The gold block is the tafsīr — what the āyah says, as the commentaries take it, oldest first, all together. Nothing is retyped: every quotation is cut from its edition by machine and checked against the source before this page may be written.
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
the sūrah opens with the basmala; in this numbering it is not counted as an āyah
Ash-Sharh 94 : 1
أَلَمْنَشْرَحْلَكَصَدْرَكَ
aalam nashrah laka sadraka
plays offline — the recitation is inside this file
PickthallHave We not caused thy bosom to dilate,
Yusuf AliHave We not expanded thee thy breast?-
Muhammad Junagarhiکیا ہم نے تیرا سینہ نہیں کھول دیا.[1]
al-Muyassarتسمية السورة • سميت الشرح؛ لافتتاحها بامتنان الله سبحانه وتعالى على نبينا محمد ﷺ بأنه شرح صدره، فهيَّأه لأعلى المقامات. من مقاصد السورة • ذكر عناية الله تعالى برسوله ﷺ؛ بشَرْح صدره بالإيمان، وتطهيره من الذنوب، ورفعِ منزلته الدنيوية والأخروية؛ تسليةً للرسول ﷺ عمّا يلقاه من أذى الفجار، وتبشيره باليسر بعد العسر، وتذكيرُه ﷺ بالتفرُّغ لعبادة الله بعد انتهائه من تبليغ الرسالة؛ شكرًا لله على ما أولاه من النِّعَم. [التفسير] ألم نوسع -أيها النبي- لك صدرك لشرائع الدين، والدعوة إلى الله، والاتصاف بمكارم الأخلاق، وحططنا عنك بذلك حِمْلك.
the agreed readingDid We not open up your breast for you? Both traditions gloss the opening as a widening - room made in him for knowledge and wisdom, for the call he had to carry, and for bearing what carrying it would cost him. The sura is named from this first question.
سوال اقرار کے لیے ہے، یعنی ہم نے آپ ﷺ کا سینہ کھول دیا۔ ”شرح“ کے اصل معنی کھولنے اور کشادہ کرنے کے ہیں، اور یہاں مراد یہ ہے کہ سینہ وحی، شریعت کے احکام، دعوتِ الی اللہ اور مکارمِ اخلاق کو قبول کرنے کے لیے وسیع کر دیا گیا۔ چنانچہ وہ سینہ اُس بوجھ سے تنگ نہیں ہوتا جو اس پر ڈالا گیا، اور نہ کسی بھلائی سے سکڑتا ہے۔
الاستفهام للتقرير، أي: قد شرحنا لك صدرك. وأصل الشرح البسط والتوسعة، والمراد توسعة الصدر لقبول الوحي وشرائع الدين والدعوة إلى الله والاتصاف بمكارم الأخلاق. فصار الصدر واسعًا لا يضيق بما حُمِّل، ولا يَنقبض عن خير يُطلب منه.
27 of the 35 commentaries carry this āyah
all 27, in their own words
al-Tabarid.923 · ar · PD
القول في تأويل قوله تعالى: ﴿أَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ (١) وَوَضَعْنَا عَنْكَ وِزْرَكَ (٢) الَّذِي أَنْقَضَ ظَهْرَكَ (٣) وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ (٤) فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا (٥) إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا (٦) فَإِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْ (٧) وَإِلَى رَبِّكَ فَارْغَبْ (٨) ﴾ . يقول تعالى ذكره لنبيه محمد ﷺ، مذكِّره آلاءه عنده، وإحسانه إليه، حاضا له بذلك على شكره، على ما أنعم عليه، ليستوجب بذلك المزيد منه: ﴿أَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ﴾ يا محمد، للهدى والإيمان بالله ومعرفة الحقّ ﴿صَدْرِكَ﴾ فنلِّين لك قلبك، ونجعله وعاء للحكمة: ﴿وَوَضَعْنَا عَنْكَ وِزْرَكَ﴾ يقول: وغفرنا لك ما سلف من ذنوبك …
Tafsīr al-Qummīd.941 · ar · PD
ألم نشرح لك صدرك) قال: بعلي فجعلناه وصيك قال: وحين فتح مكة ودخلت قريش في الاسلام شرح الله صدره ويسره (
al-Baghawid.1122 · ar · PD
سُورَةُ الشَّرْحِ مَكِّيَّةٌ [[أخرج ابن الضريس والنحاس وابن مردويه والبيهقي عن ابن عباس - رضي الله عنهما - قال: نزلت سورة (ألم نشرح) بمكة. زاد بعضهم بعد الضحى، انظر: الدر المنثور: ٨ / ٥٤٧.]] ﷽ * * ﴿أَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ﴾ أَلَمْ نفتح ونوسع ١٩٥/ب وَنُلَيِّنْ لَكَ قَلْبَكَ بِالْإِيمَانِ وَالنُّبُوَّةِ وَالْعِلْمِ وَالْحِكْمَةِ. ﴿وَوَضَعْنَا عَنْكَ وِزْرَكَ﴾ قَالَ الْحَسَنُ، وَمُجَاهِدٌ وَقَتَادَةُ، وَالضَّحَّاكُ: وَحَطَطْنَا عَنْكَ الَّذِي سَلَفَ مِنْكَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَهُوَ كَقَوْلِهِ: "لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ" [الفتح: ٢] . وَقَالَ …
al-Zamakhsharid.1144 · ar · PD
مكية، وآياتها 8 «نزلت بعد الضحى» بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ استفهم عن انتفاء الشرح على وجه الإنكار، فأفاد إثبات الشرح وإيجابه، فكأنه قيل: شرحنا لك صدرك، ولذلك عطف عليه: وضعنا: اعتبارا للمعنى. ومعنى: شرحنا صدرك: فسحناه حتى وسع عموم النبوّة ودعوة الثقلين جميعا. أو حتى احتمل المكاره التي يتعرض [[قوله «المكاره التي يتعرض لك» لعله تعرض بصيغة الماضي. (ع)]] لك بها كفار قومك وغيرهم: أو فسحناه بما أودعناه من العلوم والحكم، وأزلنا عنه الضيق والحرج الذي يكون مع العمى والجهل. وعن الحسن: مليء حكمة وعلما. وعن أبى جعفر المنصور أنه قرأ: ألم نشرح لك، بفتح الحاء. وقالوا: لعله بين الحاء وأشبعها في …
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful. أَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ - وَوَضَعْنَا عَنكَ وِزْرَكَ - الَّذِي أَنقَضَ ظَهْرَكَ - وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ - فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا - إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا - فَإِذَا فَرَغْتَ فَانصَبْ - وَإِلَىٰ رَبِّكَ فَارْغَب (1. Have We not opened your breast for you?)(2. And removed from you your burden.)(3. Which weighed down your back?)(4. And have We not raised high your fame?)(5. Verily, along with every hardship is relief,)(6. Verily, along with every hardship is relief.)(7. So …
عنی ہم نے تیرے سینے کو منور کردیا چوڑا کشادہ اور رحمت و کرم والا کردیا اور جگہ ہے فمن برد اللّٰہ الخ، یعنی جسے اللہ ہدایت دینا چاہتا ہے اس کے سینے کو اسلام کے لیے کھول دیتا ہے۔ جس طرح آپکا سینہ کشادہ کردیا گیا تھا۔ اسی طرح آپ کی شریعت بھی کشادگی والی نرمی اور آسانی والی بنادی، جس میں نہ تو کوئی حرج ہے نہ تنگی، نہ ترشی، نہ تکلیف، اور سختی، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد معراج والی رات سینے کا شق کیا جانا ہے۔ جیسے کہ مالک بن صعصعہ کی روایت سے پہلے گذرچکا، امام ترمذی نے اس حدیث کو یہیں وارد کیا ہے۔ لیکن یہ یاد رہے کہ یہ دونوں واقعات مراد ہوسکتے ہیں یعنی معراج کی رات سینے کا شق کیا جانا اور سینہ …
Did We not expand (an interrogative meant as an affirmative, in other words, ‘We did [indeed] expand’) your breast for you, O Muhammad (s), by means of prophethood and otherwise,
al-Ṣāfī (Fayḍ al-Kāshānī)d.1680 · ar · PD
ألم نشرح لك صدرك قيل ألم نفسحه بالعلم والحكمة وتلقي الوحي والصبر على الأذى والمكاره حتى وسع مناجاة الحق ودعوة الخلق فكان غائبا حاضرا القمي قال بعلي (عليه السلام) فجعلناه وصيك قال وحين فتح مكة ودخلت قريش في الاسلام شرح الله صدره وسره. وفي المجمع عن النبي (صلى الله عليه وآله) انه قيل له لينشرح الصدر قال نعم قالوا يا رسول الله وهل لذلك علامة يعرف بها قال نعم التجافي عن دار الغرور والإنابة إلى دار الخلود والاعداد للموت قبل نزوله. (2)
علوم و معارف کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سینہ کھول دیا:کہ اُس میں علوم و معارف کے سمندر اتار دیے اور لوازم نبوت اور فرائض رسالت برداشت کرنے کو بڑا وسیع حوصلہ دیا کہ بیشمار دشمنوں کی عداوت اور مخالفوں کی مزاحمت سے گھبرانے نہ پائیں (تنبیہ) احادیث و سیر سے ثابت ہے کہ ظاہری طور پر بھی فرشتوں نے متعدد مرتبہ آپ کا سینہ چاک کیا۔ لیکن مدلول آیت کا بظاہر وہ معلوم نہیں ہوتا۔ واللہ اعلم۔
وهي مكية بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ {1 ـ 4} يقول تعالى ممتنًّا على رسوله: {ألم نشرحۡ لك صدرَك}؛ أي: نوسِّعْه لشرائع الدِّين والدَّعوة إلى الله والاتِّصاف بمكارم الأخلاق والإقبال على الآخرة وتسهيل الخيرات، فلم يكن ضيِّقاً حرجاً لا يكاد ينقاد لخيرٍ ولا تكاد تجده منبسطاً، {ووضعۡنا عنك وِزۡرَك}؛ أي: ذنبك، {الذي أنقَضَ}؛ أي: أثقل {ظهركَ}؛ كما قال تعالى:{ليغفرَ لك اللهُ ما تقدَّم من ذنبِكَ وما تأخَّر}، {ورفَعۡنا لكَ ذِكۡرَك}؛ أي: أعليْنا قدرَك، وجعلنا لك الثَّناء الحسن العالي، الذي لم يصلْ إليه أحدٌ من الخلق؛ فلا يُذْكَرُ الله؛ إلاَّ ذُكِر معه رسوله - صلى الله عليه وسلم -؛ كما في …
ا نہیں کھول دیا ہم نے آپ کے لیے آپ کا سینہ؟(1) اور ہم نے اتار دیا آپ سے آپ کا بوجھ(2) وہ جس نے توڑ دی تھی آپ کی کمر(3) اور ہم نے بلند کر دیا آپ کے لیے آپ کا ذکر(4) پس یقیناً (ہر) تنگی کے ساتھ آسانی ہے(5) بلاشبہ( ہر) تنگی کے ساتھ آسانی ہے(6) پس جب آپ فارغ ہو جائیں تو محنت کیجیے(7) اور اپنے رب کی طرف، پس رغبت کیجیے(8) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [4-1] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسولﷺ پر اپنے احسان کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿اَلَمۡ نَشۡرَحۡ لَكَ صَدۡرَكَ﴾ یعنی شرائع دین، اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے، مکارم اخلاق سے متصف ہونے، آخرت کو مدنظر رکھنے اور نیکیوں …
ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی روح میں کوئی تنگی تھی اور آپ دعوت اسلامی کے سلسلے میں کچھ مشکلات محسوس فرماتے تھے۔ آپ پریشان تھے کیونکہ آپ کے خلاف سازشیں ہورہی تھیں اور آپ کے دل پر ان کے اثرات پڑ رہے تھے اور آپ سمجھتے تھے کہ یہ ذمہ داریاں بہت بھاری ہیں اور یہ کہ آپ کو اللہ کی امداد نصرت اور خصوصی زادراہ کی ضرورت ہے۔ چناچہ اس موقعہ پر آپ کے ساتھ یہ بیٹھا مکالمہ ہوا۔ انداز گفتگو ایسا ہے کہ بات محبتوں سے بھری ہے۔ الم نشرح .................... صدرک (1:94) ”(اے نبی) کیا ہم نے تمہارا سینہ تمہارے لئے کھول نہیں دیا “۔ آپک کا سینہ دعوت اسلامی کے کام کے لئے کھل گیا ، اور آپ کے لئے اس ذمہ …
أَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ (Did We not cause your bosom to be wide open for your benefit?...94:1). The word sharp literally denotes 'to open, to cause the bosom to be widely opened'. [ In the present context ] it is to cause the bosom to be wide open to comprehend the Divine mysteries. The verse signifies that Allah illuminated his bosom with wisdom, Divine light and peace and made it spacious, vast and wide as is said in another verse: فَمَن يُرِدِ اللَّـهُ أَن يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ 'So, he whom Allah wills to give guidance, He opens his heart for Islam [ 6:125] …
اِس سوال سے کلام کا آغاز ، اور پھر بعد کا مضمون یہ ظاہر کرتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُس زمانے میں اُن شدید مشکلات پر سخت پریشان تھے جو دعوتِ اسلامی کا کام شروع کرنے کے بعد ابتدائی دور میں آپ کو پیش آرہی تھیں۔ اِن حالات میں اللہ تعالیٰ نے آپ ؐ کو مخاطَب کر کے تسلّی دیتے ہوئے فرمایا کہ اے نبی، کیا ہم نے یہ اور یہ عنایات تم پر نہیں کی ہیں؟ پھر اِن ابتدائی مشکلات پر تم پریشان کیوں ہوتے ہو؟ سینہ کھولنے کالفظ قرآن مجید میں جن مواقع پر آیا ہے اُن پر نگاہ ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اِس کے دو معنی ہیں۔ (1) سورۂ اَنعام آیت 125 میں فرمایا فَمَنْ یُّرِدِ اللہُ اَنْ یَّھْدِ یَہ ٗ یَشْرَحْ صَدْ …
To begin the discourse with this question, and then the subsequent theme, shows that the Messenger (peace be upon him) at that time was very disturbed and distressed at the great hardships that he was passing through in the initial stage of his mission of calling the people to Islam. Under those conditions Allah addressed him and consoling him, said: O Prophet, have We not blessed you with such and such favor. Then, why do you feel so disturbed and distressed at these initial difficulties.
الاستفهام فى قوله - سبحانه - : ( أَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ ) للتقرير لأنه إذا دخل على النفى قرره ، وهذا التقرير المقصود به التذكير ، حتى يداوم على شكره - تعالى - .وأصل الشرح : البسط للشئ وتوسعته ، يقال : شرح فلان الشئ ، إذا وسعه ، ومنه شرح فلان الكتاب ، إذا وضحه ، وأزال مجمله ، وبسط ما فيه من غموض .والمراد بشرح الصدر هنا : توسعته وفتحه ، لقبول كل ما هو من الفضائل والكمالات النفسية . وإذهاب كل ما يصد عن الإِدراك السليم وعن الحق الخير والهدى .وهذا الشرح ، يشمل الشق البدنى لصدره صلى الله عليه وسلم كما يشمل الشرح المعنوى لصدره صلى الله عليه وسلم عن طريق إيداعه الإِيمان والهدى والعلم والفضائل …
آیت 1{ اَلَمْ نَشْرَحْ لَکَ صَدْرَکَ۔ } ”کیا ہم نے آپ ﷺ کے لیے آپ ﷺ کے سینے کو کھول نہیں دیا ؟“ یعنی ہم نے آپ ﷺ کا اضطراب کم کر کے آپ ﷺ کے دل کو ایک ٹھہرائو اور سکون عطا فرما دیا ہے۔ مولانا شبیر احمد عثمانی رح اس آیت کے ضمن میں لکھتے ہیں : ”اس میں علوم و معارف کے سمندر اتار دیے اور لوازمِ نبوت اور فرائض ِ رسالت برداشت کرنے کو بڑاوسیع حوصلہ دیا۔“
أَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ (1) استفهام تقريري على النفي . والمقصود التقرير على إثبات المنفي كما تقدم غير مرة . وهذا التقرير مقصود به التذكير لأجل أن يراعي هذه المنة عندما يخالجه ضيق صدر مما يلقاه من أذى قوم يريد صلاحَهم وإنقاذَهم من النار ورفعَ شأنهم بين الأمم ، ليدوم على دعوته العظيمة نَشيطاً غير ذي أسف ولا كَمَدٍ .والشرح حقيقته : فصل أجزاء اللحم بعضِها عن بعض ، ومنه الشريحة للقطعة من اللحم ، والتشريح في الطب ، ويطلق على انفعال النفس بالرضى بالحال المتلبس بها . وظاهر كلام «الأساس» أن هذا إطلاق حقيقي . ولعله راعى كثرة الاستعمال ، أي هو من المجاز الذي يساوي الحقيقة لأن الظاهر أن الشرح …
تسمية السورة • سميت الشرح؛ لافتتاحها بامتنان الله سبحانه وتعالى على نبينا محمد ﷺ بأنه شرح صدره، فهيَّأه لأعلى المقامات. من مقاصد السورة • ذكر عناية الله تعالى برسوله ﷺ؛ بشَرْح صدره بالإيمان، وتطهيره من الذنوب، ورفعِ منزلته الدنيوية والأخروية؛ تسليةً للرسول ﷺ عمّا يلقاه من أذى الفجار، وتبشيره باليسر بعد العسر، وتذكيرُه ﷺ بالتفرُّغ لعبادة الله بعد انتهائه من تبليغ الرسالة؛ شكرًا لله على ما أولاه من النِّعَم. [التفسير] ألم نوسع -أيها النبي- لك صدرك لشرائع الدين، والدعوة إلى الله، والاتصاف بمكارم الأخلاق، وحططنا عنك بذلك حِمْلك.
زشتہ سورت میں تین انعامات کا ذکر تھا، اس سورت میں مزید تین احسانات جتلائے جا رہے ہیں۔ سینہ کھول دینا، ان میں پہلا ہے۔ اس کا مطلب ہے سینے کا منور اور فراخ ہو جانا، تاکہ حق واضح بھی ہو جائے اور دل میں سما بھی جائے۔ اسی مفہوم میں قرآن کریم کی یہ آیت فَمَنْ يُرِدِ اللَّهُ أَنْ يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلإِسْلامِ ( سورة الأنعام: 125 ) ”جس کو اللہ تعالیٰ ہدایت سے نوازنے کا ارادہ کرے۔ اس کا سینہ اسلام کے لئے کھول دیتا ہے“۔ یعنی وہ اسلام کو دین حق کے طور پرپہچان بھی لیتا ہے اور اسے قبول بھی کر لیتا ہے۔ اس شرح صدر میں وہ شق صدر بھی آجاتا ہے جو معتبر روایات کی رو سے دو مرتبہ نبی (صلى الله عليه …
Verily, Allah has opened up your heart for you and made receiving revelation beloved to you.
