلق بعد فنائهم؟ بلى إنه -سبحانه وتعالى- لقادر على ذلك.
(Then he became a clot) then he became clotted blood; (then (Allah) shaped) him a living being (and fashioned) him with two hands, two feet, two eyes, two ears as well as with all the other members, and also placed in him the spirit.
No commentary keyed to this āyah in: Fi Zilal al-Quran (Urdu), Jawāmiʿ al-jāmiʿ (al-Ṭabrisī), Majmaʿ al-bayān (al-Ṭabrisī), Nūr al-thaqalayn (al-Ḥuwayzī), Tafhim al-Qur'an - Maududi (English), Tafhim al-Qur'an - Maududi (Urdu), Tafsir-e-Usmani (Urdu), Tafsīr al-Qummī, Tazkir ul Quran (Urdu), Tazkirul Quran (English), al-Mīzān (Ṭabāṭabāʾī), al-Tibyān (al-Ṭūsī).
the words of this āyah — root, frequency, family
ثُمّ
occurs 338 timesamong the commonest 300 words
كانَ
occurs 1358 timesroot كون occurs 1390among the commonest 300 words
كانَ1358مَكان27مَكانَت5
عَلَقَة
occurs 5 timesroot علق occurs 7
عَلَقَة5مُعَلَّقَة1عَلَق1
ف
occurs 3001 timesamong the commonest 300 words
خَلَقَ
occurs 184 timesroot خلق occurs 261among the commonest 300 words
plays offline — the recitation is inside this file
PickthallAnd made of him a pair, the male and female.
Yusuf AliAnd of him He made two sexes, male and female.
Muhammad Junagarhiپھر اس سے جوڑے یعنی نر وماده بنائے.
al-Muyassarأيظنُّ هذا الإنسان المنكر للبعث أن يُترك هَمَلًا لا يُؤمر ولا يُنْهى، ولا يحاسب ولا يعاقب؟ ألم يك هذا الإنسان نطفة ضعيفة من ماء مهين يراق ويصب في الأرحام، ثم صار قطعة من دم جامد، فخلقه الله بقدرته وسوّى صورته في أحسن تقويم؟ فجعل من هذا الإنسان الصنفين: الذكر والأنثى، أليس ذلك الإله الخالق لهذه الأشياء بقادر على إعادة الخلق بعد فنائهم؟ بلى إنه -سبحانه وتعالى- لقادر على ذلك.
the agreed readingand made of him the two kinds, male and female. The commentaries take the stages as the argument: the One who brought him through all of that is not unable to bring him back.
پھر اس سے دو قسمیں بنائیں، مرد اور عورت۔ تفسیر مقباس کے مطابق تسویہ کا مطلب ہے کسی چیز کو برابر کرنا، یعنی درست اور قائم کرنا، جیسے اللہ نے فرمایا فسواھن سبع سماوات، اور فرمایا الذی خلق فسوی، یعنی اسے ہڈی اور گوشت کا جسم بنا دیا۔
فجعل منه الزوجين الذكر والأنثى. جاء في تفسير مقباس أن التسوية جعل الشيء سواء، أي معدلا مقوما، قال تعالى فسواهن سبع سماوات، وقال الذي خلق فسوى، أي فجعله جسدا من عظم ولحم.
24 of the 36 commentaries carry this āyah
all 24, in their own words
al-Tabarid.923 · ar · PD
القول في تأويل قوله تعالى: ﴿أَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِنْ مَنِيٍّ يُمْنَى (٣٧) ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوَّى (٣٨) فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالأنْثَى (٣٩) أَلَيْسَ ذَلِكَ بِقَادِرٍ عَلَى أَنْ يُحْيِيَ الْمَوْتَى (٤٠) ﴾ . يقول تعالى ذكره: ألم يك هذا المنكر قدرة الله على إحيائه من بعد مماته، وإيجاده من بعد فنائه ﴿نُطْفَةً﴾ يعني: ماء قليلا في صلب الرجل من منيّ. واختلفت القرّاء في قراءة قوله: ﴿يُمْنَى﴾ فقرأه عامة قرّاء المدينة والكوفة: ﴿تُمْنَى﴾ بالتاء بمعنى: تمنى النطفة، وقرأ ذلك بعض قرّاء مكة والبصرة: ﴿يُمْنَى﴾ بالياء، بمعنى: يمنى المنيّ. والصواب من القول أنهما قراءتان …
فَخَلَقَ فقدر فَسَوَّى فعدل مِنْهُ من الإنسان الزَّوْجَيْنِ الصنفين أَلَيْسَ ذلِكَ الذي أنشأ هذا الإنشاء بِقادِرٍ على الإعادة. وروى أنّ رسول الله صلى الله عليه وسلم كان إذا قرأها قال سبحانك بلى [[أبو داود: من رواية موسى بن أبى عائشة عن رجل سمعه عن النبي ﷺ ورواه الحاكم من رواية إسماعيل بن أمية عن أبى اليسع عن أبى هريرة نحوه «قلت» راويه عن إسماعيل عند الحاكم يزيد بن عياض متروك. ولكن أخرجه أحمد وأبو داود والترمذي من طريق سفيان بن عيينة عن إسماعيل عن رجل عن أبى هريرة. واختلف فيه على إسماعيل على أوجه أخرى ذكرتها في حاشية الأطراف.]] . عن رسول الله ﷺ: «من قرأ سورة القيامة شهدت له أنا وجبريل يوم …
Jawāmiʿ al-jāmiʿ (al-Ṭabrisī)d.1153 · ar · PD
فجعل منه الزوجين الذكر والأنثى (39) أليس ذا لك بقدر على أن يحىى الموتى (40)) الوجه: عبارة عن الجملة، والناضرة: من نضرة النعيم والبهجة. (إلى ربها ناظرة) تنظر إلى ربها خاصة، لا تنظر إلى غيره، وهذا هو المعنى في تقديم المفعول، ألا ترى إلى قوله: (إلى ربك يومئذ المستقر) (2) (إلى ربك يومئذ [vol 3 p.684] المساق) (١) ﴿إلى الله المصير﴾ (٢) ﴿عليه توكلت وإليه أنيب﴾ (3) كيف دل التقديم فيها وفي أمثالها على معنى الاختصاص. ومعلوم أنهم ينظرون في المحشر إلى أشياء كثيرة لا يحيط بها الحصر، فاختصاصه بنظرهم إليه لو كان سبحانه منظورا إليه محال، فلابد من حمله على معنى يصح فيه الاختصاص، وذلك أن يكون من باب قولهم: أنا …
