The gold block is the tafsīr — what the āyah says, as the commentaries take it, oldest first, all together. Nothing is retyped: every quotation is cut from its edition by machine and checked against the source before this page may be written.
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
the sūrah opens with the basmala; in this numbering it is not counted as an āyah
Al-'Adiyat 100 : 1
وَٱلْعَٰدِيَٰتِضَبْحًا
waal'aadiyaati dabhana
plays offline — the recitation is inside this file
PickthallBy the snorting courses,
Yusuf AliBy the (Steeds) that run, with panting (breath),
Muhammad Junagarhiہانپتے ہوئے دوڑنے والے گھوڑوں کی قسم![1]
al-Muyassarتسمية السورة • سميت العاديات؛ لافتتاحها بقَسَم الله بالعاديات، وهي: الخيل الجاريات في الجهاد في سبيل الله. من مقاصد السورة • بيان جحود الإنسان وكفرانه نعمَ الله عليه، وحبِّه الشديد للمال، ووعظُ الناس بما وراءهم من حسابٍ على أعمالهم بعد الموت؛ تذكيرًا للمؤمن وتهديدًا للجاحد. [التفسير] أقسم الله تعالى بالخيل الجاريات في سبيله نحو العدوِّ، حين يظهر صوت أنفاسها من سرعة عَدْوِها. ولا يجوز للمخلوق أن يقسم إلا بالله؛ فإن القسم بغير الله شرك.
the agreed readingBy the runners, snorting. Both traditions take the runners as horses on a raid, and gloss the second word as the sound driven out of them as they run. The sura is named from this first oath.
اللہ تعالیٰ ”عادیات“ یعنی تیز دوڑنے والے گھوڑوں کی قسم کھاتا ہے۔ ”ضَبْح“ اُس سانس کی آواز کو کہتے ہیں جو تیز دوڑنے کی وجہ سے ان کے سینوں سے نکلتی ہے۔ یہ مجاہدین کے وہ گھوڑے ہیں جو انہیں لے کر اللہ کی راہ میں دوڑتے ہیں؛ ان کی قسم اُن کی اور اُس کام کی عظمت جتانے کے لیے کھائی گئی جس میں وہ کھپتے ہیں۔
أقسم الله بالخيل العادية، أي الجارية المسرعة. و«الضَّبْح» صوت أنفاسها يُسمع من أجوافها من شدة العَدْو. وهي خيل المجاهدين تجري بهم في سبيل الله، فأقسم بها تنويهًا بشأنها وبما تُبذل فيه.
No Shīʿī edition could be anchored to this āyah by the alignment; the commentary exists in the books, the method could not point at it.
مكية، وقيل مدنية، وآياتها 11 [نزلت بعد العصر] بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ أقسم بخيل الغزاة تعدو فتضبح. والضبح: صوت أنفاسها إذا عدون. وعن ابن عباس أنه حكاه فقال: أح أح. قال عنترة: والخيل تكدح حين تضبح في حياض الموت ضبحا [[الكدح: الجد في العدو، والضبح: إخراج النفس بصوت غير الصهيل والحمحمة. وحكاه ابن عباس في التفسير فقال: أح أح، وشبه الموت بالسيل على طريق المكنية، والحياض تخييل لذلك.]] وانتصاب ضبحا على: يضبحن ضبحا، أو بالعاديات، كأنه قيل: والضابحات، لأن الضبح يكون مع العدو [[قال محمود: «أقسم بخيل الغزاة تعدو فتضبح والضبح صوت أنفاسها ... الخ» قال أحمد: ولم يذكر حكمة الإتيان بالفعل معطوفا …
Fakhr al-Din al-Razid.1210 · ar · PD
صفحة ٦٠ (سُورَةُ العادِياتِ) إحْدى عَشْرَةَ آيَةً مَكِّيَّةٌ ﷽ ﴿والعادِياتِ ضَبْحًا﴾ قَوْلُهُ تَعالى ﴿والعادِياتِ ضَبْحًا﴾ . اعْلَمْ أنَّ الضَّبْحَ أصْواتُ أنْفاسِ الخَيْلِ إذا عَدَتْ، وهو صَوْتٌ لَيْسَ بِصَهِيلٍ ولا حَمْحَمَةٍ، ولَكِنَّهُ صَوْتُ نَفَسٍ، ثُمَّ اخْتَلَفُوا في المُرادِ بِالعادِياتِ عَلى قَوْلَيْنِ: الأوَّلُ: ما رُوِيَ عَنْ عَلِيٍّ - عَلَيْهِ السَّلامُ - وابْنِ مَسْعُودٍ أنَّها الإبِلُ، وهو قَوْلُ إبْراهِيمَ والقُرَظِيِّ رَوى سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبّاسٍ قالَ: ”بَيْنا أنا جالِسٌ في الحِجْرِ إذْ أتانِي رَجُلٌ فَسَألَنِي عَنِ العادِياتِ ضَبْحًا، فَفَسَّرْتُها …
ہوا اس لڑائی میں ہمارے ساتھ صرف دو گھوڑے تھے ایک شخص حضرت زبیر ؓ کا دوسرا حضرت مقداد ؓ کا تو عادیات ضبحا یہ کیسے ہوسکتے ہیں اس سے مراد تو عرفات سے مزدلفہ کی طرف جانے والے اور پھر مزدلفہ سے منیٰ کی طرف جانے والے ہیں حضرت عبدالہل فرماتے ہیں یہ سن کر میں نے اپنے اگلے قول سے رجوع کرلیا اور حضرت علی نے جو فرمایا تھا وہی کہنے لگا مزدلفہ میں پہنچ کر حاجی بھی اپنی ہنڈیا روٹی کے لیے آگ سلگاتے ہیں، غرض حضرت علی کا فرمان یہ ہوا کہ اس سے مراد اون ٹ ہیں اور یہی قول ایک جماعت کا ہے جن میں ابراہیم عبید بن عمیر وغیرہ ہیں اور حضرت ابن عباس سے گھوڑے مروی ہیں مجاہد، عکرمہ، عطاء قتادہ اور ضحاک بھی یہی کہتے ہیں …
By the chargers, the steeds that charge in attack and snort [with a], snorting — this being the [name of the] sound which they emit from inside them when they charge;
وهي مكية بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ {1} أقسم [الله تبارك و] تعالى بالخيل؛ لما فيها من آياتِه الباهرة ونعَمِه الظَّاهرة ما هو معلومٌ للخلق، وأقسم تعالى بها في الحال التي لا يشاركُها فيه غيرها من أنواع الحيوانات، فقال:{والعادياتِ ضَبۡحاً}؛ أي: العاديات عدواً بليغاً قويًّا يصدر عنه الضَّبحُ، وهو صوت نَفَسها في صدرها عند اشتداد عَدْوها. {2}{فالمورياتِ}: بحوافرهنَّ ما يطأنَ عليه من الأحجار، {قَدۡحاً}؛ أي: تنقدح النار من صلابة حوافرهنَّ وقوتهنَّ إذا عَدَوْنَ. {3}{فالمغيراتِ}: على الأعداء، {صبحاً}: وهذا أمرٌ أغلبيٌّ أنَّ الغارة تكون صباحاً. {4 ـ 5}{فأثرنَ به}؛ أي: بعدوهنَّ وغارتهنَّ …
کی قسم کھائی ہے کیونکہ ان کے اندر اللہ تعالیٰ کی روشن اور نمایاں نشانیاں اور ظاہری نعمتیں ہیں جو تمام خلائق کو معلوم ہیں، اور اللہ تعالیٰ نے گھوڑوں کی ان کے اس حال میں قسم کھائی جس حال میں حیوانات کی تمام انواع میں سے کوئی حیوان ان کے ساتھ مشارکت نہیں کر سکتا۔ فرمایا:﴿ وَالۡعٰدِيٰؔتِ ضَبۡحًا﴾ یعنی بہت قوت کے ساتھ دوڑنے والے گھوڑوں کی قسم جبکہ ان سے ہانپنے کی آواز آرہی ہو۔ اَلضَّبْحُ گھوڑوں کے سانس کی آواز جو تیز دوڑتے وقت ان کے سینوں سے نکلتی ہے۔ [2]﴿ فَالۡمُوۡرِيٰتِ ﴾ پھر آگ جھاڑنے والوں کی اپنے سموں سے پتھروں پر ﴿ قَدۡحًا﴾ ’’ ٹاپ مار کر‘‘ یعنی جب وہ گھوڑے دوڑتے ہیں تو ان کے سموں کی سختی …
اللہ تعالیٰ یہاں سواروں کے دستے کی قسم اٹھاتے ہیں۔ ان کی ایک ایک جنگی حرکت کو ترتیب کے ساتھ لایا جاتا ہے۔ جب یہ دستہ اپنے حملے کا آغاز کرتا ہے اور تیز رفتاری کے ساتھ منزل کی طرف بڑھتا ہے۔ گھوڑے پھنکارمارتے آگے جارہے ہیں۔ یہ اپنے سموں سے پتھروں سے چنگاڑیاں نکالتے جاتے ہیں۔ پھر عین صبح کے وقت یہ دشمن پر ٹوٹ پڑتے ہیں ، یہ حملہ نہایت سرعت کے ساتھ ہوتا ہے اور اچانک ہوتا ہے۔ حملہ کے وقت گھوڑوں کی بھگدڑ سے غبار اڑتا ہے۔ کیونکہ دشمن حملے کے لئے تیار نہیں ہوتا اور اس کی حرکات غیر مرتب ہیں ، جب یہ دستہ دشمن کی صفوں میں خلاف توقع جاگھستا ہے تو سخت انتشار و اضطراب برپا ہوجاتا ہے۔ یہ کسی بھی حملہ کے وہ پے …
رحمۃ اللہ علیہم Surah Al-` Adiyat was revealed in Makkah and, according to Sayyidna Ibn ` Abbas, Anas ؓ ، Imam Malik and Qatadah رحمۃ اللہ علیہما ، the Surah was revealed in Madinah. [ Qurtubi ]. In this Surah Allah describes the special features of war-horses or chargers, and swears by them. The subject of the oath states that man is very ungrateful to his Lord. It has been explained time and again previously that it is the prerogative of Allah to swear oath by any of his creatures to recount an event or set down ordinances. It is not permitted for any of the human beings to take oath by any …
آیت کے الفاظ میں یہ تصریح نہیں ہے کہ دَوڑنے والوں سے مراد گھوڑے ہیں ، بلکہ صرف وَالْعٰدِیٰت (قسم ہے دوڑنے والوں کی) فرمایا گیا ہے۔ اسی لیے مفسّرین کے درمیان اس باب میں اختلاف ہوا ہے کہ دوڑنے والوں سے مراد کیا ہے۔ صحابہ و تابعین کا ایک گروہ اِس طرف گیا ہے کہ اس سے مراد گھوڑے ہیں ،اور ایک دوسرا گروہ یہ کہتا ہے کہ ا س سے مراد اونٹ ہیں ۔ لیکن چونکہ دوڑتے ہوئے وہ خاص قسم کی آواز جسے ضَبْح کہتے ہیں، گھوڑوں ہی کی شدّتِ تنفُّس سے نکلتی ہے، اور بعد کی آیات بھی جن میں چنگاریاں جھاڑنے اور صبح سویرے کسی بستی پر چھاپہ مارنے اور وہاں گرد اُڑانے کا ذکر آیا ہے ، گھوڑوں ہی پر راست آتی ہیں، اس لیے اکثر محققین …
There is no indication in the words of the verse to show whether those who run imply the horses; only the word wal-adiyat (by, those who run) has been used. That is why the commentators have disputed as to what is implied by those who run. One section of the companions and their immediate successors has been to think that it implies the horses; another section says that it implies the camels. But since the peculiar sound called dabh is produced only by the panting, snorting horses, and the following verses also in which mention has been made of striking sparks and raiding a settlement early …
العاديات : جمع عادية ، اسم فاعل من العدو ، وهو المشى السريع ، وأصل الياء فى العاديات واو ، فلما وقعت متطرفة بعد كسرة قلبت ياء ، مثل الغازيات من الغزو .والضَّبْح : اضطراب النَّفَسِ المتردد فى الحنجرة دون أن يخرج من الفم ، والمراد به هنا : صوت أنفاس الخيل عند جريها بسرعة . وقيل : الضج نوع من السير والعدو ، يقال : ضَبَحَتْ الخيل ، إذا عدَتْ بشدة . وهو مصدر منصوب بفعله المقدر ، أى : يضبحن ضحبا ، والجملة حال من " العاديات " .
وَالْعَادِيَاتِ ضَبْحًا (1) أقسم الله ب { العاديات } جمع العادية ، وهو اسم فاعل من العَدْو وهو السيْر السريع يطلق على سير الخيل والإِبل خاصة .وقد يوصف به سير الإِنسان وأحسب أنه على التشبيه بالخيل ومنه عَدَّاؤو العرب ، وهم أربعة : السُّلَيْك بن السُّلَكَة ، والشَّنْفَرى ، وتَأَبَّطَ شَرّاً ، وعَمْرو بن أمية الضّمْري . يضرب بهم المثل في العَدْو .وتأنيث هذا الوصف هنا لأنه من صفات ما لا يعقل .والضَّبح : اضطراب النفَس المتردد في الحنجرة دون أن يخرج من الفم وهو من أصوات الخيل والسباع . وعن عطاء : سمعت ابن عباس يصف الضبح أحْ أحْ .وعن ابن عباس ليس شيء من الدواب يضبح غير الفرس والكلْب والثعلب ، وهذا …
تسمية السورة • سميت العاديات؛ لافتتاحها بقَسَم الله بالعاديات، وهي: الخيل الجاريات في الجهاد في سبيل الله. من مقاصد السورة • بيان جحود الإنسان وكفرانه نعمَ الله عليه، وحبِّه الشديد للمال، ووعظُ الناس بما وراءهم من حسابٍ على أعمالهم بعد الموت؛ تذكيرًا للمؤمن وتهديدًا للجاحد. [التفسير] أقسم الله تعالى بالخيل الجاريات في سبيله نحو العدوِّ، حين يظهر صوت أنفاسها من سرعة عَدْوِها. ولا يجوز للمخلوق أن يقسم إلا بالله؛ فإن القسم بغير الله شرك.
عَادِيَاتٌ، عَادِيَةٌ کی جمع ہے۔ یہ عَدُوٌّ سے ہے جیسے غَزْوٌ ہے۔ غَازِيَاتٌ کی طرح اس کے واو کو بھی یا سے بدل دیاگیا ہے۔ تیز رو گھوڑے۔ ضَبْحٌ کے معنی بعض کے نزدیک ہانپنا اور بعض کے نزدیک ہنہنانا ہے۔ مراد وہ گھوڑے ہیں جو ہانپتے یا ہنہناتے ہوئےجہاد میں تیزی سے دشمن کی طرف دوڑتے ہیں
And from his narration on the authority of Ibn 'Abbas that he said about the interpretation of Allah's saying (By the snorting courses): '(By the snorting courses) the Prophet (pbuh) had sent a military expedition to Banu Kinanah and was quite aggrieved because he did not hear their news for a while. Allah therefore informed His Prophet about this expedition in the form of an oath, saying (By the snorting courses) He says: Allah swears by the horses of the conquerors, whose breaths are audible because of the enemies,
No commentary keyed to this āyah in: Bayan ul Quran (Urdu), Jawāmiʿ al-jāmiʿ (al-Ṭabrisī), Majmaʿ al-bayān (al-Ṭabrisī), Nūr al-thaqalayn (al-Ḥuwayzī), Tafsir-e-Usmani (Urdu), Tafsīr al-Qummī, Tazkirul Quran (English), al-Mīzān (Ṭabāṭabāʾī), al-Tibyān (al-Ṭūsī), al-Ṣāfī (Fayḍ al-Kāshānī).
the words of this āyah — root, frequency, family
و
occurs 9594 timesamong the commonest 300 words
ال
occurs 8377 timesamong the commonest 300 words
عادِيَة
occurs ONCE in the whole Qurʾānroot عدو occurs 106
عَدُوّ50اعْتَدَى15عُدْوان8عاد6مُعْتَدي6عَداوَة6
ضَبْح
occurs ONCE in the whole Qurʾānroot ضبح occurs 1
this āyah in 55 languages — 74 translations
Akan Harun Ismail · v1.0.3
Mede (apͻnkͻ a wɔrekͻ sa) na wͻretu mmirika home tehyetehye no di nse,
Azərbaycan Ali Khan Musayev · v1.0.4
And olsun tövşüyərək qaçan atlara!
Bahasa Indonesia Ministry of Religious Affairs · v1.0.1
Demi kuda perang yang berlari kencang terengah-engah,
Bahasa Indonesia Sabiq Company · v1.1.3
1. Demi kuda perang yang berlari kencang terengah-engah,
Bahasa Indonesia The Complex · v1.0.1
Demi kuda perang yang berlari kencang dengan terengah-engah,
Bosanski Muhammad Mahanovic · v1.1.0
Tako mi onih koji dahćući jure,
Bosanski Rowwad Translation Centre · v2.0.4
Tako mi onih koji dahćući jure,
Cebuano Rowwad Translation Center · v1.1.3
Ako (Dios) nanumpa sa mga (kabayo nga) tigdagan uban sa paghangos (nagdala sa mga manggugubat),
Deutsch Frank Bubenheim · v1.1.4
Bei den schnaubend Rennenden,
Deutsch Rowwad Translation Center · v1.0.15
Bei den schnaubend rennenden (Pferden),
English Hilali and Khan · v1.1.2
1. By the (steeds) that run, with panting.
English Noor International Center · v1.1.2
By the racers, panting,[1967]
English Rowwad Translation Center · v1.0.19
By the galloping, panting horses[1],
Español Isa Garcia · v1.0.2
1. Juro por los corceles que se lanzan relinchando
Español Noor International Center · v1.0.1
(Juro) por los caballos que resoplan cuando galopan (dirigiéndose hacia la batalla),
Español issued by Noor International · v1.0.1
(Juro) por los caballos que resoplan cuando galopan (dirigiéndose hacia la batalla),
Français Noor International Center · v1.0.0
1. Par les coursiers haletant,
Français Rachid Maach · v1.0.3
Par les chevaux au galop haletant
Fulfulde Rowwad Translation Center · v1.0.2
Mi wooɗndirii pucci dogooji.
Hausa Abu Bakr Jumi · v1.2.2
Ina rantsuwa da dawãki mãsu gudu suna fitar da kũkan ciki.
Hrvatski Rowwad Translation Center · v1.0.1
Tako mi onih koji dahćući jure,
Kinyarwanda Rwanda Muslim Association · v1.0.5
Ndahiye amafarasi yiruka cyane avuza imirindi,
Kirundi Yusuf Gahiti · v1.0.4
Jewe Allah, Ndarahiye kw’ifarasi zirukanga zihezuka mu gutera umwansi ku rugamba rwo guharanira Imana Allah!
plays offline — the recitation is inside this file
PickthallStriking sparks of fire
Yusuf AliAnd strike sparks of fire,
Muhammad Junagarhiپھر ٹاپ مار کر آگ جھاڑنے والوں کی قسم![1]
al-Muyassarفالخيلِ اللاتي تنقدح النار من صلابة حوافرها؛ لشدَّة عَدْوها.
the agreed readingStriking sparks. The commentaries gloss it of hooves throwing fire as they strike stony ground, so that the oaths keep to one scene and move through it in order.
”فَالْمُوْرِیٰتِ قَدْحًا“ یعنی وہ جو اپنے سموں سے پتھروں پر ٹاپ مار کر آگ نکالتے ہیں۔ ”اِیْرَاء“ آگ نکالنے کو کہتے ہیں اور ”قَدْح“ ایک چیز کو دوسری پر مارنے کو تاکہ چنگاری نکلے۔ ان کی دوڑ کی شدت اور سموں کے چٹانوں سے ٹکرانے سے چنگاریاں اڑتی ہیں۔
فالمورياتِ قدحًا، أي التي تُخرج النار بحوافرها إذا صكَّت بها الحجارة. والإيراء إخراج النار، والقدح ضربُ الشيء بالشيء ليخرج الشرر. فمن شدة عَدْوها واصطكاك حوافرها بالصخر يتطاير الشرر منها.
No Shīʿī edition could be anchored to this āyah by the alignment; the commentary exists in the books, the method could not point at it.