No commentary keyed to this āyah in: Jawāmiʿ al-jāmiʿ (al-Ṭabrisī), Majmaʿ al-bayān (al-Ṭabrisī), Nūr al-thaqalayn (al-Ḥuwayzī), Tanwir al-Miqbas (English), Tazkir ul Quran (Urdu), Tazkirul Quran (English), al-Mīzān (Ṭabāṭabāʾī), al-Tibyān (al-Ṭūsī).
the words of this āyah — root, frequency, family
أ
occurs 513 timesamong the commonest 300 words
لَم
occurs 348 timesamong the commonest 300 words
شَرَحَ
occurs 5 timesroot شرح occurs 5
ل
occurs 4380 timesamong the commonest 300 words
صَدْر
occurs 44 timesroot صدر occurs 46among the commonest 300 words
صَدْر44يُصْدِرَ1يَصْدُرُ1
this āyah in 55 languages — 74 translations
Akan Harun Ismail · v1.0.3
(Ɔkͻmhyεni), Yɛmmuee anaa Yεntrεε w’akoma mu mmaa wo?
Azərbaycan Ali Khan Musayev · v1.0.4
(Ey Peyğəmbər!) Məgər Biz sənin üçün sinəni (qəlbini) açıb genişlətmədikmi?
Bahasa Indonesia Ministry of Religious Affairs · v1.0.1
Bukankah kami telah melapangkan dadamu (Muhammad)?
Bahasa Indonesia Sabiq Company · v1.1.3
1. Bukankah Kami telah melapangkan dadamu (Muhammad)?
Bahasa Indonesia The Complex · v1.0.1
Bukankah Kami telah melapangkan untukmu dadamu?
Bosanski Muhammad Mahanovic · v1.1.0
Zar grudi tvoje nismo prostranim učinili
Bosanski Rowwad Translation Centre · v2.0.4
Zar grudi tvoje nismo prostranim učinili
Cebuano Rowwad Translation Center · v1.1.3
Wala ba Kami nagpalapad alang kanimo (Oh Muhammad) sa imong dughan,
Deutsch Frank Bubenheim · v1.1.4
Haben Wir dir nicht deine Brust aufgetan
Deutsch Rowwad Translation Center · v1.0.15
Haben Wir dir nicht deine Brust aufgetan
English Hilali and Khan · v1.1.2
1. Have We not opened your breast for you (O Muhammad صلى الله عليه وسلم)?
English Noor International Center · v1.1.2
Did We not expand for you, [O Muḥammad], your breast?[1944]
English Rowwad Translation Center · v1.0.19
Have We not reassured your heart for you [O Prophet][1],
Español Isa Garcia · v1.0.2
1. ¿Acaso no he dado sosiego a tu corazón [¡Oh, Mujámmad!],
Español Noor International Center · v1.0.1
¿Acaso no hemos abierto tu corazón[1159]
Español issued by Noor International · v1.0.1
¿Acaso no hemos abierto tu corazón[1159]
Français Noor International Center · v1.0.0
1. Ne t’avons-Nous pas ouvert la poitrine?
Français Rachid Maach · v1.0.3
N’avons-Nous pas épanoui ton cœur,
Fulfulde Rowwad Translation Center · v1.0.2
Mbele min n njaacnaani ma ɓernde ma.
Hausa Abu Bakr Jumi · v1.2.2
Ba Mu bũɗa maka zũciyarka ba (dõmin ɗaukar haƙuri da fahimta)?
Hrvatski Rowwad Translation Center · v1.0.1
Zar grudi tvoje nismo prostranim učinili
Kinyarwanda Rwanda Muslim Association · v1.0.5
Ese (yewe Muhamadi) ntitwakwaguriye igituza?
Kirundi Yusuf Gahiti · v1.0.4
Muvugishwamana! Mbega, Twebwe Allah, ntitwakwaguriye igikiriza cawe mu kuguha ukwihangana, kugira ushobore kwakira ubutumwa no kubushikiriza!
Kiswahili Ali Mohsin Al-Barwani · v1.0.1
Hatukukunjulia kifua chako? [1]
Kiswahili Rowad Translation Center · v1.0.5
Hatukukunjulia kifua chako?
Kurdî Muhammad Salih Bamoki · v1.1.1
ئایا سنگمان بۆ ئاسوودە وگوشاد نەکردییت
Lietuvių Rowwad Translation Center · v1.0.8
1. Argi Mes neišplėtėme tau (Muchammedai ﷺ ) tavo krūtinės?
Lingála Mohammed Balangogo · v1.0.2
Biso te nde tofungolaki yo motema?
Maguindanaon Rowwad Translation Center · v1.0.4
Ngintu da nami bukati sa leka su laleb nengka (Muhammad)?
Mòoré Rowwad Translation Center · v1.0.1
Rẽ yĩnga Tõnd pa yalg fo yãoogã n kõ-fo?
Nederlands Rowwad Translation Center · v2.0.10
Hebben Wij je hart dan niet voor jou verruimt (met het profeetschap, het geloof en wijsheid)?
Oromoo Gali Ababor · v1.0.3
Sila Nuti qoma kee siif hin bal'ifnee?
Oʻzbek Alaauddin Mansour · v1.0.0
(Эй Муҳаммад алайҳис-салоту вас-салом), Биз сизнинг қалбингизни (иймон ва Қуръон нури билан) кенг-мунаввар қилиб қўймадикми?
Oʻzbek Rowwad Translation Center · v1.0.4
Бағрингизни кенг қилиб қўймадикми?
Português Helmi Nasr · v1.4.1
Não te dilatamos[1] o peito?
Qafár Mahmoud Abdulqader Hamza · v1.0.1
1. Nabiyow Alii koh farakka ma hanninoo islaamaninnoo kee nubuwwannul?
Română Islam4ro.com · v1.0.4
Oare nu ți-am deschis ție pieptul [o, Mohammed][1]
Shqip Hassan Nahi · v1.1.0
Vallë, a nuk ta hapëm ty (Muhamed) kraharorin (për të pranuar besimin)
Shqip Rowwad Translation Center · v1.0.5
A nuk ta hapëm gjoksin
Soomaali Abdullah Hasan Yaqoub · v1.0.26
1. Miyaanaan kuu waasicinnin (Nabi Muxammadow) laabtaada?
Tagalog Rowwad Translation Center · v1.1.4
Hindi ba nagpaluwag Kami para sa iyo ng dibdib mo [O Propeta Muḥammad]?
Tiếng Việt Rowwad Translation Center · v1.0.8
(Hỡi Thiên Sứ Muhammad!) Chẳng phải TA (Allah) đã không mở rộng lồng ngực của Ngươi ư?
plays offline — the recitation is inside this file
PickthallAnd eased thee of the burden
Yusuf AliAnd removed from thee thy burden
Muhammad Junagarhiاور تجھ پر سے تیرا بوجھ ہم نے اتار دیا.[1]
al-Muyassarتسمية السورة • سميت الشرح؛ لافتتاحها بامتنان الله سبحانه وتعالى على نبينا محمد ﷺ بأنه شرح صدره، فهيَّأه لأعلى المقامات. من مقاصد السورة • ذكر عناية الله تعالى برسوله ﷺ؛ بشَرْح صدره بالإيمان، وتطهيره من الذنوب، ورفعِ منزلته الدنيوية والأخروية؛ تسليةً للرسول ﷺ عمّا يلقاه من أذى الفجار، وتبشيره باليسر بعد العسر، وتذكيرُه ﷺ بالتفرُّغ لعبادة الله بعد انتهائه من تبليغ الرسالة؛ شكرًا لله على ما أولاه من النِّعَم. [التفسير] ألم نوسع -أيها النبي- لك صدرك لشرائع الدين، والدعوة إلى الله، والاتصاف بمكارم الأخلاق، وحططنا عنك بذلك حِمْلك.
the agreed readingAnd lift from you your burden. The commentaries gloss the word as a weight he was under, and the lifting as its being taken off him altogether rather than made lighter to carry.
اور ہم نے آپ سے آپ کا بوجھ اتار دیا۔ ”وِزْر“ اُس بھاری بوجھ کو کہتے ہیں، اور جب یہ فعل ”عن“ کے ساتھ آئے تو اس کے معنی اتار دینے اور ہلکا کر دینے کے ہوتے ہیں۔ یعنی اللہ نے وہ چیز آپ سے دور کر دی جو آپ پر بھاری تھی اور آپ کو ہر اُس چیز سے پاک رکھا جس کا اٹھانا نفس پر گراں ہوتا ہے۔
ووضعنا عنك وزرك، أي حططنا عنك وأزلنا. والوِزْر هو الحِمْل الثقيل، والفعل إذا عُدِّي بـ«عن» كان للحطِّ والتخفيف. فأزال الله عنك ما كان يُثقلك، وطهَّرك مما يشقُّ على النفس حملُه.
24 of the 35 commentaries carry this āyah
all 24, in their own words
al-Tabarid.923 · ar · PD
القول في تأويل قوله تعالى: ﴿أَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ (١) وَوَضَعْنَا عَنْكَ وِزْرَكَ (٢) الَّذِي أَنْقَضَ ظَهْرَكَ (٣) وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ (٤) فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا (٥) إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا (٦) فَإِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْ (٧) وَإِلَى رَبِّكَ فَارْغَبْ (٨) ﴾ . يقول تعالى ذكره لنبيه محمد ﷺ، مذكِّره آلاءه عنده، وإحسانه إليه، حاضا له بذلك على شكره، على ما أنعم عليه، ليستوجب بذلك المزيد منه: ﴿أَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ﴾ يا محمد، للهدى والإيمان بالله ومعرفة الحقّ ﴿صَدْرِكَ﴾ فنلِّين لك قلبك، ونجعله وعاء للحكمة: ﴿وَوَضَعْنَا عَنْكَ وِزْرَكَ﴾ يقول: وغفرنا لك ما سلف من ذنوبك …
al-Baghawid.1122 · ar · PD
سُورَةُ الشَّرْحِ مَكِّيَّةٌ [[أخرج ابن الضريس والنحاس وابن مردويه والبيهقي عن ابن عباس - رضي الله عنهما - قال: نزلت سورة (ألم نشرح) بمكة. زاد بعضهم بعد الضحى، انظر: الدر المنثور: ٨ / ٥٤٧.]] ﷽ * * ﴿أَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ﴾ أَلَمْ نفتح ونوسع ١٩٥/ب وَنُلَيِّنْ لَكَ قَلْبَكَ بِالْإِيمَانِ وَالنُّبُوَّةِ وَالْعِلْمِ وَالْحِكْمَةِ. ﴿وَوَضَعْنَا عَنْكَ وِزْرَكَ﴾ قَالَ الْحَسَنُ، وَمُجَاهِدٌ وَقَتَادَةُ، وَالضَّحَّاكُ: وَحَطَطْنَا عَنْكَ الَّذِي سَلَفَ مِنْكَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَهُوَ كَقَوْلِهِ: "لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ" [الفتح: ٢] . وَقَالَ …
al-Zamakhsharid.1144 · ar · PD
فإن قلت: أى فائدة في زيادة لك، والمعنى مستقل بدونه [[قال محمود: «إن قلت ما قائدة لك مع أن الاضافة تغنى عنها ... الخ» ؟ قال أحمد: وقد تقدم عند الكلام على نظيرها في قوله: «قال رب اشرح لي صدري ويسر لي أمرى» قريب من هذا المعنى، والله أعلم.]] ؟ قلت: في زيادة لك ما في طريقة الإبهام والإيضاح، كأنه قيل: ألم نشرح لك، ففهم أن ثم مشروحا، ثم قيل: صدرك، فأوضح ما علم مبهما، وكذلك لَكَ ذِكْرَكَ وعَنْكَ وِزْرَكَ.
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful. أَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ - وَوَضَعْنَا عَنكَ وِزْرَكَ - الَّذِي أَنقَضَ ظَهْرَكَ - وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ - فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا - إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا - فَإِذَا فَرَغْتَ فَانصَبْ - وَإِلَىٰ رَبِّكَ فَارْغَب (1. Have We not opened your breast for you?)(2. And removed from you your burden.)(3. Which weighed down your back?)(4. And have We not raised high your fame?)(5. Verily, along with every hardship is relief,)(6. Verily, along with every hardship is relief.)(7. So …
عنی ہم نے تیرے سینے کو منور کردیا چوڑا کشادہ اور رحمت و کرم والا کردیا اور جگہ ہے فمن برد اللّٰہ الخ، یعنی جسے اللہ ہدایت دینا چاہتا ہے اس کے سینے کو اسلام کے لیے کھول دیتا ہے۔ جس طرح آپکا سینہ کشادہ کردیا گیا تھا۔ اسی طرح آپ کی شریعت بھی کشادگی والی نرمی اور آسانی والی بنادی، جس میں نہ تو کوئی حرج ہے نہ تنگی، نہ ترشی، نہ تکلیف، اور سختی، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد معراج والی رات سینے کا شق کیا جانا ہے۔ جیسے کہ مالک بن صعصعہ کی روایت سے پہلے گذرچکا، امام ترمذی نے اس حدیث کو یہیں وارد کیا ہے۔ لیکن یہ یاد رہے کہ یہ دونوں واقعات مراد ہوسکتے ہیں یعنی معراج کی رات سینے کا شق کیا جانا اور سینہ …
ووضعنا عنك وزرك ما ثقل عليك احتماله القمي قال ثقل الحرب. (3)
Nūr al-thaqalayn (al-Ḥuwayzī)d.1700 · ar · PD
ووضعنا عنك وزرك؟ قال: قلت: بلى أي رب. 5 - وعن ابن عباس قال: سئل النبي صلى الله عليه وآله فقيل: يا رسول الله أينشرح الصدر؟ قال: نعم، قالوا: يا رسول الله وهل لذلك علامة يعرف بها؟ قال نعم التجافي عن دار الغرور والإنابة إلى دار الخلود والاعداد للموت قبل نزول الموت. 6 - في بصائر الدرجات أحمد بن محمد عن ابن أبي عمير عن جميل عن الحسن بن راشد عن أبي عبد الله عليه السلام في قول الله تبارك وتعالى: " ألم نشرح لك صدرك " قال: بولاية أمير المؤمنين عليه السلام. 7 - في تفسير علي بن إبراهيم: ألم نشرح لك صدرك قال: بعلى فجعلناه وصيك. قال: حين فتح مكة ودخلت قريش في الاسلام شرح الله صدره وسره ووضعنا عنك وزرك قال: …
وهي مكية بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ {1 ـ 4} يقول تعالى ممتنًّا على رسوله: {ألم نشرحۡ لك صدرَك}؛ أي: نوسِّعْه لشرائع الدِّين والدَّعوة إلى الله والاتِّصاف بمكارم الأخلاق والإقبال على الآخرة وتسهيل الخيرات، فلم يكن ضيِّقاً حرجاً لا يكاد ينقاد لخيرٍ ولا تكاد تجده منبسطاً، {ووضعۡنا عنك وِزۡرَك}؛ أي: ذنبك، {الذي أنقَضَ}؛ أي: أثقل {ظهركَ}؛ كما قال تعالى:{ليغفرَ لك اللهُ ما تقدَّم من ذنبِكَ وما تأخَّر}، {ورفَعۡنا لكَ ذِكۡرَك}؛ أي: أعليْنا قدرَك، وجعلنا لك الثَّناء الحسن العالي، الذي لم يصلْ إليه أحدٌ من الخلق؛ فلا يُذْكَرُ الله؛ إلاَّ ذُكِر معه رسوله - صلى الله عليه وسلم -؛ كما في …
ا نہیں کھول دیا ہم نے آپ کے لیے آپ کا سینہ؟(1) اور ہم نے اتار دیا آپ سے آپ کا بوجھ(2) وہ جس نے توڑ دی تھی آپ کی کمر(3) اور ہم نے بلند کر دیا آپ کے لیے آپ کا ذکر(4) پس یقیناً (ہر) تنگی کے ساتھ آسانی ہے(5) بلاشبہ( ہر) تنگی کے ساتھ آسانی ہے(6) پس جب آپ فارغ ہو جائیں تو محنت کیجیے(7) اور اپنے رب کی طرف، پس رغبت کیجیے(8) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [4-1] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسولﷺ پر اپنے احسان کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿اَلَمۡ نَشۡرَحۡ لَكَ صَدۡرَكَ﴾ یعنی شرائع دین، اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے، مکارم اخلاق سے متصف ہونے، آخرت کو مدنظر رکھنے اور نیکیوں …
ووضعنا ............................ ظھرک (3:94) ” اور تم پر سے وہ باری بوجھ اتاردیا جو تمہاری کمر توڑے ڈال رہا تھا “۔ یعنی دعوت اسلامی کا بوجھ اس قدر بھاری ہوگیا کہ قریب تھا کہ آپ کی کمر ہی توڑ دے۔ ہم نے آپ کو شرح صدر عطا کیا اور یہ بوجھ ہلکا ہوگیا ، آپ کو کام کرنے کی توفیق دی ، آپ کے لئے دعوت کا کام آسان کردیا اور یہ لوگوں کے دلوں تک پہنچنے لگی۔ وحی کا سلسلہ جاری ہوگیا اور بذریعہ وحی حقائق کا انکشاف ہونے لگا۔ اور یوں یہ دعوت دلوں میں اترنے لگی۔ اور بذریعہ وحی یہ کام نہایت آسانی ، نرمی اور سکون سے ہونے لگا۔ کیا آپ اس تبدیلی کو اس بوجھ میں محسوس نہیں کرتے جس نے آپ کی کمر توڑ دی اور اب یہ ہلکا …
وَوَضَعْنَا عَنكَ وِزْرَكَ الَّذِي أَنقَضَ ظَهْرَكَ (And We removed from you your burden that had [ almost ] broken your back...94:2-3). The word wizr literally denotes 'burden' and the phrase naqd-uz-zahr means 'to break one's back as for instance when a heavy load is put on one's back, it bends'. This verse signifies that Allah had relieved him of his burden that was breaking his back. What was that burden or heavy load? One answer to this question is that now and then the Holy Prophet ﷺ did certain permissible deeds, thinking that they were of benefit and in the interest [ of spiritual …
وقوله - سبحانه - : ( وَوَضَعْنَا عَنكَ وِزْرَكَ . الذي أَنقَضَ ظَهْرَكَ ) بيان لنعمة أخرى من النعم التى أنعم بها - سبحانه - على نبيه صلى الله عليه وسلم .والمراد بالوضع هنا : الإِزالة والحط ، لأن هذا اللفظ إذا عدى بعن كان للحط والتخفيف ، وإذا عدى بعلى كان للحمل والتثقيل .تقول : وضعت عن فلان قيده : إذا أزلته عنه ، ووضعته عليه : إذا حملته إياه .والوزر : الحِمْل الثقيل .