كَلَّا إِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِيَ (Nay, when it reaches to the collarbones.) If we make the word "Kalla" negative, then this Ayah means, 'O son of Adam! You are not able to deny that which I informed you of at that time (death). This will become something witnessed by you with your own eyes.' If we consider the word "Kalla" to be a word of affirmation, then this would be the most obvious meaning. In this case it would mean that it is certainly true when the soul reaches the collarbones - meaning, 'your soul will be pulled out of your body and it will reach your collarbones.' This is similar …
جب ہماری روح حلق تک پہنچ جاتی ہے اور اس کے بعد کیا ہوتا ہے یہاں موت کا اور سکرات کی کیفیت کا بیان ہو رہا ہے اللہ تعالیٰ ہمیں اس وقت حق پر ثابت قدم رکھے۔ (کلا) کو اگر یہاں ڈانٹ کے معنی میں لیا جائے تو یہ معنی ہوں گے کہ " اے ابن آدم تو جو میری خبروں کو جھٹلاتا ہے یہ درست نہیں بلکہ ان کے مقدمات تو تو روزمرہ کھلم کھلا دیکھ رہا ہے " اور اگر اس لفظ کو (حقا) کے معنی میں لیں تو مطلب اور زیادہ ظاہر ہے یعنی یہ بات یقینی ہے کہ جب تیری روح تیرے جسم سے نکلنے لگے اور تیرے نرخرے تک پہنچ جائے (تراقی) جمع ہے (ترقوۃ) کی ان ہڈیوں کو کہتے ہیں جو سینے پر اور مونڈھوں کے درمیان میں ہیں جسے ہانس کی ہڈی کہتے ہیں …
and made of it, of the drop of semen that became a blood-clot, then an embryo, a [small] mass of flesh, the two sexes, the two kinds, the male and the female, at times coming together and at times each being on their own.
َمَطَّى}؛ أي: ليس على بَالِه شيءٌ. {34 ـ 35} ثم توعَّده بقوله: {أولى لك فأولى. ثم أولى لك فأولى}: وهذه كلماتُ وعيدٍ؛ كرَّرها لتكرير وعيدِهِ. {36 ـ 40} ثم ذكَّر الإنسان بخَلْقِهِ الأوَّل، فقال:{أيحسبُ الإنسانُ أن يُتۡرَكَ سُدىً}؛ أي: مهملاً لا يؤمر ولا ينهى ولا يُثاب ولا يعاقب؟ هذا حسبانٌ باطلٌ وظنٌّ بالله غير ما يليق بحكمته. {ألم يكُ نطفةً مِن مَنِيٍّ يُمۡنى. ثمَّ كان}: بعد المنيِّ {علقةً}؛ أي: دماً، {فَخَلَقَ}: الله منها الحيوان، وسواه؛ أي: أتقنه وأحكمه، {فجعل منه الزوجين الذَّكر والأنثى. أليس ذلك}؛ أي: الذي خلق الإنسان وطوَّره إلى هذه الأطوار المختلفة {بقادرٍ على أن يُحۡيِيَ الموتى؟}: بلى …
رگز نہیں! جب پہنچ جائے گی (روح) ہنسلی تک (26) اور کہا جائے گا، کون ہے جھاڑ پھونک کرنے والا؟ (27) اور وہ یقین کرے گا کہ یہ فراق ہے (28) اور لپٹ جائے گی پنڈلی پنڈلی سے(29) آپ کے رب ہی کی طرف ہو گا اس دن چلنا (30) پس نہ تو اس نے تصدیق کی اور نہ نماز پڑھی (31) اور لیکن اس نے جھٹلایا اور رو گردانی کی (32) پھر وہ گیا اپنے اہل و عیال کی طرف اتراتا ہوا (33) ہلاکت ہے تیرے لیے پھر خرابی ہے (34) پھر ہلاکت ہے تیرے لیے پھر تبا ہی ہے (35) کیا سمجھتا ہے انسان یہ کہ چھوڑ دیا جائے گا وہ بے کار؟ (36) کیا نہیں تھا وہ ایک قطرہ منی کا جو (رحم میں) ٹپکایا جاتا ہے؟ (37) پھر وہ ہو گیا جما ہوا خون تواس(اللہ) نے پیدا …
فجعل ........................ والانثی (39:75) پھر اس سے مرد اور عورت کی دو قسمیں بنائیں “۔ یہ حقیقت جو انسانی شعور کے ساتھ چپک جاتی ہے پھر پوری سورت کی تلخیص یوں کی جاتی ہے اور ان تمام حقائق سے نتیجہ یوں اخذ کیا جاتا ہے۔ الیس .................... الموتی (40:75) ” کیا وہ اس پر قادر نہیں ہے کہ مرنے والوں کو پھر سے زندہ کردے “۔ ہاں بیشک اللہ قادر ہے کہ مردوں کو دوبارہ زندہ کردے۔ ہاں اللہ اس بات پر بھی قادر ہے کہ حشرونشر کے دن سب کو اٹھائے۔ ہاں یہ حقیقت ہے کہ انسان مجبور ہے کہ عقیدہ آخرت پر ایمان لائے۔ کیونکہ یہ پوری کائنات اس پر شاہد ہے۔ یوں یہ سورت ایک زور دار فقرے پر ختم ہوتی ہے۔ جس کا اثر فکر …
اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰى ثُمَّ اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰى '[ It will be said to such a man,] Woe to you, then woe to you! Again, woe to you, then woe to you!...(75:34-35) The word aula is the inverted form of wail which means ' The expression 'woe' has been mentioned four times for the has made it his habit to deny and reject, and was steeped in died in that state. Therefore, destruction has been heaped times: [ 1] at the time of death; [ 2] in the grave; [ 3] at Resurrection; and finally [ 4] at the time of entering Hell. destruction'. person who wealth, and on him four the time of
ثم ( كَانَ ) بعد ذلك ( عَلَقَةً ) أى : قطعة دم متجمد ( فَخَلَقَ فسوى ) أى : فخلقه الله - تعالى - خلقا آخر بقدرته ، وسواه فى أحسن تقويم ، كما قال : ( لَقَدْ خَلَقْنَا الإنسان في أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ . . ).