لى الحال، أى: ضابحات فَالْمُورِياتِ تورى نار الحباحب [[قوله «توري نار الحباحب» الحباحب: اسم رجل بخيل كان لا يوقد إلا نارا ضعيفة مخافة الضيفان، فضربوا به المثل حتى قالوا: نار الحباحب: لما تقدحه الخيل بحوافرها. اه من الصحاح. (ع)]] وهي ما ينقدح من حوافرها قَدْحاً قادحات صاكات بحوافرها الحجارة. والقدح. الصك. والإيراء. إخراج النار. تقول. قدح فأورى، وقدح فأصلد [[قوله «فأصلد» في الصحاح: صلد الزند، إذا صوت ولم يخرج ثارا، وأصلد الرجل: أى صلد زنده اه. (ع)]] ، وانتصب قدحا بما انتصب به ضبحا فَالْمُغِيراتِ تغير على العدو صُبْحاً في وقت الصبح فَأَثَرْنَ بِهِ نَقْعاً فهيجن بذلك الوقت غبارا فَوَسَطْنَ بِهِ …
انسان کا نفسیاتی تجزیہ :مجاہدین کے گھوڑے جبکہ اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے ہانپتے اور ہنہاتے ہوئے دوڑتے ہیں ان کی اللہ تبارک و تعالیٰ قسم کھاتا ہے پھر اس تیزی میں دوڑتے ہوئے پتھروں کے ساتھ ان کے نعل کا ٹکرانا اور اس رگڑ سے آگ کی چنگاڑیاں اڑنا پھر صبح کے وقت دشمن پر ان کا چھاپہ مارنا اور دشمنان رب کو تہہ وبالا کرنا آنحضرت ﷺ کی یہی عادت مبارک تھی کہ دشمن کی کسی بستی پر آپ جاتے تو وہاں رات کو ٹھہر کر کام لگا کر سنتے اگر اذان کی آواز آگئی تو آپ رک جاتے نہ آتی تو لشکر کو حکم دیتے کہ بزن بول دیں پھر ان گھوڑوں کا گردو غبار اڑانا اور ان سب کا دشمنوں کے درمیان گھس جانا ان سب چیزوں کی قسم کھا کر پھر …
Tafsir al-Jalalaynd.1505 · ar · PD
فالمُورِيات﴾ الخَيْل تُورِي النّار ﴿قَدْحًا﴾ بِحَوافِرِها إذا سارَتْ فِي الأَرْض ذات الحِجارَة بِاللَّيْلِ
وهي مكية بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ {1} أقسم [الله تبارك و] تعالى بالخيل؛ لما فيها من آياتِه الباهرة ونعَمِه الظَّاهرة ما هو معلومٌ للخلق، وأقسم تعالى بها في الحال التي لا يشاركُها فيه غيرها من أنواع الحيوانات، فقال:{والعادياتِ ضَبۡحاً}؛ أي: العاديات عدواً بليغاً قويًّا يصدر عنه الضَّبحُ، وهو صوت نَفَسها في صدرها عند اشتداد عَدْوها. {2}{فالمورياتِ}: بحوافرهنَّ ما يطأنَ عليه من الأحجار، {قَدۡحاً}؛ أي: تنقدح النار من صلابة حوافرهنَّ وقوتهنَّ إذا عَدَوْنَ. {3}{فالمغيراتِ}: على الأعداء، {صبحاً}: وهذا أمرٌ أغلبيٌّ أنَّ الغارة تكون صباحاً. {4 ـ 5}{فأثرنَ به}؛ أي: بعدوهنَّ وغارتهنَّ …
کی قسم کھائی ہے کیونکہ ان کے اندر اللہ تعالیٰ کی روشن اور نمایاں نشانیاں اور ظاہری نعمتیں ہیں جو تمام خلائق کو معلوم ہیں، اور اللہ تعالیٰ نے گھوڑوں کی ان کے اس حال میں قسم کھائی جس حال میں حیوانات کی تمام انواع میں سے کوئی حیوان ان کے ساتھ مشارکت نہیں کر سکتا۔ فرمایا:﴿ وَالۡعٰدِيٰؔتِ ضَبۡحًا﴾ یعنی بہت قوت کے ساتھ دوڑنے والے گھوڑوں کی قسم جبکہ ان سے ہانپنے کی آواز آرہی ہو۔ اَلضَّبْحُ گھوڑوں کے سانس کی آواز جو تیز دوڑتے وقت ان کے سینوں سے نکلتی ہے۔ [2]﴿ فَالۡمُوۡرِيٰتِ ﴾ پھر آگ جھاڑنے والوں کی اپنے سموں سے پتھروں پر ﴿ قَدۡحًا﴾ ’’ ٹاپ مار کر‘‘ یعنی جب وہ گھوڑے دوڑتے ہیں تو ان کے سموں کی سختی …
فَوَسَطْنَ بِهِ جَمْعًا (then enter, at the same time, into the centre of the [ opposing ] host) In other words, they penetrate into the centre of the enemy forces without the least degree of fear. The word kanud, (100:6) according to Hasan Basri (رح) ، refers to the one who counts the calamities that befall him, and forgets Allah's favours. Abu Bakr Wasiti said that kanud is the one who spends the bounties of Allah for sinful purposes. Tirmidhi said that kanud is the one who looks at the bounty, and not at the Bounteous Lord. In short, all these interpretations lead to the sense of …
والموريات : جمع مُورِيَة ، اسم فاعل من الإِيراء ، وهو إخراج النار ، تقول : أَوْرَى فلان ، إذا أخرج النار بزند ونحوه .والقَدْح : ضَرْب شىءٍ لكى يخرج من بينهما شرر النار .والمراد به هنا : النار التى تخرج من أثر احتكاك حوافر الخيل بالحجارة خلال عدوها بسرعة .
آیت 2{ فَالْمُوْرِیٰتِ قَدْحًا۔ } ”پھر وہ ُ سم مار کر چنگاریاں نکالتے ہیں۔“ جب سرپٹ دوڑتے ہوئے گھوڑوں کے سم کسی پتھر وغیرہ سے ٹکراتے ہیں تو ان سے چنگاریاں نکلتی دکھائی دیتی ہیں۔
فَالْمُورِيَاتِ قَدْحًا (2) والقَدْح : حكّ جسم على آخر ليقدح ناراً ، يقال : قدح فأورَى . وانتصب { قدحا } على أنه مفعول مطلق مُؤكّد لعامله . وكل من سنابك الخيل ومناسم الإِبل تقدح إذا صَكَّت الحجر الصَّوَّان ناراً تسمى نار الحُباحب ، قال الشنفرى يشبِّه نفسه في العدو ببعير: ... إذا الأمْعَز الصَّوَّان لاقَى مَناسميتَطَايَر منه قَادح ومُفلَّل ... وذلك كناية عن الإِمعان في العدو وشدة السرعة في السير .ويجوز أن يراد قَدح النيرَان بالليل حين نزولهم لحاجتهم وطعامهم ، وجُوز أن يكون { الموريات قدحاً } مستعار لإِثارة الحرب لأن الحرب تشبَّه بالنار . قال تعالى : { كلما أوقدوا ناراً للحرب أطفأها اللَّه } [ …
مُورِيَاتٌ، إِيرَاءُ سے ہے۔ آگ نکالنے والے۔ قَدْحٌ کے معنی ہیں۔ صَكٌّ چلنے میں گھٹنوں یا ایڑیوں کا ٹکرانا، یا ٹاپ مارنا۔ اسی سے قَدْحٌ بِالزِّنَادِ ہے۔ چقماق سے آگ نکالنا۔ یعنی ان گھوڑوں کی قسم جن کی رگڑ سے پتھروں سے آگ نکلتی ہے، جیسے چقماق سے نکلتی ہے۔
(Striking sparks of fire) with their hooves, but this fire is as beneficial as the Fire of Abu Hubahib. The latter was one of the stingiest Arabs in camp. He never lit any fire to make bread for himself or for anyone else until everybody went to sleep, and whenever someone woke up he hurried to put the Fire out so that no one would benefit from it.
No commentary keyed to this āyah in: Fi Zilal al-Quran (Urdu), Jawāmiʿ al-jāmiʿ (al-Ṭabrisī), Majmaʿ al-bayān (al-Ṭabrisī), Nūr al-thaqalayn (al-Ḥuwayzī), Tafsīr al-Qummī, Tazkirul Quran (English), al-Mīzān (Ṭabāṭabāʾī), al-Tibyān (al-Ṭūsī), al-Ṣāfī (Fayḍ al-Kāshānī).
the words of this āyah — root, frequency, family
ف
occurs 3001 timesamong the commonest 300 words
ال
occurs 8377 timesamong the commonest 300 words
مُورِيَة
occurs ONCE in the whole Qurʾānroot وري occurs 32
وَراء24وُۥرِيَ4تَوارَتْ2تُورُ1مُورِيَة1
قَدْح
occurs ONCE in the whole Qurʾānroot قدح occurs 1
this āyah in 55 languages — 74 translations
Akan Harun Ismail · v1.0.3
Ne wͻn tͻte a (etia εboͻ so a), na ate gya no nso di nse.
Azərbaycan Ali Khan Musayev · v1.0.4
And olsun (dırnaqları ilə) qığılcım çıxaran atlara!
Bahasa Indonesia Ministry of Religious Affairs · v1.0.1
dan kuda yang memercikkan bunga api (dengan pukulan kuku kakinya),
Bahasa Indonesia Sabiq Company · v1.1.3
2. dan kuda yang memercikkan bunga api (dengan pukulan kuku kakinya),
Bahasa Indonesia The Complex · v1.0.1
dan kuda yang mencetuskan api dengan pukulan (kuku kakinya),
Bosanski Muhammad Mahanovic · v1.1.0
pa varnice frcaju
Bosanski Rowwad Translation Centre · v2.0.4
pa varnice vrcaju,
Cebuano Rowwad Translation Center · v1.1.3
Ug pinaagi niadtong nagpatunghag tuasik sa kalayo pinaagi sa ilang mga kuko (sa dihang nagasikad sa pagdagan),
Deutsch Frank Bubenheim · v1.1.4
den (mit ihren Hufen) Funken Schlagenden,
Deutsch Rowwad Translation Center · v1.0.15
(und bei) den (mit ihren Hufen) funkenschlagenden (Pferden),
English Hilali and Khan · v1.1.2
2. Striking sparks of fire (by their hooves).
English Noor International Center · v1.1.2
And the producers of sparks [when] striking[1968]
English Rowwad Translation Center · v1.0.19
striking sparks of fire [with their hooves][2],
Español Isa Garcia · v1.0.2
2. y arrancan chispas con sus cascos
Español Noor International Center · v1.0.1
hacen saltar chispas (con sus cascos),
Español issued by Noor International · v1.0.1
hacen saltar chispas (con sus cascos),
Français Noor International Center · v1.0.0
2. faisant jaillir des étincelles (en galopant),
Français Rachid Maach · v1.0.3
dont les fers font jaillir des étincelles
Fulfulde Rowwad Translation Center · v1.0.2
Mi wooɗndirii kuɓɓooji taasanɗe.
Hausa Abu Bakr Jumi · v1.2.2
Mãsu ƙyasta wuta (da kõfatansu a kan duwatsu) ƙyastawa.
plays offline — the recitation is inside this file
PickthallAnd scouring to the raid at dawn,
Yusuf AliAnd push home the charge in the morning,
Muhammad Junagarhiپھر صبح کے وقت دھاوا بولنے والوں کی قسم.[1]
al-Muyassarفالخيلِ التي تُغير برُكْبانها على الأعداء عند الصبح.
the agreed readingAnd raiding at dawn. The commentaries gloss the timing as the hour the raid was made, so that the three oaths together run from the setting out to the striking.
”فَالْمُغِیْرٰتِ صُبْحًا“ یعنی وہ جو اپنے سواروں کو لے کر صبح کے وقت دشمن پر دھاوا بولتے ہیں۔ عرب میں حملے کا معروف وقت صبح ہی ہوتا تھا۔ دوڑ اور اس کے آثار کے ذکر کے بعد اب اُس مقصد کا ذکر آیا جس کے لیے یہ دوڑ تھی۔
فالمُغيرات صبحًا، أي التي تُغير بفرسانها على العدو وقت الصباح. وكان الصبح وقت الإغارة المعروف. فبعد الجري وما نتج عنه جاء ذكر الغاية التي جرت من أجلها.
No Shīʿī edition could be anchored to this āyah by the alignment; the commentary exists in the books, the method could not point at it.
رِّجَالِ، يَعْنِي رِجَالَ الْحَرْبِ، وَالْعَرَبُ تَقُولُ إِذَا أَرَادَ الرَّجُلُ أَنْ يَمْكُرَ بِصَاحِبِهِ: أَمَا وَاللَّهِ لِأَقْدَحَنَّ لَكَ ثُمَّ لْأُوَرِّيَنَّ لَكَ. وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ كَعْبٍ: هِيَ النِّيرَانُ تَجْتَمِعُ [[ذكر الطبري: ٣٠ / ٢٧٣ - ٢٧٤، هذه الأقوال ثم قال مرجحا: "وأولى الأقوال في ذلك بالصواب أن يقال: إن الله تعالى ذكره أقسم بالموريات التي توري النيران قدحا، فالخيل توري بحوافرها، والناس يورونها بالزند، واللسان مثلا يوري بالمنطق، والرجال يورون بالمكر مثلا، وكذلك الخيل تهيج الحرب بين أهلها إذا التقت في الحرب، ولم يضع الله دلالة على أن المراد من ذلك بعض دون بعض، فكل ما أورت …
al-Zamakhsharid.1144 · ar · PD
لى الحال، أى: ضابحات فَالْمُورِياتِ تورى نار الحباحب [[قوله «توري نار الحباحب» الحباحب: اسم رجل بخيل كان لا يوقد إلا نارا ضعيفة مخافة الضيفان، فضربوا به المثل حتى قالوا: نار الحباحب: لما تقدحه الخيل بحوافرها. اه من الصحاح. (ع)]] وهي ما ينقدح من حوافرها قَدْحاً قادحات صاكات بحوافرها الحجارة. والقدح. الصك. والإيراء. إخراج النار. تقول. قدح فأورى، وقدح فأصلد [[قوله «فأصلد» في الصحاح: صلد الزند، إذا صوت ولم يخرج ثارا، وأصلد الرجل: أى صلد زنده اه. (ع)]] ، وانتصب قدحا بما انتصب به ضبحا فَالْمُغِيراتِ تغير على العدو صُبْحاً في وقت الصبح فَأَثَرْنَ بِهِ نَقْعاً فهيجن بذلك الوقت غبارا فَوَسَطْنَ بِهِ …
انسان کا نفسیاتی تجزیہ :مجاہدین کے گھوڑے جبکہ اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے ہانپتے اور ہنہاتے ہوئے دوڑتے ہیں ان کی اللہ تبارک و تعالیٰ قسم کھاتا ہے پھر اس تیزی میں دوڑتے ہوئے پتھروں کے ساتھ ان کے نعل کا ٹکرانا اور اس رگڑ سے آگ کی چنگاڑیاں اڑنا پھر صبح کے وقت دشمن پر ان کا چھاپہ مارنا اور دشمنان رب کو تہہ وبالا کرنا آنحضرت ﷺ کی یہی عادت مبارک تھی کہ دشمن کی کسی بستی پر آپ جاتے تو وہاں رات کو ٹھہر کر کام لگا کر سنتے اگر اذان کی آواز آگئی تو آپ رک جاتے نہ آتی تو لشکر کو حکم دیتے کہ بزن بول دیں پھر ان گھوڑوں کا گردو غبار اڑانا اور ان سب کا دشمنوں کے درمیان گھس جانا ان سب چیزوں کی قسم کھا کر پھر …
عرب میں اکثر عادت صبح کے وقت تاخت کرنے کی تھی۔ تاکہ رات کے وقت جانے میں دشمن کو خبر نہ ہو صبح کو دفعتہً جا پڑیں اور رات کو حملہ نہ کرنے میں اظہار شجاعت سمجھتے تھے۔
وهي مكية بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ {1} أقسم [الله تبارك و] تعالى بالخيل؛ لما فيها من آياتِه الباهرة ونعَمِه الظَّاهرة ما هو معلومٌ للخلق، وأقسم تعالى بها في الحال التي لا يشاركُها فيه غيرها من أنواع الحيوانات، فقال:{والعادياتِ ضَبۡحاً}؛ أي: العاديات عدواً بليغاً قويًّا يصدر عنه الضَّبحُ، وهو صوت نَفَسها في صدرها عند اشتداد عَدْوها. {2}{فالمورياتِ}: بحوافرهنَّ ما يطأنَ عليه من الأحجار، {قَدۡحاً}؛ أي: تنقدح النار من صلابة حوافرهنَّ وقوتهنَّ إذا عَدَوْنَ. {3}{فالمغيراتِ}: على الأعداء، {صبحاً}: وهذا أمرٌ أغلبيٌّ أنَّ الغارة تكون صباحاً. {4 ـ 5}{فأثرنَ به}؛ أي: بعدوهنَّ وغارتهنَّ …
میں قسم کھائی جس حال میں حیوانات کی تمام انواع میں سے کوئی حیوان ان کے ساتھ مشارکت نہیں کر سکتا۔ فرمایا:﴿ وَالۡعٰدِيٰؔتِ ضَبۡحًا﴾ یعنی بہت قوت کے ساتھ دوڑنے والے گھوڑوں کی قسم جبکہ ان سے ہانپنے کی آواز آرہی ہو۔ اَلضَّبْحُ گھوڑوں کے سانس کی آواز جو تیز دوڑتے وقت ان کے سینوں سے نکلتی ہے۔ [2]﴿ فَالۡمُوۡرِيٰتِ ﴾ پھر آگ جھاڑنے والوں کی اپنے سموں سے پتھروں پر ﴿ قَدۡحًا﴾ ’’ ٹاپ مار کر‘‘ یعنی جب وہ گھوڑے دوڑتے ہیں تو ان کے سموں کی سختی اور ان کی قوت کی وجہ سے آگ نکلتی ہے۔ [3]﴿ فَالۡمُغِيۡرٰتِ﴾ دشمن پر شب خون مارنے والے گھوڑوں کی ﴿صُبۡحًا﴾ ’’صبح کے وقت۔‘‘ اور یہ امر غالب ہے کہ (دشمن پر) شب خون صبح …
فَوَسَطْنَ بِهِ جَمْعًا (then enter, at the same time, into the centre of the [ opposing ] host) In other words, they penetrate into the centre of the enemy forces without the least degree of fear. The word kanud, (100:6) according to Hasan Basri (رح) ، refers to the one who counts the calamities that befall him, and forgets Allah's favours. Abu Bakr Wasiti said that kanud is the one who spends the bounties of Allah for sinful purposes. Tirmidhi said that kanud is the one who looks at the bounty, and not at the Bounteous Lord. In short, all these interpretations lead to the sense of …
اہلِ عرب کا قاعدہ تھا کہ جب کسی بستی پر اُنہیں چھاپہ مارنا ہوتا تو رات کے اندھیرے میں چل کر جاتے تا کہ دشمن خبردار نہ ہو سکتے ، اور صبح سویرے اچانک اُس پر ٹوٹ پڑتے تھے تا کہ صبح کی روشنی میں ہر چیز نظر آسکے ، اور دن اتنا زیادہ روشن بھی نہ ہو کہ دشمن دور سے ان کو آتا دیکھ لے اور مقابلہ کے لیے تیار ہو جائے۔
The practice among the Arabs was that when they had to mount a raid on a settlement, they marched out in the night so as to take the enemy by surprise; then they would launch a sudden attack early in the morning so that everything became visible in the light of day, and at the same time it did not become so bright that the victim could notice their movement from a distance and be ready to meet the offensive.
آیت 3{ فَالْمُغِیْرٰتِ صُبْحًا۔ } ”پھر وہ علی الصبح غارت گری کرتے ہیں۔“ اس آیت میں گھوڑوں کی خصوصی صفات کے ساتھ ساتھ زمانہ جاہلیت کے عرب تمدن کی جھلک بھی دکھائی دیتی ہے۔ اہل عرب جب لوٹ مار یا قتل و غارت کے لیے کسی قبیلے پر حملے کی منصوبہ بندی کرتے تو اس کے لیے علی الصبح منہ اندھیرے کے اوقات small hours of the morning کا انتخاب کرتے تھے۔ اس قسم کی غارت گری کے لیے رات کا پچھلا پہر اس لیے موزوں سمجھا جاتا تھا کہ اس وقت ہر کوئی بڑی سکون کی نیند سو رہا ہوتا ہے۔ حتیٰ کہ اگر کوئی مریض تکلیف کی وجہ سے ساری رات سو نہ سکے تو رات کے پچھلے پہر اسے بھی نیند آجاتی ہے۔
فَالْمُغِيرَاتِ صُبْحًا (3) و { صبحاً } ظرف زمان فإذا فسر «المغيرات» بخيل الغزاة فتقييد ذلك بوقت الصبح لأنهم كانوا إذا غزوا لا يغيرون على القوم إلا بعد الفجر ولذلك كان مُنذر الحَيِّ إذا أنذر قومه بمجيء العدوّ نادى : يا صَبَاحاه ، قال تعالى : { فإذا نَزَل بساحتهم فساء صباح المنذرين } [ الصافات : 177 ] .وإذا فسر «المغيرات» بالإِبل المسرعات في السير ، فالمراد : دفعها من مزدلفة إلى منى صباحَ يوم النحر وكانوا يدفعون بكرة عندما تُشرق الشمس على ثبير ومن أقوالهم في ذلك : «أشْرِق ثَبير كيما نغير» .«وأثَرنَ به نقعاً» : أصعَدْن الغبار من الأرض من شدة عدْوِهن ، والإِثارة : الإِهاجة ، والنقع : الغبار …
مُغِيرَاتٌ، أَغَارَ يُغِيرُ سے ہے، شب خون مارنے یا دھاوا بولنے والے۔ صُبْحًا صبح کے وقت، عرب میں عام طور پر حملہ اسی وقت کیا جاتا تھا، شب خون تو وہ مارتے ہیں جو فوجی گھوڑوں پر سوار ہوتے ہیں، لیکن اس کی نسبت گھوڑوں کی طرف اس لئے کی ہے کہ دھاوا بولنے میں فوجیوں کے یہ بہت زیادہ کام آتے ہیں۔
plays offline — the recitation is inside this file
PickthallThen, therewith, with their trail of dust,
Yusuf AliAnd raise the dust in clouds the while,
Muhammad Junagarhiپس اس وقت گرد وغبار اڑاتے ہیں[1]
al-Muyassarفهيَّجْنَ بهذا العَدْو غبارًا.
the agreed readingAnd raising a cloud of dust with it. Both traditions gloss it alike: the dust thrown up by the running itself, from the force of the hooves.