وَوَضَعْنَا عَنْكَ وِزْرَكَ (2) والوِزر : الحَرج ، ووضْعه : حطَّه عن حامله ، والكلام تمثيل لحال إزالة الشدائد والكروب بحال من يحط ثقلاً عن حامله ليريحه من عناء الثقل .والمعنى : أن الله أزال عنه كل ما كان يتحرج منه من عادات أهل الجاهلية التي لا تلائم ما فَطر الله عليه نفسه من الزكاة والسمو ولا يجد بداً من مسايرتهم عليه فوضع عنه ذلك حين أوحى إليه بالرسالة ، وكذلك ما كان يجده في أول بعثته من ثقل الوحي فيسَّره الله عليه بقوله : { سنقرئك فلا تنسى } إلى قوله : { ونيسرك لليسرى } [ الأعلى : 6 8 ] .
تسمية السورة • سميت الشرح؛ لافتتاحها بامتنان الله سبحانه وتعالى على نبينا محمد ﷺ بأنه شرح صدره، فهيَّأه لأعلى المقامات. من مقاصد السورة • ذكر عناية الله تعالى برسوله ﷺ؛ بشَرْح صدره بالإيمان، وتطهيره من الذنوب، ورفعِ منزلته الدنيوية والأخروية؛ تسليةً للرسول ﷺ عمّا يلقاه من أذى الفجار، وتبشيره باليسر بعد العسر، وتذكيرُه ﷺ بالتفرُّغ لعبادة الله بعد انتهائه من تبليغ الرسالة؛ شكرًا لله على ما أولاه من النِّعَم. [التفسير] ألم نوسع -أيها النبي- لك صدرك لشرائع الدين، والدعوة إلى الله، والاتصاف بمكارم الأخلاق، وحططنا عنك بذلك حِمْلك.
بوجھ نبوت سے قبل چالیس سالہ دور زندگی سے متعلق ہے۔ اس دور میں اگرچہ اللہ نے آپ (صلى الله عليه وسلم) کو گناہوں سے محفوظ رکھا، کسی بت کے سامنے آپ (صلى الله عليه وسلم) سجدہ ریز نہیں ہوئے، کبھی شراب نوشی نہیں کی اور بھی دیگر برائیوں سے دامن کش رہے، تاکہ معروف معنوں میں اللہ کی عبادت واطاعت کا نہ آپ (صلى الله عليه وسلم) کو علم تھا نہ آپ (صلى الله عليه وسلم) نے کی۔ اس لئے آپ (صلى الله عليه وسلم) کے دل ودماغ پر اس چالیس سالہ عدم عبادت وعدم اطاعت کا بوجھ تھا، جو حقیقت میں تو نہیں تھا، لیکن آپ (صلى الله عليه وسلم) کے احساس وشعور نے اسے بوجھ بنا رکھا تھا۔ اللہ نے اسے اتار دینے کا اعلان فرما کر آپ (صلى …
He said again: (And eased thee of the burden) We lifted your sins from you
No commentary keyed to this āyah in: Bayan ul Quran (Urdu), Jawāmiʿ al-jāmiʿ (al-Ṭabrisī), Majmaʿ al-bayān (al-Ṭabrisī), Tafhim al-Qur'an - Maududi (English), Tafhim al-Qur'an - Maududi (Urdu), Tafsir-e-Usmani (Urdu), Tafsīr al-Qummī, Tazkir ul Quran (Urdu), Tazkirul Quran (English), al-Mīzān (Ṭabāṭabāʾī), al-Tibyān (al-Ṭūsī).
2. உமது சுமையையும் உம்மைவிட்டும் நாம் இறக்கிவிட்டோம்.
தமிழ் Abridged Version · v1.0.2
இன்னும் உம் சுமையை உம்மைவிட்டு அகற்றினோம்.
தமிழ் Omar Sharif · v1.0.3
இன்னும், உம் சுமையை உம்மை விட்டு அகற்றினோம்.
తెలుగు Abdurrahim ibn Muhammad · v1.0.6
మరియు మేము నీ భారాన్ని నీ పై నుండి దించి వేయలేదా?
ಕನ್ನಡ Hamza Butur · v1.0.3
ನಾವು ನಿಮ್ಮಿಂದ ನಿಮ್ಮ ಭಾರವನ್ನು ಇಳಿಸಿದೆವು.
മലയാളം Abdul Hamid Haidar and Kunhi Muhammad · v1.0.3
നിന്നില് നിന്ന് നിന്റെ ആ ഭാരം നാം ഇറക്കിവെക്കുകയും ചെയ്തു.
සිංහල Rowwad Translation Center · v1.0.6
තවද නුඹගේ බර අපි නුඹගෙන් ඉවත් කළෙමු.
ไทย Rowwad Translation Center · v1.0.1
และเราได้ปลดเปลื้องภาระหนักของเจ้าออกจากเจ้าแล้ว
አማርኛ Africa Academy · v1.0.1
2. ሸክምህንም አወረድንልህ?
አማርኛ Muhammad Sadiq · v1.1.2
ሸክምህንም ካንተ አውርደንልሃል፡፡
ភាសាខ្មែរ Islamic Community Development Association · v1.0.2
និងបានដកបន្ទុករបស់អ្នកចេញពីអ្នក
ភាសាខ្មែរ Rowwad Translation Center · v1.0.4
ហើយយើងបានដកចេញពីអ្នកនូវបន្ទុករបស់អ្នក
中文 Muhammad Makeen · v1.0.2
我卸下了你的重任,
中文 Muhammad Suleiman · v1.0.8
我卸下了你的重任,
日本語 Saeed Sato · v1.0.13
そして、あなたから、あなたの重荷[1]を下ろしてやったのだ。
Ash-Sharh 94 : 3
ٱلَّذِىٓأَنقَضَظَهْرَكَ
aladhia aanqada zahraka
plays offline — the recitation is inside this file
PickthallWhich weighed down thy back;
Yusuf AliThe which did gall thy back?-
Muhammad Junagarhiجس نے تیری پیٹھ توڑ دی تھی.
al-Muyassarالذي أثقل ظهرك، وجعلناك -بما أنعمنا عليك من المكارم- في منزلة رفيعة عالية؟
the agreed readingThat weighed down your back. Both traditions take the verb from the sound a back makes under a load too heavy for it - the creak of a thing about to give - so that the weight is measured by what it was doing to him.
وہ بوجھ جس نے آپ کی کمر توڑ رکھی تھی، یعنی جو اتنا بھاری تھا کہ کمر چٹخنے کو آ جائے۔ ”اَنْقَضَ“ کا مادہ ”نقیض“ ہے، وہ ہلکی سی آواز جو اونٹ کی پیٹھ پر رکھے بھاری کجاوے سے نکلتی ہے۔ لفظ میں ایسے بوجھ کی تصویر ہے جسے اٹھانے والا مشکل سے سنبھالے، اور پھر اسے اتار کر راحت دے دی گئی۔
الذي أنقض ظهرك، أي أثقله حتى كاد يَقصمه. و«أنقض» من النقيض، وهو الصوت الخفيُّ الذي يُسمَع من الرَّحل الثقيل على ظهر البعير. ففي اللفظ تصويرٌ لثِقَلٍ يكاد صاحبه لا يطيقه، ثم جاء الوضع فأراح منه.
24 of the 35 commentaries carry this āyah
all 24, in their own words
al-Tabarid.923 · ar · PD
القول في تأويل قوله تعالى: ﴿أَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ (١) وَوَضَعْنَا عَنْكَ وِزْرَكَ (٢) الَّذِي أَنْقَضَ ظَهْرَكَ (٣) وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ (٤) فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا (٥) إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا (٦) فَإِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْ (٧) وَإِلَى رَبِّكَ فَارْغَبْ (٨) ﴾ . يقول تعالى ذكره لنبيه محمد ﷺ، مذكِّره آلاءه عنده، وإحسانه إليه، حاضا له بذلك على شكره، على ما أنعم عليه، ليستوجب بذلك المزيد منه: ﴿أَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ﴾ يا محمد، للهدى والإيمان بالله ومعرفة الحقّ ﴿صَدْرِكَ﴾ فنلِّين لك قلبك، ونجعله وعاء للحكمة: ﴿وَوَضَعْنَا عَنْكَ وِزْرَكَ﴾ يقول: وغفرنا لك ما سلف من ذنوبك …
مكية، وآياتها 8 «نزلت بعد الضحى» بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ استفهم عن انتفاء الشرح على وجه الإنكار، فأفاد إثبات الشرح وإيجابه، فكأنه قيل: شرحنا لك صدرك، ولذلك عطف عليه: وضعنا: اعتبارا للمعنى. ومعنى: شرحنا صدرك: فسحناه حتى وسع عموم النبوّة ودعوة الثقلين جميعا. أو حتى احتمل المكاره التي يتعرض [[قوله «المكاره التي يتعرض لك» لعله تعرض بصيغة الماضي. (ع)]] لك بها كفار قومك وغيرهم: أو فسحناه بما أودعناه من العلوم والحكم، وأزلنا عنه الضيق والحرج الذي يكون مع العمى والجهل. وعن الحسن: مليء حكمة وعلما. وعن أبى جعفر المنصور أنه قرأ: ألم نشرح لك، بفتح الحاء. وقالوا: لعله بين الحاء وأشبعها في …
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful. أَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ - وَوَضَعْنَا عَنكَ وِزْرَكَ - الَّذِي أَنقَضَ ظَهْرَكَ - وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ - فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا - إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا - فَإِذَا فَرَغْتَ فَانصَبْ - وَإِلَىٰ رَبِّكَ فَارْغَب (1. Have We not opened your breast for you?)(2. And removed from you your burden.)(3. Which weighed down your back?)(4. And have We not raised high your fame?)(5. Verily, along with every hardship is relief,)(6. Verily, along with every hardship is relief.)(7. So …
عنی ہم نے تیرے سینے کو منور کردیا چوڑا کشادہ اور رحمت و کرم والا کردیا اور جگہ ہے فمن برد اللّٰہ الخ، یعنی جسے اللہ ہدایت دینا چاہتا ہے اس کے سینے کو اسلام کے لیے کھول دیتا ہے۔ جس طرح آپکا سینہ کشادہ کردیا گیا تھا۔ اسی طرح آپ کی شریعت بھی کشادگی والی نرمی اور آسانی والی بنادی، جس میں نہ تو کوئی حرج ہے نہ تنگی، نہ ترشی، نہ تکلیف، اور سختی، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد معراج والی رات سینے کا شق کیا جانا ہے۔ جیسے کہ مالک بن صعصعہ کی روایت سے پہلے گذرچکا، امام ترمذی نے اس حدیث کو یہیں وارد کیا ہے۔ لیکن یہ یاد رہے کہ یہ دونوں واقعات مراد ہوسکتے ہیں یعنی معراج کی رات سینے کا شق کیا جانا اور سینہ …
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بوجھ اتار دیا:وحی کا اترنا اوّل سخت مشکل تھا۔ پھر آسان ہو گیا۔ یامنصب رسالت کی ذمہ داریوں کو محسوس کرکے خاطر شریف پر گرانی گزرتی ہو گی۔ وہ رفع کر دی گئ۔ یا "وزر" سے وہ امور مباحہ مراد ہوں جو گاہ بگاہ آپ قرین حکمت و صواب سمجھ کر کر لیتے تھے اور بعد میں ان کا خلاف حکمت یا خلاف اولٰی ہونا ظاہر ہوتا تھا اور آپ ﷺ بوجہ علوّ شان اور غایت قرب کے اس سے ایسے ہی مغموم ہوتے تھے جس طرح کوئی گناہ سے مغموم ہوتا ہے۔تو اس آیت میں ان پر مواخذہ نہ ہونے کی بشارت ہوئی۔ کذارُوی عن بعض السلف۔ اور حضرت شاہ عبدالعزیزؒ لکھتے ہیں کہ آپ کی ہمت عالی اور پیدائشی استعداد جن کمالات و مقامات پر …
وهي مكية بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ {1 ـ 4} يقول تعالى ممتنًّا على رسوله: {ألم نشرحۡ لك صدرَك}؛ أي: نوسِّعْه لشرائع الدِّين والدَّعوة إلى الله والاتِّصاف بمكارم الأخلاق والإقبال على الآخرة وتسهيل الخيرات، فلم يكن ضيِّقاً حرجاً لا يكاد ينقاد لخيرٍ ولا تكاد تجده منبسطاً، {ووضعۡنا عنك وِزۡرَك}؛ أي: ذنبك، {الذي أنقَضَ}؛ أي: أثقل {ظهركَ}؛ كما قال تعالى:{ليغفرَ لك اللهُ ما تقدَّم من ذنبِكَ وما تأخَّر}، {ورفَعۡنا لكَ ذِكۡرَك}؛ أي: أعليْنا قدرَك، وجعلنا لك الثَّناء الحسن العالي، الذي لم يصلْ إليه أحدٌ من الخلق؛ فلا يُذْكَرُ الله؛ إلاَّ ذُكِر معه رسوله - صلى الله عليه وسلم -؛ كما في …
ا نہیں کھول دیا ہم نے آپ کے لیے آپ کا سینہ؟(1) اور ہم نے اتار دیا آپ سے آپ کا بوجھ(2) وہ جس نے توڑ دی تھی آپ کی کمر(3) اور ہم نے بلند کر دیا آپ کے لیے آپ کا ذکر(4) پس یقیناً (ہر) تنگی کے ساتھ آسانی ہے(5) بلاشبہ( ہر) تنگی کے ساتھ آسانی ہے(6) پس جب آپ فارغ ہو جائیں تو محنت کیجیے(7) اور اپنے رب کی طرف، پس رغبت کیجیے(8) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [4-1] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسولﷺ پر اپنے احسان کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿اَلَمۡ نَشۡرَحۡ لَكَ صَدۡرَكَ﴾ یعنی شرائع دین، اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے، مکارم اخلاق سے متصف ہونے، آخرت کو مدنظر رکھنے اور نیکیوں …
وَوَضَعْنَا عَنكَ وِزْرَكَ الَّذِي أَنقَضَ ظَهْرَكَ (And We removed from you your burden that had [ almost ] broken your back...94:2-3). The word wizr literally denotes 'burden' and the phrase naqd-uz-zahr means 'to break one's back as for instance when a heavy load is put on one's back, it bends'. This verse signifies that Allah had relieved him of his burden that was breaking his back. What was that burden or heavy load? One answer to this question is that now and then the Holy Prophet ﷺ did certain permissible deeds, thinking that they were of benefit and in the interest [ of spiritual …
مفسرین میں سے بعض نے اس کا مطلب یہ لیا ہے کہ نبوّت سے پہلے ایّام جاہلیّت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ قصور ایسے ہوگئے تھے جن کی فکر آپ کو سخت گراں گزر رہی تھی اور یہ آیت نازل کر کے اللہ تعالیٰ نے آپ کو مطمٔن کر دیا کہ آپ کے وہ قصور ہم نے معاف کر دیے۔ لیکن ہمارے نزدیک یہ معنی لینا سخت غلطی ہے۔ اول تو لفظ وزْر کے معنی لازمًا گناہ ہی کے نہیں ہیں بلکہ یہ لفظ بھاری بوجھ کے لیے بھی بولا جاتا ہے۔ اس لیے کوئی وجہ نہیں کہ اس کوخواہ مخواہ بُرے معنی میں لیا جائے۔ دوسرے حضور ؐ کی نبوت سے پہلے کی زندگی بھی اس قدر پاکیزہ تھی کہ قرآن میں مخالفین کے سامنے اُس کو ایک چیلنج کے طور پر پیش کیاگیا تھا چنانچہ …
Some of the commentators have interpreted this to mean that before Prophethood, in the days of ignorance, the Prophet (peace be upon him) had happened to commit certain errors because of which he was feeling disturbed, and Allah by sending down this verse consoled and satisfied him, saying that He had forgiven him those errors. But in our opinion it is a grave mistake to interpret this verse thus. In the first place, the word vizr does not necessarily mean a sin, but it is also used for a heavy burden. Therefore, there is no reason why it should in every case be taken in the bad sense …
و ( أَنقَضَ ظَهْرَكَ ) أى : أثقله وأوهنه وأتعبه ، حتى سمع له نقيض ، وهو الصوت الخفى الذى يسمع من الرَّحْل الكائن فوق ظهر البعير ، إذا كان هذا الرحل ثقيلا ، ولا يكاد البعير يحمله إلا بمشقة وعسر .والمعنى : لقد شرحنا لك - أيها الرسول الكريم - صدرك ، وأزلنا عنك ما أثقل ظهرك من أعباء الرسالة ، وعصمناك من الذنوب والآثام ، وطهرناك من الأدناس ، فصرت - بفضلنا وإحساننا - جديرا بحمل هذه الرسالة ، بتبليغها على أكمل وجه وأتمه .فالمراد بوضع وزره عنه صلى الله عليه وسلم مغفرة ذنوبه ، وإلى هذا المعنى أشار الإِمام ابن كثير بقوله : قوله - تعالى - : ( وَوَضَعْنَا عَنكَ وِزْرَكَ ) بمعنى ( لِّيَغْفِرَ لَكَ الله …
الَّذِي أَنْقَضَ ظَهْرَكَ (3) و { أنقض } جعل الشيءَ ذا نقيض ، والنقيض صوت صرير المحمل والرحْل وصوتُ عظام المفاصل ، وفرقعةُ الأصابع ، وفعله القاصر من باب نصر ويعدّى بالهمزة .وإسناد { أنقض } إلى الوِزر مجاز عقلي ، وتعديته إلى الظهر تَبع لتشبيه المشقة بالحمل ، فالتركيب تمثيل لمتجشم المشاققِ الشديدة ، بالحَمولة المثقلة بالإِجمال تثقيلاً شديداً حتى يسمع لعظام ظهرها فرقعة وصرير . وهو تمثيل بديع لأنه تشبيه مركب قابل لتفريق التشبيه على أجزائه .ووصف الوزر بهذا الوصف تكميل للتمثيل بأنه وزر عظيم .واعلم أن في قوله : { أنقض ظهرك } اتصالَ حرفي الضاد والظاء وهما متقاربا المخرج فربما يحصل من النطق بهما شيء …
(Which weighed down thy back?) It is also said: prophethood weighed down your back; And the Prophet (pbuh) said: " Yes, indeed! "
No commentary keyed to this āyah in: Ahsan al-Bayan (Urdu), Bayan ul Quran (Urdu), Fi Zilal al-Quran (Urdu), Jawāmiʿ al-jāmiʿ (al-Ṭabrisī), Majmaʿ al-bayān (al-Ṭabrisī), Nūr al-thaqalayn (al-Ḥuwayzī), Tafsīr al-Qummī, Tazkir ul Quran (Urdu), Tazkirul Quran (English), al-Mīzān (Ṭabāṭabāʾī), al-Tibyān (al-Ṭūsī).
the words of this āyah — root, frequency, family
الَّذِي
occurs 1468 timesamong the commonest 300 words
أَنقَضَ
occurs ONCE in the whole Qurʾānroot نقض occurs 9
نَقَضَتْ6نَقْض2أَنقَضَ1
ظَهْر
occurs 15 timesroot ظهر occurs 59
ظَهْر15ظَهَرَ10ظاهِر8أَظْهَرَ8ظاهَرُ6ظَهِير6
this āyah in 55 languages — 74 translations
Akan Harun Ismail · v1.0.3
(Adesoa) no a na emu yε duru (ma wo) wͻ w’akyi no?