آیت 39{ فَجَعَلَ مِنْہُ الزَّوْجَیْنِ الذَّکَرَ وَالْاُنْثٰی۔ } ”پھر اسی سے اس نے دو زوج بنائے ‘ نر اور مادہ۔“ کسی کو اس نے مرد بنا دیا اور کسی کو عورت۔
فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالْأُنْثَى (39) والتسوية : جعل الشيء سواء ، أي معدلاً مقوماً قال تعالى : { فسواهن سبع سماوات } [ البقرة : 29 ] وقال : { الذي خلق فسوى } [ الأعلى : 2 ] ، أي فجعله جسداً من عظم ولحم . ومفعول ( خلق ) ومفعول ( سوى ) محذوفان لدلالة الكلام عليهما ، أي فخلقه فسوّاه . وعُقب ذلك بخلقه ذكراً أو أنثى زوجين ومنهما يكون التناسل أيضاً .وقرأ الجمهور { تُمنى } بالفوقية على أنه وصف ل { نطفة } . وقرأه حفص ويعقوب بالتحتية على أنه وصف { مَنِيّ } .
أيظنُّ هذا الإنسان المنكر للبعث أن يُترك هَمَلًا لا يُؤمر ولا يُنْهى، ولا يحاسب ولا يعاقب؟ ألم يك هذا الإنسان نطفة ضعيفة من ماء مهين يراق ويصب في الأرحام، ثم صار قطعة من دم جامد، فخلقه الله بقدرته وسوّى صورته في أحسن تقويم؟ فجعل من هذا الإنسان الصنفين: الذكر والأنثى، أليس ذلك الإله الخالق لهذه الأشياء بقادر على إعادة الخلق بعد فنائهم؟ بلى إنه -سبحانه وتعالى- لقادر على ذلك.
(And made of him) after that (a pair, the male and female) Abu Jahl had a son called 'Ikrimah Ibn Abi Jahl and a daughter called Juwayrah Bint Abi Jahl.
No commentary keyed to this āyah in: Ahsan al-Bayan (Urdu), Hilali & Khan, notes (English), Majmaʿ al-bayān (al-Ṭabrisī), Nūr al-thaqalayn (al-Ḥuwayzī), Tafhim al-Qur'an - Maududi (English), Tafhim al-Qur'an - Maududi (Urdu), Tafsir-e-Usmani (Urdu), Tafsīr al-Qummī, Tazkir ul Quran (Urdu), Tazkirul Quran (English), al-Mīzān (Ṭabāṭabāʾī), al-Tibyān (al-Ṭūsī).
the words of this āyah — root, frequency, family
ف
occurs 3001 timesamong the commonest 300 words
جَعَلَ
occurs 340 timesroot جعل occurs 346among the commonest 300 words
جَعَلَ340جاعِل6
مِن
occurs 3226 timesamong the commonest 300 words
ال
occurs 8377 timesamong the commonest 300 words
زَوْج
occurs 76 timesroot زوج occurs 81among the commonest 300 words
aalaysa dhaalika biqaadirin 'alaaa aan yuhiaa almawtaaa
plays offline — the recitation is inside this file
PickthallIs not He (Who doeth so) Able to bring the dead to life?
Yusuf AliHas not He, (the same), the power to give life to the dead?
Muhammad Junagarhiکیا (اللہ تعالیٰ) اس (امر) پر قادر نہیں کہ مردے کو زنده کردے.[1]
al-Muyassarأيظنُّ هذا الإنسان المنكر للبعث أن يُترك هَمَلًا لا يُؤمر ولا يُنْهى، ولا يحاسب ولا يعاقب؟ ألم يك هذا الإنسان نطفة ضعيفة من ماء مهين يراق ويصب في الأرحام، ثم صار قطعة من دم جامد، فخلقه الله بقدرته وسوّى صورته في أحسن تقويم؟ فجعل من هذا الإنسان الصنفين: الذكر والأنثى، أليس ذلك الإله الخالق لهذه الأشياء بقادر على إعادة الخلق بعد فنائهم؟ بلى إنه -سبحانه وتعالى- لقادر على ذلك.
the agreed readingIs that One not able to bring the dead to life? The commentaries agree the question closes the sūrah by answering the one it opened with.