”فَاَثَرْنَ بِہٖ نَقْعًا“ یعنی اُس دوڑ سے انہوں نے گرد اڑا دی اور اسے اٹھا کر ہر طرف پھیلا دیا۔ ”نَقْع“ کے معنی گرد و غبار کے ہیں۔ یہ ان کی دوڑ کا تیسرا اثر ہے، جو منظر کو اور نمایاں کر دیتا ہے۔
فأثَرْنَ به نقعًا، أي هيَّجن بذلك العدو غبارًا وحرَّكنه حتى ملأ المكان. و«النقع» الغبار. فهذا أثرٌ ثالثٌ من آثار عَدْوها يزيد المشهد وضوحًا.
لة على أن المراد من ذلك بعض دون بعض، فكل ما أورت النار قدحا، فداخلة فيما أقسم به لعموم ذلك بالظاهر".]] . ﴿فَالْمُغِيرَاتِ صُبْحًا﴾ هِيَ الْخَيْلُ تُغِيرُ بِفُرْسَانِهَا، عَلَى الْعَدُوِّ عِنْدَ الصَّبَاحِ، هَذَا قَوْلُ أَكْثَرِ الْمُفَسِّرِينَ. وَقَالَ الْقُرَظِيُّ: هِيَ الْإِبِلُ تَدْفَعُ بِرُكْبَانِهَا يَوْمَ النَّحْرِ مِنْ جَمْعٍ [[مزدلفة.]] إِلَى مِنًى، وَالسُّنَّةُ أَنْ لَا تَدْفَعُ [بَرُكْبَانِهَا يَوْمَ النَّحْرِ] [[ما بين القوسين ساقط من "ب".]] حَتَّى تُصْبِحَ وَالْإِغَارَةُ سُرْعَةُ السَّيْرِ، وَمِنْهُ قَوْلُهُمْ: أَشْرَقَ ثَبِيرٌ كَيْمَا نُغِيرُ. ﴿فَأَثَرْنَ بِهِ﴾ أَيْ هَيَّجْنَ …
al-Zamakhsharid.1144 · ar · PD
لى الحال، أى: ضابحات فَالْمُورِياتِ تورى نار الحباحب [[قوله «توري نار الحباحب» الحباحب: اسم رجل بخيل كان لا يوقد إلا نارا ضعيفة مخافة الضيفان، فضربوا به المثل حتى قالوا: نار الحباحب: لما تقدحه الخيل بحوافرها. اه من الصحاح. (ع)]] وهي ما ينقدح من حوافرها قَدْحاً قادحات صاكات بحوافرها الحجارة. والقدح. الصك. والإيراء. إخراج النار. تقول. قدح فأورى، وقدح فأصلد [[قوله «فأصلد» في الصحاح: صلد الزند، إذا صوت ولم يخرج ثارا، وأصلد الرجل: أى صلد زنده اه. (ع)]] ، وانتصب قدحا بما انتصب به ضبحا فَالْمُغِيراتِ تغير على العدو صُبْحاً في وقت الصبح فَأَثَرْنَ بِهِ نَقْعاً فهيجن بذلك الوقت غبارا فَوَسَطْنَ بِهِ …
Jawāmiʿ al-jāmiʿ (al-Ṭabrisī)d.1153 · ar · PD
فأثرن به نقعا) فهيجن بذلك الوقت غبارا. (فوسطن به) أي: بذلك الوقت، أو: بالنقع، أي: وسطن النقع الجمع، أي: (جمعا) من جموع الأعداء. ويجوز أن يراد بالنقع الصياح، من قوله (عليه السلام): " ما لم يكن نقع ولا لقلقة " (3)، وقول لبيد: فمتى ينقع صراخ صادق (4) [vol 3 p.830] أي: فهيجن في الإغارة عليهم صياحا وجلبة. وعن ابن عباس: كنت جالسا في الحجر فجاءني رجل فسألني عن (العديت ضبحا) ففسرتها بالخيل، فذهب إلى علي (عليه السلام) وهو تحت سقاية زمزم فسأله فذكر له ما قلت، فقال: ادعه لي، فلما وقفت على رأسه قال: تفتي الناس بما لا علم لك به؟ والله إن كانت لأول غزوة في الإسلام - بدر - فما كان معنا إلا فرسان: فرس …
انسان کا نفسیاتی تجزیہ :مجاہدین کے گھوڑے جبکہ اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے ہانپتے اور ہنہاتے ہوئے دوڑتے ہیں ان کی اللہ تبارک و تعالیٰ قسم کھاتا ہے پھر اس تیزی میں دوڑتے ہوئے پتھروں کے ساتھ ان کے نعل کا ٹکرانا اور اس رگڑ سے آگ کی چنگاڑیاں اڑنا پھر صبح کے وقت دشمن پر ان کا چھاپہ مارنا اور دشمنان رب کو تہہ وبالا کرنا آنحضرت ﷺ کی یہی عادت مبارک تھی کہ دشمن کی کسی بستی پر آپ جاتے تو وہاں رات کو ٹھہر کر کام لگا کر سنتے اگر اذان کی آواز آگئی تو آپ رک جاتے نہ آتی تو لشکر کو حکم دیتے کہ بزن بول دیں پھر ان گھوڑوں کا گردو غبار اڑانا اور ان سب کا دشمنوں کے درمیان گھس جانا ان سب چیزوں کی قسم کھا کر پھر …
raising, stirring up, therein, in the place of their charge or at that time [of dawn], a trail of dust, by the power of their movement,
al-Ṣāfī (Fayḍ al-Kāshānī)d.1680 · ar · PD
فأثرن به نقعا فهيجن بذلك غبارا القمي أي ثارت الغبرة من ركض الخيل. (5)
Nūr al-thaqalayn (al-Ḥuwayzī)d.1700 · ar · PD
فاثرن به نقعا فهل تثيره الا بحوافرها، وهل تضبح الإبل انما تضبح الخيل، فقال علي عليه السلام: ليس كما قلت لقد رأيتنا يوم بدر وما معنا الا فرس أبلق للمقداد بن الأسود. 8 - وفى رواية أخرى لمرثد بن أبي مرثد الغنوي وروى عن سعيد بن جبير عن ابن عباس أنه قال: بينما انا في الحجر جالس إذ اتاني رجل فسأل عن " العاديات ضبحا " فقلت له: الخيل حين تغزو في سبيل الله ثم تأوى إلى الليل فيصنعون طعامهم ويورون نارهم، فانفتل عنى وذهب إلى علي بن أبي طالب عليه السلام وهو تحت سقاية زمزم فسأله عن " العاديات ضبحا " فقال: سألت عنها أحدا قبلي؟ قال: نعم سألت عنها ابن عباس، فقال: الخيل حين تغزو في سبيل الله قال: فاذهب فادعه …
عنی ایسی تیزی اور قوت سے دوڑنے والے کہ صبح کے وقت جبکہ رات کی سردی اور شبنم کی رطوبت سے عمومًا غبار دبا رہتا ہے، ان کی ٹاپوں سے اس وقت بھی بہت گردوغبار اٹھتا ہے۔
وهي مكية بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ {1} أقسم [الله تبارك و] تعالى بالخيل؛ لما فيها من آياتِه الباهرة ونعَمِه الظَّاهرة ما هو معلومٌ للخلق، وأقسم تعالى بها في الحال التي لا يشاركُها فيه غيرها من أنواع الحيوانات، فقال:{والعادياتِ ضَبۡحاً}؛ أي: العاديات عدواً بليغاً قويًّا يصدر عنه الضَّبحُ، وهو صوت نَفَسها في صدرها عند اشتداد عَدْوها. {2}{فالمورياتِ}: بحوافرهنَّ ما يطأنَ عليه من الأحجار، {قَدۡحاً}؛ أي: تنقدح النار من صلابة حوافرهنَّ وقوتهنَّ إذا عَدَوْنَ. {3}{فالمغيراتِ}: على الأعداء، {صبحاً}: وهذا أمرٌ أغلبيٌّ أنَّ الغارة تكون صباحاً. {4 ـ 5}{فأثرنَ به}؛ أي: بعدوهنَّ وغارتهنَّ …
قسم ہے سر پٹ دوڑنے والے گھوڑوں کی ہانپتے ہوئے(1) پھر آگ نکالنے والوں کی سم مار کر(2) پھر حملہ کرنے والوں کی صبح کے وقت(3) پھر وہ اڑاتے ہیں اس وقت غبار(4) پھر وہ درمیان میں گھس جاتے ہیں اس وقت (دشمن کی) جماعت میں(5) یقیناً انسان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے(6) اور بلاشبہ وہ اس بات پر البتہ (خودبھی) شاہد ہے(7)اور بلاشبہ وہ محبت مال میں (بھی) بہت سخت ہے(8)کیا پس نہیں جانتا وہ جب نکال باہر کر دیا جائے گا جو کچھ قبروں میں ہے؟(9) اور ظاہر کر دیا جائے گا جو کچھ سینوں میں ہے (10) بلاشبہ ان کا رب ان (کے حال) سے اس دن خبر دار ہو گا (11) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] اللہ …
فَوَسَطْنَ بِهِ جَمْعًا (then enter, at the same time, into the centre of the [ opposing ] host) In other words, they penetrate into the centre of the enemy forces without the least degree of fear. The word kanud, (100:6) according to Hasan Basri (رح) ، refers to the one who counts the calamities that befall him, and forgets Allah's favours. Abu Bakr Wasiti said that kanud is the one who spends the bounties of Allah for sinful purposes. Tirmidhi said that kanud is the one who looks at the bounty, and not at the Bounteous Lord. In short, all these interpretations lead to the sense of …
فَأَثَرْنَ بِهِ نَقْعًا (4) والفاء العاطفة لقوله : { فأثرن به نقعاً } عاطفة على وصف «المغيرات» . والمعطوف بها من آثار وصف المغيرات . وليست عاطفة على صفة مستقلة مثل الصفات الثلاث التي قبلها لأن إثارة النقع وتوسط الجمع من آثار الإِغارة صُبحاً ، وليسا مُقْسماً بهما أصالةً وإنما القَسم بالأوصاف الثلاثة الأولى .فلذلك غُير الأسلوب في قوله : { فأثرن به نقعاً فوسطن به جمعاً } فجيء بهما فعلين ماضيين ولم يأتيا على نسق الأوصاف قبلهما بصيغة اسم الفاعل للإِشارة إلى أن الكلام انتقل من القَسَم إلى الحكاية عن حصول ما تَرتَّبَ على تلك الأوصاف الثلاثة ما قُصد منها من الظفَر بالمطلوب الذي لأجله كان العَدو …
No commentary keyed to this āyah in: Bayan ul Quran (Urdu), Fi Zilal al-Quran (Urdu), Majmaʿ al-bayān (al-Ṭabrisī), Tafhim al-Qur'an - Maududi (English), Tafhim al-Qur'an - Maududi (Urdu), Tazkirul Quran (English), al-Mīzān (Ṭabāṭabāʾī), al-Tibyān (al-Ṭūsī).
the words of this āyah — root, frequency, family
ف
occurs 3001 timesamong the commonest 300 words
أَثارُ
occurs 5 timesroot ثور occurs 5
ب
occurs 2544 timesamong the commonest 300 words
نَقْع
occurs ONCE in the whole Qurʾānroot نقع occurs 1
this āyah in 55 languages — 74 translations
Akan Harun Ismail · v1.0.3
Na εma mfuturo tu kͻ wiem,
Azərbaycan Ali Khan Musayev · v1.0.4
(Hücuma keçərək) tozanaq qaldıran atlara.
Bahasa Indonesia Ministry of Religious Affairs · v1.0.1
sehingga menerbangkan debu,
Bahasa Indonesia Sabiq Company · v1.1.3
4. sehingga menerbangkan debu,
Bahasa Indonesia The Complex · v1.0.1
maka ia menerbangkan debu,
Bosanski Muhammad Mahanovic · v1.1.0
i tu dižu prašinu
Bosanski Rowwad Translation Centre · v2.0.4
i tu dižu prašinu
Cebuano Rowwad Translation Center · v1.1.3
Nga nakapa-ukay sa (sama sa panganod [baga] nga) abog,
Deutsch Frank Bubenheim · v1.1.4
die darin Staub aufwirbeln,
Deutsch Rowwad Translation Center · v1.0.15
die darin Staub aufwirbeln,
English Hilali and Khan · v1.1.2
4. And raise the dust in clouds the while.
English Noor International Center · v1.1.2
Stirring up thereby [clouds of] dust,
English Rowwad Translation Center · v1.0.19
stirring up thereby clouds of dust,
Español Isa Garcia · v1.0.2
4. levantando una nube de polvo,
Español Noor International Center · v1.0.1
levantando una nube de polvo,
Español issued by Noor International · v1.0.1
levantando una nube de polvo,
Français Noor International Center · v1.0.0
4. et font voler la poussière (sous leurs sabots),
Français Rachid Maach · v1.0.3
en soulevant un nuage de poussière
Fulfulde Rowwad Translation Center · v1.0.2
Ɗi nduuyniri kolce ɗe punndi=sollaaru.
Hausa Abu Bakr Jumi · v1.2.2
Sai su motsar da ƙũra game da shi.
Hrvatski Rowwad Translation Center · v1.0.1
i tu dižu prašinu
Kinyarwanda Rwanda Muslim Association · v1.0.5
Akanatumura umukungugu,
Kirundi Yusuf Gahiti · v1.0.4
Maze zigasura intumo mu kwiruka!
Kiswahili Ali Mohsin Al-Barwani · v1.0.1
Huku wakitimua vumbi, [4]
Kiswahili Rowad Translation Center · v1.0.5
Huku wakitimua vumbi.
Kurdî Muhammad Salih Bamoki · v1.1.1
کە بەوە تەپ وتۆز ھەڵدەستێنن
Lietuvių Rowwad Translation Center · v1.0.8
4. sukeliančiais tuo dulkių (debesis),
Lingála Mohammed Balangogo · v1.0.2
Mpe sima bazali komatisa putulu.
Maguindanaon Rowwad Translation Center · v1.0.4
Na pakadtapuyak su libubuk.
Mòoré Rowwad Translation Center · v1.0.1
Tɩ b ruk wubsg zĩigẽ wã.
Nederlands Rowwad Translation Center · v2.0.10
En stofwolken opwerpen.
Oromoo Gali Ababor · v1.0.3
Isaan dhukkee ol kaasanitti;
Oʻzbek Alaauddin Mansour · v1.0.0
Бас, ўшанда чанг-тўзон кўтариб;
Oʻzbek Rowwad Translation Center · v1.0.4
Ўша билан чанг-тўзон кўтариб,
Português Helmi Nasr · v1.4.1
Então, levantam, com isso, nuvens de poeira
Qafár Mahmoud Abdulqader Hamza · v1.0.1
4. Tokkel is abtah tan ardih gibdah sawar (fulle) fuluk hayta.
Română Islam4ro.com · v1.0.4
Stârnind colbul,
Shqip Hassan Nahi · v1.1.0
duke çuar re pluhuri,
Shqip Rowwad Translation Center · v1.0.5
duke çuar pluhur,
Soomaali Abdullah Hasan Yaqoub · v1.0.26
4. Ee boodhka kiciya,
Tagalog Rowwad Translation Center · v1.1.4
saka bumulabog ang mga ito sa pamamagitan nito ng mga alikabok,
Tiếng Việt Rowwad Translation Center · v1.0.8
Làm tung bụi mịt mù.
Türkçe Dr. Ali Ozek and others · v1.0.0
orada tozu dumana katanlara, yemin ederim ki,
Türkçe Rowwad Translation Center · v1.0.4
Tozu dumana katanlara.
Türkçe Shaaban British · v1.1.0
Tozu dumana katanlara,
Yorùbá Abu Rahimah Mikael · v1.0.9
Wọ́n sì fi (pátákò ẹsẹ̀ wọn) tu eruku (ilẹ̀ ọ̀tá) sókè.
Кыргызча Shamsuddin Hakimov · v1.0.2
Ошондо алар (чабуулу менен) топуракты ызгытты.
Македонски a group of Macedonian scholars · v1.0.1
plays offline — the recitation is inside this file
PickthallCleaving, as one, the centre (of the foe),
Yusuf AliAnd penetrate forthwith into the midst (of the foe) en masse;-
Muhammad Junagarhiپھر اسی کے ساتھ فوجیوں کے درمیان گھس جاتے ہیں.[1]
al-Muyassarفتوسَّطن بركبانهن جموع الأعداء.
the agreed readingAnd cleaving into the middle of a gathering. Both traditions gloss the gathering as the enemy's own, and the verb as their coming right into the middle of it.
”فَوَسَطْنَ بِہٖ جَمْعًا“ یعنی وہ اپنے سواروں کو لے کر دشمن کے لشکروں کے عین بیچ میں جا گھسے اور ان کی صفیں چیر دیں۔ یعنی وہ محض دھاوے پر نہ رکے، بلکہ قوم کے اندر تک اتر گئے۔ اپنے سوار کے لیے ان جانوروں کی اطاعت اور جرأت کی یہ انتہا ہے۔
فوسَطْنَ به جمعًا، أي صِرْنَ بفرسانهنَّ وسط جموع العدو فاخترقنها. فلم يقفن عند حدِّ الإغارة بل توغَّلن في القوم. وفي هذا غايةُ الطاعة والإقدام من هذه الدوابِّ لمن ركبها.
لة على أن المراد من ذلك بعض دون بعض، فكل ما أورت النار قدحا، فداخلة فيما أقسم به لعموم ذلك بالظاهر".]] . ﴿فَالْمُغِيرَاتِ صُبْحًا﴾ هِيَ الْخَيْلُ تُغِيرُ بِفُرْسَانِهَا، عَلَى الْعَدُوِّ عِنْدَ الصَّبَاحِ، هَذَا قَوْلُ أَكْثَرِ الْمُفَسِّرِينَ. وَقَالَ الْقُرَظِيُّ: هِيَ الْإِبِلُ تَدْفَعُ بِرُكْبَانِهَا يَوْمَ النَّحْرِ مِنْ جَمْعٍ [[مزدلفة.]] إِلَى مِنًى، وَالسُّنَّةُ أَنْ لَا تَدْفَعُ [بَرُكْبَانِهَا يَوْمَ النَّحْرِ] [[ما بين القوسين ساقط من "ب".]] حَتَّى تُصْبِحَ وَالْإِغَارَةُ سُرْعَةُ السَّيْرِ، وَمِنْهُ قَوْلُهُمْ: أَشْرَقَ ثَبِيرٌ كَيْمَا نُغِيرُ. ﴿فَأَثَرْنَ بِهِ﴾ أَيْ هَيَّجْنَ …
al-Zamakhsharid.1144 · ar · PD
لد الرجل: أى صلد زنده اه. (ع)]] ، وانتصب قدحا بما انتصب به ضبحا فَالْمُغِيراتِ تغير على العدو صُبْحاً في وقت الصبح فَأَثَرْنَ بِهِ نَقْعاً فهيجن بذلك الوقت غبارا فَوَسَطْنَ بِهِ بذلك الوقت، أو بالنقع، أى وسطن النقع الجمع. أو فوسطن ملتبسات به جَمْعاً من جموع الأعداء، ووسطه بمعنى توسطه. وقيل: الضمير لمكان الغارة. وقيل: للعدو الذي دلّ عليه وَالْعادِياتِ ويجوز أن يراد بالنقع: الصياح، من قوله عليه السلام «ما لم يكن نقع ولا لقلقة [[لم أجده مرفوعا. وإنما ذكره البخاري في الجنائز تعليقا عن عمر. قال «دعهن يبكين على أبى سليمان ما لم يكن نقع أو لقلقة» قال: والنقع التراب على الرأس واللقلقة الصوت. ووصله …
انسان کا نفسیاتی تجزیہ :مجاہدین کے گھوڑے جبکہ اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے ہانپتے اور ہنہاتے ہوئے دوڑتے ہیں ان کی اللہ تبارک و تعالیٰ قسم کھاتا ہے پھر اس تیزی میں دوڑتے ہوئے پتھروں کے ساتھ ان کے نعل کا ٹکرانا اور اس رگڑ سے آگ کی چنگاڑیاں اڑنا پھر صبح کے وقت دشمن پر ان کا چھاپہ مارنا اور دشمنان رب کو تہہ وبالا کرنا آنحضرت ﷺ کی یہی عادت مبارک تھی کہ دشمن کی کسی بستی پر آپ جاتے تو وہاں رات کو ٹھہر کر کام لگا کر سنتے اگر اذان کی آواز آگئی تو آپ رک جاتے نہ آتی تو لشکر کو حکم دیتے کہ بزن بول دیں پھر ان گھوڑوں کا گردو غبار اڑانا اور ان سب کا دشمنوں کے درمیان گھس جانا ان سب چیزوں کی قسم کھا کر پھر …
cleaving therewith, with the dust, a host, of the enemy, that is to say, cutting right into their centre! (the verb is supplemented to the noun [in the above instances] because it serves to explain the verbal action, in other words, wa’llātī ‘adawna fa-awrayna fa-agharna, ‘by those that charge, then strike sparks, then raid’).