Azərbaycan Ali Khan Musayev · v1.0.4
(Elə bir yük ki) belini bükmüşdü.
Bahasa Indonesia Ministry of Religious Affairs · v1.0.1
yang memberatkan punggungmu,
Bahasa Indonesia Sabiq Company · v1.1.3
3. yang memberatkan punggungmu.
Bahasa Indonesia The Complex · v1.0.1
yang memberatkan punggungmu?
Bosanski Muhammad Mahanovic · v1.1.0
koje je pleća tvoja pritiskalo,
Bosanski Rowwad Translation Centre · v2.0.4
koje je pleća tvoja pritiskalo,
Cebuano Rowwad Translation Center · v1.1.3
Nga nag-duot sa hilabihan sa imong likod?
Deutsch Frank Bubenheim · v1.1.4
die deinen Rücken niederdrückte,
Deutsch Rowwad Translation Center · v1.0.15
die deinen Rücken niederdrückte,
English Hilali and Khan · v1.1.2
3. Which weighed down your back?
English Noor International Center · v1.1.2
Which had weighed upon your back
English Rowwad Translation Center · v1.0.19
that weighed down your back,
Español Isa Garcia · v1.0.2
3. que agobiaba tu espalda[1],
Español Noor International Center · v1.0.1
las cuales pesaban sobre tu espalda?
Español issued by Noor International · v1.0.1
las cuales pesaban sobre tu espalda?
Français Noor International Center · v1.0.0
3. qui pesait si lourd sur ton dos ?
Français Rachid Maach · v1.0.3
qui pesait si lourdement sur ton dos ?
Fulfulde Rowwad Translation Center · v1.0.2
OOn nisnuɗo ke'eci ma.
Hausa Abu Bakr Jumi · v1.2.2
Wanda ya nauyayi bãyanka?
Hrvatski Rowwad Translation Center · v1.0.1
koje je pleća tvoja pritiskalo,
Kinyarwanda Rwanda Muslim Association · v1.0.5
Wari ukuremereye umugongo?
Kirundi Yusuf Gahiti · v1.0.4
Umutwaro wari uremereye umugongo wawe;
Kiswahili Ali Mohsin Al-Barwani · v1.0.1
Ulio vunja mgongo wako? [3]
Kiswahili Rowad Translation Center · v1.0.5
Uliovunja mgongo wako?
Kurdî Muhammad Salih Bamoki · v1.1.1
کە پشتی زۆر قورس کردبوویت
Lietuvių Rowwad Translation Center · v1.0.8
3. kuri slėgė tavo nugarą,
Lingála Mohammed Balangogo · v1.0.2
Mokumba moye mozalaki kobuka mokongo nayo?
Maguindanaon Rowwad Translation Center · v1.0.4
A pakawgat kanu taligkudan nengka.
Mòoré Rowwad Translation Center · v1.0.1
Sẽn da zɩsg-a fo poorã?
Nederlands Rowwad Translation Center · v2.0.10
Die jouw rug verzwaarde.
Oromoo Gali Ababor · v1.0.3
Isa dugda keetti ulfaate (sirraa buufne).
Oʻzbek Alaauddin Mansour · v1.0.0
У елкангизни эзиб турган оғир (юкингизни олиб қўйдик).[1]
Oʻzbek Rowwad Translation Center · v1.0.4
Елкангизни босиб турган (юк)ни.
Português Helmi Nasr · v1.4.1
Que te vergava as costas?
Qafár Mahmoud Abdulqader Hamza · v1.0.1
3. Qilsi quukay xiiron kok yiyqilseek.
Română Islam4ro.com · v1.0.4
Care-ți apăsa pe spinare?
Shqip Hassan Nahi · v1.1.0
e cila ta rëndonte tepër kurrizin,
Shqip Rowwad Translation Center · v1.0.5
e cila ta kishte rënduar kurrizin,
Soomaali Abdullah Hasan Yaqoub · v1.0.26
3. Kaasoo cusleeyey dhabarkaaga,
Tagalog Rowwad Translation Center · v1.1.4
na nakabigat sa likod mo.
Tiếng Việt Rowwad Translation Center · v1.0.8
Đã đè nặng trên lưng Ngươi?
Türkçe Dr. Ali Ozek and others · v1.0.0
Belini büken
Türkçe Rowwad Translation Center · v1.0.4
O (yük) senin belini bükmüştü.
Türkçe Shaaban British · v1.1.0
Ki o belini bükmüştü.
Yorùbá Abu Rahimah Mikael · v1.0.9
èyí tí ó wọ̀ ọ́ lọ́rùn.[1]
Кыргызча Shamsuddin Hakimov · v1.0.2
Ал сенин желкеңди эзип турган.
Македонски a group of Macedonian scholars · v1.0.1
മലയാളം Abdul Hamid Haidar and Kunhi Muhammad · v1.0.3
നിന്റെ മുതുകിനെ ഞെരിച്ചു കളഞ്ഞതായ (ഭാരം).
සිංහල Rowwad Translation Center · v1.0.6
(එය) නුඹේ පිට තළමින් තිබුණි.
ไทย Rowwad Translation Center · v1.0.1
ซึ่งเป็นภาระหนักอึ้งบนหลังของเจ้า
አማርኛ Africa Academy · v1.0.1
3. ያንን ጀርባህን ያከበደውን (ሸክም)
አማርኛ Muhammad Sadiq · v1.1.2
ያንን ጀርባህን ያከበደውን (ሸክም)፡፡
ភាសាខ្មែរ Islamic Community Development Association · v1.0.2
ដែលបានផ្ទុកយ៉ាងធ្ងន់នៅលើខ្នងរបស់អ្នក
ភាសាខ្មែរ Rowwad Translation Center · v1.0.4
ដែលជាបន្ទុកដ៏ធ្ងន់លើខ្នងរបស់អ្នក។
中文 Muhammad Makeen · v1.0.2
即使你的背担负过重的,
中文 Muhammad Suleiman · v1.0.8
即使你的背担负过重的,
日本語 Saeed Sato · v1.0.13
(その重みで、)あなたの背を軋ませていたもの(重荷)を。
Ash-Sharh 94 : 4
وَرَفَعْنَالَكَذِكْرَكَ
warafa'naa laka dhikraka
plays offline — the recitation is inside this file
PickthallAnd exalted thy fame?
Yusuf AliAnd raised high the esteem (in which) thou (art held)?
Muhammad Junagarhiاور ہم نے تیرا ذکر بلند کر دیا.[1]
al-Muyassarالذي أثقل ظهرك، وجعلناك -بما أنعمنا عليك من المكارم- في منزلة رفيعة عالية؟
the agreed readingAnd raised your name for you. Both traditions say the same thing about how it was raised: his name is spoken wherever God's is - in the words of witness, in the call to prayer, and in what is said standing in prayer - so that the one is not named without the other.
اور ہم نے آپ کا ذکر بلند کر دیا، یعنی آپ کو ایسی شان اور بلندیِ مرتبہ عطا کی جو کسی اور کو نصیب نہیں ہوئی۔ اس کے مظاہر میں سے یہ ہے کہ اذان، اقامت، تشہد، خطبہ اور دیگر مواقع پر آپ ﷺ کا نام اللہ کے نام کے ساتھ آتا ہے۔ یعنی ان مقامات پر اللہ کا ذکر ہوتا ہے تو آپ ﷺ کا ذکر بھی اس کے ساتھ ہوتا ہے۔
ورفعنا لك ذكرك، فجعلنا لك من علوِّ الشأن ورفعة المنزلة ما لم يبلغه غيرك. ومن مظاهره أن اسمك يُقرن باسمه سبحانه في الأذان والإقامة والتشهد والخطبة وغيرها. فلا يُذكر الله في هذه المواضع إلا ذُكرتَ معه.
28 of the 35 commentaries carry this āyah
all 28, in their own words
al-Tabarid.923 · ar · PD
القول في تأويل قوله تعالى: ﴿أَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ (١) وَوَضَعْنَا عَنْكَ وِزْرَكَ (٢) الَّذِي أَنْقَضَ ظَهْرَكَ (٣) وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ (٤) فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا (٥) إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا (٦) فَإِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْ (٧) وَإِلَى رَبِّكَ فَارْغَبْ (٨) ﴾ . يقول تعالى ذكره لنبيه محمد ﷺ، مذكِّره آلاءه عنده، وإحسانه إليه، حاضا له بذلك على شكره، على ما أنعم عليه، ليستوجب بذلك المزيد منه: ﴿أَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ﴾ يا محمد، للهدى والإيمان بالله ومعرفة الحقّ ﴿صَدْرِكَ﴾ فنلِّين لك قلبك، ونجعله وعاء للحكمة: ﴿وَوَضَعْنَا عَنْكَ وِزْرَكَ﴾ يقول: وغفرنا لك ما سلف من ذنوبك …
Tafsīr al-Qummīd.941 · ar · PD
ورفعنا لك ذكرك) قال تذكر إذا ذكرت، وهو قول الناس: أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد ان محمدا رسول الله صلى الله عليه وآله ثم قال (إن
فإن قلت: أى فائدة في زيادة لك، والمعنى مستقل بدونه [[قال محمود: «إن قلت ما قائدة لك مع أن الاضافة تغنى عنها ... الخ» ؟ قال أحمد: وقد تقدم عند الكلام على نظيرها في قوله: «قال رب اشرح لي صدري ويسر لي أمرى» قريب من هذا المعنى، والله أعلم.]] ؟ قلت: في زيادة لك ما في طريقة الإبهام والإيضاح، كأنه قيل: ألم نشرح لك، ففهم أن ثم مشروحا، ثم قيل: صدرك، فأوضح ما علم مبهما، وكذلك لَكَ ذِكْرَكَ وعَنْكَ وِزْرَكَ.
Fakhr al-Din al-Razid.1210 · ar · PD
ثُمَّ قالَ تَعالى: ﴿ورَفَعْنا لَكَ ذِكْرَكَ﴾ . واعْلَمْ أنَّهُ عامٌّ في كُلِّ ما ذَكَرُوهُ مِنَ النُّبُوَّةِ، وشُهْرَتُهُ في الأرْضِ والسَّماواتِ، اسْمُهُ مَكْتُوبٌ عَلى العَرْشِ، وأنَّهُ يُذْكَرُ مَعَهُ في الشَّهادَةِ والتَّشَهُّدِ، وأنَّهُ تَعالى ذَكَرَهُ في الكُتُبِ المُتَقَدِّمَةِ، وانْتِشارُ ذِكْرِهِ في الآفاقِ، وأنَّهُ خُتِمَتْ بِهِ النُّبُوَّةُ، وأنَّهُ يُذْكَرُ في الخُطَبِ والأذانِ ومَفاتِيحِ الرَّسائِلِ، وعِنْدَ الخَتْمِ وجَعَلَ ذِكْرَهُ في القُرْآنِ مَقْرُونًا بِذِكْرِهِ: ﴿واللَّهُ ورَسُولُهُ أحَقُّ أنْ يُرْضُوهُ﴾ [التَّوْبَةِ: ٦٢]، ﴿ومَن يُطِعِ اللَّهَ ورَسُولَهُ﴾ [النِّساءِ: ١٣] …
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful. أَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ - وَوَضَعْنَا عَنكَ وِزْرَكَ - الَّذِي أَنقَضَ ظَهْرَكَ - وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ - فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا - إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا - فَإِذَا فَرَغْتَ فَانصَبْ - وَإِلَىٰ رَبِّكَ فَارْغَب (1. Have We not opened your breast for you?)(2. And removed from you your burden.)(3. Which weighed down your back?)(4. And have We not raised high your fame?)(5. Verily, along with every hardship is relief,)(6. Verily, along with every hardship is relief.)(7. So …
عنی ہم نے تیرے سینے کو منور کردیا چوڑا کشادہ اور رحمت و کرم والا کردیا اور جگہ ہے فمن برد اللّٰہ الخ، یعنی جسے اللہ ہدایت دینا چاہتا ہے اس کے سینے کو اسلام کے لیے کھول دیتا ہے۔ جس طرح آپکا سینہ کشادہ کردیا گیا تھا۔ اسی طرح آپ کی شریعت بھی کشادگی والی نرمی اور آسانی والی بنادی، جس میں نہ تو کوئی حرج ہے نہ تنگی، نہ ترشی، نہ تکلیف، اور سختی، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد معراج والی رات سینے کا شق کیا جانا ہے۔ جیسے کہ مالک بن صعصعہ کی روایت سے پہلے گذرچکا، امام ترمذی نے اس حدیث کو یہیں وارد کیا ہے۔ لیکن یہ یاد رہے کہ یہ دونوں واقعات مراد ہوسکتے ہیں یعنی معراج کی رات سینے کا شق کیا جانا اور سینہ …
Did We not exalt your mention? For you are mentioned where I [God] am mentioned in the call announcing [the time for] prayer (adhān), in the [second] call to perform the prayer (iqāma), in the witnessing [‘there is no god but God, Muhammad is His Messenger’] (tashahhud), in the Friday sermon and in other instances.
al-Ṣāfī (Fayḍ al-Kāshānī)d.1680 · ar · PD
ورفعنا لك ذكرك القمي قال تذكر إذا ذكرت وهو قول الناس اشهد أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله (صلى الله عليه وآله). وفي المجمع عن النبي (صلى الله عليه وآله) في هذه الآية قال قال لي جبرئيل قال الله عز وجل إذا ذكرت ذكرت معي. [vol 5 p.343] (5) فان مع العسر كضيق الصدر والوزر المنقض للظهر وضلال القوم وإيذائهم. يسرا كشرح الصدر ووضع الوزر وتوفيق القوم للاهتداء والطاعة فلا تيأس من روح الله إذا أراك ما يغمك. (6) إن مع العسر يسرا تأكيد واستئناف بوعد يسر آخر كثواب الآخرة. في المجمع عن النبي (صلى الله عليه وآله) انه خرج مسرورا فرحا وهو يضحك ويقول لن يغلب عسر يسرين
Nūr al-thaqalayn (al-Ḥuwayzī)d.1700 · ar · PD
ورفعنا لك ذكرك قال: تذكر إذا ذكرت، وهو قول الناس أشهد ان لا إله إلا الله، وأشهد ان محمدا رسول الله. 8 - في كتاب الاحتجاج للطبرسي روى عن موسى بن جعفر عن أبيه عن آبائه عن الحسين بن علي عليهم السلام قال: إن يهوديا من يهود الشام وأحبارهم قال لعلي عليه السلام: هذا إدريس عليه السلام أعطاه الله عز وجل مكانا عليا؟ قال له علي عليه السلام: لقد كان كذلك ومحمد صلى الله عليه وآله أعطى ما هو أفضل من هذا، ان الله جل ثناؤه قال فيه: " ورفعنا لك ذكرك " فكفى بهذا من الله رفعة قال له اليهودي: فقد القى الله على موسى محبة منه؟ قال له علي عليه السلام: لقد كان كذلك وقد أعطى الله محمدا صلى الله عليه وآله ما هو أفضل …
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر کو بلندی دی:یعنی پیغمبروں اور فرشتوں میں آپ ﷺ کا نام بلند ہے۔ دنیا میں تمام سمجھدار انسان نہایت عزت و وقعت سے آپ ﷺ کا ذکر کرتے ہیں۔ اذان، اقامت خطبہ، کلمہ طیبہ اور التحیات وغیرہ میں اللہ کے نام کے بعد آپ ﷺ کا نام لیا جاتا ہے اور خدا نے جہاں بندوں کو اپنی اطاعت کا حکم دیا ہے وہیں ساتھ کے ساتھ آپ ﷺ کی فرمانبرداری کی تاکید کی ہے۔
وهي مكية بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ {1 ـ 4} يقول تعالى ممتنًّا على رسوله: {ألم نشرحۡ لك صدرَك}؛ أي: نوسِّعْه لشرائع الدِّين والدَّعوة إلى الله والاتِّصاف بمكارم الأخلاق والإقبال على الآخرة وتسهيل الخيرات، فلم يكن ضيِّقاً حرجاً لا يكاد ينقاد لخيرٍ ولا تكاد تجده منبسطاً، {ووضعۡنا عنك وِزۡرَك}؛ أي: ذنبك، {الذي أنقَضَ}؛ أي: أثقل {ظهركَ}؛ كما قال تعالى:{ليغفرَ لك اللهُ ما تقدَّم من ذنبِكَ وما تأخَّر}، {ورفَعۡنا لكَ ذِكۡرَك}؛ أي: أعليْنا قدرَك، وجعلنا لك الثَّناء الحسن العالي، الذي لم يصلْ إليه أحدٌ من الخلق؛ فلا يُذْكَرُ الله؛ إلاَّ ذُكِر معه رسوله - صلى الله عليه وسلم -؛ كما في …
ا نہیں کھول دیا ہم نے آپ کے لیے آپ کا سینہ؟(1) اور ہم نے اتار دیا آپ سے آپ کا بوجھ(2) وہ جس نے توڑ دی تھی آپ کی کمر(3) اور ہم نے بلند کر دیا آپ کے لیے آپ کا ذکر(4) پس یقیناً (ہر) تنگی کے ساتھ آسانی ہے(5) بلاشبہ( ہر) تنگی کے ساتھ آسانی ہے(6) پس جب آپ فارغ ہو جائیں تو محنت کیجیے(7) اور اپنے رب کی طرف، پس رغبت کیجیے(8) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [4-1] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسولﷺ پر اپنے احسان کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿اَلَمۡ نَشۡرَحۡ لَكَ صَدۡرَكَ﴾ یعنی شرائع دین، اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے، مکارم اخلاق سے متصف ہونے، آخرت کو مدنظر رکھنے اور نیکیوں …
ورفعنا ................ ذکرک ( 4:94) ” اور تمہاری خاطر تمہارے ذکر کا آواز بلند کردیا “۔ آپ کا ذکر عالم بالا میں بلند ہونے لگا ، پوری زمین میں آپ کی دعوت کا غلغلہ بلندہوگیا۔ اس پوری کائنات میں آپ کا نام بلند ہوگیا اور پھر کلمہ طیبہ میں آپ کا نام اللہ کے نام کے ساتھ جوڑ دیا گیا۔ لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ کہ جب بھی کوئی کلمہ پڑھے گا آپ کا نام بلند ہوگا ، اس کے بعد آخر اور کیا مقام و مرتبہ ہوسکتا ہے ؟ یہ تو آپ کا ایک منفرد مقام ہے اور تمام مخلوقات کے مقابلے میں آپ کے لئے مخصوص ہے۔ ہم نے آپ کا ذکر لوح محفوظ میں کردیا کہ زمانے گزر جائیں گے ، نسلیں جائیں گی اور آئیں گی اور کروڑوں ہونٹ آپ کے اسم …
وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ (and We raised high for you your name....94:4). The meaning of raising the name of the Holy Prophet ﷺ is that his blessed name is remembered together with the name of Allah in all the symbols of Islam, like the kalimah, the adhan, the iqamah, and in sermons from the minarets and pulpits [ throughout the world ]: اَشھَدُ اَنَّ لا إله إلا اللہ اَشھَدُ اَنَّ مُحَمَّدَ رَّسُولُ اَلله (I bear witness that there is no God worthy of worship except Allah; I bear witness that Muhammad is the Messenger of Allah.' No sensible person utters the Holy Prophet's ﷺ name without …
بات اُس زمانہ میں فرمائی گئی تھی جب کوئی شخص یہ سوچ بھی نہ سکتا تھا کہ جس فردِ فرید کے ساتھ گنتی کے چند آدمی ہیں اور وہ بھی صرف شہر مکّہ تک محدود ہیں اُس کا آوازہ دنیا بھر میں کیسے بلند ہو گا اور کیسی ناموَری اس کو حاصل ہو گی ۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اِن حالات میں اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خوشخبری سنائی اور پھر عجیب طریقہ سے اس کو پورا کیا۔ سب سے پہلے آُ کے رفعِ ذِکر کا کام اُس نے خود آپ کے دشمنوں سے لیا۔ کفّارِ مکّہ نے آپ کو زک دینے کے لیے جو طریقے اختیار کیے اُن میں سے ایک یہ تھا کہ حج کے موقع پر جب تمام عرب سے لوگ کھِچ کھِچ کر اُن کےشہر میں آتے تھے، اُس زمانہ میں کفّار کے وفود حاجیوں …
This was said at a time when no one could even conceive how the renown of the one unique individual, who had only a few followers confined only to the city of Makkah, would be exalted throughout the world and what high fame he would achieve. But Allah Almighty gave His Messenger (peace be upon him) this good news under those very conditions and then fulfilled it in a strange way. In the first place, he took from his enemies themselves the task of exalting his renown. One of the methods that the disbelievers of Makkah adopted to defeat his mission was that in the Hajj season when the pilgrims …
وقوله - سبحانه - : ( وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ ) بيان لنعمة ثالثة من نعمه - تعالى - على نبيه صلى الله عليه وسلم . أى : لقد شرحنا لك - أيها الرسول الكريم - صدرك ، وأزلنا عن قلبك الحيرة التى كانت تعتريك قبل تبليغ الرسالة وبعد تبليغها ، بأن يسرنا لك كل صعب .وفوق ذلك فقد رفعنا كل ذكرك ، بأن جعنالك رفيع الشأن ، سامى المنزلة ، عظيم القدر ، ومن مظاهر ذلك : أننا جعلنا اسمك مقرونا باسمنا فى النطق بالشهادتين .وفى الأذان ، وفى الإِقامة ، وفى التشهد ، وفى غير ذلك من العبادات ، وأننا فضلناك على جميع رسلنا ، بل على جميع الخلق على الإِطلاق ، وأننا أعطيناك الشفاعة العظمى ، وجعلنا طاعتك من طاعتنا .قال الآلوسى …
وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ (4)ورفع الذكر : جعل ذكره بين الناس بصفات الكمال ، وذلك بما نزل من القرآن ثناء عليه وكرامة . وبإلهام الناس التحدث بما جبله الله عليه من المحامد منذ نشأته .وعطفُ { ووضعنا } و { رفعنا } بصيغة المضي على فعل { نشرح } بصيغة المضارع لأن ( لَم ) قلبت زمن الحال إلى المضي فعُطف عليه الفعلان بصيغة المضي لأنهما داخلان في حيز التقرير فلما لم يقترن بهما حرف ( لم ) صيّر بهما إلى ما تفيده ( لم ) من معنى المضي .والآية تشير إلى أحوال كان النبي صلى الله عليه وسلم في حرج منها أو من شأنه أن يكون في حرج ، وأن الله كشف عنه ما به من حرج منها أو هيّأ نفسه لعدم النوء بها .وكان النبي صلى الله …
عنی جہاں اللہ کا نام آتا ہے وہیں آپ (صلى الله عليه وسلم) کا نام بھی آتا ہے۔ مثلاً اذان، نماز اور دیگر بہت سے مقامات پر، گزشتہ کتابوں میں آپ (صلى الله عليه وسلم) کا تذکرہ اور صفات کی تفصیل ہے، فرشتوں میں آپ (صلى الله عليه وسلم) کا ذکر خیر ہے، آپ (صلى الله عليه وسلم) کی اطاعت کو اللہ نے اپنی اطاعت قرار دیا اور اپنی اطاعت کے ساتھ ساتھ آپ (صلى الله عليه وسلم) کی اطاعت کا بھی حکم دیا، وغیرہ ۔
(And exalted thy fame) and raised your voice with the call to prayer, supplication and testification of faith, such that you are mentioned just as I am? And the Prophet (pbuh) said: " Yes, indeed! "
No commentary keyed to this āyah in: Bayan ul Quran (Urdu), Jawāmiʿ al-jāmiʿ (al-Ṭabrisī), Majmaʿ al-bayān (al-Ṭabrisī), Tazkir ul Quran (Urdu), Tazkirul Quran (English), al-Mīzān (Ṭabāṭabāʾī), al-Tibyān (al-Ṭūsī).