کیا وہ مردوں کو زندہ کرنے پر قادر نہیں؟ تفسیر مقباس کے مطابق یہ جملہ دلیل کے نتیجے کے طور پر آیا ہے، کیونکہ انسان کے جسم کو عدم سے پیدا کرنا، جو مشاہدے کی ضرورت سے ثابت شدہ بات ہے، دوبارہ زندگی لوٹانے سے زیادہ بعید سمجھا جانا چاہیے۔
أليس ذلك بقادر على أن يحيي الموتى. جاء في تفسير مقباس أن جملة أليس ذلك بقادر على أن يحيي الموتى واقعة موقع النتيجة من الدليل، لأن خلق جسم الإنسان من عدم، وهو أمر ثابت بضرورة المشاهدة، أحق بالاستبعاد من إعادة الحياة.
32 of the 36 commentaries carry this āyah
all 32, in their own words
al-Tabarid.923 · ar · PD
القول في تأويل قوله تعالى: ﴿أَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِنْ مَنِيٍّ يُمْنَى (٣٧) ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوَّى (٣٨) فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالأنْثَى (٣٩) أَلَيْسَ ذَلِكَ بِقَادِرٍ عَلَى أَنْ يُحْيِيَ الْمَوْتَى (٤٠) ﴾ . يقول تعالى ذكره: ألم يك هذا المنكر قدرة الله على إحيائه من بعد مماته، وإيجاده من بعد فنائه ﴿نُطْفَةً﴾ يعني: ماء قليلا في صلب الرجل من منيّ. واختلفت القرّاء في قراءة قوله: ﴿يُمْنَى﴾ فقرأه عامة قرّاء المدينة والكوفة: ﴿تُمْنَى﴾ بالتاء بمعنى: تمنى النطفة، وقرأ ذلك بعض قرّاء مكة والبصرة: ﴿يُمْنَى﴾ بالياء، بمعنى: يمنى المنيّ. والصواب من القول أنهما قراءتان …
al-Tibyān (al-Ṭūsī)d.1067 · ar · PD
أليس ذلك بقادر على أن يحيي الموتى) (40) خمس عشرة آية. قرأ ابن عامر وحفص ورويس (من مني يمنى) بالياء على التذكير ردوه إلى المني. الباقون بالتاء حملا على النطفة. يقول الله تعالى (كلا إذا بلغت) يعني النفس أو الروح، ولم يذكر لدلالة الكلام عليه كما قال (ما ترك على ظهرها) (1) يعني على ظهر الأرض. وإنما لم يذكر لعلم المخاطب به، و (التراقي) جمع ترقوة وهي مقدم الحلق من أعلى الصدر، تترقى إليه النفس عند الموت، واليها يترقى البخار من الجوف، وهناك تقع الحشرجة، وقوله (وقيل من راق) فالراق طالب الشفاء يقال: رقاه يرقيه رقية إذا طلب له شفاء بأسماء الله الجليلة وآيات كتابه العظيمة. وأما العوذة فهي رفع البلية …
فَخَلَقَ فقدر فَسَوَّى فعدل مِنْهُ من الإنسان الزَّوْجَيْنِ الصنفين أَلَيْسَ ذلِكَ الذي أنشأ هذا الإنشاء بِقادِرٍ على الإعادة. وروى أنّ رسول الله صلى الله عليه وسلم كان إذا قرأها قال سبحانك بلى [[أبو داود: من رواية موسى بن أبى عائشة عن رجل سمعه عن النبي ﷺ ورواه الحاكم من رواية إسماعيل بن أمية عن أبى اليسع عن أبى هريرة نحوه «قلت» راويه عن إسماعيل عند الحاكم يزيد بن عياض متروك. ولكن أخرجه أحمد وأبو داود والترمذي من طريق سفيان بن عيينة عن إسماعيل عن رجل عن أبى هريرة. واختلف فيه على إسماعيل على أوجه أخرى ذكرتها في حاشية الأطراف.]] . عن رسول الله ﷺ: «من قرأ سورة القيامة شهدت له أنا وجبريل يوم …
Majmaʿ al-bayān (al-Ṭabrisī)d.1153 · ar · PD
أليس ذلك بقادر على أن يحيي الموتى (40). القراءة: قرأ حفص، ورويس: (يمنى) بالياء. والباقون بالتاء. الحجة: قال أبو علي من قرأ بالتاء حمله على النطفة أي: لم يك نطفة تمنى من مني. ومن قرأ بالياء حمله على المني أي من مني يمنى يقدر خلق الانسان وغيره منها. قال: منت لك أن تلقى ابن هند منية * وفارس مياس إذا ما تلببا (1) وقال آخر: لعمر أبي عمرو، لقد ساقه المنى * إلى جدث يؤزى له بالأهاضب (2) [vol 10 p.201] أي ساقه القدر. اللغة: التراقي. جمع الترقوة، وهو مقدم الحلق من أعلى الصدر، تترقى إليه النفس عند الموت، وإليه يتراقى البخار من الجوف، وهناك تقع الحشرجة (1). قال ذو الرمة: ورب عظيمة دافعت عنها، * وقد بلغت …
كَلَّا إِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِيَ (Nay, when it reaches to the collarbones.) If we make the word "Kalla" negative, then this Ayah means, 'O son of Adam! You are not able to deny that which I informed you of at that time (death). This will become something witnessed by you with your own eyes.' If we consider the word "Kalla" to be a word of affirmation, then this would be the most obvious meaning. In this case it would mean that it is certainly true when the soul reaches the collarbones - meaning, 'your soul will be pulled out of your body and it will reach your collarbones.' This is similar …
جب ہماری روح حلق تک پہنچ جاتی ہے اور اس کے بعد کیا ہوتا ہے یہاں موت کا اور سکرات کی کیفیت کا بیان ہو رہا ہے اللہ تعالیٰ ہمیں اس وقت حق پر ثابت قدم رکھے۔ (کلا) کو اگر یہاں ڈانٹ کے معنی میں لیا جائے تو یہ معنی ہوں گے کہ " اے ابن آدم تو جو میری خبروں کو جھٹلاتا ہے یہ درست نہیں بلکہ ان کے مقدمات تو تو روزمرہ کھلم کھلا دیکھ رہا ہے " اور اگر اس لفظ کو (حقا) کے معنی میں لیں تو مطلب اور زیادہ ظاہر ہے یعنی یہ بات یقینی ہے کہ جب تیری روح تیرے جسم سے نکلنے لگے اور تیرے نرخرے تک پہنچ جائے (تراقی) جمع ہے (ترقوۃ) کی ان ہڈیوں کو کہتے ہیں جو سینے پر اور مونڈھوں کے درمیان میں ہیں جسے ہانس کی ہڈی کہتے ہیں …
Is not such, a Doer of [all] these things, able to revive the dead? — the Prophet (s) would say, ‘Yes, indeed!’