al-Ṣāfī (Fayḍ al-Kāshānī)d.1680 · ar · PD
فوسطن به جمعا من جموع الأعداء القمي قال توسط المشركون بجمعهم كأنه أراد به إحاطتهم بالمشركين أو هو من غلط الكتاب والصحيح المشركين. [vol 5 p.360] وفي المجمع عن علي (عليه السلام) إنه قرأ فوسطن بالتشديد. (6)
Nūr al-thaqalayn (al-Ḥuwayzī)d.1700 · ar · PD
فوسطن به جمعا قد شهدا جميعا وادى اليابس. 11 - وفيه متصل بقوله قريبا أي صبحهم بالغارة " فأثرن به نقعا " قال: ثارت الغبرة من ركض الخيل " فوسطن به جمعا " قال: توسط المشركون بجمعهم. 12 - في مجمع البيان في الشواذ قراءة علي عليه السلام " فوسطن " بتشديد السين 13 - "
عنی اس وقت بے خوف و خطر دشمن کی فوج میں جاگھستے ہیں۔(تنبیہ) ان قسموں کی توضیح: ممکن ہے کہ قسم کھانا گھوڑوں کی مقصود ہو جیسا کہ ظاہر ہے اور ممکن ہے مجاہدین کے رسالہ کی قسم ہو۔ حضرت شاہ صاحبؒ لکھتے ہیں یہ جہاد والے سواروں کی قسم ہے۔ اس سے بڑا کون عمل ہوگا کہ اللہ کے کام پر اپنی جان دینے کو حاضر ہے۔
وهي مكية بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ {1} أقسم [الله تبارك و] تعالى بالخيل؛ لما فيها من آياتِه الباهرة ونعَمِه الظَّاهرة ما هو معلومٌ للخلق، وأقسم تعالى بها في الحال التي لا يشاركُها فيه غيرها من أنواع الحيوانات، فقال:{والعادياتِ ضَبۡحاً}؛ أي: العاديات عدواً بليغاً قويًّا يصدر عنه الضَّبحُ، وهو صوت نَفَسها في صدرها عند اشتداد عَدْوها. {2}{فالمورياتِ}: بحوافرهنَّ ما يطأنَ عليه من الأحجار، {قَدۡحاً}؛ أي: تنقدح النار من صلابة حوافرهنَّ وقوتهنَّ إذا عَدَوْنَ. {3}{فالمغيراتِ}: على الأعداء، {صبحاً}: وهذا أمرٌ أغلبيٌّ أنَّ الغارة تكون صباحاً. {4 ـ 5}{فأثرنَ به}؛ أي: بعدوهنَّ وغارتهنَّ …
قسم ہے سر پٹ دوڑنے والے گھوڑوں کی ہانپتے ہوئے(1) پھر آگ نکالنے والوں کی سم مار کر(2) پھر حملہ کرنے والوں کی صبح کے وقت(3) پھر وہ اڑاتے ہیں اس وقت غبار(4) پھر وہ درمیان میں گھس جاتے ہیں اس وقت (دشمن کی) جماعت میں(5) یقیناً انسان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے(6) اور بلاشبہ وہ اس بات پر البتہ (خودبھی) شاہد ہے(7)اور بلاشبہ وہ محبت مال میں (بھی) بہت سخت ہے(8)کیا پس نہیں جانتا وہ جب نکال باہر کر دیا جائے گا جو کچھ قبروں میں ہے؟(9) اور ظاہر کر دیا جائے گا جو کچھ سینوں میں ہے (10) بلاشبہ ان کا رب ان (کے حال) سے اس دن خبر دار ہو گا (11) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] اللہ …
فَوَسَطْنَ بِهِ جَمْعًا (then enter, at the same time, into the centre of the [ opposing ] host) In other words, they penetrate into the centre of the enemy forces without the least degree of fear. The word kanud, (100:6) according to Hasan Basri (رح) ، refers to the one who counts the calamities that befall him, and forgets Allah's favours. Abu Bakr Wasiti said that kanud is the one who spends the bounties of Allah for sinful purposes. Tirmidhi said that kanud is the one who looks at the bounty, and not at the Bounteous Lord. In short, all these interpretations lead to the sense of …
وقوله : ( فَوَسَطْنَ بِهِ جَمْعاً ) أى : فتوسطن فى ذلك الوقت جمعو الأعداء ، ففرقنها ، ومزقنها ، تقول : وسَطْتُ القومَ أسِطُهم وَسْطاً ، إذا صرت فى وسطهم .والمراد بالعاديات ، والموريات ، والمغيرات : خيل المجاهدين فى سبيل الله ، والكلام على حذف الموصوف . والمعنى : وحق الخيل التى يعتلى صهواتها المجاهدون من أجل إعلاء كلمة الله - تعالى - . والتى تجرى بهم فى ساحات القتال ، فيسمع صوت أنفاسها ، والتى تظهر شرر النار من أثر ضك حوافرها بالحجارة وما يشبهها والتى تغير على العدو فى وقت الصباح ، فتثير الغبار ، وتمزق جمعو الأعداء .وحق هذه الخيل الموصوفة بتلك الصفات . . ( إِنَّ الإنسان لِرَبِّهِ لَكَنُودٌ ) …
آیت 5{ فَوَسَطْنَ بِہٖ جَمْعًا۔ } ”پھر اس کے ساتھ وہ دشمن کی جمعیت کے اندر گھس جاتے ہیں۔“ پرانے زمانے کی جنگوں میں گھوڑے بہت موثر اور کارآمد ہتھیار کے طور پر استعمال ہوتے تھے۔ حملے کے وقت گھوڑے اپنے سواروں کے حکم پر مخالف فوج کی طرف سے تیروں کی بوچھاڑ اور نیزوں کی یلغار کی پروا نہ کرتے ہوئے ان کی صفوں میں گھس جاتے تھے۔ گھوڑے کا اپنے مالک کی فرمانبرداری میں اپنا خون پسینہ ایک کردینے کا جذبہ اور اس کی وفاداری میں اپنی جان کی بازی تک لگادینے کا وصف ! یہ ہے دراصل ان قسموں کے مضمون کا مرکزی نکتہ جس کی طرف یہاں توجہ دلانا مقصود ہے۔ چناچہ گھوڑوں کے ان اوصاف کے ذکر کے بعد تقابل کے طور پر انسان کے …
فَوَسَطْنَ بِهِ جَمْعًا (5) الوجه يجوز أن يكون المراد بقوله : { جمعاً } اسم المزدلفة حيث المشعر الحرام .ومناسبة القسم بهذه الموصوفات دون غيرها إن أريد رواحل الحجيج وهو الوجه الذي فسر به علي بن أبي طالب هو أن يصدّق المشركون بوقوع المقسم عليه لأن القسم بشعائر الحج لا يكون إلا باراً حيث هم لا يصدقون بأن القرآن كلام الله ويزعمونه قول النبي صلى الله عليه وسلموإن أريد ب { العاديات } وما عطف عليها خيل الغزاة ، فالقسم بها لأجل التهويل والترويع لإِشعار المشركين بأنَّ غارة تترقبهم وهي غزوة بدر ، مع تسكين نفس النبي صلى الله عليه وسلم من التردد في مصير السرية التي بعث بها مع المُنذر بن عَمْرو إذا صحّ …
فَوَسَطْنَ، درمیان میں گھس جاتے ہیں۔ اس وقت، یا حالت گرد وغبار میں۔ جَمْعًا دشمن کے لشکر۔ مطلب ہے کہ اس وقت، یا جب کہ فضا گرد وغبار سے اٹی ہوئی ہے، یہ گھوڑے دشمن کے لشکروں میں گھس جاتے ہیں اور گھمسان کی جنگ کرتے ہیں۔
Cleaving, as one, the centre (of the foe)) the above can also be understood as follow: Allah swears by the pilgrims' horses and camels when they return from 'Arafah to Muzdalifah snorting and striking sparks of fire; it is also said the latter means: performing acts which leads them to safety, i.e. the pilgrimage. And He swears by these when they go at dawn from Muzdalifah to Mina in the evening, leaving trails of dust and surrounding their enemies. Allah swore by all these.
No commentary keyed to this āyah in: Fi Zilal al-Quran (Urdu), Jawāmiʿ al-jāmiʿ (al-Ṭabrisī), Majmaʿ al-bayān (al-Ṭabrisī), Tafhim al-Qur'an - Maududi (English), Tafhim al-Qur'an - Maududi (Urdu), Tafsīr al-Qummī, Tazkirul Quran (English), al-Mīzān (Ṭabāṭabāʾī), al-Tibyān (al-Ṭūsī).
the words of this āyah — root, frequency, family
ف
occurs 3001 timesamong the commonest 300 words
وَسَطْ
occurs ONCE in the whole Qurʾānroot وسط occurs 5
أَوْسَط2وَسَط1وُسْطَى1وَسَطْ1
ب
occurs 2544 timesamong the commonest 300 words
جَمْع
occurs 13 timesroot جمع occurs 129
جَمِيع53أَجْمَع26جَمَعَ22جَمْع13أَجْمَعُ4جامِع3
this āyah in 55 languages — 74 translations
Akan Harun Ismail · v1.0.3
Na wͻbͻ wura (atamfoͻ no) dͻm no mu no di nse sε:
Azərbaycan Ali Khan Musayev · v1.0.4
Onunla (tozanaqla) dəstənin içərisinə soxulan atlara.
Bahasa Indonesia Ministry of Religious Affairs · v1.0.1
lalu menyerbu ke tengah-tengah kumpulan musuh,
Bahasa Indonesia Sabiq Company · v1.1.3
5. lalu menyerbu ke tengah-tengah kumpulan musuh.
Bahasa Indonesia The Complex · v1.0.1
dan menyerbu ke tengah-tengah kumpulan musuh,
Bosanski Muhammad Mahanovic · v1.1.0
pa tu svi zajedno u sredinu prodiru.
Bosanski Rowwad Translation Centre · v2.0.4
pa tu svi zajedno u sredinu prodiru,
Cebuano Rowwad Translation Center · v1.1.3
Nga nagasulod isip usa ka lawas ngadto sa kasingkasing sa mga linya sa kaaway.
Deutsch Frank Bubenheim · v1.1.4
die dann mitten in die Ansammlung eindringen!
Deutsch Rowwad Translation Center · v1.0.15
die dann mitten in die Ansammlung eindringen!
English Hilali and Khan · v1.1.2
5. And penetrating forthwith as one into the midst (of the foe).
English Noor International Center · v1.1.2
Arriving thereby in the center[1970] collectively,
English Rowwad Translation Center · v1.0.19
plunging thereby into the midst of the enemy[4],
Español Isa Garcia · v1.0.2
5. e irrumpiendo en las filas del enemigo,
Español Noor International Center · v1.0.1
y penetran (las filas enemigas) hasta llegar al corazón de estas;
Español issued by Noor International · v1.0.1
y penetran (las filas enemigas) hasta llegar al corazón de estas;
Français Noor International Center · v1.0.0
5. puis percent au milieu (des rangs ennemis) !
Français Rachid Maach · v1.0.3
au moment de se jeter dans la mêlée !
Fulfulde Rowwad Translation Center · v1.0.2
Ɗi ndeɗɗi hakkunde jaambareeɓe e dental añɓe.
Hausa Abu Bakr Jumi · v1.2.2
Sai su shiga, game da ita (ƙũrar), a tsakãnin jama'ar maƙiya.
ភាសាខ្មែរ Islamic Community Development Association · v1.0.2
ហើយពួកវាសម្រុកចូលទៅកណ្ដាលហ្វូងសត្រូវ ។
ភាសាខ្មែរ Rowwad Translation Center · v1.0.4
ហើយពួកវាសម្រុកចូលទៅកណ្ដាលហ្វូងសត្រូវ។
中文 Muhammad Makeen · v1.0.2
攻入敌围的马队盟誓,
中文 Muhammad Suleiman · v1.0.8
攻入敌围的马队盟誓,
日本語 Saeed Sato · v1.0.13
それ[1]と共に、(敵の)集団の只中へと進み込む[2]、
Al-'Adiyat 100 : 6
إِنَّٱلْإِنسَٰنَلِرَبِّهِۦلَكَنُودٌ
iina aliinsaana lirabihi lakanuwdun
plays offline — the recitation is inside this file
PickthallLo! man is an ingrate unto his Lord
Yusuf AliTruly man is, to his Lord, ungrateful;
Muhammad Junagarhiیقیناً انسان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے.[1]
al-Muyassarإن الإنسان لِنعم ربه لَجحود، وإنه بجحوده ذلك لمقر. وإنه لحب المال لشديد.
the agreed readingTruly, man is ungrateful to his Lord. Both traditions gloss the word the same way - one who denies the favour done to him - and they read this line as the thing all five oaths were sworn to.
یہ قسموں کا جواب ہے: بیشک انسان اپنے رب کا بڑا ”کَنُود“ ہے۔ ”کَنُود“ کے معنی ہیں اللہ کی نعمتوں کا انکار کرنے والا، ان کا شکر نہ کرنے والا اور جو حق اس پر واجب ہے اسے روک لینے والا۔ اس کی اصل وہ ”کَنُود“ زمین ہے جو کچھ نہیں اُگاتی۔ اور یہ جواب اُن گھوڑوں کی وفاداری کے بیان کے بعد آیا تاکہ فرق کھل کر سامنے آ جائے۔
هذا جواب القسم: إن الإنسان لربه لكنود. و«الكنود» الجحود لِنعم الله وترك شكرها ومَنْعُ ما يجب عليه من الحق. وأصله من الأرض الكَنود التي لا تُنبت شيئًا. وقد جاء الجواب بعد وصف تلك الخيل في طاعتها لتظهر المفارقة.
إِنَّ الْإِنْسَانَ لِرَبِّهِ لَكَنُودٌ﴾ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَمُجَاهِدٌ، وَقَتَادَةُ: "لَكَنُودٌ": لِكَفُورٌ جَحُودٌ لِنِعَمِ اللَّهِ تَعَالَى. قَالَ الْكَلْبِيُّ: هُوَ بِلِسَانِ مُضَرَ وَرَبِيعَةَ الْكَفُورُ، وَبِلِسَانِ كِنْدَةَ وَحَضْرَمَوْتَ الْعَاصِي [[انظر: شعب الإيمان للبيهقي: ٨ / ٥٠٧.]] . وَقَالَ الْحَسَنُ: هُوَ الَّذِي يَعُدُّ الْمَصَائِبَ وَيَنْسَى النِّعَمَ [[أخرجه البيهقي في "الشعب": ٨ / ٥٠٨ وعزاه السيوطي لابن جرير وسعيد بن منصور وعبد بن حميد وابن المنذر وابن أبي حاتم والبيهقي في "الشعب".]] . وَقَالَ عَطَاءٌ: هُوَ الَّذِي لَا يُعْطِي فِي النَّائِبَةِ مَعَ قَوْمِهِ. وَقَالَ أَبُو …
al-Zamakhsharid.1144 · ar · PD
مكية، وقيل مدنية، وآياتها 11 [نزلت بعد العصر] بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ أقسم بخيل الغزاة تعدو فتضبح. والضبح: صوت أنفاسها إذا عدون. وعن ابن عباس أنه حكاه فقال: أح أح. قال عنترة: والخيل تكدح حين تضبح في حياض الموت ضبحا [[الكدح: الجد في العدو، والضبح: إخراج النفس بصوت غير الصهيل والحمحمة. وحكاه ابن عباس في التفسير فقال: أح أح، وشبه الموت بالسيل على طريق المكنية، والحياض تخييل لذلك.]] وانتصاب ضبحا على: يضبحن ضبحا، أو بالعاديات، كأنه قيل: والضابحات، لأن الضبح يكون مع العدو [[قال محمود: «أقسم بخيل الغزاة تعدو فتضبح والضبح صوت أنفاسها ... الخ» قال أحمد: ولم يذكر حكمة الإتيان بالفعل معطوفا …
انسان کا نفسیاتی تجزیہ :مجاہدین کے گھوڑے جبکہ اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے ہانپتے اور ہنہاتے ہوئے دوڑتے ہیں ان کی اللہ تبارک و تعالیٰ قسم کھاتا ہے پھر اس تیزی میں دوڑتے ہوئے پتھروں کے ساتھ ان کے نعل کا ٹکرانا اور اس رگڑ سے آگ کی چنگاڑیاں اڑنا پھر صبح کے وقت دشمن پر ان کا چھاپہ مارنا اور دشمنان رب کو تہہ وبالا کرنا آنحضرت ﷺ کی یہی عادت مبارک تھی کہ دشمن کی کسی بستی پر آپ جاتے تو وہاں رات کو ٹھہر کر کام لگا کر سنتے اگر اذان کی آواز آگئی تو آپ رک جاتے نہ آتی تو لشکر کو حکم دیتے کہ بزن بول دیں پھر ان گھوڑوں کا گردو غبار اڑانا اور ان سب کا دشمنوں کے درمیان گھس جانا ان سب چیزوں کی قسم کھا کر پھر …
Verily man, the disbeliever, is ungrateful to his Lord, thankless, denying [the reality of] His graces, exalted be He,
al-Ṣāfī (Fayḍ al-Kāshānī)d.1680 · ar · PD
إن الانسان لربه لكنود هو جواب القسم والكنود الكفور. وفي المجمع عن النبي (صلى الله عليه وآله) قال أتدرون من الكنود قالوا الله ورسوله اعلم قال الكنود الذي يأكل وحده ويمنع رفده ويضرب عبده. (7)
Nūr al-thaqalayn (al-Ḥuwayzī)d.1700 · ar · PD
ان الانسان لربه لكنود " روى أبو امامة عن النبي صلى الله عليه وآله أنه قال: أتدرون من الكنود؟ قالوا: الله ورسوله اعلم، قال: الكنود الذي يأكل وحده ويمنع رفده ويضرب عبده. 14 - في تفسير علي بن إبراهيم متصل بقوله: بجمعهم " ان الانسان لربه لكنود " أي كفور وهما الذين أمرا وأشارا على أمير المؤمنين عليه السلام ان يدع الطريق مما حسداه وكان على صلوات الله عليه قد اخذ بهم على غير الطريق الذي اخذ فيه أبو بكر وعمر، فعلما انه يظفر بالقوم، فقال عمرو بن العاص لأبي بكر: ان عليا غلام حدث لا علم له بالطريق وهذا طريق مسبع (1) لا يأمن فيه من السباع، فمشيا إليه وقالا له: يا أبا الحسن هذا الطريق الذي أخذت فيه طريق …
انسان کی ناشکری:یعنی جہاد کرنے والے سواروں کی اللہ کی راہ میں سرفورشی و جاں بازی بتلاتی ہے کہ وفاداروشکر گزار بندے ایسے ہوتے ہیں۔ جو آدمی اللہ کی دی ہوئی قوتوں کو اس کے راستے میں خرچ نہیں کرتا وہ پرلے درجہ کا ناشکر اور نالائق ہے۔ بلکہ غور کرو تو خود گھوڑا زبان حال سے شہادت دے رہا ہے۔ کہ جو لوگ مالک حقیقی کی دی ہوئی روزی کھاتے اور اس کی بیشمار نعمتوں سے شب و روز تمتع کرتے ہیں، پھر اس کے باوجود اس کی فرمانبرداری نہیں کرتے، وہ جانوروں سے زیادہ ذلیل و حقیر ہیں ایک شائستہ گھوڑے کو مالک گھاس کے تنکے اور تھوڑا سا دانہ کھلاتا ہے۔ وہ اتنی سی تربیت پر اپنے مالک کی وفاداری میں جان لڑا دیتا ہے۔ جدھر سوار …
ضَبۡحاً}؛ أي: العاديات عدواً بليغاً قويًّا يصدر عنه الضَّبحُ، وهو صوت نَفَسها في صدرها عند اشتداد عَدْوها. {2}{فالمورياتِ}: بحوافرهنَّ ما يطأنَ عليه من الأحجار، {قَدۡحاً}؛ أي: تنقدح النار من صلابة حوافرهنَّ وقوتهنَّ إذا عَدَوْنَ. {3}{فالمغيراتِ}: على الأعداء، {صبحاً}: وهذا أمرٌ أغلبيٌّ أنَّ الغارة تكون صباحاً. {4 ـ 5}{فأثرنَ به}؛ أي: بعدوهنَّ وغارتهنَّ، {نقعاً}؛ أي: غباراً، {فوسطن به}؛ أي: براكبهنَّ {جمعاً}؛ أي: توسطن به جموع الأعداء الذين أغار عليهم. {6} والمقسَم عليه قوله: {إنَّ الإنسانَ لربِّه لَكَنودٌ}؛ أي: منوعٌ للخير الذي لله عليه ؛ فطبيعة الإنسان وجِبِلَّتُه أنَّ نفسه لا تسمح بما عليه …
قسم ہے سر پٹ دوڑنے والے گھوڑوں کی ہانپتے ہوئے(1) پھر آگ نکالنے والوں کی سم مار کر(2) پھر حملہ کرنے والوں کی صبح کے وقت(3) پھر وہ اڑاتے ہیں اس وقت غبار(4) پھر وہ درمیان میں گھس جاتے ہیں اس وقت (دشمن کی) جماعت میں(5) یقیناً انسان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے(6) اور بلاشبہ وہ اس بات پر البتہ (خودبھی) شاہد ہے(7)اور بلاشبہ وہ محبت مال میں (بھی) بہت سخت ہے(8)کیا پس نہیں جانتا وہ جب نکال باہر کر دیا جائے گا جو کچھ قبروں میں ہے؟(9) اور ظاہر کر دیا جائے گا جو کچھ سینوں میں ہے (10) بلاشبہ ان کا رب ان (کے حال) سے اس دن خبر دار ہو گا (11) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] اللہ …
ان الانسان ............................ لشدید (6:100 تا 8) ” حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے ، اور وہ خود اس پر گواہ ہے ، اور وہ مال و دولت کی محبت میں بری طرح مبتلا ہے “۔ بیشک انسان اپنے رب کی نعمتوں کی ناشکری کرتا ہے اور اللہ کے فضل وکرم کا عملی انکار کرتا ہے۔ اور اس کی یہ ناشکری اور کفران نعمت کئی شکلوں میں ظاہر ہوتی ہے۔ اس کے افعال سے اور اس کے اقوال سے ، چناچہ اس کے اعمال واقوال ہی اس کے اس جرم پر گواہ ہوتے ہیں۔ گویا آفتاب آمد دلیل آفتاب ، وہ اپنے اوپر خود گواہ بن جاتا ہے ، اور قیامت میں بھی ایسا ہی ہوگا۔ وانہ .................... ذلک لشھید (7:100) ” وہ خود اس پر گواہ ہے “۔ …
فَوَسَطْنَ بِهِ جَمْعًا (then enter, at the same time, into the centre of the [ opposing ] host) In other words, they penetrate into the centre of the enemy forces without the least degree of fear. The word kanud, (100:6) according to Hasan Basri (رح) ، refers to the one who counts the calamities that befall him, and forgets Allah's favours. Abu Bakr Wasiti said that kanud is the one who spends the bounties of Allah for sinful purposes. Tirmidhi said that kanud is the one who looks at the bounty, and not at the Bounteous Lord. In short, all these interpretations lead to the sense of …
وہ بات جس پر اُن گھوڑوں کی قسم کھائی گئی ہے جو رات کو پھُنکارے مارتے اور چنگاریاں جھاڑتے ہوئے دوڑتے ہیں، پھر صبح سویرے غبار اُڑاتے ہوئے کسی بستی پر جا پڑتے ہیں اور مدافعت کرنے والوں کی جماعت میں گھُس جاتے ہیں۔ تعجب اِس پر ہوتا ہے کہ اکثر مفسرین نے ان گھوڑوں سے مراد غازیوں کے گھوڑے لیے ہیں اور جس مجمع میں ان کے جا گھسنے کا ذکر کیا گیا ہے اُس سے مراد اُن کے نزدیک کفار کا مجمع ہے۔ حالانیہ یہ قَسَم اِس بات پر کھائی گئی ہے کہ ” انسان اپنے ربّ کا بڑا نا شکرا ہے۔“ اب یہ ظاہر ہے کہ جہاد فی سبیل اللہ میں غازیوں کے گھوڑوں کی دوڑ دھوپ اور کفار کے کسی مجمع پر اُن کا ٹوٹ پڑنا اِس امر پر کوئی دلالت نہیں …
This is for which an oath has been sworn by the horses, which run with panting breath and dash off sparks at night, then raising dust rush to assault a settlement at dawn and penetrate into the enemy host. It is astonishing to note that a large number of the commentators have taken these horses to imply the horses of the Muslim fighters and the enemy host to imply the host of disbelievers, whereas the oath has been sworn to impress the point that man is highly ungrateful to his Lord. Now, obviously, in the course of Jihad for the sake of Allah, the rushing forth of the fighters’ horses and …
وقوله - سبحانه - : ( إِنَّ الإنسان لِرَبِّهِ لَكَنُودٌ ) جواب القسم . والكنود : الجحود ، يقال : فلان كند النعمة - من باب دخل - ، إذا جحدها ولم يشكر الله عليها . وكند الحبل : أى قطعة ، وأصل الكنود : الأرض التى لا تنبت شيئا ، فشبه بها الإِنسان الذى يمنع الحق والخير ، ويجحد ما عليه من حقوق وواجبات .أى : إن فى طبع الإِنسان - إلا من عصمه الله - تعالى - الكنود لربه والكفران لنعمته ، والنسيان لمننه وإحسانه ، والغفلة عن المواظبة على شكره - تعالى - ، والتضرع إليه - سبحانه - عند الشدائد والضراء . . والتشاغل عن ذلك عند العافية والرخاء .فالمراد بالإِنسان هنا : جنسه ، إذ أن هذه الصفة غالبة على طبع …
آیت 6{ اِنَّ الْاِنْسَانَ لِرَبِّہٖ لَکَنُوْدٌ۔ } ”یقیناانسان اپنے رب کا بہت ہی ناشکرا ہے۔“ مطلب یہ کہ ایک طرف وہ جانور ہے جو اپنے مالک کے ایک اشارے پر اپنی جان تک قربان کردیتا ہے ‘ جو اس کا خالق نہیں ہے ‘ بلکہ صرف اس کے دانے پانی کا انتظام کرتا ہے ‘ اور دوسری طرف یہ باشعور ‘ صاحب عقل و دانش اشرف المخلوقات انسان ہے جو اپنے خالق اور مالک کا شکر ادا نہیں کرتا۔
إِنَّ الْإِنْسَانَ لِرَبِّهِ لَكَنُودٌ (6) وقيل التعريف في { الإنسان } للعهد ، وأن المراد به الوليد بن المغيرة ، وقيل : قرطة بن عبد عمرِو بن نوفل القرشي .واللام في { لربه } لام التقوية لأن ( كَنود ) وصف ليس أصيلاً في العمل ، وإنما يتعلق بالمعمولات لمشابهته الفعل في الاشتقاق فيكثر أن يقترن مفعوله بلام التقوية ، ومع تأخيره عن معموله .وتقديم { لربه } لإِفادة الاهتمام بمتعلق هذا الكنود لتشنيع هذا الكنود بأنه كنود للرب الذي هو أحق الموجودات بالشكر وأعظم ذلك شرك المشركين ، ولذلك أكد الكلام بلام الابتداء الداخلة على خبر ( إنَّ ) للتعجيب من هذا الخبر .وتقديم { لربه } على عامله المقترن بلام الابتداء …
(Lo! Man) i.e. the disbelieving man: Qurt Ibn 'Abdullah Ibn 'Amr; and it is also said it refers to Abu Hubahib (is an ingrate unto his Lord) He says: he is ungrateful for the blessings of his Lord; it is also said this means: He is disobedient of his Lord; and it is also said this means: he is stingy; and it is also said this means: he denies those who are dependent on him, starves his slaves, eats alone and does not give those who are his relatives among his folk.