the words of this āyah — root, frequency, family
و
occurs 9594 timesamong the commonest 300 words
رَفَعَ
occurs 22 timesroot رفع occurs 29
رَفَعَ22مَرْفُوعَة3رافِع1رَفِيع1مَرْفُوع1رافِعَة1
ل
occurs 4380 timesamong the commonest 300 words
ذِكْر
occurs 76 timesroot ذكر occurs 292among the commonest 300 words
മലയാളം Abdul Hamid Haidar and Kunhi Muhammad · v1.0.3
നിനക്ക് നിന്റെ കീര്ത്തി നാം ഉയര്ത്തിത്തരികയും ചെയ്തിരിക്കുന്നു.(1)
සිංහල Rowwad Translation Center · v1.0.6
තවද නුඹගේ කීර්තිය අපි නුඹ වෙනුවෙන් උසස් කළෙමු.
ไทย Rowwad Translation Center · v1.0.1
และเราได้ยกย่องให้แก่เจ้าแล้ว ซึ่งการกล่าวถึงเจ้า
አማርኛ Africa Academy · v1.0.1
4. መወሳትህንም ከፍ አላደረግንልህ?
አማርኛ Muhammad Sadiq · v1.1.2
መወሳትህንም ላንተ ከፍ አድርገንልሃል፡፡
ភាសាខ្មែរ Islamic Community Development Association · v1.0.2
ហើយយើងបានលើកកិត្ដិនាមរបស់អ្នកឱ្យខ្ពង់ខ្ពស់ទេឬ ?
ភាសាខ្មែរ Rowwad Translation Center · v1.0.4
ហើយយើងបានលើកតម្កើងឋានៈរបស់អ្នកឱ្យខ្ពង់ខ្ពស់។
中文 Muhammad Makeen · v1.0.2
而提高了你的声望,
中文 Muhammad Suleiman · v1.0.8
我为你而提高了你的声望,
日本語 Saeed Sato · v1.0.13
また、あなたのため、あなたの名声を高めてやった。[1]
Ash-Sharh 94 : 5
فَإِنَّمَعَٱلْعُسْرِيُسْرًا
faiina ma'a al'usri yusrana
plays offline — the recitation is inside this file
PickthallBut lo! with hardship goeth ease,
Yusuf AliSo, verily, with every difficulty, there is relief:
Muhammad Junagarhiپس یقیناً مشکل کے ساتھ آسانی ہے.
al-Muyassarفلا يَثْنِكَ أذى أعدائك عن نشر الرسالة؛ فإن مع الضيق فرجًا، إن مع الضيق فرجًا.
the agreed readingFor with hardship comes ease. The commentaries read this as the answer to everything the sura has just listed, and they note the wording carefully: the ease is said to come with the hardship, not after it has gone.
پس بیشک تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔ ”اَلْعُسْر“ معرفہ آیا ہے، اس لیے یہ ہر معلوم قسم کی تنگی کو سمیٹ لیتا ہے؛ اور ”یُسْرًا“ نکرہ آیا ہے، جو تعظیم کے لیے ہے، یعنی بہت بڑی آسانی۔ ”بعد“ کے بجائے ”مع“ (ساتھ) اس لیے لایا گیا کہ کشادگی کو قریب کر کے دکھایا جائے، گویا وہ تنگی کے ساتھ ہی لگی ہوئی ہے — یہ تسلی کو بڑھانے اور دل کو مضبوط کرنے کے لیے ہے۔
فإن مع العسر يسرًا. و«العسر» جاء معرَّفًا فهو يستغرق أنواع الشدة المعروفة، و«يسرًا» جاء منكَّرًا للتفخيم: أي يسرًا عظيمًا. وجيء بـ«مع» دون «بعد» لتقريب الفرج حتى كأنه مقارنٌ للشدة، زيادةً في التسلية وتقويةً للقلب.
22 of the 35 commentaries carry this āyah
all 22, in their own words
al-Tabarid.923 · ar · PD
القول في تأويل قوله تعالى: ﴿أَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ (١) وَوَضَعْنَا عَنْكَ وِزْرَكَ (٢) الَّذِي أَنْقَضَ ظَهْرَكَ (٣) وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ (٤) فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا (٥) إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا (٦) فَإِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْ (٧) وَإِلَى رَبِّكَ فَارْغَبْ (٨) ﴾ . يقول تعالى ذكره لنبيه محمد ﷺ، مذكِّره آلاءه عنده، وإحسانه إليه، حاضا له بذلك على شكره، على ما أنعم عليه، ليستوجب بذلك المزيد منه: ﴿أَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ﴾ يا محمد، للهدى والإيمان بالله ومعرفة الحقّ ﴿صَدْرِكَ﴾ فنلِّين لك قلبك، ونجعله وعاء للحكمة: ﴿وَوَضَعْنَا عَنْكَ وِزْرَكَ﴾ يقول: وغفرنا لك ما سلف من ذنوبك …
Tafsīr al-Qummīd.941 · ar · PD
مع العسر يسرا) قال ما كنت فيه من العسر أتاك اليسر (
فإن قلت: كيف تعلق قوله فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْراً بما قبله؟ قلت: كان المشركون يعيرون رسول الله ﷺ والمؤمنين بالفقر والضيقة، حتى سبق إلى وهمه أنهم رغبوا عن الإسلام لافتقار أهله واحتقارهم، فذكره ما أنعم به عليه من جلائل النعم ثم قال: فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْراً كأنه قال: خوّلناك ما خولناك فلا تيأس من فضل الله، فإن مع العسر الذي أنتم فيه يسرا. فإن قلت: إِنَّ مَعَ للصحبة، فما معنى اصطحاب اليسر والعسر؟ قلت: أراد أن الله يصيبهم بيسر بعد العسر الذي كانوا فيه بزمان قريب، فقرّب اليسر المترقب حتى جعله كالمقارن للعسر، زيادة في التسلية وتقوية القلوب. فإن قلت: ما معنى قول ابن عباس وابن مسعود رضى …
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful. أَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ - وَوَضَعْنَا عَنكَ وِزْرَكَ - الَّذِي أَنقَضَ ظَهْرَكَ - وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ - فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا - إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا - فَإِذَا فَرَغْتَ فَانصَبْ - وَإِلَىٰ رَبِّكَ فَارْغَب (1. Have We not opened your breast for you?)(2. And removed from you your burden.)(3. Which weighed down your back?)(4. And have We not raised high your fame?)(5. Verily, along with every hardship is relief,)(6. Verily, along with every hardship is relief.)(7. So …
عنی ہم نے تیرے سینے کو منور کردیا چوڑا کشادہ اور رحمت و کرم والا کردیا اور جگہ ہے فمن برد اللّٰہ الخ، یعنی جسے اللہ ہدایت دینا چاہتا ہے اس کے سینے کو اسلام کے لیے کھول دیتا ہے۔ جس طرح آپکا سینہ کشادہ کردیا گیا تھا۔ اسی طرح آپ کی شریعت بھی کشادگی والی نرمی اور آسانی والی بنادی، جس میں نہ تو کوئی حرج ہے نہ تنگی، نہ ترشی، نہ تکلیف، اور سختی، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد معراج والی رات سینے کا شق کیا جانا ہے۔ جیسے کہ مالک بن صعصعہ کی روایت سے پہلے گذرچکا، امام ترمذی نے اس حدیث کو یہیں وارد کیا ہے۔ لیکن یہ یاد رہے کہ یہ دونوں واقعات مراد ہوسکتے ہیں یعنی معراج کی رات سینے کا شق کیا جانا اور سینہ …
وِزۡرَك}؛ أي: ذنبك، {الذي أنقَضَ}؛ أي: أثقل {ظهركَ}؛ كما قال تعالى:{ليغفرَ لك اللهُ ما تقدَّم من ذنبِكَ وما تأخَّر}، {ورفَعۡنا لكَ ذِكۡرَك}؛ أي: أعليْنا قدرَك، وجعلنا لك الثَّناء الحسن العالي، الذي لم يصلْ إليه أحدٌ من الخلق؛ فلا يُذْكَرُ الله؛ إلاَّ ذُكِر معه رسوله - صلى الله عليه وسلم -؛ كما في الدُّخول في الإسلام، وفي الأذان، والإقامة، والخطب ... وغير ذلك من الأمور التي أعلى الله بها ذِكر رسوله محمدٍ - صلى الله عليه وسلم -، وله في قلوب أمَّته من المحبَّة والإجلال والتَّعظيم ما ليس لأحدٍ غيره بعد الله تعالى؛ فجزاه الله عن أمَّته أفضل ما جزى نبيًّا عن أمَّته. {5 ـ 6} وقوله: {فإنَّ مع …
اور سختی پائی جائے گی تو اس کے ساتھ ساتھ آسانی بھی ہو گی حتیٰ کہ اگر تنگی گوہ کے بل میں داخل ہو جائے تو آسانی اس کے ساتھ داخل ہو گی اور اسے باہر نکال لائے گی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿سَيَجۡعَلُ اللّٰهُ بَعۡدَ عُسۡرٍ يُّسۡرًا﴾(الطلاق:65؍7) ’’عنقریب اللہ تعالیٰ تنگی کے ساتھ کشائش عطا کرے گا۔‘‘ اور جیسا کہ نبی ٔاکرمﷺ نے فرمایا :’’تکلیف کے ساتھ کشادگی ہوتی ہے اور تنگی کی معیت میں کشائش ہے۔‘‘ (مسند أحمد: 308-307/1)دونوں آیات کریمہ میں اَلْعُسْرکو معرفہ استعمال کرنا دلالت کرتا ہے کہ وہ واحد ہے اور اَلْیُسْر کو نکرہ استعمال کرنا اس کے تکرار پر دلالت کرتا ہے۔ پس ایک تنگی دو آسانیوں پر غالب …
س حقیقت یہ ہے کہ تنگی کے ساتھ فراخی بھی ہے۔ بیشک تنگی کے ساتھ فراخی بھی ہے “۔ حقیقت یہ ہے کہ مشکل کے ساتھ آسانی لازمی ہے اور مشکل کے بعد آسانیاں ہوتی ہیں۔ اور اے نبی یہ آپ کے ساتھ بھی لازم رہی ہے۔ جب آپ پر دعوت کا بوجھ بھاری ہوگیا تو ہم نے آپ کا دل کھول دیا ، یوں آپ کا بوجھ ہلکا ہوگیا جس نے آپ کی کمر توڑ دی تھی لہٰذا مشکل کے ساتھ ہی آسانی جڑی رہی اور یہ بھاری بوجھ ہلکا ہوگیا۔ یہ اصول ایک اٹل اصول ہے ، اس لئے اسے انہی الفاظ میں مکرر لایا گیا ہے۔ فان مع ........................ یسرا (6:94) ” پس حقیت یہ ہے کہ تنگی کے ساتھ فراخی بھی ہے۔ بیشک تنگی کے ساتھ فراخی بھی ہے “۔ یہ تکرار اس بات کا اظہار …
فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا (So undoubtedly, along with hardship there is ease. Undoubtedly, along with hardship there is ease....94:6). Grammatically, if the Arabic definite article al- is prefixed to an Arabic noun and is repeated with the same definite article al-, they refer to the same antecedent. However, if the same noun is repeated without the definite article, they refer to different antecedents. The word al-'usr '[ the ] hardship' in verse [ 6] is the repetition of al-'usr '[ the ] hardship' occurring in verse [ 5]. It does not refer to a new …
ثم أضاف - سبحانه - إلى هذه النعم الجليلة ، ما يدخل السرور على قلبه صلى الله عليه وسلم وما يبعث الأمل فى نفسه وفى نفوس أصحابه ، بأن بين لهم سنة من سننه التى لا تتخلف فقال : ( فَإِنَّ مَعَ العسر يُسْراً ) .والفاء للإِفصاح ، ومع بمعنى بَعْد ، وأل فى العسر لاستغراق أنواع العسر المعروفة للمخاطبين . من فقر ، وضعف ، وقلة فى الوسائل التى تؤدى إلى إدراك المطلوب . والجملة الثانية مؤكدة ومقررة للجملة الأولى . والتنكير فى قوله ( يسرا ) للتفخيم .والمعنى : إذا تقرر عندك ما أخبرنا به ، من شرح الصدر ، ووضع الوزر . ورفع الذكر . . فاعلم أنه ما من عسر إلا ويعقبه يسر ، وما من شدة إلا ويأتى بعدها الفرج ، وما من …
فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا (5) الفاء فصيحة تفصح عن كلام مقدر يدل عليه الاستفهام التقريري هنا ، أي إذا علمت هذا وتقرر ، تعلَمُ أن اليسر مصاحب للعسر ، وإذ كان اليسر نقيض العسر كانت مصاحبةُ اليسر للعسر مقتضيةً نقضَ تأثير العسر ومبطلة لعمله ، فهو كناية رمزية عن إدراك العناية الإلهية به فيما سبق ، وتعريض بالوعد باستمرار ذلك في كل أحواله .وسياق الكلام وعد للنبيء صلى الله عليه وسلم بأن يُيَسر اللَّهُ له المصاعب كلَّما عرضت له ، فاليسر لا يتخلف عن اللحاق بتلك المصاعب ، وذلك من خصائص كلمة { مع } الدالة على المصاحبة .وكلمة { مع } هنا مستعملة في غير حقيقة معناها لأن العسر واليسر نقيضان فمقارنتهما …
plays offline — the recitation is inside this file
PickthallLo! with hardship goeth ease;
Yusuf AliVerily, with every difficulty there is relief.