al-Ṣāfī (Fayḍ al-Kāshānī)d.1680 · ar · PD
أليس ذلك بقادر على أن يحيى الموتى. في المجمع عن النبي (صلى الله عليه وآله) إنه لما نزلت هذه الآية قال سبحانك اللهم بلى. قال وهو المروي عن الباقر والصادق (عليهما السلام) وفي العيون عن الرضا (عليه السلام) إنه إذا قرأ هذه السورة قال عند فراغها ذلك. وفي ثواب الأعمال والمجمع عن الباقر (عليه السلام) من أدمن قراءة لا اقسم وكان يعمل بها بعثه الله مع رسول الله (صلى الله عليه وآله) من قبره في أحسن صورة ويبشره ويضحك في وجهه حتى يجوز على الصراط والميزان. [vol 5 p.258] سورة الانسان وتسمى سورة الدهر قيل مكية كلها وقيل مدنية كلها وقيل مدنية إلا قوله ولا تطع الآية وهي إحدى وثلاثون آية بالاجماع بسم الله …
Nūr al-thaqalayn (al-Ḥuwayzī)d.1700 · ar · PD
أليس ذلك بقادر على أن يحيى الموتى قال رسول الله صلى الله عليه وآله سبحانك اللهم وبلى. وهو المروى عن أبي جعفر وأبى عبد الله عليهما السلام. 35 - في عيون الأخبار في باب ذكر أخلاق الرضا عليه السلام ووصف عبادته: وكان إذا قرء " لا أقسم بيوم القيامة " قال عند الفراغ: سبحانك اللهم بلى. بسم الله الرحمن الرحيم 1 - في كتاب ثواب الأعمال باسناده عن أبي جعفر عليه السلام قال: من قرء هل اتى على الانسان في كل غداة خميس زوجه الله من الحور العين ثمانمأة عذراء وأربعة آلاف ثيب وحوراء من الحور العين، وكان مع محمد صلى الله عليه وآله. 2 - في مجمع البيان وقال أبو جعفر عليه السلام: من قرء سورة هل اتى في كل غداة خميس …
انسان کی اصل حقیقت اور انجام:یعنی نطفہ سے جمے ہوئے خون کی شکل میں آیا۔ پھر اللہ نے اس کی پیدائش کے سب مراتب پورے کر کے انسان بنا دیا اور تمام ظاہری اعضاء اور باطنی قوتیں ٹھیک کر دیں۔ ایک نطفہ بیجان سے انسان عاقل بن گیا۔ پھر اسی نطفہ سے عورت اور مرد دوقسم کے آدمی پیدا کئے۔ جن میں سے ہر ایک قسم کی ظاہری و باطنی خصوصیات جداگانہ ہیں۔ کیا وہ قادر مطلق جس نے اولًا سب کو ایسی حکمت وقدرت سے بنایا، اس پر قادر نہیں کہ دوبارہ زندہ کردے؟ سبحٰنک اللّٰھم فبلٰی ۔ پاک ہے تیری ذات اے خدا! کیوں نہیں، تو بیشک قادر ہے۔ تم سورۃ القیٰمۃ وللہ الحمد والمنہ۔
َمَطَّى}؛ أي: ليس على بَالِه شيءٌ. {34 ـ 35} ثم توعَّده بقوله: {أولى لك فأولى. ثم أولى لك فأولى}: وهذه كلماتُ وعيدٍ؛ كرَّرها لتكرير وعيدِهِ. {36 ـ 40} ثم ذكَّر الإنسان بخَلْقِهِ الأوَّل، فقال:{أيحسبُ الإنسانُ أن يُتۡرَكَ سُدىً}؛ أي: مهملاً لا يؤمر ولا ينهى ولا يُثاب ولا يعاقب؟ هذا حسبانٌ باطلٌ وظنٌّ بالله غير ما يليق بحكمته. {ألم يكُ نطفةً مِن مَنِيٍّ يُمۡنى. ثمَّ كان}: بعد المنيِّ {علقةً}؛ أي: دماً، {فَخَلَقَ}: الله منها الحيوان، وسواه؛ أي: أتقنه وأحكمه، {فجعل منه الزوجين الذَّكر والأنثى. أليس ذلك}؛ أي: الذي خلق الإنسان وطوَّره إلى هذه الأطوار المختلفة {بقادرٍ على أن يُحۡيِيَ الموتى؟}: بلى …
رگز نہیں! جب پہنچ جائے گی (روح) ہنسلی تک (26) اور کہا جائے گا، کون ہے جھاڑ پھونک کرنے والا؟ (27) اور وہ یقین کرے گا کہ یہ فراق ہے (28) اور لپٹ جائے گی پنڈلی پنڈلی سے(29) آپ کے رب ہی کی طرف ہو گا اس دن چلنا (30) پس نہ تو اس نے تصدیق کی اور نہ نماز پڑھی (31) اور لیکن اس نے جھٹلایا اور رو گردانی کی (32) پھر وہ گیا اپنے اہل و عیال کی طرف اتراتا ہوا (33) ہلاکت ہے تیرے لیے پھر خرابی ہے (34) پھر ہلاکت ہے تیرے لیے پھر تبا ہی ہے (35) کیا سمجھتا ہے انسان یہ کہ چھوڑ دیا جائے گا وہ بے کار؟ (36) کیا نہیں تھا وہ ایک قطرہ منی کا جو (رحم میں) ٹپکایا جاتا ہے؟ (37) پھر وہ ہو گیا جما ہوا خون تواس(اللہ) نے پیدا …
اَلَيْسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى (Has He no power to give life to the dead?...(75:40). Can it be imagined that the Supreme Being in whose controlling power is death and life and the entire world is not able to bring the dead to life? The Holy Prophet is reported to have said: 'When anyone recites this verse of Surah Al-Qiyamah, he should say: بلی وانا علی ذالک من الشھدین۔ "Yes indeed I am among those who bear witness that He has the power to do it"'. The same Hadith narrative states that when a person recites Surah Tin and reaches the verse اَلَيْسَ اللّٰهُ بِاَحْكَمِ …