No commentary keyed to this āyah in: Jawāmiʿ al-jāmiʿ (al-Ṭabrisī), Majmaʿ al-bayān (al-Ṭabrisī), Tafsīr al-Qummī, Tazkirul Quran (English), al-Mīzān (Ṭabāṭabāʾī), al-Tibyān (al-Ṭūsī).
the words of this āyah — root, frequency, family
إِنّ
occurs 1682 timesamong the commonest 300 words
ال
occurs 8377 timesamong the commonest 300 words
إِنسان
occurs 71 timesroot أنس occurs 338among the commonest 300 words
ناس241إِنسان71إِنس18آنَسَ5إِنسِيّ1تَسْتَأْنِسُ1
ل
occurs 4380 timesamong the commonest 300 words
رَبّ
occurs 975 timesroot ربب occurs 980among the commonest 300 words
رَبّ975رَبّانِيِّن3رِبِّيّ1رَبائِب1
كَنُود
occurs ONCE in the whole Qurʾānroot كند occurs 1
this āyah in 55 languages — 74 translations
Akan Harun Ismail · v1.0.3
Nokorε onipa ayi ne Wura Nyankopͻn bonniayε;
Azərbaycan Ali Khan Musayev · v1.0.4
Həqiqətən, insan Rəbbinə qarşı çox nankordur.
Bahasa Indonesia Ministry of Religious Affairs · v1.0.1
sungguh, manusia itu sangat ingkar, (tidak bersyukur) kepada Tuhannya,
Bahasa Indonesia Sabiq Company · v1.1.3
6. Sungguh, manusia itu sangat ingkar, (tidak bersyukur) kepada Tuhannya.
Bahasa Indonesia The Complex · v1.0.1
sesungguhnya manusia itu sangat ingkar tidak berterima kasih kepada Tuhan-nya,
Bosanski Muhammad Mahanovic · v1.1.0
čovjek je, zaista, prema Gospodaru svome poricatelj veliki,
Bosanski Rowwad Translation Centre · v2.0.4
čovjek je, zaista, prema Gospodaru svome poricatelj veliki,
Cebuano Rowwad Translation Center · v1.1.3
Sa pagkatinuod ang tawo (ang manlilimod) dili mapasalamaton sa iyang Ginoo (Allāh).
Deutsch Frank Bubenheim · v1.1.4
Der Mensch ist seinem Herrn gegenüber wahrlich undankbar,
Deutsch Rowwad Translation Center · v1.0.15
Wahrlich, der Mensch ist seinem Herrn gegenüber undankbar,
English Hilali and Khan · v1.1.2
6. Verily, man (disbeliever) is ungrateful to his Lord.
English Noor International Center · v1.1.2
Indeed mankind, to his Lord, is ungrateful.
English Rowwad Translation Center · v1.0.19
indeed, man is very ungrateful to his Lord[5] –
Español Isa Garcia · v1.0.2
6. que el ser humano es ingrato con su Señor.
Español Noor International Center · v1.0.1
(por ellos juro que) el hombre es ingrato con su Señor;
Español issued by Noor International · v1.0.1
(por ellos juro que) el hombre es ingrato con su Señor;
Français Noor International Center · v1.0.0
6. L’homme est, en vérité, bien ingrat envers son Seigneur.
Français Rachid Maach · v1.0.3
L’homme en vérité est ingrat envers son Seigneur,
Fulfulde Rowwad Translation Center · v1.0.2
Pellet neɗɗaŋke ko jeddoowo joom mum.
Hausa Abu Bakr Jumi · v1.2.2
Lalle ne mutum mai tsananin butulci ne ga Ubangijinsa.
Hrvatski Rowwad Translation Center · v1.0.1
čovjek je, zaista, prema Gospodaru svome poricatelj veliki,
Kinyarwanda Rwanda Muslim Association · v1.0.5
Mu by’ukuri umuntu ni indashima kuri Nyagasani we,
Kirundi Yusuf Gahiti · v1.0.4
Mu vy’ukuri, umuntu ni intashima y’inema z’Imana yiwe Rurema Allah.
Kiswahili Ali Mohsin Al-Barwani · v1.0.1
Hakika mwanaadamu ni mtovu wa fadhila kwa Mola wake Mlezi! [6]
Kiswahili Rowad Translation Center · v1.0.5
Hakika mwanadamu ni mtovu wa fadhila kwa Mola wake Mlezi!
Kurdî Muhammad Salih Bamoki · v1.1.1
بەڕاستی مرۆڤ بۆ پەروەردگاری نا سوپاسە
Lietuvių Rowwad Translation Center · v1.0.8
6. Iš tiesų, žmogus savo Viešpačiui yra nedėkingas,
Lingála Mohammed Balangogo · v1.0.2
Ya soló, moto azali na botondi te тропа Nkolo naye.
Maguindanaon Rowwad Translation Center · v1.0.4
Saben-sabenal su manusya kanu Kadenan nin na pupus i kasupakin.
plays offline — the recitation is inside this file
PickthallAnd lo! he is a witness unto that;
Yusuf AliAnd to that (fact) he bears witness (by his deeds);
Muhammad Junagarhiاور یقیناً وه خود بھی اس پر گواه ہے.[1]
al-Muyassarإن الإنسان لِنعم ربه لَجحود، وإنه بجحوده ذلك لمقر. وإنه لحب المال لشديد.
the agreed readingAnd truly, to that he is a witness. The commentaries gloss it as his own conduct testifying against him: what he does shows plainly enough what he is, so that no other witness need be called.
”اور وہ خود اس پر گواہ ہے“ — یعنی اپنی اس ناشکری پر وہ خود گواہ ہے، اس کا انکار نہیں کر سکتا کیونکہ یہ بات اتنی کھلی ہوئی ہے۔ اس وصف کا اثر اس کے قول اور اس کے فعل دونوں سے ظاہر ہوتا ہے۔ گویا اپنے مقدمے میں وہ خود ہی فریق ہے اور خود ہی گواہ۔
وإنه على ذلك لشهيد، أي إنه على كنوده شاهدٌ من نفسه لا يستطيع إنكاره لوضوحه. فأثر هذه الصفة بادٍ عليه في قوله وفعله. فهو الخصم والشاهد في قضيَّته.
وانه على ذلك لشهيد " قال يعنيهما جميعا قد شهدا جميعا وادي اليابس وكانا لحب الحياة لحريصين قلت قوله: " أفلا يعلم إذا بعثر ما في القبور وحصل ما في الصدور ان ربهم بهم يومئذ لخبير " قال: نزلت الآيتان فيهما خاصة كانا يضمران ضمير السوء ويعملان به، فأخبر الله خبرهما وفعالهما فهذه قصة أهل وادي اليابس وتفسير العاديات ثم قال علي بن إبراهيم في قوله: (والعاديات ضبحا) اي عدوا عليهم في الضبح، ضباح الكلاب صوتها (فالموريات قدحا) كانت بلادهم فيها حجارة فإذا وطأتها سنابك الخيل كان تنقدح منها النار (فالمغيرات صبحا) اي صبحتهم بالغارة (فأثرن به نقعا) قال ثورة الغبرة من ركض الخيل (فوسطن به جمعا) قال توسط المشركين …
al-Baghawid.1122 · ar · PD
إِنَّ الْإِنْسَانَ لِرَبِّهِ لَكَنُودٌ﴾ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَمُجَاهِدٌ، وَقَتَادَةُ: "لَكَنُودٌ": لِكَفُورٌ جَحُودٌ لِنِعَمِ اللَّهِ تَعَالَى. قَالَ الْكَلْبِيُّ: هُوَ بِلِسَانِ مُضَرَ وَرَبِيعَةَ الْكَفُورُ، وَبِلِسَانِ كِنْدَةَ وَحَضْرَمَوْتَ الْعَاصِي [[انظر: شعب الإيمان للبيهقي: ٨ / ٥٠٧.]] . وَقَالَ الْحَسَنُ: هُوَ الَّذِي يَعُدُّ الْمَصَائِبَ وَيَنْسَى النِّعَمَ [[أخرجه البيهقي في "الشعب": ٨ / ٥٠٨ وعزاه السيوطي لابن جرير وسعيد بن منصور وعبد بن حميد وابن المنذر وابن أبي حاتم والبيهقي في "الشعب".]] . وَقَالَ عَطَاءٌ: هُوَ الَّذِي لَا يُعْطِي فِي النَّائِبَةِ مَعَ قَوْمِهِ. وَقَالَ أَبُو …
al-Zamakhsharid.1144 · ar · PD
: الكفور، يعنى: أنه لنعمة ربه خصوصا لشديد الكفران، لأن تفريطه في شكر نعمة غير الله تفريط قريب لمقاربة النعمة، لأن أجلّ ما أنعم به على الإنسان من مثله نعمة أبويه، ثم إن عظماها في جنب أدنى نعمة الله قليلة ضئيلة وَإِنَّهُ وإنّ الإنسان عَلى ذلِكَ على كنوده لَشَهِيدٌ يشهد على نفسه ولا يقدر أن يجحده لظهور أمره. وقيل: وإنّ الله على كنوده لشاهد على سبيل الوعيد الْخَيْرِ المال من قوله تعالى إِنْ تَرَكَ خَيْراً والشديد: البخيل الممسك. يقال: فلان شديد ومتشدّد. قال طرفة: أرى الموت يعتام الكرام ويصطفى ... عقيلة مال الفاحش المتشدد [[لطرفة بن العبد في معلقته. واعتام يعتام اعتياما: اختار اختيارا. والعقيلة من …
Jawāmiʿ al-jāmiʿ (al-Ṭabrisī)d.1153 · ar · PD
وإنه على ذلك) أي: وإن الإنسان على كنوده (لشهيد) يشهد على نفسه بالكفران والتفريط في شكر نعمة الله يوم القيامة، وقيل: معناه: وإن الله على كنوده [vol 3 p.831] لشاهد (١)، على سبيل الوعيد. وإن الإنسان (لحب الخير) أي: لأجل حب الخير وهو المال، من قوله تعالى: ﴿إن ترك خيرا﴾ (2)، (لشديد) أي: بخيل ممسك، يقال: فلان شديد ومتشدد، قال طرفة: أرى الموت يعتام الكرام ويصطفي * عقيلة مال الفاحش المتشدد (3) أو: أراد:
انسان کا نفسیاتی تجزیہ :مجاہدین کے گھوڑے جبکہ اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے ہانپتے اور ہنہاتے ہوئے دوڑتے ہیں ان کی اللہ تبارک و تعالیٰ قسم کھاتا ہے پھر اس تیزی میں دوڑتے ہوئے پتھروں کے ساتھ ان کے نعل کا ٹکرانا اور اس رگڑ سے آگ کی چنگاڑیاں اڑنا پھر صبح کے وقت دشمن پر ان کا چھاپہ مارنا اور دشمنان رب کو تہہ وبالا کرنا آنحضرت ﷺ کی یہی عادت مبارک تھی کہ دشمن کی کسی بستی پر آپ جاتے تو وہاں رات کو ٹھہر کر کام لگا کر سنتے اگر اذان کی آواز آگئی تو آپ رک جاتے نہ آتی تو لشکر کو حکم دیتے کہ بزن بول دیں پھر ان گھوڑوں کا گردو غبار اڑانا اور ان سب کا دشمنوں کے درمیان گھس جانا ان سب چیزوں کی قسم کھا کر پھر …
and verily to that, ingratitude of his, he is a witness, bearing witness against himself to his own actions.
al-Ṣāfī (Fayḍ al-Kāshānī)d.1680 · ar · PD
وإنه على ذلك لشهيد قيل يشهد على نفسه بالكنود لظهور أثره عليه أو ان الله على كنوده لشهيد. (8) وإنه لحب الخير قيل المال وقيل الحياة لشديد لبخيل أو لقوي مبالغ فيه. (9) أفلا يعلم إذا بعثر بعث ما في القبور من الموتى. (10) وحصل جمع وظهر ما في الصدور. (11) إن ربهم بهم يومئذ لخبير عليم بما أعلنوا وما أسروا فيجازيهم. في الأمالي عن الصادق (عليه السلام) إنه سئل عن هذه السورة قال وجه رسول الله (صلى الله عليه وآله) عمر بن الخطاب في سرية فرجع منهزما يجبن أصحابه ويجبنونه فلما انتهى إلى النبي (صلى الله عليه وآله) قال لعلي (عليه السلام) أنت صاحب القوم فهيئ أنت ومن تريد من فرسان المهاجرين والأنصار فوجه رسول …
خود انسان اسکا گواہ ہے:یعنی سرفروش مجاہدین کی اور ان کے گھوڑوں کی وفاشعاری اور شکر گزاری اس کی آنکھوں کے سامنے ہے۔ پھر بھی بےحیا ٹس سے مس نہیں ہوتا (تنبیہ) ترجمہ کی رعایت سے ہم نے یہ مطلب لکھا ہے۔ ورنہ اکثر مفسرین اس جملہ کا مطلب یہ لیتے ہیں کہ انسان خود اپنی ناشکری پر زبانِ حال سے گواہ ہے۔ ذرا اپنی ضمیر کی آواز کی طرف متوجہ ہو تو سن لے کہ اندر سے خود اس کا دل کہہ رہا ہے کہ تو بڑا ناشکرا ہے۔ بعض سلف نے اِنَّہٗ کی ضمیر رب کی طرف لوٹائی ہے۔ یعنی اس کا رب اس کی ناسپاسی اور کفران نعمت کو دیکھ رہا ہے۔
قَدۡحاً}؛ أي: تنقدح النار من صلابة حوافرهنَّ وقوتهنَّ إذا عَدَوْنَ. {3}{فالمغيراتِ}: على الأعداء، {صبحاً}: وهذا أمرٌ أغلبيٌّ أنَّ الغارة تكون صباحاً. {4 ـ 5}{فأثرنَ به}؛ أي: بعدوهنَّ وغارتهنَّ، {نقعاً}؛ أي: غباراً، {فوسطن به}؛ أي: براكبهنَّ {جمعاً}؛ أي: توسطن به جموع الأعداء الذين أغار عليهم. {6} والمقسَم عليه قوله: {إنَّ الإنسانَ لربِّه لَكَنودٌ}؛ أي: منوعٌ للخير الذي لله عليه ؛ فطبيعة الإنسان وجِبِلَّتُه أنَّ نفسه لا تسمح بما عليه من الحقوق فتؤديها كاملة موفرة، بل طبيعتها الكسل والمنع لما عليها من الحقوق الماليَّة والبدنيَّة؛ إلاَّ مَن هداه الله وخرج عن هذا الوصف إلى وصف السماح بأداء …
قسم ہے سر پٹ دوڑنے والے گھوڑوں کی ہانپتے ہوئے(1) پھر آگ نکالنے والوں کی سم مار کر(2) پھر حملہ کرنے والوں کی صبح کے وقت(3) پھر وہ اڑاتے ہیں اس وقت غبار(4) پھر وہ درمیان میں گھس جاتے ہیں اس وقت (دشمن کی) جماعت میں(5) یقیناً انسان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے(6) اور بلاشبہ وہ اس بات پر البتہ (خودبھی) شاہد ہے(7)اور بلاشبہ وہ محبت مال میں (بھی) بہت سخت ہے(8)کیا پس نہیں جانتا وہ جب نکال باہر کر دیا جائے گا جو کچھ قبروں میں ہے؟(9) اور ظاہر کر دیا جائے گا جو کچھ سینوں میں ہے (10) بلاشبہ ان کا رب ان (کے حال) سے اس دن خبر دار ہو گا (11) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] اللہ …
فَوَسَطْنَ بِهِ جَمْعًا (then enter, at the same time, into the centre of the [ opposing ] host) In other words, they penetrate into the centre of the enemy forces without the least degree of fear. The word kanud, (100:6) according to Hasan Basri (رح) ، refers to the one who counts the calamities that befall him, and forgets Allah's favours. Abu Bakr Wasiti said that kanud is the one who spends the bounties of Allah for sinful purposes. Tirmidhi said that kanud is the one who looks at the bounty, and not at the Bounteous Lord. In short, all these interpretations lead to the sense of …
عنی اُس کا ضمیر اِس پر گواہ ہے ، اُس کے اعمال اِس پر گواہ ہیں، اور بہت سے کافر انسان خود اپنی زبان سے عَلانیہ نا شکری کا اظہار کرتے ہیں ، کیونکہ ان کے نزدیک خدا ہی سرے سے موجود نہیں کجا کہ وہ اپنے اوپر اس کی کسی نعمت کا اعتراف کریں اور اس کا شکر اپنے ذمّے لازم سمجھیں۔
That is his own conscience and his own deeds are a witness to it; then there are many disbelievers also who by their own tongue express their ingratitude openly, for they do not even believe that God exists to say nothing of acknowledging His blessings for which they may have to render gratitude to Him.