Muhammad Junagarhiبیشک مشکل کے ساتھ آسانی ہے.[1]
al-Muyassarفلا يَثْنِكَ أذى أعدائك عن نشر الرسالة؛ فإن مع الضيق فرجًا، إن مع الضيق فرجًا.
the agreed readingIndeed, with hardship comes ease. Both traditions draw the same conclusion from how the two lines are worded: the hardship carries the definite article both times and so is one hardship, while the ease is left indefinite both times and so is two - one hardship, and two eases with it.
بیشک تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔ یہ جملہ دوبارہ تاکید اور پہلے کی تصدیق کے لیے آیا، کیونکہ یہ مقامِ تثبیت ہے جہاں بات کو دہرانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ ایک ایسا مستقل قانون ہے جو کبھی نہیں بدلتا: کوئی سختی ایسی نہیں جس کے بعد فراخی نہ آئے۔ جب یہ بات ذہن میں بیٹھ جائے تو دعوت دینے والے کو مخالفت کی اذیت اپنے کام سے نہیں روک سکتی۔
إن مع العسر يسرًا. جاءت الجملة ثانيةً توكيدًا وتقريرًا للأولى، لأن المقام مقام تثبيتٍ يحتاج إلى التكرار. فهذه سنَّة ماضية لا تتخلَّف: ما من شدَّة إلا ويعقبها فرج. فإذا عُلم هذا لم يَصُدَّ الداعي عن دعوته ما يلقاه من أذى.
27 of the 35 commentaries carry this āyah
all 27, in their own words
al-Tabarid.923 · ar · PD
القول في تأويل قوله تعالى: ﴿أَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ (١) وَوَضَعْنَا عَنْكَ وِزْرَكَ (٢) الَّذِي أَنْقَضَ ظَهْرَكَ (٣) وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ (٤) فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا (٥) إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا (٦) فَإِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْ (٧) وَإِلَى رَبِّكَ فَارْغَبْ (٨) ﴾ . يقول تعالى ذكره لنبيه محمد ﷺ، مذكِّره آلاءه عنده، وإحسانه إليه، حاضا له بذلك على شكره، على ما أنعم عليه، ليستوجب بذلك المزيد منه: ﴿أَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ﴾ يا محمد، للهدى والإيمان بالله ومعرفة الحقّ ﴿صَدْرِكَ﴾ فنلِّين لك قلبك، ونجعله وعاء للحكمة: ﴿وَوَضَعْنَا عَنْكَ وِزْرَكَ﴾ يقول: وغفرنا لك ما سلف من ذنوبك …
فإن قلت: كيف تعلق قوله فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْراً بما قبله؟ قلت: كان المشركون يعيرون رسول الله ﷺ والمؤمنين بالفقر والضيقة، حتى سبق إلى وهمه أنهم رغبوا عن الإسلام لافتقار أهله واحتقارهم، فذكره ما أنعم به عليه من جلائل النعم ثم قال: فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْراً كأنه قال: خوّلناك ما خولناك فلا تيأس من فضل الله، فإن مع العسر الذي أنتم فيه يسرا. فإن قلت: إِنَّ مَعَ للصحبة، فما معنى اصطحاب اليسر والعسر؟ قلت: أراد أن الله يصيبهم بيسر بعد العسر الذي كانوا فيه بزمان قريب، فقرّب اليسر المترقب حتى جعله كالمقارن للعسر، زيادة في التسلية وتقوية القلوب. فإن قلت: ما معنى قول ابن عباس وابن مسعود رضى …
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful. أَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ - وَوَضَعْنَا عَنكَ وِزْرَكَ - الَّذِي أَنقَضَ ظَهْرَكَ - وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ - فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا - إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا - فَإِذَا فَرَغْتَ فَانصَبْ - وَإِلَىٰ رَبِّكَ فَارْغَب (1. Have We not opened your breast for you?)(2. And removed from you your burden.)(3. Which weighed down your back?)(4. And have We not raised high your fame?)(5. Verily, along with every hardship is relief,)(6. Verily, along with every hardship is relief.)(7. So …
عنی ہم نے تیرے سینے کو منور کردیا چوڑا کشادہ اور رحمت و کرم والا کردیا اور جگہ ہے فمن برد اللّٰہ الخ، یعنی جسے اللہ ہدایت دینا چاہتا ہے اس کے سینے کو اسلام کے لیے کھول دیتا ہے۔ جس طرح آپکا سینہ کشادہ کردیا گیا تھا۔ اسی طرح آپ کی شریعت بھی کشادگی والی نرمی اور آسانی والی بنادی، جس میں نہ تو کوئی حرج ہے نہ تنگی، نہ ترشی، نہ تکلیف، اور سختی، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد معراج والی رات سینے کا شق کیا جانا ہے۔ جیسے کہ مالک بن صعصعہ کی روایت سے پہلے گذرچکا، امام ترمذی نے اس حدیث کو یہیں وارد کیا ہے۔ لیکن یہ یاد رہے کہ یہ دونوں واقعات مراد ہوسکتے ہیں یعنی معراج کی رات سینے کا شق کیا جانا اور سینہ …
Truly with hardship comes ease: the Prophet (s) suffered much hardship at the hands of the disbelievers, but then he enjoyed ease when he was assisted to victory [by God] over them.
al-Ṣāfī (Fayḍ al-Kāshānī)d.1680 · ar · PD
ان مع العسر يسرا ان مع العسر يسرا قيل الوجه فيه ان العسر معرف باللام فلا يتعدد سواء كان للعهد أو الجنس واليسر منكر فالثاني غير الأول (7)
Nūr al-thaqalayn (al-Ḥuwayzī)d.1700 · ar · PD
ان مع العسر يسرا ان مع العسر يسرا روى عن عطاء عن ابن عباس قال: يقول الله تعالى: خلقت عسرا واحدا وخلقت يسرين، فلن يغلب عسر يسرين. 10 - وعن الحسن قال: خرج النبي صلى الله عليه وآله مسرورا فرحا وهو يضحك ويقول لن يغلب عسر يسرين " فان مع العسر يسرا ان مع العسر يسرا " قال الفراء: ان العرب يقول ذا ذكرت نكرة ثم أعدتها نكرة مثلها صارتا اثنتين، كقولك إذا كسبت درهما فانفق درهما فالثاني غير الأول، وإذا أعدتها معرفة فهي هي كقولك: إذا اكتسبت درهما فانفق الدرهم، فالثاني هو الأولى، ونحو هذا ما قاله الزجاج انه ذكر العسر مع الألف واللام، ثم ثنى ذكره فصار المعنى ان مع العسر يسرين. 11 - في تهذيب الأحكام ابن …
مشکل کے بعد آسانی ہے:یعنی اللہ کی رضا جوئی میں جو سختیاں آپ ﷺ نے برداشت کیں اور رنج و تعب کھینچے۔ ان میں سے ہر ایک سختی کے ساتھ کئ کئ آسانیاں ہیں۔ مثلًا حوصلہ فراخ کر دینا جس سے ان مشکلات کا اٹھانا سہل ہوگیا۔ اور ذکر کا بلند کرنا، جس کا تصور بڑی بڑی مصیبتوں کے تحمل کو آسان کر دیتا ہے۔ یا یہ مطلب ہے کہ جب ہم نے آپ کو روحانی راحت دی اور روحانی کلفت رفع کر دی جیسا کہ اَلَمْ نَشْرَحْ الخ سے معلوم ہوا تو اس سے دنیوی راحت و محنت میں بھی ہمارے فضل و کرم کا امیدوار رہنا چاہیئے ہم وعدہ کرتے ہیں کہ بیشک موجودہ مشکلات کے بعد آسانی ہونے والی ہے اور تاکید مزید کے لئے پھرکہتے ہیں کہ ضرور موجودہ سختی کے بعد …
وِزۡرَك}؛ أي: ذنبك، {الذي أنقَضَ}؛ أي: أثقل {ظهركَ}؛ كما قال تعالى:{ليغفرَ لك اللهُ ما تقدَّم من ذنبِكَ وما تأخَّر}، {ورفَعۡنا لكَ ذِكۡرَك}؛ أي: أعليْنا قدرَك، وجعلنا لك الثَّناء الحسن العالي، الذي لم يصلْ إليه أحدٌ من الخلق؛ فلا يُذْكَرُ الله؛ إلاَّ ذُكِر معه رسوله - صلى الله عليه وسلم -؛ كما في الدُّخول في الإسلام، وفي الأذان، والإقامة، والخطب ... وغير ذلك من الأمور التي أعلى الله بها ذِكر رسوله محمدٍ - صلى الله عليه وسلم -، وله في قلوب أمَّته من المحبَّة والإجلال والتَّعظيم ما ليس لأحدٍ غيره بعد الله تعالى؛ فجزاه الله عن أمَّته أفضل ما جزى نبيًّا عن أمَّته. {5 ـ 6} وقوله: {فإنَّ مع …
اور سختی پائی جائے گی تو اس کے ساتھ ساتھ آسانی بھی ہو گی حتیٰ کہ اگر تنگی گوہ کے بل میں داخل ہو جائے تو آسانی اس کے ساتھ داخل ہو گی اور اسے باہر نکال لائے گی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿سَيَجۡعَلُ اللّٰهُ بَعۡدَ عُسۡرٍ يُّسۡرًا﴾(الطلاق:65؍7) ’’عنقریب اللہ تعالیٰ تنگی کے ساتھ کشائش عطا کرے گا۔‘‘ اور جیسا کہ نبی ٔاکرمﷺ نے فرمایا :’’تکلیف کے ساتھ کشادگی ہوتی ہے اور تنگی کی معیت میں کشائش ہے۔‘‘ (مسند أحمد: 308-307/1)دونوں آیات کریمہ میں اَلْعُسْرکو معرفہ استعمال کرنا دلالت کرتا ہے کہ وہ واحد ہے اور اَلْیُسْر کو نکرہ استعمال کرنا اس کے تکرار پر دلالت کرتا ہے۔ پس ایک تنگی دو آسانیوں پر غالب …
فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا (So undoubtedly, along with hardship there is ease. Undoubtedly, along with hardship there is ease....94:6). Grammatically, if the Arabic definite article al- is prefixed to an Arabic noun and is repeated with the same definite article al-, they refer to the same antecedent. However, if the same noun is repeated without the definite article, they refer to different antecedents. The word al-'usr '[ the ] hardship' in verse [ 6] is the repetition of al-'usr '[ the ] hardship' occurring in verse [ 5]. It does not refer to a new …
اس بات کو دو مرتبہ دُہرایا گیا ہے تا کہ حضور ؐ کو پوری طرح تسلی دے دی جائے کہ جن سخت حالات سے آپ اِس وقت گزر رہے ہیں یہ زیادہ دیر رہنے والے نہیں ہیں بلکہ ان کے بعد قریب ہی میں اچھے حالات آنے والے ہیں ۔ بظاہر یہ بات متناقض معلوم ہوتی ہے کہ تنگی کے ساتھ فراخی ہو، کیونکہ یہ دونوں چیزیں بیک وقت جمع نہیں ہوتیں ۔ لیکن تنگی کے بعد فراخی کہنے کے بجائے تنگی کے ساتھ فراخی کے الفاظ اس معنی میں استعمال کیے گئے ہیں کہ فراخی کا دور اِس قدر قریب ہے کہ گویا وہ اس کے ساتھ ہی چلا آرہا ہے۔
This has been repeated twice so as to reassure the Prophet (peace be upon him) that the bad times he was passing through at that time would not last for ever, but were going to be replaced by good times in the near future. On the surface this appears to be a contradiction that hardship should be accompanied by ease, for these two things do not co-exist. But the words hardship with ease instead of ease after hardship have been used in the sense that the period of ease is so close to it as if it were a concomitant of it.
فإن قلت " إن مع " للصحبة ، فما معى اصطحاب اليسر للعسر؟ قلت : أراد أن الله يصيبهم بيسر بعد العسر الذى كانوا فيه بزمان قريب ، فقرب اليسر المترقب حتى جعله كالمقارن للعسر ، زيادة فى التسلية ، وتقوية القلوب .فإن قلت : فما المراد باليسرين؟ قلت : يجوز أن يراد بهما ما تيسر لهم من الفتوح فى أيام النبى صلى الله عليه وسلم ، وما تيسر لهم فى أيام الخلفاء . . وأن يراد يسر الدنيا ويسر الآخرة .فإن قلت : فما معنى هذا التنكير؟ قلت التفخيم ، كأنه قال : إن مع العسر يسرا عظيما وأى يسر . .
آیت 6{ اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا۔ } ”یقینا مشکل ہی کے ساتھ آسانی ہے۔“ یہ سورت دراصل مشکلات القرآن میں سے ہے۔ آیت 2 میں جس بوجھ کا ذکر ہوا ہے اس کے بارے میں عام طور پر یہ سمجھا گیا ہے کہ اس میں حضور ﷺ کی دعوت و تبلیغ کی مشقتوں اور لوگوں کی طرف سے پہنچائی جانے والی اذیتوں کی طرف اشارہ ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ رائے صرف جزوی طور پر درست ہے اس لیے کہ یہ سورت بالکل ابتدائی زمانے میں نازل ہوئی تھی۔ اس زمانے میں حضور ﷺ کی مشکلات کا ابھی آغاز ہو رہا تھا اور بعد کے زمانے میں آپ ﷺ کو نسبتاً بہت زیادہ مشکل مراحل سے گزرنا پڑا تھا۔ مثلاً شعب ابی طالب میں تین سال کی قید کا واقعہ اس سورت کے نزول کے بعد …
إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا (6)وحرف { إنْ } للاهتمام بالخبر .وإنما لم يستغن بها عن الفاء كما يقول الشيخ عبد القاهر : ( إنَّ ) تغني غَناء فاء التسبب ، لأن الفاء هنا أريد بها الفصيحة مع التسبب فلو اقتصر عَلى حرف ( إنّ ) لفات معنى الفصيحة .وتنكير { يسراً } للتعظيم ، أي مع العسر العارض لك تيسيراً عظيماً يغلب العسر ويجوز أن يكون هذا وعداً للنبيء صلى الله عليه وسلم ولأمته لأن ما يعرض له من عسر إنما يعرض له في شؤون دعوته للدين ولصالح المسلمين .وروى ابن جرير عن يونس ومعمر عن الحَسَن عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه لما نزلت هذه الآية : { فإن مع العسر يسراً } قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " أبشروا …
آپ (صلى الله عليه وسلم) کے لئے اور صحابہ (رضي الله عنهم) کے لئے خوشخبری ہے کہ تم اسلام کی راہ میں جو تکلیفیں برداشت کر رہے ہو تو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کے بعد ہی اللہ تمہیں فراغت وآسانی سے نوازے گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا، جسے ساری دنیا جانتی ہے۔
Indeed, with difficulty and constraint, comes ease and options; when you know that well, the troubling of your people will not terrify you and will not stop you from calling towards Allah.
No commentary keyed to this āyah in: Fi Zilal al-Quran (Urdu), Jawāmiʿ al-jāmiʿ (al-Ṭabrisī), Majmaʿ al-bayān (al-Ṭabrisī), Tafsīr al-Qummī, Tazkir ul Quran (Urdu), Tazkirul Quran (English), al-Mīzān (Ṭabāṭabāʾī), al-Tibyān (al-Ṭūsī).
plays offline — the recitation is inside this file
PickthallSo when thou art relieved, still toil
Yusuf AliTherefore, when thou art free (from thine immediate task), still labour hard,
Muhammad Junagarhiپس جب تو فارغ ہو تو عبادت میں محنت کر.[1]
al-Muyassarفإذا فرغت من أمور الدنيا وأشغالها فَجِدَّ في العبادة، وإلى ربك وحده فارغب فيما عنده.
the agreed readingSo when you are free, labour on. Both traditions read it the same way: the moment one thing is finished is the moment to start the next - the work done, the effort goes into worship and into asking - and no stretch of time is to be left empty.
پس جب آپ ایک کام سے فارغ ہو جائیں تو محنت کیجیے، یعنی کسی دوسرے ایسے کام میں جُٹ جایئے جو آپ کو آپ کے رب سے قریب کرے۔ ”فراغ“ کاموں سے خالی ہو جانے کا نام ہے اور ”نَصَب“ اتنی محنت کرنے کا کہ تھکن محسوس ہو۔ مقصد یہ ہے کہ بندے پر کوئی وقت خالی نہ گزرے، بلکہ ایک عمل کے بعد دوسرا عمل جڑا رہے۔
فإذا فرغت من عملٍ فانصَب، أي اجتهد وأتعِب نفسك في عمل آخر يُقرِّبك إلى ربك. والفراغ خُلوٌّ من الشغل، والنصب بذل الجهد حتى يبلغ التعب. فالمقصود ألا يمرَّ على العبد وقت فارغ، بل يتَّصل له عملٌ بعمل.