حیات بعدِ موت کے امکان کی دلیل ہے۔ جہاں تک اُن لوگوں کا تعلق ہے جو یہ مانتے ہیں کہ ابتدائی نطفے سے تخلیق ک آغاز کر کے پُور اانسان بنا دینے تک کا سارا فعل اللہ تعالیٰ ہی کی قدرت اورحکمت کا کرشمہ ہے ان کے لیے تو فی الحقیقت اس دلیل کا کوئی جواب ہے ہی نہیں، کیونکہ وہ خواہ کتنی ہی ڈِھٹائی برتیں، ان کی عقل تسلیم کرنے سے انکار نہیں کر سکتی کہ جو خدا اس طرح انسان کو دنیا میں پیدا کرتا ہے وہ دوبارہ بھی اسی انسان کو وجوہد میں لے آنے پر قادر ہے۔ رہے وہ لوگ جو اس صریح حکیمانہ فعل کو محض اتفاقات کا نتیجہ قرار دیتے ہیں، وہ اگر ہٹ دھرمی پر تُلے ہوئے نہیں ہیں تو آخر ان کے پاس اس بات کی کیا توجیہ ہے کہ آغازِ …
This is an argument for the possibility of life-afterdeath. As for the people who believe that the whole act of creation, starting from the emission of a sperm-drop till its development into a perfect man, is only a manifestation of the power and wisdom of Allah, they cannot in fact refute this argument in any way, for their intellect however shamelessly and stubbornly they might behave, cannot refuse to admit that the God Who thus brings about man in the world, also has the power to bring the same man into being once again. As for those who regard this expressly wise act only as a result of …
أليس ذلك بقادر على أن يحيى الموتى - 40. [vol 20 p.108] (بيان) تتمة صفة يوم القيامة باعتبار حال الناس فيه وانقسامهم إلى طائفة ناضرة الوجوه مبتهجين وأخرى باسرة الوجوه عابسين آيسين من النجاة، والإشارة إلى أن هذا المساق تبتدئ من حين نزول الموت ثم الإشارة إلى أن الانسان لا يترك سدى فالذي خلقه أولا قادر على أن يحييه ثانيا وبه تختتم السورة. قوله تعالى: " لا تحرك به لسانك لتعجل به - إلى قوله - ثم إن علينا بيانه " الذي يعطيه سياق الآيات الأربع بما يحفها من الآيات المتقدمة والمتأخرة الواصفة ليوم القيامة أنها معترضة متضمن أدبا إلهيا كلف النبي صلى الله عليه وآله وسلم أن يتأدب به حينما يتلقى ما يوحى إليه …
وجملة ( أَلَيْسَ ذَلِكَ بِقَادِرٍ على أَن يُحْيِيَ الموتى ) بمثابة النتيجة بعد المقدمات والأدلة .أى : أليس ذلك الرب العظيم الشأن والقدرة ، الذى أحسن كل شئ خلقه : والذى خلق الإِنسان فى تلك الأطوار المتعددة . . أليس ذلك الإِله صاحب الخلق والأمر .( بِقَادِرٍ على أَن يُحْيِيَ الموتى ) وعلى أن يعيدهم إلى الحياة مرة أخرى ، ليجازى الذين أساءوا بما عملوا ، ويجازى الذين أحسنوا بالحسنى؟ بلى إنه لقادر على ذلك قدرة تامة .وقد ساق الإِمام ابن كثير عند تفسيره لهذه الآية جملة من الأحاديث منها : أن رجلا كان إذا قرأ هذه الآية قال : سبحانك اللهم وبلَى . فسئل عن ذلك فقال : سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول …
آیت 40{ اَلَیْسَ ذٰلِکَ بِقٰدِرٍ عَلٰٓی اَنْ یُّحْیِیَ الْمَوْتٰی۔ } ”تو کیا وہ اس پر قادر نہیں کہ ُ مردوں کو زندہ کردے ؟“ کیا تم لوگ جانتے نہیں ہو کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو گندے پانی کی بوند سے پیدا کیا ہے ؟ اولادِ آدم علیہ السلام میں سے افلاطون ‘ بقراط اور سقراط کی تخلیق بھی اسی بوند سے ہوئی اور تمام انبیاء اور اولیاء اللہ بھی ایسے ہی پیدا ہوئے۔ صرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے استثناء کے علاوہ نسل انسانی کے تمام افراد اللہ تعالیٰ نے اسی طریقے سے پیدا کیے۔ { اَفَعَیِیْنَا بِالْخَلْقِ الْاَوَّلِط } قٓ: 15 ”تو کیا پہلی مرتبہ تم لوگوں کو پیدا کرنے کے بعد اب ہم عاجز آگئے ہیں ؟“ تو اے عقل کے اندھو …
In the beginning a human being enters the womb of his mother in the form of a drop. Then he develops and takes the shape of a leech (‘alaqa). He further develops and his limbs and features acquire their typical characteristics. Then, he emerges as a male or female. All these wonderful changes take place without any effort on the part of human beings. So, the system of nature which brings about such wonders every day, the creation of a new world after the present world should not be difficult. The fact is that the real impediment in the way of acceptance of Truth is egotism or conceit and not …