وقوله - تعالى - : ( وَإِنَّهُ على ذَلِكَ لَشَهِيدٌ ) أى : وإن الإِنسان على كنوده وجحوده لنعم ربه " لشهيد " أى : لشاهد على نفسه بذلك ، لظهور أثر هذه الصفة عليه ظهروا واضحا ، إذ هو عند لجاجه فى الطغيان يجحد الجلى من النعم ، ويعبد من دون خالقه أصناما ، مع أنه إذا سئل عن خالقه اعترف وأقر بأن خالقه هو الله - تعالى - ، كما قال - سبحانه - : ( وَلَئِن سَأَلْتَهُم مَّنْ خَلَقَهُمْ لَيَقُولُنَّ الله ) قال الإِمام الشيخ محمد عبده : قوله : ( وَإِنَّهُ على ذَلِكَ لَشَهِيدٌ ) أى : وإن الإِنسان لشهيد على كنوده ، وكفره لنعمة ربه ، لأنه يفخلر بالقسوة على من دونه ، وبقوة الحيلة على من فوقه ، وبكثرة ما فى يده …
آیت 7{ وَاِنَّہٗ عَلٰی ذٰلِکَ لَشَہِیْدٌ۔ } ”اور وہ خود اس پر گواہ ہے۔“ وہ اپنے اس طرزعمل سے خوب واقف ہے۔ جیسا کہ سورة القیامہ میں فرمایا گیا : { بَلِ الْاِنْسَانُ عَلٰی نَفْسِہٖ بَصِیْرَۃٌ۔ } کہ انسان اپنے خیالات ‘ جذبات اور کردار کے بارے میں خود سب کچھ جانتا ہے۔ چناچہ انسان خوب جانتا ہے کہ وہ قدم قدم پر اپنے رب کی ناشکری کا مرتکب ہو رہا ہے۔
وَإِنَّهُ عَلَى ذَلِكَ لَشَهِيدٌ (7) وضمير { وإنه على ذلك لشهيد } عائد إلى الإنسان على حسب الظاهر الذي يقتضيه انتساق الضمائر واتحاد المتحدث عنه وهو قول الجمهور .والشهيد : يطلق على الشاهد وهو الخبر بما يُصدَّق دعوى مدع ، ويطلق على الحاضر ومنه جاء إطلاقه على العالم الذي لا يفوته المعلوم ، ويطلق على المقر لأنه شهد على نفسه .والشهيد هنا : إما بمعنى المقر كما في «أشْهد أن لا إله إلا الله» .والمعنى : أن الإنسان مقر بكنوده لربه من حيث لا يقصد الإِقرار ، وذلك في فلتات الأقواللِ مثل قول المشركين في أصنامهم : { ما نعبدهم إلا ليقربونا إلى اللَّه زلفى } [ الزمر : 3 ] . فهذا قول يلزمه اعترافهم بأنهم عبدوا …
عنی انسان خود بھی اپنی ناشکری کی گواہی دیتا ہے۔ بعض لَشَهِيدٌ کافاعل اللہ کو قرار دیتے ہیں۔ لیکن امام شوکانی نے پہلے مفہوم کو راجح قرار دیا ہے، کیوں کہ مابعد کی آیات میں ضمیر کا مرجع انسان ہی ہے۔ اس لئے یہاں بھی انسان ہی ہونا زیادہ صحیح ہے۔
(And lo! he is a witness unto that) and Allah records His doing;
No commentary keyed to this āyah in: Fi Zilal al-Quran (Urdu), Majmaʿ al-bayān (al-Ṭabrisī), Nūr al-thaqalayn (al-Ḥuwayzī), Tazkirul Quran (English), al-Mīzān (Ṭabāṭabāʾī), al-Tibyān (al-Ṭūsī).
the words of this āyah — root, frequency, family
و
occurs 9594 timesamong the commonest 300 words
إِنّ
occurs 1682 timesamong the commonest 300 words
عَلَى
occurs 1445 timesamong the commonest 300 words
ذا
occurs 1058 timesamong the commonest 300 words
ل
occurs 4380 timesamong the commonest 300 words
شَهِيد
occurs 56 timesroot شهد occurs 160among the commonest 300 words
இன்னும், நிச்சயமாக அவன் அதற்கு சாட்சியாக இருக்கிறான்.
తెలుగు Abdurrahim ibn Muhammad · v1.0.6
మరియు నిశ్చయంగా, దీనికి స్వయంగా అతడే సాక్షి.
ಕನ್ನಡ Hamza Butur · v1.0.3
ನಿಶ್ಚಯವಾಗಿಯೂ ಅವನೇ ಅದಕ್ಕೆ ಸಾಕ್ಷಿಯಾಗಿದ್ದಾನೆ.
മലയാളം Abdul Hamid Haidar and Kunhi Muhammad · v1.0.3
തീര്ച്ചയായും അവന് അതിന്ന് സാക്ഷ്യം വഹിക്കുന്നവനുമാകുന്നു.
සිංහල Rowwad Translation Center · v1.0.6
තවද ඇත්තෙන් ම ඔහු එයට සාක්ෂිකරුවෙක් වේ.
ไทย Rowwad Translation Center · v1.0.1
และแท้จริงเขาได้เป็นพยานต่อการนั้นอย่างแน่นอน
አማርኛ Africa Academy · v1.0.1
7. እርሱም በዚያ ክህደቱ ላይ መስካሪ ነው::
አማርኛ Muhammad Sadiq · v1.1.2
እርሱም በዚህ ላይ መስካሪ ነው፡፡
ភាសាខ្មែរ Islamic Community Development Association · v1.0.2
ហើយពិតប្រាកដណាស់ គេគឺជាសាក្សីលើរឿងនោះ
ភាសាខ្មែរ Rowwad Translation Center · v1.0.4
ហើយពិតប្រាកដណាស់ រូបគេជាសាក្សីចំពោះការរមិលគុណនោះ។
中文 Muhammad Makeen · v1.0.2
他自己对那孤负确是见证的,
中文 Muhammad Suleiman · v1.0.8
他自己对那辜负确是见证的,
日本語 Saeed Sato · v1.0.13
本当にかれ[1]は、そのことにおける確かな証言者である。
Al-'Adiyat 100 : 8
وَإِنَّهُۥلِحُبِّٱلْخَيْرِلَشَدِيدٌ
waiinahu lihubi alkhayri lashadiydun
plays offline — the recitation is inside this file
PickthallAnd lo! in the love of wealth he is violent.
Yusuf AliAnd violent is he in his love of wealth.
Muhammad Junagarhiیہ مال کی محنت میں بھی بڑا سخت ہے.[1]
al-Muyassarإن الإنسان لِنعم ربه لَجحود، وإنه بجحوده ذلك لمقر. وإنه لحب المال لشديد.
the agreed readingAnd truly, in his love of wealth he is fierce. Both traditions note that the word standing here is good rather than wealth, gloss it of wealth all the same, and read the fierceness as a grip tight enough to stop him giving any of it away.
”اور وہ مال کی محبت میں بہت سخت ہے۔“ یہاں ”خَیْر“ سے مراد مال ہے، جیسے ”اِنْ تَرَکَ خَیْرًا“ میں ہے۔ مطلب یہ کہ اس کی محبت میں وہ اتنا شدید ہے کہ ہر راستے سے اسے جمع کرتا ہے اور جس کا حق ہے اس سے روک لیتا ہے۔ یہی محبت اسے ناشکری تک لے جاتی ہے — چنانچہ دونوں وصف آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔
وإنه لحبِّ الخير لشديد. و«الخير» هنا المال، كما في قوله: «إن ترك خيرًا». والمعنى أنه شديد الحبِّ له، فيجمعه من كل وجه ويبخل به عمَّن يستحقه. وهذا الحبُّ هو الذي حمله على الكنود، فارتبط الوصفان.
: الكفور، يعنى: أنه لنعمة ربه خصوصا لشديد الكفران، لأن تفريطه في شكر نعمة غير الله تفريط قريب لمقاربة النعمة، لأن أجلّ ما أنعم به على الإنسان من مثله نعمة أبويه، ثم إن عظماها في جنب أدنى نعمة الله قليلة ضئيلة وَإِنَّهُ وإنّ الإنسان عَلى ذلِكَ على كنوده لَشَهِيدٌ يشهد على نفسه ولا يقدر أن يجحده لظهور أمره. وقيل: وإنّ الله على كنوده لشاهد على سبيل الوعيد الْخَيْرِ المال من قوله تعالى إِنْ تَرَكَ خَيْراً والشديد: البخيل الممسك. يقال: فلان شديد ومتشدّد. قال طرفة: أرى الموت يعتام الكرام ويصطفى ... عقيلة مال الفاحش المتشدد [[لطرفة بن العبد في معلقته. واعتام يعتام اعتياما: اختار اختيارا. والعقيلة من …
Jawāmiʿ al-jāmiʿ (al-Ṭabrisī)d.1153 · ar · PD
وإنه لحب الخيرات غير هش منبسط، ولكنه شديد منقبض. (بعثر) أي: بعث. (وحصل) أي: ظهر محصلا مجموعا، وقيل: ميز بين خيره وشره (4). ومعنى خبره بهم يوم القيامة: مجازاته لهم على مقادير أعمالهم. * * * [vol 3 p.832] سورة القارعة مكية (1)، إحدى عشرة آية كوفي، ثماني آيات بصري. عد الكوفي: (القارعة) الأولى، و (ثقلت موزينه) (2) و (خفت موزينه) (3). في حديث أبي: " من قرأها ثقل الله ميزانه يوم القيامة " (4). وعن الباقر (عليه السلام): " من قرأها آمنه الله من فتنة الدجال ومن قيح جهنم " (5). بسم الله الرحمن الرحيم (القارعة (1) ما القارعة (2) ومآ أدراك ما القارعة (3) يوم يكون الناس كالفراش المبثوث (4) وتكون الجبال …
انسان کا نفسیاتی تجزیہ :مجاہدین کے گھوڑے جبکہ اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے ہانپتے اور ہنہاتے ہوئے دوڑتے ہیں ان کی اللہ تبارک و تعالیٰ قسم کھاتا ہے پھر اس تیزی میں دوڑتے ہوئے پتھروں کے ساتھ ان کے نعل کا ٹکرانا اور اس رگڑ سے آگ کی چنگاڑیاں اڑنا پھر صبح کے وقت دشمن پر ان کا چھاپہ مارنا اور دشمنان رب کو تہہ وبالا کرنا آنحضرت ﷺ کی یہی عادت مبارک تھی کہ دشمن کی کسی بستی پر آپ جاتے تو وہاں رات کو ٹھہر کر کام لگا کر سنتے اگر اذان کی آواز آگئی تو آپ رک جاتے نہ آتی تو لشکر کو حکم دیتے کہ بزن بول دیں پھر ان گھوڑوں کا گردو غبار اڑانا اور ان سب کا دشمنوں کے درمیان گھس جانا ان سب چیزوں کی قسم کھا کر پھر …
Tafsir al-Jalalaynd.1505 · ar · PD
وإنَّهُ لِحُبِّ الخَيْر﴾ أيْ المال ﴿لَشَدِيد﴾ الحُبّ لَهُ فَيَبْخَل بِهِ
And verily in the love of wealth he is avid, and is therefore niggardly with it.
al-Ṣāfī (Fayḍ al-Kāshānī)d.1680 · ar · PD
وانه لحب الخير لشديد قال يعنيهما قد شهدا جميعا وادي اليابس وكانا لحب الحياة حريصين أفلا يعلم إلى آخر السورة قال نزلت الآيتان فيهما خاصة يضمران ضمير السوء ويعملان به فأخبر الله خبرهما وفعالهما. في ثواب الأعمال والمجمع عن الصادق (عليه السلام) من قرأ سورة العاديات وادمن قراءتها بعثه الله عز وجل مع أمير المؤمنين صلوات الله وسلامه عليه يوم القيامة خاصة وكان في حجره ورفقائه إن شاء الله تعالى. [vol 5 p.365] سورة القارعة مكية وهي احدى عشر آية كوفي حجازي ثمان بصري شامي بسم الله الرحمن الرحيم (1) القارعة التي تقرع الناس بالافزاع والاجرام بالانفطار والانتشار ما القارعة ما هي اي اي شئ هي على التعظيم …
Nūr al-thaqalayn (al-Ḥuwayzī)d.1700 · ar · PD
وانه لحب الخير لشديد يعنى حب الحياة حيث خافوا السباع على أنفسهما فقال الله عز وجل:
انسان میں مال کی محبت شدید ہے:یعنی حرص و طمع اور بخل و امساک نے اس کو اندھا بنا رکھا ہے۔ دنیا کے زرومال کی محبت میں اس قدر غرق ہے کہ منعم حقیقی کو بھی فراموش کر بیٹھا، نہیں سمجھتا کہ آگے چل کر اس کا کیا انجام ہونے والا ہے۔
َكَنودٌ}؛ أي: منوعٌ للخير الذي لله عليه ؛ فطبيعة الإنسان وجِبِلَّتُه أنَّ نفسه لا تسمح بما عليه من الحقوق فتؤديها كاملة موفرة، بل طبيعتها الكسل والمنع لما عليها من الحقوق الماليَّة والبدنيَّة؛ إلاَّ مَن هداه الله وخرج عن هذا الوصف إلى وصف السماح بأداء الحقوق. {7}{وإنَّه على ذلك لَشهيدٌ}؛ أي: إن الإنسانَ على ما يعرفُ من نفسه من المنع والكَنَد لشاهدٌ بذلك لا يجحده ولا ينكره؛ لأنَّ ذلك [أمرٌ] بيِّن واضحٌ، ويحتمل أنَّ الضمير عائدٌ إلى الله [تعالى]؛ أي: إنَّ العبد لربِّه لكنودٌ، والله شهيدٌ على ذلك؛ ففيه الوعيد والتهديد الشديد لمَن هو لربِّه كنودٌ بأنَّ الله عليه شهيدٌ. {8}{وإنه}؛ أي: الإنسان …
قسم ہے سر پٹ دوڑنے والے گھوڑوں کی ہانپتے ہوئے(1) پھر آگ نکالنے والوں کی سم مار کر(2) پھر حملہ کرنے والوں کی صبح کے وقت(3) پھر وہ اڑاتے ہیں اس وقت غبار(4) پھر وہ درمیان میں گھس جاتے ہیں اس وقت (دشمن کی) جماعت میں(5) یقیناً انسان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے(6) اور بلاشبہ وہ اس بات پر البتہ (خودبھی) شاہد ہے(7)اور بلاشبہ وہ محبت مال میں (بھی) بہت سخت ہے(8)کیا پس نہیں جانتا وہ جب نکال باہر کر دیا جائے گا جو کچھ قبروں میں ہے؟(9) اور ظاہر کر دیا جائے گا جو کچھ سینوں میں ہے (10) بلاشبہ ان کا رب ان (کے حال) سے اس دن خبر دار ہو گا (11) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] اللہ …
وَإِنَّهُ لِحُبِّ الْخَيْرِ لَشَدِيدٌ (and in his love for wealth, he is very intense.) Literally, the word khair means 'any good thing'. Idiomatically, the word khair, in Arabic, means 'wealth' implying that 'wealth' is an embodiment of goodness and benefit. However, some type of wealth can involve man in untold misery. In the Hereafter, this will be the position of all wealth acquired through unlawful means. Sometimes, wealth in this world too can prove to be nuisance and disaster. Nonetheless, according to Arabic idiom, worldly goods in this verse have been described as khair as the same …
اصل الفاظ ہیں وَاِنَّہٗ لِحُبِّ الْخَیْرِ لَشَدِیْدٌ۔ اس فقرے کا لفظی ترجمہ یہ ہو گا کہ ” وہ خیر کی محبت میں بہت سخت ہے۔“ لیکن عربی زبان میں خیر کا لفظ نیکی اور بھلائی کے لیے مخصوص نہیں ہے بلکہ مال و دولت کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے ۔ چنانچہ سورۂ بقرہ آیت 18۰ میں خیر بمعنی مال و دولت ہی استعمال ہوا ہے۔ یہ بات کلام کے موقع و محل سے معلوم ہوتی ہے کہ کہاں خیر کا لفظ نیکی کے معنی میں ہے اور کہاں مال و دولت کے معنی میں۔ اِس آیت کے سِیاق و سَباق سے خود ہی یہ ظاہر ہو رہا ہے کہ اِس میں خیر مال و دولت کے معنی میں ہے نہ کہ بھلائی اور نیکی کے معنی میں، کیونکہ جو انسان اپنے ربّ کا ناشکرا ہے اور اپنے طرزِ …
Literally He is most ardent in the love of khair. But the word khair is not only used for goodness and virtue in Arabic but also for worldly wealth. In ( Surah Al-Baqarah, Ayat 180), khair has been used in the meaning of worldly wealth. The context itself shows where khair has been used in the sense of goodness and where in that of worldly goods. The context of this verse clearly shows that here khair means worldly wealth and not virtue and goodness. For about the man who is ungrateful to his Lord and who by his conduct is himself testifying to his ingratitude it cannot be said that he is …
وقوله - تعالى - : ( وَإِنَّهُ لِحُبِّ الخير لَشَدِيدٌ ) أى : وإن هذا الإِنسان لشديد الحب لجمع المال ، ولكسبه من مختلف الوجوه بدون تفرقة - فى كثير من الأحيان - بين الحلال والحرام ، ولكنزه والتكثر منه ، وبالبخل به على من يستحقه .وصدق الله إذ يقول : ( قُل لَّوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ خَزَآئِنَ رَحْمَةِ رَبِّي إِذاً لأمْسَكْتُمْ خَشْيَةَ الإنفاق وَكَانَ الإنسان قَتُوراً ) .
آیت 8{ وَاِنَّہٗ لِحُبِّ الْخَیْرِ لَشَدِیْدٌ۔ } ”اور وہ مال و دولت کی محبت میں بہت شدید ہے۔“ مال و دولت کی محبت میں انسان اکثر اوقات حلال و حرام کی تمیز تک بھلا دیتا ہے۔ حتیٰ کہ حرام کھاتے ہوئے وہ اپنے نفس ِلوامہ بحوالہ سورة القیامہ ‘ آیت 2 اور ضمیر کی ملامت کی بھی پروا نہیں کرتا۔
وَإِنَّهُ لِحُبِّ الْخَيْرِ لَشَدِيدٌ (8)وتقديم { لحب الخير } على متعلَّقه للاهتمام بغرابة هذا المتعلق ولمراعاة الفاصلة ، وتقديمه على عامله المقترن بلام الابتداء ، وهي من ذوات الصدر لأنه مجرور كما علمت في قوله : { لربه لكنود } .وحب المال يبعث على منع المعروف ، وكان العرب يعيِّرون بالبخل وهم مع ذلك يبْخَلون في الجاهلية بمواساة الفقراء والضعفاء ويأكلون أموال اليتامى ولكنهم يسرفون في الإِنفاق في مظان السمعة ومجالس الشرب وفي الميسر قال تعالى : { ولا تحاضون على طعام المسكين وتأكلون التراث أكلاً لما وتحبون المال حباً جماً } [ الفجر : 18 20 ] .
خَيْرٌ سے مراد مال ہے، جیسے «إِنْ تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّةُ» ( البقرة :180 ) میں ہے معنی واضح ہیں۔ ایک دوسرا مفہوم یہ ہے کہ نہایت حریص اور بخیل ہے جو مال کی شدید محبت کا لازمی نتیجہ ہے۔
(And lo! in the love of wealth) abundant wealth (he) i.e. Qurt (is violent) is extreme.