25 of the 35 commentaries carry this āyah
all 25, in their own words
al-Tabarid.923 · ar · PD
القول في تأويل قوله تعالى: ﴿أَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ (١) وَوَضَعْنَا عَنْكَ وِزْرَكَ (٢) الَّذِي أَنْقَضَ ظَهْرَكَ (٣) وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ (٤) فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا (٥) إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا (٦) فَإِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْ (٧) وَإِلَى رَبِّكَ فَارْغَبْ (٨) ﴾ . يقول تعالى ذكره لنبيه محمد ﷺ، مذكِّره آلاءه عنده، وإحسانه إليه، حاضا له بذلك على شكره، على ما أنعم عليه، ليستوجب بذلك المزيد منه: ﴿أَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ﴾ يا محمد، للهدى والإيمان بالله ومعرفة الحقّ ﴿صَدْرِكَ﴾ فنلِّين لك قلبك، ونجعله وعاء للحكمة: ﴿وَوَضَعْنَا عَنْكَ وِزْرَكَ﴾ يقول: وغفرنا لك ما سلف من ذنوبك …
Tafsīr al-Qummīd.941 · ar · PD
فإذا فرغت فانصب) قال إذا فرغت من حجة الوداع فانصب أمير المؤمنين علي بن أبي طالب (ع) (1) (
al-Baghawid.1122 · ar · PD
فَإِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْ﴾ أَيْ فَاتْعَبْ، وَالنَّصَبُ: التَّعَبُ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَقَتَادَةُ، وَالضَّحَّاكُ، وَمُقَاتِلٌ، وَالْكَلْبِيُّ: فَإِذَا فَرَغْتَ مِنَ الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ فَانْصَبْ إِلَى رَبِّكَ فِي الدُّعَاءِ وَارْغَبْ إِلَيْهِ فِي الْمَسْأَلَةِ يُعْطِكَ [[أخرجه الطبري: ٣٠ / ٢٣٦. وزاد صاحب الدر المنثور: ٨ / ٥٥١ عزوه لعبد بن حميد وابن المنذر وابن أبي حاتم وابن مردويه.]] . [وَرَوَى عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ مُجَاهِدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: إِذَا صَلَّيْتَ فَاجْتَهِدْ فِي الدُّعَاءِ وَالْمَسْأَلَةِ] [[ما بين القوسين ساقط من "أ".]] . وَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: إِذَا فَرَغْتَ …
al-Zamakhsharid.1144 · ar · PD
فإن قلت: فكيف تعلق قوله فَإِذا فَرَغْتَ فَانْصَبْ بما قبله؟ قلت: لما عدد عليه نعمه السالفة ووعده الآنفة، بعثه على الشكر والاجتهاد في العبادة والنصب فيها، وأن يواصل بين بعضها وبعض، ويتابع ويحرص على أن لا يخلى وقتا من أوقاته منها. فإذا فرغ من عبادة ذنبها بأخرى. وعن ابن عباس: فإذا فرغت من صلاتك فاجتهد في الدعاء. وعن الحسن: فإذا فرغت من الغزو فاجتهد في العبادة. وعن مجاهد: فإذا فرغت من دنياك فانصب في صلاتك. وعن الشعبي: أنه رأى رجلا يشيل حجرا فقال: ليس بهذا أمر الفارغ، وقعود الرجل فارغا من غير شغل أو اشتغاله بما لا يعنيه في دينه أو دنياه: من سفه الرأى وسخافة العقل واستيلاء الغفلة، ولقد قال عمر رضى …
Fakhr al-Din al-Razid.1210 · ar · PD
ثُمَّ قالَ تَعالى: ﴿فَإذا فَرَغْتَ فانْصَبْ﴾ وجْهُ تَعَلُّقِ هَذا بِما قَبْلَهُ أنَّهُ تَعالى لَمّا عَدَّدَ عَلَيْهِ نِعَمَهُ السّالِفَةَ، ووَعَدَهم بِالنِّعَمِ الآتِيَةِ، لا جَرَمَ بَعَثَهُ عَلى الشُّكْرِ والِاجْتِهادِ في العِبادَةِ، فَقالَ: ﴿فَإذا فَرَغْتَ فانْصَبْ﴾ أيْ صفحة ٨ فاتْعَبْ يُقالُ: نَصَبَ يَنْصِبُ، قالَ قَتادَةُ والضَّحّاكُ ومُقاتِلٌ: إذا فَرَغْتَ مِنَ الصَّلاةِ المَكْتُوبَةِ ﴿فانْصَبْ وإلى رَبِّكَ﴾ [الشَّرْحِ: ٧] في الدُّعاءِ وارْغَبْ إلَيْهِ في المَسْألَةِ يُعْطِكَ، وقالَ الشَّعْبِيُّ: إذا فَرَغْتَ مِنَ التَّشَهُّدِ فادْعُ لِدُنْياكَ وآخِرَتِكَ، وقالَ مُجاهِدٌ: إذا فَرَغْتَ …
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful. أَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ - وَوَضَعْنَا عَنكَ وِزْرَكَ - الَّذِي أَنقَضَ ظَهْرَكَ - وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ - فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا - إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا - فَإِذَا فَرَغْتَ فَانصَبْ - وَإِلَىٰ رَبِّكَ فَارْغَب (1. Have We not opened your breast for you?)(2. And removed from you your burden.)(3. Which weighed down your back?)(4. And have We not raised high your fame?)(5. Verily, along with every hardship is relief,)(6. Verily, along with every hardship is relief.)(7. So …
عنی ہم نے تیرے سینے کو منور کردیا چوڑا کشادہ اور رحمت و کرم والا کردیا اور جگہ ہے فمن برد اللّٰہ الخ، یعنی جسے اللہ ہدایت دینا چاہتا ہے اس کے سینے کو اسلام کے لیے کھول دیتا ہے۔ جس طرح آپکا سینہ کشادہ کردیا گیا تھا۔ اسی طرح آپ کی شریعت بھی کشادگی والی نرمی اور آسانی والی بنادی، جس میں نہ تو کوئی حرج ہے نہ تنگی، نہ ترشی، نہ تکلیف، اور سختی، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد معراج والی رات سینے کا شق کیا جانا ہے۔ جیسے کہ مالک بن صعصعہ کی روایت سے پہلے گذرچکا، امام ترمذی نے اس حدیث کو یہیں وارد کیا ہے۔ لیکن یہ یاد رہے کہ یہ دونوں واقعات مراد ہوسکتے ہیں یعنی معراج کی رات سینے کا شق کیا جانا اور سینہ …
So when you are finished, from [performing] prayer, toil, exert yourself in supplication [to God],
Nūr al-thaqalayn (al-Ḥuwayzī)d.1700 · ar · PD
فإذا فرغت فانصب قال: إذا فرغت من حجة الوداع فانصب أمير المؤمنين علي بن أبي طالب. 15 - حدثنا محمد بن جعفر عن يحيى بن زكريا عن علي بن حسان عن عبد الرحمن بن كثير عن أبي عبد الله عليه السلام في قوله: " فإذا فرغت من نبوتك فانصب عليا
فانصَبۡ}؛ أي: إذا تفرَّغْتَ من أشغالِك، ولم يبقَ في قلبكَ ما يعوقه؛ فاجتهدْ في العبادة والدُّعاء، {وإلى ربِّك}: وحده {فارغَبۡ}؛ أي: أعظم الرغبة في إجابة دعائك وقبول دعواتك ، ولا تكنْ ممَّن إذا فرغوا ؛ لعبوا وأعرضوا عن ربِّهم وعن ذِكْرِه، فتكون من الخاسرين. وقد قيل: إنَّ معنى هذا: فإذا فرغتَ من الصَّلاة وأكملتها؛ فانصب في الدُّعاء، وإلى ربِّك فارغبْ في سؤال مطالبك. واستدلَّ من قال هذا القول على مشروعيَّة الدُّعاء والذِّكر عقب الصلوات المكتوبات. والله أعلم [وبذالك]. تمت. والحمد لله. * * *
غالب نہیں آئے گی۔ الف لام کے ساتھ معرفہ بنانے میں جو کہ استغراق اور عموم پر دلالت کرتا ہے، دلیل ہے کہ ہر تنگی خواہ وہ اپنی انتہا کو پہنچ جائے، اس کے آخر میں آسانی کا آنا لازم ہے۔ [7، 8] پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو اور آپ کی اتباع میں تمام اہل ایمان کو حکم دیا کہ وہ اس کا شکر ادا کریں اور اس کی نعمتوں کے واجبات کو قائم کریں۔ چنانچہ فرمایا: ﴿فَاِذَا فَرَغۡتَ فَانۡصَبۡ﴾ یعنی جب آپ اپنے اشغال سے فراغت حاصل کریں اور آپ کے قلب میں کوئی ایسی چیز باقی نہ رہ جائے جو اسے (ذکر الٰہی سے) روکتی ہو، تب آپ عبادت اور دعا میں جدوجہد کیجیے۔ ﴿وَاِلٰى رَبِّكَ﴾ اور اپنے اکیلے رب کی طرف ﴿فَارۡغَبۡ﴾ …
بیشک سختی کے بعد آسانی ہے ، تنگی کے بعد فراخی ہے ، اور اس کے اسباب یہ ہیں ، ان پر عمل کیجئے کہ جب آپ لوگوں کے ساتھ اپنی مشغولیات سے فارغ ہوجائیں اور دنیا کے امور سے فارغ ہوجائیں اور زندگی کی سرگرمیوں قدرے رک جائیں ، جب آپ ان امور سے فارغ ہوجائیں تو پھر اس میدان میں اتر جائیں جس میں آپ کو محنت اور جدوجہد کی ضرورت ہے یعنی اللہ کی عبادت ، اللہ کی طرف توجہ۔ والی ربک فارغب (8:94) ” اپنے رب کی طرف راغب ہوجاﺅ“۔ تو پھر آپ صرف رب کی طرف راغب ہوجائیں ، تمام دنیاوی امور چھوڑدیں ، یہاں تک کہ دعوت اسلامی کی سرگرمیاں بھی چھوڑدیں ، یہ ہے زادراہ۔ ہر سفر کے لئے کوئی نہ کوئی سازوسامان ہوتا ہے اور یہ ہے سازو …
فَإِذَا فَرَغْتَ فَانصَبْ وَإِلَىٰ رَبِّكَ فَارْغَب (So when you are free [ from collective services ], exert yourself [ in worship ], and towards your Lord turn with eagerness....94:8). The Holy Prophet ﷺ is commanded in these verses that when he has finished his day's work of teaching and training his followers and other temporal affairs, he should turn to Allah as ever with all his heart, that is, prayers, remembrance of Allah, supplication and seeking Allah's pardon. This is the interpretation assigned to this verse by most commentators. Some scholars have interpreted it differently …
وبعد هذا التعديد لتلك النعم العظيمة ، أمر الله - تعالى - نبيه صلى الله عليه وسلم فى الاجتهاد فى العبادة فقال - تعالى - : ( فَإِذَا فَرَغْتَ فانصب وإلى رَبِّكَ فارغب ) .وأصل الفراغ خول الإِناء مما بداخله من طعام أو غيره ، والمراد به هنا الخلو من الأعمال التى تشغل الإِنسان ، والنصب : التعب والاجتهاد فى تحصيل المطلوب .أى : فإذا فرغت - أيها الرسول الكريم - من عمل من الأعمال ، فاجتهد فى مزاولة عمل آخر من الأعمال التى تقربك من الله - تعالى - ، كالصلاة ، والتهجد ، وقراءة القرآن الكريم .واجعل رغبتك فى جميع أعمالك وعباداتك ، من أجل إرضاء ربك ، لا من أجل شئ آخر ، فهو وحده القادر على إبلاغك ما تريد …
آیت 7 ‘ 8{ فَاِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْ - وَاِلٰی رَبِّکَ فَارْغَبْ۔ } ”پھر جب آپ ﷺ فرائض نبوت سے فارغ ہوجائیں تو اسی کام میں لگ جایئے۔ اور اپنے رب کی طرف راغب ہوجایئے۔“ تو اے نبی ﷺ ! جب آپ اپنے فرضِ منصبی سے فارغ ہوجائیں اور اللہ کا دین غالب ہوجائے تو پھر آپ یکسو ہو کر اللہ کی طرف متوجہ ہوجائیں۔ نوٹ کیجیے ! سورة النصر میں بھی حضور ﷺ کے لیے بالکل یہی پیغام ہے :{ اِذَا جَآئَ نَصْرُاللّٰہِ وَالْفَتْحُ - وَرَاَیْتَ النَّاسَ یَدْخُلُوْنَ فِیْ دِیْنِ اللّٰہِ اَفْوَاجًا - فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ وَاسْتَغْفِرْہُطٓ اِنَّہٗ کَانَ تَوَّابًا۔ } یعنی جب غلبہ دین کے حوالے سے آپ ﷺ کا مشن مکمل ہوجائے تو …
فَإِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْ (7)تفريع على ما تقرر من التذكير باللطف والعناية ووعده وبتيسير ما هو عسير عليه في طاعته التي أعظمها تبليغ الرسالة دون مَلَل ولا ضجر .والفراغ : خلو باطن الظرف أو الإِناء لأن شأنه أن يظرف فيه .وفعل فرغ يفيد أن فاعله كان مملوءاً بشيء ، وفراغ الإِنسان . مجاز في إتمامه ما شأنه أن يعمله .ولم يذكر هنا متعلق { فرغت } وسياق الكلام يقتضي أنه لازم أعمال يعلمها الرسول صلى الله عليه وسلم كما أن مساق السورة في تيسير مصاعب الدعوة وما يحف بها . فالمعنى إذا أتممت عملاً من مهام الأعمال فأقبل على عمل آخر بحيث يعمر أوقاته كلها بالأعمال العظيمة . ومن هنا قال رسول الله صلى الله عليه وسلم …
So when thou art relieved) when you finish from military expeditions, jihad and fighting, (still toil) in worship; and it is also said this means: when you finish from the prescribed prayers, make supplications
No commentary keyed to this āyah in: Jawāmiʿ al-jāmiʿ (al-Ṭabrisī), Majmaʿ al-bayān (al-Ṭabrisī), Tafhim al-Qur'an - Maududi (English), Tafhim al-Qur'an - Maududi (Urdu), Tafsir-e-Usmani (Urdu), Tazkir ul Quran (Urdu), Tazkirul Quran (English), al-Mīzān (Ṭabāṭabāʾī), al-Tibyān (al-Ṭūsī), al-Ṣāfī (Fayḍ al-Kāshānī).
the words of this āyah — root, frequency, family
ف
occurs 3001 timesamong the commonest 300 words
إِذا
occurs 423 timesamong the commonest 300 words
فَرَغْ
occurs 2 timesroot فرغ occurs 6
أَفْرِغْ3فَرَغْ2فارِغ1
نُصِبَتْ
occurs 2 timesroot نصب occurs 32
نَصِيب21نَصَب4نُصُب3نُصِبَتْ2نُصْب1ناصِبَة1
this āyah in 55 languages — 74 translations
Akan Harun Ismail · v1.0.3
Enti sε wowie (adwuma a yεde ahyε wo nsa no a) kͻ so bͻ mmͻden,
Azərbaycan Ali Khan Musayev · v1.0.4
(İşlərini) qurtaran kimi (Allah yolunda) çalış!
Bahasa Indonesia Ministry of Religious Affairs · v1.0.1
Maka apabila engkau telah selesai (dari suatu urusan), tetaplah bekerja keras (untuk urusan yang lain),[915]
Bahasa Indonesia Sabiq Company · v1.1.3
7. Maka apabila engkau telah selesai (dari suatu urusan), tetaplah bekerja keras (untuk urusan yang lain),[915]
Bahasa Indonesia The Complex · v1.0.1
Maka apabila kamu telah selesai (dari sesuatu urusan), kerjakanlah dengan sungguh-sungguh (urusan) yang lain[1587],
Bosanski Muhammad Mahanovic · v1.1.0
A kad završiš, molitvi se predaj,
Bosanski Rowwad Translation Centre · v2.0.4
A kad završiš, molitvi se predaj,
Cebuano Rowwad Translation Center · v1.1.3
Busa kon ikaw nahuman sa imong pag-ampo, nan, padayona "sa paghinumdom ang Allāh ug pangamuyo",
Deutsch Frank Bubenheim · v1.1.4
Wenn du nun fertig bist, dann strenge dich an
Deutsch Rowwad Translation Center · v1.0.15
Wenn du nun fertig bist, dann strenge dich an
English Hilali and Khan · v1.1.2
7. So when you have finished (your occupation), devote yourself for Allâh’s worship.
English Noor International Center · v1.1.2
So when you have finished [your duties], then stand up [for worship].
English Rowwad Translation Center · v1.0.19
So whenever you are free[5], strive in worship,
Español Isa Garcia · v1.0.2
7. Cuando cumplas con tus obligaciones dedícate a la adoración,
Español Noor International Center · v1.0.1
Y cuando acabes (tus quehaceres cotidianos), dedícate a adorar(a Al-lah)[1161]
Español issued by Noor International · v1.0.1
Y cuando acabes (tus quehaceres cotidianos), dedícate a adorar (a Al-lah)[1161]
Français Noor International Center · v1.0.0
7. Quand tu auras accompli (tes devoirs terrestres), lève-toi (pour la prière),
Français Rachid Maach · v1.0.3
Une fois donc libéré de tes occupations, consacre-toi au culte avec ferveur,
Fulfulde Rowwad Translation Center · v1.0.2
Si a hantinii e (dewe alla)tampu.
Hausa Abu Bakr Jumi · v1.2.2
Sabõda haka idan ka ƙãre (ibãda) sai ka kafu (kana rõƙon Allah).
plays offline — the recitation is inside this file
PickthallAnd strive to please thy Lord.
Yusuf AliAnd to thy Lord turn (all) thy attention.
Muhammad Junagarhiاور اپنے پروردگار ہی کی طرف دل لگا.[1]
al-Muyassarفإذا فرغت من أمور الدنيا وأشغالها فَجِدَّ في العبادة، وإلى ربك وحده فارغب فيما عنده.
the agreed readingAnd to your Lord turn your longing. The commentaries gloss the word as wanting and asking, and they put the weight of the ayah on where it is pointed: to Him alone, and for what is with Him.
اور اپنے رب ہی کی طرف رغبت کیجیے، یعنی اپنی چاہت، اپنا رخ اور اپنی گڑگڑاہٹ اسی کی طرف رکھیے، کسی اور کی طرف نہیں۔ عمل کے حکم کے بعد اس عمل میں نیت کی یکسوئی کا حکم آیا۔ نہ محنت کسی غیر کے لیے ہو اور نہ مانگنا اُس سے جو دینے کا مالک ہی نہیں — اسی سے بندے کا معاملہ مکمل ہوتا ہے۔
وإلى ربك وحده فارغب، أي اجعل رغبتك وقصدك وتضرُّعك إليه لا إلى سواه. فبعد الأمر بالعمل جاء الأمر بإخلاص الوجهة فيه. فلا يكون الجهد لغيره، ولا الطلب ممن لا يملك، وبهذا يتمُّ للعبد أمره.
33 of the 35 commentaries carry this āyah
all 33, in their own words
al-Tabarid.923 · ar · PD
القول في تأويل قوله تعالى: ﴿أَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ (١) وَوَضَعْنَا عَنْكَ وِزْرَكَ (٢) الَّذِي أَنْقَضَ ظَهْرَكَ (٣) وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ (٤) فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا (٥) إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا (٦) فَإِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْ (٧) وَإِلَى رَبِّكَ فَارْغَبْ (٨) ﴾ . يقول تعالى ذكره لنبيه محمد ﷺ، مذكِّره آلاءه عنده، وإحسانه إليه، حاضا له بذلك على شكره، على ما أنعم عليه، ليستوجب بذلك المزيد منه: ﴿أَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ﴾ يا محمد، للهدى والإيمان بالله ومعرفة الحقّ ﴿صَدْرِكَ﴾ فنلِّين لك قلبك، ونجعله وعاء للحكمة: ﴿وَوَضَعْنَا عَنْكَ وِزْرَكَ﴾ يقول: وغفرنا لك ما سلف من ذنوبك …
Tafsīr al-Qummīd.941 · ar · PD
وإلى ربك فارغب) قال: [vol 2 p.428] حدثنا محمد بن جعفر عن يحيى بن زكريا عن علي بن حسان عن عبد الرحمن بن كثير عن أبي عبد الله (ع) فإذا فرغت من نبوتك فانصب عليا (ع) وإلى ربك فارغب في ذلك. سورة التين مكية وهي ثمان آية (بسم الله الرحمن الرحيم والتين والزيتون وطور سينين وهذا البلد الأمين) قال: التين رسول الله صلى الله عليه وآله والزيتون أمير المؤمنين (ع) وطور سينين الحسن والحسين عليهما السلام والبلد الأمين الأئمة (ع) (لقد خلقنا الانسان في أحسن تقويم قال: نزلت في زريق (ثم رددناه أسفل سافلين إلا الذين آمنوا وعملوا [vol 2 p.429] الصالحات) قال: ذلك أمير المؤمنين (ع) (فلهم أجر غير ممنون) اي لا يمن عليهم …
al-Tibyān (al-Ṭūsī)d.1067 · ar · PD
وإلى ربك فارغب) (8) ثمان آيات. روى أصحابنا ان ألم نشرح من الضحى سورة واحدة لتعلق بعضها ببعض ولم يفصلوا بينهما ب (بسم الله الرحمن الرحيم) وأوجبوا قراءتهما في الفرائض في ركعة وألا يفصل بينهما. ومثله قالوا في سورة (ألم ترك كيف) و (الإيلاف) وفى المصحف هما سورتان فصل بينهما ببسم الله. والمعني بهذه الآيات تعداد نعم الله تعالى على النبي صلى الله عليه وآله في الامتنان بها عليه فقال (ألم نشرح لك صدرك) فالشرح فتح الشئ باذهاب ما يصد عن إدراكه فالله تعالى قد فتح صدر نبيه باذهاب الشواغل التي تصد عن إدراك الحق وتعظيمه بما يجب له. ومنه قول القائل: أشرح صدري لهذا الامر. وشرح فلان كتاب كذا، ومنه تشريح اللحم …
سر الصاد، أى فانصب عليا للإمامة، ولو صح هذا للرافضى لصح الناصبي أن يقرأ هكذا، ويجعله أمرا بالنصب [[قوله «بالنصب» في الصحاح: نصبت لفلان نصبا: إذا عاديته. (ع)]] الذي هو بغض علىّ وعداوته وَإِلى رَبِّكَ فَارْغَبْ واجعل رغبتك إليه خصوصا، ولا تسأل إلا فضله متوكلا عليه. وقرئ: فرغب أى: رغب الناس إلى طلب ما عنده. عن النبي ﷺ: «من قرأ ألم نشرح، فكأنما جاءني وأنا مغتم ففرج عنى» [[أخرجه الثعلبي والواحدي وابن مردويه بأسانيدهم إلى أبى بن كعب. ورواه سليم الزهري في البر عنه مرسلا.]]