انسان ابتداء ًاپنی ماں کی پیٹ میں ایک بوند کی مانند داخل ہوتا ہے۔ پھر وہ بڑھ کر علقہ (جونک) کی مانند ہوجاتا ہے۔ پھر مزید ترقی ہوتی ہے اور اس کے اعضاء اور نقوش بنتے ہیں۔ پھر وہ مرد یا عورت بن کر باہر آتا ہے۔ یہ تمام حیرت ناک تصرفات انسان کی کوشش کے بغیر ہوتے ہیں۔ پھر قدرت کا جو نظام روزانہ یہ عجائب ظہور میں لا رہا ہے اس کے لیے موجودہ دنیا کے بعد ایک اور دنیا بنا دینا کیا مشکل ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سچائی کو ماننے میں جو چیز رکاوٹ بنتی ہے وہ لوگوں کی انانیت ہے، نہ کہ دلائل و قرائن کی کمی۔
أَلَيْسَ ذَلِكَ بِقَادِرٍ عَلَى أَنْ يُحْيِيَ الْمَوْتَى (40)وجملة { أليس ذلك بقادر على أن يحيي الموتى } واقعة موقع النتيجة من الدليل لأن خلق جسم الإِنسان من عدم وهو أمر ثابت بضرورة المشاهدة ، أحق بالاستبعاد من إعادة الحياة إلى الجسم بعد الموت سواء بقي الجسم غير ناقص أو نقص بعضُه أو معظمه فهو إلى بَثثِ الحياة فيه وإعادةِ ما فنِيَ من أجزائه أقرب من إيجاد الجسم من عدم .والاستفهام إنكار للمنفي إنكارَ تقرير بالإِثبات وهذا غالب استعمال الاستفهام التقريري أن يقع على نفي ما يراد إثباته ليكون ذلك كالتوسعة على المقرَّر إن أراد إنكاراً كناية عن ثقة المتكلم بأن المخاطب لا يستطيع الإِنكار .وقد جاء في هذا …
أيظنُّ هذا الإنسان المنكر للبعث أن يُترك هَمَلًا لا يُؤمر ولا يُنْهى، ولا يحاسب ولا يعاقب؟ ألم يك هذا الإنسان نطفة ضعيفة من ماء مهين يراق ويصب في الأرحام، ثم صار قطعة من دم جامد، فخلقه الله بقدرته وسوّى صورته في أحسن تقويم؟ فجعل من هذا الإنسان الصنفين: الذكر والأنثى، أليس ذلك الإله الخالق لهذه الأشياء بقادر على إعادة الخلق بعد فنائهم؟ بلى إنه -سبحانه وتعالى- لقادر على ذلك.
Is not the One Who created man from a drop, then a clot, able to give life once again to the dead for the reckoning and recompense?! Indeed, He is able to do so.
(Is not He (who doeth so) able to bring the dead to life) for the resurrection? Indeed, our Lord is Able to do so; He is Able to bring the dead back to life just as He did create Adam from dust'.
No commentary keyed to this āyah in: Fi Zilal al-Quran (Urdu), Hilali & Khan, notes (English), Jawāmiʿ al-jāmiʿ (al-Ṭabrisī), Tafsīr al-Qummī.
the words of this āyah — root, frequency, family
أ
occurs 513 timesamong the commonest 300 words
لَيْسَ
occurs 89 timesroot ليس occurs 89among the commonest 300 words
ذا
occurs 1058 timesamong the commonest 300 words
ل
occurs 4380 timesamong the commonest 300 words
ب
occurs 2544 timesamong the commonest 300 words
قادِر
occurs 14 timesroot قدر occurs 132
قَدِير45قَدَرَ25قَدَّرَ16قادِر14قَدَر11قَدْر7
عَلَى
occurs 1445 timesamong the commonest 300 words
أَن
occurs 616 timesamong the commonest 300 words
أَحْيا
occurs 51 timesroot حيي occurs 189among the commonest 300 words
حَياة76أَحْيا51حَيّ24يَسْتَحْىِۦ9حَىَّ7تَحِيَّة6
ال
occurs 8377 timesamong the commonest 300 words
مَيِّت
occurs 38 timesroot موت occurs 165
مَوْت50ماتَ39مَيِّت38أَماتَ21مَيْتَة6مَيْت5
this āyah in 55 languages — 74 translations
Akan Harun Ismail · v1.0.3
Enti (Nyankopͻn a, ͻnam anwanwa kwan a yɛakyerε yi so bͻͻ onipa no), Onni tumi sε Ɔbɛnyane owufoͻ aba nkwa mu (bio)?
Azərbaycan Ali Khan Musayev · v1.0.4
Məgər (bunları edən) Allah ölüləri diriltməyə qadir deyilmi?
Bahasa Indonesia Ministry of Religious Affairs · v1.0.1
Bukankah (Allah yang berbuat) demikian berkuasa (pula) menghidupkan orang mati?
Bahasa Indonesia Sabiq Company · v1.1.3
40. Bukankah (Allah yang berbuat) demikian berkuasa (pula) menghidupkan orang mati?
Bahasa Indonesia The Complex · v1.0.1
Bukankah (Allah yang berbuat) demikian berkuasa (pula) menghidupkan orang mati?