No commentary keyed to this āyah in: Fi Zilal al-Quran (Urdu), Majmaʿ al-bayān (al-Ṭabrisī), Tazkirul Quran (English), al-Mīzān (Ṭabāṭabāʾī), al-Tibyān (al-Ṭūsī).
the words of this āyah — root, frequency, family
و
occurs 9594 timesamong the commonest 300 words
إِنّ
occurs 1682 timesamong the commonest 300 words
ل
occurs 4380 timesamong the commonest 300 words
حُبّ
occurs 9 timesroot حبب occurs 95
أَحْبَبْ64حُبّ9حَبّ7حَبَّة5اسْتَحَبُّ4أَحَبّ3
ال
occurs 8377 timesamong the commonest 300 words
خَيْر
occurs 178 timesroot خير occurs 196among the commonest 300 words
خَيْر178خَيْرَة10اخْتارَ4خِيَرَة2يَتَخَيَّرُ2
شَدِيد
occurs 56 timesroot شدد occurs 102among the commonest 300 words
شَدِيد56أَشَدّ31أَشُدّ8شَدَدْ6اشْتَدَّتْ1
this āyah in 55 languages — 74 translations
Akan Harun Ismail · v1.0.3
Ԑyε nokorε nso sε onipa pε adepa paa ma no boro so.
Azərbaycan Ali Khan Musayev · v1.0.4
Həqiqətən o, xeyirə (var-dövlətə) çox hərisdir.
Bahasa Indonesia Ministry of Religious Affairs · v1.0.1
dan sesungguhnya cintanya kepada harta benar-benar berlebihan.
Bahasa Indonesia Sabiq Company · v1.1.3
8. Dan sesungguhnya cintanya kepada harta benar-benar berlebihan.
Bahasa Indonesia The Complex · v1.0.1
dan sesungguhnya dia sangat bakhil karena cintanya kepada harta[1598].
Bosanski Muhammad Mahanovic · v1.1.0
i on je, zbilja, u ljubavi za dobrima dunjalučkim žestok.
Bosanski Rowwad Translation Centre · v2.0.4
i on je, zbilja, u ljubavi za dobrima dunjalučkim žestok.
Cebuano Rowwad Translation Center · v1.1.3
Ug tungod sa iyang hilabihan nga gugma sa bahandi, siya kuripot niini.
Deutsch Frank Bubenheim · v1.1.4
Und er ist in seiner Liebe zum (eigenen) Besten wahrlich heftig.
Deutsch Rowwad Translation Center · v1.0.15
Und er ist in seiner Liebe zum (eigenen) Besten ja fürwahr heftig.
English Hilali and Khan · v1.1.2
8. And verily, he is violent in the love of wealth.
English Noor International Center · v1.1.2
And indeed he is, in love of wealth, intense.
English Rowwad Translation Center · v1.0.19
and he is truly extreme in his love of wealth.
Español Isa Garcia · v1.0.2
8. porque tiene una codicia apasionada por los bienes materiales.
Español Noor International Center · v1.0.1
Y ama las riquezas con pasión.
Español issued by Noor International · v1.0.1
Y ama las riquezas con pasión.
Français Noor International Center · v1.0.0
8. Et certes, il porte aux biens (terrestres) un amour très intense.
Français Rachid Maach · v1.0.3
Il voue aux biens terrestres un amour des plus ardents.
Fulfulde Rowwad Translation Center · v1.0.2
Kaŋko de pellet ko jiɗɗo jam sanne.
Hausa Abu Bakr Jumi · v1.2.2
Kuma alle ne ga dũkiya shi mai tsananin so ne.
Hrvatski Rowwad Translation Center · v1.0.1
i on je, zbilja, u ljubavi za dobrima ovosvjetskim žestok.
Kinyarwanda Rwanda Muslim Association · v1.0.5
Ndetse akunda imitungo bikabije.
Kirundi Yusuf Gahiti · v1.0.4
Mu vy’ukuri, umuntu mu gukunda amatungo ararengeje.
Kiswahili Ali Mohsin Al-Barwani · v1.0.1
Naye hakika bila ya shaka ana nguvu za kupenda mali! [8]
Kiswahili Rowad Translation Center · v1.0.5
Naye hakika bila ya shaka ana nguvu za kupenda mali!
plays offline — the recitation is inside this file
PickthallKnoweth he not that, when the contents of the graves are poured forth
Yusuf AliDoes he not know,- when that which is in the graves is scattered abroad
Muhammad Junagarhiکیا اسے وه وقت معلوم نہیں جب قبروں میں جو (کچھ) ہے نکال لیا جائے گا.[1]
al-Muyassarأفلا يعلم الإنسان ما ينتظره إذا أخرج الله الأموات من القبور للحساب والجزاء؟
the agreed readingDoes he not know - when what is in the graves is turned out? Both traditions gloss the verb as the dead being stirred up and brought out, which is their being raised.
”تو کیا وہ نہیں جانتا“ کہ جب قبروں میں جو کچھ ہے اسے اٹھا کر باہر کر دیا جائے گا تو اس کا کیا حال ہوگا؟ یعنی مُردوں کو زندہ کر کے حساب کے لیے نکالا جائے گا۔ یہ سوال اس کی غفلت پر انکار ہے، کسی خبر کے بارے میں پوچھنا نہیں۔ اگر وہ اسے صحیح معنوں میں جان لیتا تو اپنی اس روش پر قائم نہ رہتا۔
أفلا يعلم هذا المغترُّ ما ينتظره إذا بُعثر ما في القبور؟ أي أُثير الموتى وأُخرجوا منها للحساب. فالسؤال إنكارٌ عليه غفلتَه، لا استفهامٌ عن خبر. ولو علم ذلك حقَّ العلم ما استمرَّ على حاله.
No Shīʿī edition could be anchored to this āyah by the alignment; the commentary exists in the books, the method could not point at it.
أيضا.]] يعنى: وإنه لأجل حب المال وأن إنفاقه يثقل عليه: لبخيل ممسك. أو أراد بالشديد: القوى، وأنه لحب المال وإيثار الدنيا وطلبها قوى مطيق، وهو لحب عبادة الله وشكر نعمته ضعيف متقاعس. تقول: هو شديد لهذا الأمر، وقوىّ له: إذا كان مطيقا له ضابطا. أو أراد: أنه لحب الخيرات غير هش منبسط، ولكنه شديد منقبض بُعْثِرَ بعث. وقرئ: بحثر، وبحث. وبحثر، وحصل: على بنائهما للفاعل. وحصل: بالتخفيف. ومعنى حُصِّلَ جمع في الصحف، أى: أظهر محصلا مجموعا. وقيل: ميز بين خيره وشره. ومنه قيل للمنخل: المحصل. ومعنى علمه بهم يوم القيامة: مجازاته لهم على مقادير أعمالهم، لأنّ ذلك أثر خبره بهم. وقرأ أبو السمال: إنّ ربهم بهم يومئذ …
Fakhr al-Din al-Razid.1210 · ar · PD
واعْلَمْ أنَّهُ تَعالى لَمّا عَدَّ عَلَيْهِ قَبائِحَ أفْعالِهِ خَوَّفَهُ، فَقالَ: ﴿أفَلا يَعْلَمُ إذا بُعْثِرَ ما في القُبُورِ﴾ وفِيهِ مَسْألَتانِ: المَسْألَةُ الأُولى: القَوْلُ في: ”بُعْثِرَ“ مَضى في قَوْلِهِ تَعالى: ﴿وإذا القُبُورُ بُعْثِرَتْ﴾ [الانفطار: ٤] وذَكَرْنا أنَّ مَعْنى: ﴿بُعْثِرَتْ﴾ بُعِثَ وأُثِيرَ وأُخْرِجَ، وقُرِئَ ”بُحْثِرَ“ . المَسْألَةُ الثّانِيَةُ: لِقائِلٍ أنْ يَسْألَ لِمَ قالَ: ﴿بُعْثِرَ ما في القُبُورِ﴾ ولَمْ يَقُلْ: بُعْثِرَ مَن في القُبُورِ ؟ ثُمَّ إنَّهُ لَمّا قالَ: ما في القُبُورِ، فَلِمَ قالَ: ﴿إنَّ رَبَّهم بِهِمْ﴾ ولَمْ يَقُلْ: إنَّ رَبَّها بِها يَوْمَئِذٍ لَخَبِيرٌ …
انسان کا نفسیاتی تجزیہ :مجاہدین کے گھوڑے جبکہ اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے ہانپتے اور ہنہاتے ہوئے دوڑتے ہیں ان کی اللہ تبارک و تعالیٰ قسم کھاتا ہے پھر اس تیزی میں دوڑتے ہوئے پتھروں کے ساتھ ان کے نعل کا ٹکرانا اور اس رگڑ سے آگ کی چنگاڑیاں اڑنا پھر صبح کے وقت دشمن پر ان کا چھاپہ مارنا اور دشمنان رب کو تہہ وبالا کرنا آنحضرت ﷺ کی یہی عادت مبارک تھی کہ دشمن کی کسی بستی پر آپ جاتے تو وہاں رات کو ٹھہر کر کام لگا کر سنتے اگر اذان کی آواز آگئی تو آپ رک جاتے نہ آتی تو لشکر کو حکم دیتے کہ بزن بول دیں پھر ان گھوڑوں کا گردو غبار اڑانا اور ان سب کا دشمنوں کے درمیان گھس جانا ان سب چیزوں کی قسم کھا کر پھر …
Does he not know that, when that which is in the graves, in the way of the dead, is strewn, when it is turned over and brought out, that is to say, [that when] they are raised,
لَشهيدٌ}؛ أي: إن الإنسانَ على ما يعرفُ من نفسه من المنع والكَنَد لشاهدٌ بذلك لا يجحده ولا ينكره؛ لأنَّ ذلك [أمرٌ] بيِّن واضحٌ، ويحتمل أنَّ الضمير عائدٌ إلى الله [تعالى]؛ أي: إنَّ العبد لربِّه لكنودٌ، والله شهيدٌ على ذلك؛ ففيه الوعيد والتهديد الشديد لمَن هو لربِّه كنودٌ بأنَّ الله عليه شهيدٌ. {8}{وإنه}؛ أي: الإنسان {لحبِّ الخير}؛ أي: المال، {لشديدٌ}؛ أي: كثير الحبِّ للمال، وحبُّه لذلك هو الذي أوجب له ترك الحقوق الواجبة عليه؛ قَدَّمَ شهوة نفسه على رضا ربِّه، وكلُّ هذا لأنَّه قصر نظره على هذه الدار، وغفل عن الآخرة. {9 ـ 10} ولهذا قال حاثًّا له على خوف يوم الوعيد: {أفلا يعلمُ}؛ أي: هلاّ يعلم هذا …
قسم ہے سر پٹ دوڑنے والے گھوڑوں کی ہانپتے ہوئے(1) پھر آگ نکالنے والوں کی سم مار کر(2) پھر حملہ کرنے والوں کی صبح کے وقت(3) پھر وہ اڑاتے ہیں اس وقت غبار(4) پھر وہ درمیان میں گھس جاتے ہیں اس وقت (دشمن کی) جماعت میں(5) یقیناً انسان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے(6) اور بلاشبہ وہ اس بات پر البتہ (خودبھی) شاہد ہے(7)اور بلاشبہ وہ محبت مال میں (بھی) بہت سخت ہے(8)کیا پس نہیں جانتا وہ جب نکال باہر کر دیا جائے گا جو کچھ قبروں میں ہے؟(9) اور ظاہر کر دیا جائے گا جو کچھ سینوں میں ہے (10) بلاشبہ ان کا رب ان (کے حال) سے اس دن خبر دار ہو گا (11) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] اللہ …
ایک شدید اور موثر منظر ہے۔ قبروں سے انسانوں کا نکالا جانا ، اس عمل کے لئے ” بعثرہ “ کا شدید لفظ لایا گیا ہے اور پھر اس منظر میں ان رازوں کو کھینچ کھینچ کر باہر نکالا جارہا ہے جن کو نفوس انسانی نے دبائے اور چھپائے رکھا تھا۔ حصلت کا لفظ اس کے لئے استعمال ہوا کہ گویا سرکاری کارندے زبردستی حاصل کررہے ہیں۔ سرکاری تحصیل دار پہنچے ہوتے ہیں اور نہایت شدید پکڑ دھکڑ کا منظر ہے۔ کیا انسان نہیں جانتا کہ اسے اس قسم کے منظر سے گزرنا ہے۔ اسے کچھ یاد ہے ان حقائق کے بارے میں ، یہ حقائق تو ہر انسان کی فطرت میں ہیں۔ اگر اسے علم ہے اور یاد ہے تو بس اس کی اصلاح کے لئے تو یہی کافی ہے۔ اس علم کا جواب نہیں دیا جاتا …
وَحُصِّلَ مَا فِي الصُّدُورِ ﴿10﴾ إِنَّ رَبَّهُم بِهِمْ يَوْمَئِذٍ لَّخَبِيرٌ ﴿11﴾ أَفَلَا يَعْلَمُ إِذَا بُعْثِرَ مَا فِي الْقُبُورِ ﴿9﴾ (Does he not then know [ what will happen ] when all that is contained in the graves will be overturned, and all that is contained in the hearts will be exposed. Surely your Lord, that day, is fully aware of them.) Divine retribution will be meted out, in the Hereafter, to each person commensurate with his deeds, good or bad, as Allah is well-aware of them. Therefore, it would be wise for man to abstain from ingratitude, and he should not have such a …
أَفَلَا يَعْلَمُ إِذَا بُعْثِرَ مَا فِي الْقُبُورِ (9) فُرع على الإِخبار بكنود الإِنسان وشحه استفهام إنكاري عن عدم علم الإِنسان بوقت بعثرة ما في القبور وتحصيل ما في الصدور فإنه أمر عجيب كيف يغفل عنه الإِنسان . وهمزة الاستفهام قدمت على فاء التفريع لأن الاستفهام صدر الكلام .وانتصب { إذا } على الظرفية لمفعول { يعلم } المحذوف اقتصاراً ، لِيَذْهَبَ السامع في تقديره كلَّ مذهب ممكن قصداً للتهويل .والمعنى : ألا يعلم العذابَ جزاءً له على ما في كنوده وبخله من جناية متفاوتة المقدار إلى حد إيجاب الخلود في النار .وحُذف مفعولا { يعلم } ولا دليل في اللفظ على تعيين تقديرهما فيوكل إلى السامع تقدير ما يقتضيه …
Does this human, deceived by the worldly life, not know that when Allah will resurrect the dead from their graves and take them out of the earth to take them to account and requite them, that the matter will not be as he imagines?
(Knoweth he not) i.e. Abu Hubahib; and it is also said: Qurt (that, when the contents of the graves) the dead (are poured forth
No commentary keyed to this āyah in: Bayan ul Quran (Urdu), Jawāmiʿ al-jāmiʿ (al-Ṭabrisī), Majmaʿ al-bayān (al-Ṭabrisī), Nūr al-thaqalayn (al-Ḥuwayzī), Tafsir-e-Usmani (Urdu), Tafsīr al-Qummī, Tazkirul Quran (English), al-Mīzān (Ṭabāṭabāʾī), al-Tibyān (al-Ṭūsī), al-Ṣāfī (Fayḍ al-Kāshānī).
the words of this āyah — root, frequency, family
أ
occurs 513 timesamong the commonest 300 words
ف
occurs 3001 timesamong the commonest 300 words
لا
occurs 1742 timesamong the commonest 300 words
عَلِمَ
occurs 382 timesroot علم occurs 854among the commonest 300 words
plays offline — the recitation is inside this file
PickthallAnd the secrets of the breasts are made known,
Yusuf AliAnd that which is (locked up) in (human) breasts is made manifest-
Muhammad Junagarhiاور سینوں کی پوشیده باتیں ظاہر کر دی جائیں گی.[1]
al-Muyassarواستُخرج ما استتر في الصدور من خير أو شر.
the agreed readingAnd what is in the breasts is brought out. Both traditions gloss the verb as a sorting and a making-plain: what was inside is separated out and set where it can be seen.
”اور جو کچھ سینوں میں ہے وہ کھول کر رکھ دیا جائے گا“ — یعنی دلوں میں جو نیتیں اور عقیدے چھپے ہوئے تھے، اچھے ہوں یا برے، سب الگ الگ کر کے ظاہر کر دیے جائیں گے۔ اُس دن ظاہر پر بھی حساب ہوگا اور باطن پر بھی۔ تو انسان کے پاس کوئی ایسا اندرون باقی نہ رہے گا جسے وہ چھپا سکے۔
وحُصِّل ما في الصدور، أي بُيِّن وأُفرِز واستُخرج ما استتر في القلوب من نيَّةٍ واعتقادٍ خيرًا كان أو شرًّا. فيومئذٍ يُحاسَب على السرائر كما يُحاسَب على الظواهر. فلا يبقى للإنسان باطنٌ يستره.
No Shīʿī edition could be anchored to this āyah by the alignment; the commentary exists in the books, the method could not point at it.