Majmaʿ al-bayān (al-Ṭabrisī)d.1153 · ar · PD
وإلى ربك فارغب (8)). اللغة: الشرح: فتح الشئ بإذهاب ما يصد عن إدراكه. وأصل الشرح: التوسعة ويعبر عن السرور بسعة القلب وشرحه، وعن الهم بضيق القلب، لأنه يورث ذلك. والوزر: الثقل في اللغة، ومنه اشتق اسم الوزير، لتحمله أثقال الملك، وإنما سميت الذنوب أوزارا، لما يستحق عليها من العقاب العظيم. والأنقاض: الأثقال التي كان ينتقض بها ما حمل عليه. والنقض والهدم واحد. ونقض المذهب: إبطاله بما يفسده. وبعير نقض سفر: إذا أثقله السفر. والنصب: التعب. وأنصبه الهم: فهو منصب. قال الشاعر: (تعناك هم من أميمة منصب)، وهم ناصب ذو [vol 10 p.387] نصب. قال النابغة: (كليني لهم يا أميمة ناصب) (1). المعنى: ثم أتم سبحانه تعداد …
Jawāmiʿ al-jāmiʿ (al-Ṭabrisī)d.1153 · ar · PD
وإلى ربك فارغب (8)) [vol 3 p.803] هذا استفهام عن انتفاء " الشرح " على وجه الإنكار، فأفاد إثبات الشرح وإيجابه، فكأنه قال: " شرحنا لك صدرك " ولذلك عطف عليه (وضعنا) اعتبارا للمعنى، ومعنى " شرحنا لك صدرك ": فسحناه حتى وسع دعوة الثقلين، أو: فسحناه بما أودعناه من العلوم والحكم، وعن الحسن: ملئ حكمة وعلما (1). والوزر (الذي أنقض ظهرك) أي: حمله على النقيض وهو صوت الانتقاض والانفكاك، مثل لما كان يثقل على رسول الله من تحمل أعباء النبوة، وما كان يصيبه من أذى الكفار مع شدة حرصه على إسلامهم، ووضع ذلك عنه بأن أيده بالمعجزات، وأنزل السكينة عليه، وعلمه الشرائع ومهده عذره بعد أن بلغ. ورفع ذكره وهو أن قرن ذكره …
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful. أَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ - وَوَضَعْنَا عَنكَ وِزْرَكَ - الَّذِي أَنقَضَ ظَهْرَكَ - وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ - فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا - إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا - فَإِذَا فَرَغْتَ فَانصَبْ - وَإِلَىٰ رَبِّكَ فَارْغَب (1. Have We not opened your breast for you?)(2. And removed from you your burden.)(3. Which weighed down your back?)(4. And have We not raised high your fame?)(5. Verily, along with every hardship is relief,)(6. Verily, along with every hardship is relief.)(7. So …
عنی ہم نے تیرے سینے کو منور کردیا چوڑا کشادہ اور رحمت و کرم والا کردیا اور جگہ ہے فمن برد اللّٰہ الخ، یعنی جسے اللہ ہدایت دینا چاہتا ہے اس کے سینے کو اسلام کے لیے کھول دیتا ہے۔ جس طرح آپکا سینہ کشادہ کردیا گیا تھا۔ اسی طرح آپ کی شریعت بھی کشادگی والی نرمی اور آسانی والی بنادی، جس میں نہ تو کوئی حرج ہے نہ تنگی، نہ ترشی، نہ تکلیف، اور سختی، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد معراج والی رات سینے کا شق کیا جانا ہے۔ جیسے کہ مالک بن صعصعہ کی روایت سے پہلے گذرچکا، امام ترمذی نے اس حدیث کو یہیں وارد کیا ہے۔ لیکن یہ یاد رہے کہ یہ دونوں واقعات مراد ہوسکتے ہیں یعنی معراج کی رات سینے کا شق کیا جانا اور سینہ …
وإلى ربك فارغب قيل يعني إذا فرغت من عبادة عقبها بأخرى وأوصل بعضها ببعض ولا تخل وقتا من أوقاتك فارغا لم تشغله بعبادة. وفي المجمع عن الباقر والصادق (عليهما السلام) فإذا فرغت من الصلاة المكتوبة فانصب إلى ربك في الدعاء وارغب إليه في المسألة يعطك. وعن الصادق (عليه السلام) هو الدعاء في دبر الصلاة وأنت جالس. والقمي عنه (عليه السلام) قال فإذا فرغت فانصب من نبوتك فانصب عليا وإلى ربك فارغب في ذلك. وفي الكافي عنه (عليه السلام) في حديث قال يقول فإذا فرغت فانصب علمك واعلن وصيك فأعلمهم فضله علانية فقال من كنت مولاه فعلي مولاه الحديث قال وذلك حين اعلم بموته ونعيت إليه نفسه والقمي إذا فرغت فانصب أمير …
Nūr al-thaqalayn (al-Ḥuwayzī)d.1700 · ar · PD
والى ربك فارغب في ذلك ". 16 - في أصول الكافي محمد بن الحسين وغيره عن سهل عن محمد بن عيسى ومحمد بن يحيى ومحمد بن الحسين جميعا عن محمد بن سنان عن إسماعيل بن جابر و عبد الكريم بن عمرو عن عبد الحميد بن أبي الديلم عن أبي عبد الله عليه السلام حديث طويل يقول فيه عليه السلام حاكيا عن رسول الله، صلى الله عليه وآله فاحتج عليهم حين اعلم بموته ونعت إليه نفسه فقال الله جل ذكره: " فإذا فرغت فانصب * والى ربك فارغب " يقول: فإذا فرغت فانصب علمك وأعلن وصيك، فأعلمهم فضله علانية، فقال عليه السلام: من كنت مولاه فعلى مولاه، اللهم وال من والاه وعاد من عاداه ثلاث مرات، ثم قال: لأبعثن رجلا يحب الله ورسوله ويحبه الله …
تنہائی میں توجہ الی اللہ کی ترغیب:یعنی جب خلق کے سمجھانے سے فراغت پائے تو خلوت میں بیٹھ کر محنت کر، تا مزید یسر کا سبب بنے۔ اور اپنے رب کی طرف (بلاواسطہ) متوجہ ہو (تنبیہ) خلق کو سمجھانا اور نصیحت کرنا آپ ﷺ کی اعلیٰ ترین عبادت تھی لیکن اس میں فی الجملہ مخلوق کا توسط ہوتا تھا۔ مطلوب یہ ہے کہ ادھر سے ہٹ کر بلاواسطہ بھی متوجہ ہونا چاہئے۔ اس کی تفسیر اور کئ طرح کی گئ ہے مگر اقرب یہی معلوم ہوتی ہے۔
فانصَبۡ}؛ أي: إذا تفرَّغْتَ من أشغالِك، ولم يبقَ في قلبكَ ما يعوقه؛ فاجتهدْ في العبادة والدُّعاء، {وإلى ربِّك}: وحده {فارغَبۡ}؛ أي: أعظم الرغبة في إجابة دعائك وقبول دعواتك ، ولا تكنْ ممَّن إذا فرغوا ؛ لعبوا وأعرضوا عن ربِّهم وعن ذِكْرِه، فتكون من الخاسرين. وقد قيل: إنَّ معنى هذا: فإذا فرغتَ من الصَّلاة وأكملتها؛ فانصب في الدُّعاء، وإلى ربِّك فارغبْ في سؤال مطالبك. واستدلَّ من قال هذا القول على مشروعيَّة الدُّعاء والذِّكر عقب الصلوات المكتوبات. والله أعلم [وبذالك]. تمت. والحمد لله. * * *
ا نہیں کھول دیا ہم نے آپ کے لیے آپ کا سینہ؟(1) اور ہم نے اتار دیا آپ سے آپ کا بوجھ(2) وہ جس نے توڑ دی تھی آپ کی کمر(3) اور ہم نے بلند کر دیا آپ کے لیے آپ کا ذکر(4) پس یقیناً (ہر) تنگی کے ساتھ آسانی ہے(5) بلاشبہ( ہر) تنگی کے ساتھ آسانی ہے(6) پس جب آپ فارغ ہو جائیں تو محنت کیجیے(7) اور اپنے رب کی طرف، پس رغبت کیجیے(8) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [4-1] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسولﷺ پر اپنے احسان کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿اَلَمۡ نَشۡرَحۡ لَكَ صَدۡرَكَ﴾ یعنی شرائع دین، اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے، مکارم اخلاق سے متصف ہونے، آخرت کو مدنظر رکھنے اور نیکیوں …
فَإِذَا فَرَغْتَ فَانصَبْ وَإِلَىٰ رَبِّكَ فَارْغَب (So when you are free [ from collective services ], exert yourself [ in worship ], and towards your Lord turn with eagerness....94:8). The Holy Prophet ﷺ is commanded in these verses that when he has finished his day's work of teaching and training his followers and other temporal affairs, he should turn to Allah as ever with all his heart, that is, prayers, remembrance of Allah, supplication and seeking Allah's pardon. This is the interpretation assigned to this verse by most commentators. Some scholars have interpreted it differently …
فارغ ہونے سے مراد اپنے مشاغل سے فارغ ہونا ہے ، خواہ وہ دعوت و تبلیغ کے مشاغل ہوں یا اسلام قبول کرنے والوں کی تعلیم و تربیت کے مشاغل، یا اپنے گھر بار اور دنیوی کاموں کے مشاغل ۔ حکم کا منشا یہ ہے کہ جب کوئی اور مشغولیت نہ رہے تو اپنا فارغ وقت عبادت کی ریاضت و مشقت میں صرف کرو اور ہر طرف سے توجہ ہٹا کر صرف اپنے ربّ کی طرف متوجہ ہو جاؤ۔
So when you have finished (your duties): When you are free from other occupations, whether occupations in connection with the preaching of divine message, or teaching and training of the new converts, or domestic occupations of mundane nature. The commandment means: When you are no more occupied, you should spend your time in the labor and toil of Allah’s worship and turn all your attention exclusively to your Lord.
وإلى ربك فارغب - 8. (بيان) أمر بالنصب في الله والرغبة إليه توصل إليه بتقدمة الامتنان والسورة تحتمل المكية والمدنية وسياق آياتها أوفق للمدنية. وفي بعض الروايات عن أئمة أهل البيت عليهم السلام أن الضحى وألم نشرح سورة [vol 20 p.313] واحدة، ويروى ذلك أيضا عن طاوس وعمر بن عبد العزيز قال الرازي في التفسير الكبير بعد نقله عنهما: والذي دعاهما إلى ذلك هو أن قوله تعالى: " ألم نشرح لك " كالعطف على قوله: " ألم يجدك يتيما " وليس كذلك لان الأول كان نزوله حال اغتمام الرسول صلى الله عليه وآله وسلم من إيذاء الكفار فكانت حال محنة وضيق صدر، والثاني يقتضي أن يكون حال النزول منشرح الصدر طيب القلب فأنى يجتمعان …
وبعد هذا التعديد لتلك النعم العظيمة ، أمر الله - تعالى - نبيه صلى الله عليه وسلم فى الاجتهاد فى العبادة فقال - تعالى - : ( فَإِذَا فَرَغْتَ فانصب وإلى رَبِّكَ فارغب ) .وأصل الفراغ خول الإِناء مما بداخله من طعام أو غيره ، والمراد به هنا الخلو من الأعمال التى تشغل الإِنسان ، والنصب : التعب والاجتهاد فى تحصيل المطلوب .أى : فإذا فرغت - أيها الرسول الكريم - من عمل من الأعمال ، فاجتهد فى مزاولة عمل آخر من الأعمال التى تقربك من الله - تعالى - ، كالصلاة ، والتهجد ، وقراءة القرآن الكريم .واجعل رغبتك فى جميع أعمالك وعباداتك ، من أجل إرضاء ربك ، لا من أجل شئ آخر ، فهو وحده القادر على إبلاغك ما تريد …
The Prophet Muhammad went tirelessly in the quest of knowledge about reality and Truth. God blessed him with this knowledge, which opened his heart to the deep realisation of Truth (ma‘rifah). Then he started preaching the oneness of God in Makkah, where he had to face stiff opposition, but it was thanks to this opposition, that he became known throughout the country. This is God’s law in the present world. Hence, a man has to face difficult conditions (‘usr) in the beginning, but if he perseveres with patience, this ‘usr or hardship becomes a stepping stone to new and easy circumstances …
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حقیقت جاننے کے لیے تڑپ رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حقیقت کا علم دے کر آپ کی تلاش کو معرفت میں تبدیل کردیا۔ حقائق کی معرفت کے لیے آپ کا سینہ کھل گیا۔ پھر آپ نے مکہ میں توحید کی دعوت شروع کی تو بظاہر سخت مخالفتوں کا سامنا پیش آیا۔ مگر انہیں مخالفتوں کے ذریعہ یہ ہوا کہ آپ کا چرچا سارے ملک میں پھیل گیا۔ یہی موجودہ دنیا کے لیے اللہ کا قانون ہے۔ یہاں ابتداء ً انسان کے ساتھ عسر کے حالات پیش آتے ہیں۔ لیکن اگر وہ صبر کے ساتھ اس پر جما رہے تو یہ عسر اس کے لیے نئے یسر تک پہنچنے کا زینہ بن جاتا ہے۔ اس لیے انسان کو چاہيے کہ وہ ہمیشہ اللہ کی طرف دیکھے، وہ اپنی استطاعت …
وَإِلَى رَبِّكَ فَارْغَبْ (8)عُطِفَ على تفريع الأمر بالشكر على النعم أمر بطلب استمرار نعم الله تعالى عليه كما قال تعالى : { لئن شكرتم لأزيدنكم } [ إبراهيم : 7 ] .والرغبة : طلب حصول ما هو محبوب وأصله أن يعدى إلى المطلوب منه بنفسه ويعدى إلى الشيء المطلوب ب ( في ) . ويقال : رغب عن كذا بمعنى صرَف رغبتهُ عنه بأن رغب في غيره وجُعل منه قوله تعالى : { وترغبون أن تنكحوهن } [ النساء : 127 ] بتقدير حرف الجر المحذوف قبل حرف ( أنْ ) هو حرف ( عَن ) . وذلك تأويل عائشة أم المؤمنين كما تقدم في سورة النساء .وأما تعدية فعل { فارغب } هنا بحرف { إلى } فلتضمينه معنى الإِقبال والتوجه تشبيهاً بسير السائر إلى من عنده …
Ali bin Abi Talib narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“The stingy person is the one before whom I am mentioned, and he does not send Salat upon me.”
al-Amali · no. 910the SAME duty in the other tradition, on the same raised name
20 - قال: وقال رسول الله (صلى الله عليه وآله): من ذكرت عنده فلم يصل علي فدخل النار، فأبعده الله عز وجل من رحمته (3).
He said: And the Messenger of Allah (s) said: Whoever does not bless me when I am mentioned in his presence will enter the Fire. Allah will have detached him from His mercy.
Sahih al-Bukhari · no. 34994:1's own image reported as an event: the chest opened, washed, and wisdom and faith poured into it
Narrated Abu Dhar:Allah's Messenger (ﷺ) said, "While I was at Mecca the roof of my house was opened and Gabriel descended, opened my chest, and washed it with Zamzam water. Then he brought a golden tray full of wisdom and faith and having poured its contents into my chest, he closed it. Then he took my hand and ascended with me to the nearest heaven, when I reached the nearest heaven, Gabriel said to the gatekeeper …
al-Amali · no. 1005what the other tradition holds about this sura's boundaries: al-Duha and Alam Nashrah count as ONE sura, so neither may stand alone in an obligatory rak'a
والقراءة في الاوليين من الفريضة الحمد وسورة، ولا تكون من العزائم التي يسجد فيها، وهي سجدة لقمان، وحم السجدة، والنجم، وسورة (اقرأ باسم ربك)، ولا تكون السورة أيضا (لا يلاف)، أو (ألم تر كيف)، أو (والضحى)، أو (ألم نشرح)، لان (لا يلاف) و (ألم تر) سورة واحدة، و (والضحى) و (ألم نشرح) سورة واحدة، فلا يجوز التفرد بواحدة منها في ركعة فريضة، فمن أراد أن يقرأ بها في الفريضة فليقرأ (لايلاف) و (ألم تر) في ركعة، و (الضحى) و (ألم نشرح) في ركعة، ولا يجوز القرآن بين سورتين …
The qira’at in the first two [units] of the obligatory prayer is al-Hamd and a surah. It is not to be of the `aza’im in which one does sujud. And they are: sajda Luqman (32), hameem as-sajda (41), an-najm (53) and sura iqra bismi rabbika (96); and the sura is also not to be li-eelafi (106) or alam tara kayfa (105) or wa ‘d-duha (93) or alam nashrah (94) for li-eelafi and alam tara kayfa are a single sura, and wa …
Ash-Sharh — 8 āyāt, the canonical Kūfan count. One agreed reading per āyah, taken from 35 commentaries (d.923–2021) and 210 quotations, each checked against its own edition before this page could be written. Arabic: Uthmānī from Tanzil. Corpus fingerprint 62fb6cccf664b21e — run python verify_corpus.py against the same sources to confirm it.