Bosanski Muhammad Mahanovic · v1.1.0
i zar Taj nije kadar mrtve oživiti?!
Bosanski Rowwad Translation Centre · v2.0.4
i zar Taj nije kadar mrtve oživjeti?!
Cebuano Rowwad Translation Center · v1.1.3
Dili pa kana (Allah, ang Manlalalang ), makahimo sa pagbanhaw sa mga patay[2]?
Deutsch Frank Bubenheim · v1.1.4
Hat dieser (Gott) nicht die Macht, die Toten wieder lebendig zu machen?
Deutsch Rowwad Translation Center · v1.0.15
Hat dieser (Schöpfer) nicht die Macht, die Toten wieder lebendig zu machen?
English Hilali and Khan · v1.1.2
40. Is not He (Allâh Who does that) Able to give life to the dead? (Yes! He is Able to do all things).
English Noor International Center · v1.1.2
Is not that [Creator] Able to give life to the dead?
English Rowwad Translation Center · v1.0.19
Is not He able to bring the dead back to life?
Español Isa Garcia · v1.0.2
40. Quien ha hecho todo esto, ¿acaso no va a ser capaz de resucitar a los muertos?
Español Noor International Center · v1.0.1
¡¿(Acaso Quien hace todo esto) no tendrá poder para resucitar a los muertos?!
Español issued by Noor International · v1.0.1
¡¿(Acaso Quien hace todo esto) no tendrá poder para resucitar a los muertos?!
Français Noor International Center · v1.0.0
40. Celui (Qui a pu faire cela) ne serait-il pas Capable de faire revivre les morts ?
Français Rachid Maach · v1.0.3
Celui qui a pu créer cet être n’est-Il pas capable de ressusciter les morts ?!
Fulfulde Rowwad Translation Center · v1.0.2
Mbele oon hattanaani wuurtin'de maayɓe.
Hausa Abu Bakr Jumi · v1.2.2
Ashẽ wannan bai zama Mai iko ba bisa ga rãyar da matattu?[1]
Hrvatski Rowwad Translation Center · v1.0.1
i zar Taj nije kadar mrtve oživjeti?!
Kinyarwanda Rwanda Muslim Association · v1.0.5
Ese uwo (Allah ukora ibyo) si We ushoboye kuzura abapfuye?
what the reports say about itReports naming this sūrah, from the collections of both traditions, together.
Sahih al-Bukhari · no. 492975:16-19, and the occasion behind it: Gabriel would bring the revelation and the Prophet would move his tongue and lips with it as it came, and this was hard on him
Narrated Ibn `Abbas:(as regards) Allah's Statement: "Move not your tongue concerning (the Qur'an) to make haste therewith." (75.16) When Gabriel revealed the Divine Inspiration in Allah's Messenger (ﷺ) , he (Allah's Messenger (ﷺ)) moved his tongue and lips, and that state used to be very hard for him, and that movement indicated that revelation was taking place. So Allah revealed in Surat Al-Qiyama which begins: 'I …
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے موسیٰ بن ابی عائشہ نے، ان سے سعید بن جبیر نے، ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اللہ تعالیٰ کے ارشاد «لا تحرك به لسانك لتعجل به» الایۃ یعنی ”آپ اس کو جلدی جلدی لینے کے لیے اس پر زبان نہ ہلایا کریں“ کے متعلق بتلایا کہ جب جبرائیل آپ پر وحی نازل کرتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زبان اور ہونٹ ہلایا کرتے تھے اور آپ پر یہ بہت سخت گزرتا، یہ آپ کے چہرے سے بھی ظاہر ہوتا تھا۔ اس لیے اللہ …
al-Kafi · no. 96075:27-29 asked about in the other tradition - who can heal him, the parting, and the leg wound about the leg
32. Ali ibn Ibrahim has narrated from his father from ‘Amr ibn ‘Uthman from al-Mufaddal ibn Salih from Jabir who has said the following: “I asked abu Ja‘far (a.s.), about the words of Allah, the Most Holy, the Most High, ‘And it is said, “Who is able to provide curing charm?”’ (75:28-30) The Imam said, ‘That is a son of Adam who on facing death says, “Is there a physician?” “And he finds it to be the departing,” …
Sunan Abi Dawud · no. 88475:40 answered aloud by a man praying on his roof, and the answer he gave - the sura's closing question treated as one put to the reciter
Musa b. Abi ‘A'ishah said:A man used to pray on the roof of his house. When he recited the verse “Is not He able to bring the dead to life?” [Surah al-Qiyamah:42] he would say: ”Glory be to You, then, why not?” They asked him about it, and he replied: "I heard it from the Messenger of Allah (ﷺ)". Abu Dawud said : Ahmad (b. Hanbal) said: It is pleasing to me that one should recite in the obligatory prayer those …
موسی بن ابی عائشہ کہتے ہیں ایک صاحب اپنی چھت پر نماز پڑھا کرتے تھے، جب وہ آیت کریمہ «أليس ذلك بقادر على أن يحيي الموتى» ( سورة القيامة: ۴۰ ) پر پہنچتے تو «سبحانك» کہتے پھر روتے، لوگوں نے اس سے ان کی وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا: میں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: احمد نے کہا: مجھے بھلا لگتا ہے کہ آدمی فرض نماز میں وہ دعا کرے جو قرآن میں ہے۔
Al-Qiyamah — 40 āyāt, the canonical Kūfan count. One agreed reading per āyah, taken from 36 commentaries (d.923–2021) and 1045 quotations, each checked against its own edition before this page could be written. Arabic: Uthmānī from Tanzil. Corpus fingerprint 62fb6cccf664b21e — run python verify_corpus.py against the same sources to confirm it.