24 of the 34 commentaries carry this āyah
all 24, in their own words
al-Tabarid.923 · ar · PD
القول في تأويل قوله تعالى: ﴿وَحُصِّلَ مَا فِي الصُّدُورِ (١٠) إِنَّ رَبَّهُمْ بِهِمْ يَوْمَئِذٍ لَخَبِيرٌ (١١) ﴾ . اختلف أهل التأويل في تأويل قوله: ﴿وَالْعَادِيَاتِ ضَبْحًا﴾ فقال بعضهم: عُني بالعاديات ضبحا: الخيل التي تعدو، وهي تحمحم. ذكر من قال ذلك: ⁕ حدثني محمد بن سعد، قال: ثني أبي، قال: ثني عمي، قال: ثني أبي، عن أبيه، عن ابن عباس، في قوله ﴿وَالْعَادِيَاتِ ضَبْحًا﴾ قال: الخيل، وزعم غير ابن عباس أنها الإبل. ⁕ حدثني محمد بن عمرو، قال: ثنا أبو عاصم، قال: ثنا عيسى؛ وحدثني الحارث، قال: ثنا الحسن، قال: ثنا ورقاء، جميعا عن ابن أبي نجيح، عن مجاهد، في قول الله: ﴿وَالْعَادِيَاتِ ضَبْحًا﴾ قال ابن …
أيضا.]] يعنى: وإنه لأجل حب المال وأن إنفاقه يثقل عليه: لبخيل ممسك. أو أراد بالشديد: القوى، وأنه لحب المال وإيثار الدنيا وطلبها قوى مطيق، وهو لحب عبادة الله وشكر نعمته ضعيف متقاعس. تقول: هو شديد لهذا الأمر، وقوىّ له: إذا كان مطيقا له ضابطا. أو أراد: أنه لحب الخيرات غير هش منبسط، ولكنه شديد منقبض بُعْثِرَ بعث. وقرئ: بحثر، وبحث. وبحثر، وحصل: على بنائهما للفاعل. وحصل: بالتخفيف. ومعنى حُصِّلَ جمع في الصحف، أى: أظهر محصلا مجموعا. وقيل: ميز بين خيره وشره. ومنه قيل للمنخل: المحصل. ومعنى علمه بهم يوم القيامة: مجازاته لهم على مقادير أعمالهم، لأنّ ذلك أثر خبره بهم. وقرأ أبو السمال: إنّ ربهم بهم يومئذ …
Fakhr al-Din al-Razid.1210 · ar · PD
بَيْدَةَ، أيْ مُيِّزَ ما في الصُّدُورِ، وقالَ اللَّيْثُ: الحاصِلُ مِن كُلِّ شَيْءٍ ما بَقِيَ وثَبَتَ وذَهَبَ سِواهُ، والتَّحْصِيلُ تَمْيِيزُ ما يَحْصُلُ والِاسْمُ الحَصِيلَةُ قالَ لَبِيدٌ: وكُلُّ امْرِئٍ يَوْمًا سَيَعْلَمُ سَعْيَهُ إذا حَصَلَتْ عِنْدَ الإلَهِ الحَصائِلُ وفِي التَّفْسِيرِ وُجُوهٌ: أحَدُها: مَعْنى حُصِّلَ جُمِعَ في الصُّحُفِ، أيْ أُظْهِرَتْ مُحَصَّلًا مَجْمُوعًا. وثانِيها: أنَّهُ لا بُدَّ مِنَ التَّمْيِيزِ بَيْنَ الواجِبِ، والمَندُوبِ، والمُباحِ، والمَكْرُوهِ، والمَحْظُورِ، فَإنَّ لِكُلٍّ واحِدٌ، ومِنهُ قِيلَ لِلْمُنْخُلِ: المُحَصِّلُ. وثالِثُها: أنَّ كَثِيرًا ما يَكُونُ باطِنُ …
انسان کا نفسیاتی تجزیہ :مجاہدین کے گھوڑے جبکہ اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے ہانپتے اور ہنہاتے ہوئے دوڑتے ہیں ان کی اللہ تبارک و تعالیٰ قسم کھاتا ہے پھر اس تیزی میں دوڑتے ہوئے پتھروں کے ساتھ ان کے نعل کا ٹکرانا اور اس رگڑ سے آگ کی چنگاڑیاں اڑنا پھر صبح کے وقت دشمن پر ان کا چھاپہ مارنا اور دشمنان رب کو تہہ وبالا کرنا آنحضرت ﷺ کی یہی عادت مبارک تھی کہ دشمن کی کسی بستی پر آپ جاتے تو وہاں رات کو ٹھہر کر کام لگا کر سنتے اگر اذان کی آواز آگئی تو آپ رک جاتے نہ آتی تو لشکر کو حکم دیتے کہ بزن بول دیں پھر ان گھوڑوں کا گردو غبار اڑانا اور ان سب کا دشمنوں کے درمیان گھس جانا ان سب چیزوں کی قسم کھا کر پھر …
دلوں کے چھپے بھید کھل جائیں گے:یعنی وہ وقت بھی آنے والا ہے جب مردہ جسم قبروں سے نکال کر زندہ کیے جائیں گے اور دلوں میں جو چیزیں چھپی ہوئی ہیں سب کھول کر رکھ دی جائیں گی۔ اُس وقت دیکھیں یہ مال کہاں تک کام دیگا اور نالائق ناشکرے لوگ کہاں چھوٹ کر جائیں گے۔ اگر یہ بےحیا اس بات کو بھی سمجھ لیتے تو ہر گز مال کی محبت میں غرق ہو کر ایسی حرکتیں نہ کرتے۔
[تعالى]؛ أي: إنَّ العبد لربِّه لكنودٌ، والله شهيدٌ على ذلك؛ ففيه الوعيد والتهديد الشديد لمَن هو لربِّه كنودٌ بأنَّ الله عليه شهيدٌ. {8}{وإنه}؛ أي: الإنسان {لحبِّ الخير}؛ أي: المال، {لشديدٌ}؛ أي: كثير الحبِّ للمال، وحبُّه لذلك هو الذي أوجب له ترك الحقوق الواجبة عليه؛ قَدَّمَ شهوة نفسه على رضا ربِّه، وكلُّ هذا لأنَّه قصر نظره على هذه الدار، وغفل عن الآخرة. {9 ـ 10} ولهذا قال حاثًّا له على خوف يوم الوعيد: {أفلا يعلمُ}؛ أي: هلاّ يعلم هذا المغتر، {إذا بُعۡثِرَ ما في القبورِ}؛ أي: أخرج الله الأموات من قبورهم لحشرهم ونشورهم، {وحُصِّل ما في الصُّدور}؛ أي: ظهر وبان ما فيها وما استتر في الصدور من كمائن …
قسم ہے سر پٹ دوڑنے والے گھوڑوں کی ہانپتے ہوئے(1) پھر آگ نکالنے والوں کی سم مار کر(2) پھر حملہ کرنے والوں کی صبح کے وقت(3) پھر وہ اڑاتے ہیں اس وقت غبار(4) پھر وہ درمیان میں گھس جاتے ہیں اس وقت (دشمن کی) جماعت میں(5) یقیناً انسان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے(6) اور بلاشبہ وہ اس بات پر البتہ (خودبھی) شاہد ہے(7)اور بلاشبہ وہ محبت مال میں (بھی) بہت سخت ہے(8)کیا پس نہیں جانتا وہ جب نکال باہر کر دیا جائے گا جو کچھ قبروں میں ہے؟(9) اور ظاہر کر دیا جائے گا جو کچھ سینوں میں ہے (10) بلاشبہ ان کا رب ان (کے حال) سے اس دن خبر دار ہو گا (11) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] اللہ …
وَحُصِّلَ مَا فِي الصُّدُورِ ﴿10﴾ إِنَّ رَبَّهُم بِهِمْ يَوْمَئِذٍ لَّخَبِيرٌ ﴿11﴾ أَفَلَا يَعْلَمُ إِذَا بُعْثِرَ مَا فِي الْقُبُورِ ﴿9﴾ (Does he not then know [ what will happen ] when all that is contained in the graves will be overturned, and all that is contained in the hearts will be exposed. Surely your Lord, that day, is fully aware of them.) Divine retribution will be meted out, in the Hereafter, to each person commensurate with his deeds, good or bad, as Allah is well-aware of them. Therefore, it would be wise for man to abstain from ingratitude, and he should not have such a …
عنی دلوں میں جو ارادے اور نیّتیں ، جو اغراض و مقاصد، جو خیالات و افکار ، اور ظاہری افعال کے پیچھے جو باطنی محرّکات (Motives ) چھُپے ہوئے ہیں وہ سب کھول کر رکھ دیے جائیں گے اور ان کی جانچ پڑتا ل کر کے اچھائی کو الگ اور بُرائی کو الگ چھانٹ دیا جائے گا۔ بالفاظِ دیگر فیصلہ صرف ظاہر ہی کو دیکھ کر نہیں کیا جائے گا کہ انسان نے عملاً کیا کچھ کیا، بلکہ دلوں میں چھُپے ہوئے رازوں کو بھی نکال کر یہ دیکھا جائے گا کہ جو جو کام انسان نے کیے وہ کس نیت سے اور کس غرض سے کیے۔ اس بات پر اگر انسان غور کرے تو وہ یہ تسلیم کیے بغیر نہیں رہ سکتا کہ اصلی اور مکمّل انصاف خدا کی عدالت کے سوا اور کہیں نہیں ہو سکتا۔ دنیا …
That is all the intentions, aims and objects, ideas and thoughts and the motives behind acts and deeds that lie hidden in the hearts will be exposed and examined in order to sort out the good from the evil. In other words judgment will not be passed only on the apparent and superficial as to what a man practically did but the secrets hidden in the hearts will also be brought out to see what were the intentions and motives under which a man did what he did. If man only considers this, he cannot help admitting that real and complete justice cannot be done anywhere except in the court of God …
وَحُصِّلَ مَا فِي الصدور ) أى : وجمع ما فى القلوب من خير وشر وأظهر ما كانت تخفيه ، وأبرز ما كان مستورا فيها ، بحيث لا يبقى لها سبيل إلى الإِخفاء أو الكتمان .وأصل التحصيل : إخراج اللب من القشر ، والمراد به هنا : إظهار وإبراز ما كانت تخفيه الصدور ، والمجازاة على ذلك . ومفعول ( يعلم ) محذوف ، لتذهب النفس فيه كل مذهب ويجول الفكر فى استحضاره وتقديره .
And the secrets of the breasts) what is in the hearts of good and evil, miserliness and generosity (are made known.
No commentary keyed to this āyah in: Bayan ul Quran (Urdu), Fi Zilal al-Quran (Urdu), Jawāmiʿ al-jāmiʿ (al-Ṭabrisī), Majmaʿ al-bayān (al-Ṭabrisī), Nūr al-thaqalayn (al-Ḥuwayzī), Tafsīr al-Qummī, Tazkirul Quran (English), al-Mīzān (Ṭabāṭabāʾī), al-Tibyān (al-Ṭūsī), al-Ṣāfī (Fayḍ al-Kāshānī).
the words of this āyah — root, frequency, family
و
occurs 9594 timesamong the commonest 300 words
حُصِّلَ
occurs ONCE in the whole Qurʾānroot حصل occurs 1
ما
occurs 2565 timesamong the commonest 300 words
فِي
occurs 1701 timesamong the commonest 300 words
ال
occurs 8377 timesamong the commonest 300 words
صَدْر
occurs 44 timesroot صدر occurs 46among the commonest 300 words
صَدْر44يُصْدِرَ1يَصْدُرُ1
this āyah in 55 languages — 74 translations
Akan Harun Ismail · v1.0.3
Na adeε a εwͻ (onipa) akoma mu nso da adi a,
Azərbaycan Ali Khan Musayev · v1.0.4
və sinələrdə (qəlblərdə) olanlar aşkar ediləcəyi zaman –
Bahasa Indonesia Ministry of Religious Affairs · v1.0.1
dan apa yang tersimpan di dalam dada dikeluarkan?
Bahasa Indonesia Sabiq Company · v1.1.3
10. dan apa yang tersimpan di dalam dada ditumpahkan?
Bahasa Indonesia The Complex · v1.0.1
dan dilahirkan apa yang ada di dalam dada,
Bosanski Muhammad Mahanovic · v1.1.0
i kada iziđe na vidjelo ono što je u srcima,
Bosanski Rowwad Translation Centre · v2.0.4
i kada iziđe na vidjelo ono što je u grudima,
Cebuano Rowwad Translation Center · v1.1.3
Ug unsay anaa sa mga dughan iga butyag man.
Deutsch Frank Bubenheim · v1.1.4
und herausgeholt wird, was in den Brüsten ist,...
Deutsch Rowwad Translation Center · v1.0.15
und herausgeholt wird, was in den Brüsten ist,
English Hilali and Khan · v1.1.2
10. And that which is in the breasts (of men) is made known?
English Noor International Center · v1.1.2
And that within the breasts is obtained,[1972]
English Rowwad Translation Center · v1.0.19
and the secrets of the hearts will be brought to light[7]?
Español Isa Garcia · v1.0.2
10. y se evidencie lo que hay en los corazones,
Español Noor International Center · v1.0.1
y que se desvelará lo que esconden los corazones?
Español issued by Noor International · v1.0.1
y que se desvelará lo que esconden los corazones?
Français Noor International Center · v1.0.0
10. et que sera révélé ce que cachent les cœurs,
Français Rachid Maach · v1.0.3
et que les secrets des cœurs seront étalés au grand jour ?
Fulfulde Rowwad Translation Center · v1.0.2
Yaltine ko woni ko e ɓerɗe he.
Hausa Abu Bakr Jumi · v1.2.2
Aka bayyana abin da ke cikin zukata.
Hrvatski Rowwad Translation Center · v1.0.1
i kada iziđe na vidjelo ono što je u grudima,
Kinyarwanda Rwanda Muslim Association · v1.0.5
N’ibiri mu bituza (by’abantu) bigashyirwa ahagaragara?
Kirundi Yusuf Gahiti · v1.0.4
Hakanerekanwa n’ibiri mu mishaha (ivyiza canke ibibi)!
Kiswahili Ali Mohsin Al-Barwani · v1.0.1
Na yakakusanywa yaliomo vifuani? [10]
Kiswahili Rowad Translation Center · v1.0.5
Na yakakusanywa yaliyomo vifuani?
Kurdî Muhammad Salih Bamoki · v1.1.1
وە ئاشکرا بوو ھەرچی ڕازی ناو دڵانە
Lietuvių Rowwad Translation Center · v1.0.8
10. ir tai, kas krūtinėse, bus išgauta (t. y. kai visos paslaptys bus žinomos),
Lingála Mohammed Balangogo · v1.0.2
Mpe maye mabombamaki na mitema mikobima polele?
Maguindanaon Rowwad Translation Center · v1.0.4
Endu ipayag den su manga nakadalem kanu manga laleb.
Mòoré Rowwad Translation Center · v1.0.1
La b vẽneg bũmb nins sẽn be yãadẽ wã.
Nederlands Rowwad Translation Center · v2.0.10
En bekend zal worden gemaakt wat er in de borsten zit.
Oromoo Gali Ababor · v1.0.3
Yeroo wanti qomoota keessa jiran (hundi) ifa baafaman (hin beekuu?)
plays offline — the recitation is inside this file
PickthallOn that day will their Lord be perfectly informed concerning them.
Yusuf AliThat their Lord had been Well-acquainted with them, (even to) that Day?
Muhammad Junagarhiبیشک ان کا رب اس دن ان کے حال سے پورا باخبر ہوگا.[1]
al-Muyassarإن ربهم بهم وبأعمالهم يومئذ لخبير، لا يخفى عليه شيء من ذلك.
the agreed readingTruly their Lord, on that day, is fully aware of them. Both traditions make the same point about the wording: His awareness is not new that day, and the day is named because it is the day the repaying is done.
بیشک ان کا رب اُس دن ان سے پوری طرح باخبر ہوگا، ان کے معاملے کی کوئی بات اس سے چھپی نہ ہوگی، اور وہ اسی کے مطابق انہیں بدلہ دے گا۔ اللہ تو ہمیشہ ہی ان سے باخبر ہے؛ اُس دن کا خاص ذکر اس لیے ہے کہ اُسی دن اس علم کا اثر بدلے کی صورت میں سامنے آئے گا۔ اُس دن ہر ایک جان لے گا کہ وہ کبھی چھپا ہوا تھا ہی نہیں۔
إن ربهم بهم يومئذٍ لخبير، لا يخفى عليه من أمرهم شيء، فيجازيهم على ذلك. وهو سبحانه خبيرٌ بهم دائمًا، وإنما خُصَّ ذلك اليوم بالذكر لأنه يوم ظهور أثر هذا العلم بالجزاء. فيومئذٍ يعلم كلُّ أحدٍ أنه لم يكن مستورًا قطُّ.
32 of the 34 commentaries carry this āyah
all 32, in their own words
al-Tabarid.923 · ar · PD
القول في تأويل قوله تعالى: ﴿وَحُصِّلَ مَا فِي الصُّدُورِ (١٠) إِنَّ رَبَّهُمْ بِهِمْ يَوْمَئِذٍ لَخَبِيرٌ (١١) ﴾ . اختلف أهل التأويل في تأويل قوله: ﴿وَالْعَادِيَاتِ ضَبْحًا﴾ فقال بعضهم: عُني بالعاديات ضبحا: الخيل التي تعدو، وهي تحمحم. ذكر من قال ذلك: ⁕ حدثني محمد بن سعد، قال: ثني أبي، قال: ثني عمي، قال: ثني أبي، عن أبيه، عن ابن عباس، في قوله ﴿وَالْعَادِيَاتِ ضَبْحًا﴾ قال: الخيل، وزعم غير ابن عباس أنها الإبل. ⁕ حدثني محمد بن عمرو، قال: ثنا أبو عاصم، قال: ثنا عيسى؛ وحدثني الحارث، قال: ثنا الحسن، قال: ثنا ورقاء، جميعا عن ابن أبي نجيح، عن مجاهد، في قول الله: ﴿وَالْعَادِيَاتِ ضَبْحًا﴾ قال ابن …
Tafsīr al-Qummīd.941 · ar · PD
ان ربهم بهم يومئذ لخبير). [vol 2 p.439] سورة القارعة مكية آياتها احدى عشر (بسم الله الرحمن الرحيم القارعة ما القارعة وما أدراك ما القارعة) يرددها الله لهو لها وفزع الناس بها (يوم يكون الناس كالفراش المبثوث وتكون الجبال كالعهن المنفوش) قال العهن الصوف (فأما من ثقلت موازينه) بالحسنات (فهو في عيشة راضية واما من خفت موازينه) قال: من الحسنات (فأمه هاوية) قال: أم رأسه يقلب في النار على رأسه ثم قال (وما أدراك - يا محمد - ما هيه) يعني الهاوية ثم قال: (نار حامية). سورة التكاثر مكية آياتها ثمان (بسم الله الرحمن الرحيم ألهاكم التكاثر) اي أغفلكم كثرتكم (حتى زرتم المقابر) ولم تذكروا الموتى (لترون الجحيم) …
al-Tibyān (al-Ṭūsī)d.1067 · ar · PD
إن ربهم بهم يومئذ لخبير) (11) احدى عشرة آية. قوله (والعاديات ضبحا) قسم من الله تعالى بالعاديات. قال ابن عباس ومجاهد وقتادة وعطاء: يعني الخيل تضبح ضبحا، فضبحا نصب على المصدر. وقال [vol 10 p.395] عبد الله بن مسعود: يعني الإبل، فعلى قول ابن عباس أراد ضبح الخيل في الجهاد والحرب. وقال ابن مسعود: أراد ضبح الإبل في طريق الحج. وروي عن علي عليه السلام أن المراد به الإبل، لأنه لم يكن يومئذ خيل للمسلمين. والضبح في الخيل اظهر عند أهل اللغة. وروي عن علي عليه السلام أن الضبح في الخيل الحمحمة عند العدو وقيل الضبح شدة النفس عند العدو. وضبحت الخيل تضبح ضبحا وضباحا. وقال أبو عبيدة: ضبح وضبع بمعنى واحد أي تمد …
أيضا.]] يعنى: وإنه لأجل حب المال وأن إنفاقه يثقل عليه: لبخيل ممسك. أو أراد بالشديد: القوى، وأنه لحب المال وإيثار الدنيا وطلبها قوى مطيق، وهو لحب عبادة الله وشكر نعمته ضعيف متقاعس. تقول: هو شديد لهذا الأمر، وقوىّ له: إذا كان مطيقا له ضابطا. أو أراد: أنه لحب الخيرات غير هش منبسط، ولكنه شديد منقبض بُعْثِرَ بعث. وقرئ: بحثر، وبحث. وبحثر، وحصل: على بنائهما للفاعل. وحصل: بالتخفيف. ومعنى حُصِّلَ جمع في الصحف، أى: أظهر محصلا مجموعا. وقيل: ميز بين خيره وشره. ومنه قيل للمنخل: المحصل. ومعنى علمه بهم يوم القيامة: مجازاته لهم على مقادير أعمالهم، لأنّ ذلك أثر خبره بهم. وقرأ أبو السمال: إنّ ربهم بهم يومئذ …
Majmaʿ al-bayān (al-Ṭabrisī)d.1153 · ar · PD
إن ربهم بهم يومئذ لخبير (11)). القراءة: في الشواذ قراءة أبي حياة (فأثرن) بتشديد الثاء، وقراءة علي عليه السلام وقتادة وابن أبي ليلى (فوسطن) بتشديد السين. الحجة: قال ابن جني: فأثرن مثل أبدين وأرين نقعا، كما يؤثر الانسان النقش وغيره مما يبديه للناظر، وهو من التأثير. فالهمزة فاء الفعل، وأثرن بالتخفيف من [vol 10 p.421] الإثارة، فالهمزة مزيدة. وقوله (فوسطن) بالتشديد معناه: ميزن به جمعا أي: جعلنه شطرين قسمين وشقين، ومعنى (وسطنه) بالتخفيف: صرن في وسطه. اللغة: الضبح في الخيل: الحمحمة عند العدو. وقيل: هو شدة النفس عند العدو. وضبحت الخيل تضبح ضبحا وضباحا. وقيل: ضبح وضبع بمعنى. وهو أن يمد ضبعه في السير …
انسان کا نفسیاتی تجزیہ :مجاہدین کے گھوڑے جبکہ اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے ہانپتے اور ہنہاتے ہوئے دوڑتے ہیں ان کی اللہ تبارک و تعالیٰ قسم کھاتا ہے پھر اس تیزی میں دوڑتے ہوئے پتھروں کے ساتھ ان کے نعل کا ٹکرانا اور اس رگڑ سے آگ کی چنگاڑیاں اڑنا پھر صبح کے وقت دشمن پر ان کا چھاپہ مارنا اور دشمنان رب کو تہہ وبالا کرنا آنحضرت ﷺ کی یہی عادت مبارک تھی کہ دشمن کی کسی بستی پر آپ جاتے تو وہاں رات کو ٹھہر کر کام لگا کر سنتے اگر اذان کی آواز آگئی تو آپ رک جاتے نہ آتی تو لشکر کو حکم دیتے کہ بزن بول دیں پھر ان گھوڑوں کا گردو غبار اڑانا اور ان سب کا دشمنوں کے درمیان گھس جانا ان سب چیزوں کی قسم کھا کر پھر …
on that day their Lord will indeed be Aware of them, Knower [of them] and will requite them for their disbelief (the pronoun reverts to the plural because of the [collective] import of the term ‘man’; this sentence indicates the direct object of [the verb] ya‘lamu, ‘[does he not] know’, that is to say, ‘We will requite him at the time mentioned’; khabīrun, ‘Aware’, is semantically connected to yawma’idhin, ‘on that day’, even though [in fact] God is ever Aware, because that is the Day of Requital.
Nūr al-thaqalayn (al-Ḥuwayzī)d.1700 · ar · PD
ان ربهم بهم يومئذ لخبير [vol 5 p.657] 15 - وفيه متصل بآخر ما نقلنا من الحديث أعني قوله: حريصان قلت: قوله: " أفلا يعلم إذا بعثر ما في القبور * وحصل ما في الصدور * ان ربهم بهم يومئذ لخبير " قال: نزلت الآيتان فيهما خاصة، كانا يضمران ضمير السوء ويعملان به، فأخبر الله خبرهما و فعالهما; فهذه قصة أهل وادى اليابس وتفسير العاديات. بسم الله الرحمن الرحيم 1 - في كتاب ثواب الأعمال باسناده عن أبي جعفر عليه السلام قال: من قرأ وأكثر من قراءة القارعة آمنه الله عز وجل من فتنة الدجال ان يؤمن به ومن قيح جهنم (1) يوم القيامة إن شاء الله. 2 - في مجمع البيان في حديث أبي من قراها ثقل الله بها ميزانه يوم القيامة. 3 …
اللہ کا علم محیط واضح ہو جائے گا:یعنی ہر چند کہ اللہ کا علم ہر وقت بندے کے ظاہر و باطن پر محیط ہے لیکن اس روز اس کا علم ہر شخص پر ظاہر ہو جائے گا۔ اور کسی کو گنجائش انکار کی نہ رہے گی۔
8}{وإنه}؛ أي: الإنسان {لحبِّ الخير}؛ أي: المال، {لشديدٌ}؛ أي: كثير الحبِّ للمال، وحبُّه لذلك هو الذي أوجب له ترك الحقوق الواجبة عليه؛ قَدَّمَ شهوة نفسه على رضا ربِّه، وكلُّ هذا لأنَّه قصر نظره على هذه الدار، وغفل عن الآخرة. {9 ـ 10} ولهذا قال حاثًّا له على خوف يوم الوعيد: {أفلا يعلمُ}؛ أي: هلاّ يعلم هذا المغتر، {إذا بُعۡثِرَ ما في القبورِ}؛ أي: أخرج الله الأموات من قبورهم لحشرهم ونشورهم، {وحُصِّل ما في الصُّدور}؛ أي: ظهر وبان ما فيها وما استتر في الصدور من كمائن الخير والشرِّ، فصار السرُّ علانيةً والباطن ظاهراً، وبان على وجوه الخلق نتيجة أعمالهم. {11}{إنَّ ربَّهم بهم يومئذٍ لخبيرٌ}؛ أي: مطلع …
قسم ہے سر پٹ دوڑنے والے گھوڑوں کی ہانپتے ہوئے(1) پھر آگ نکالنے والوں کی سم مار کر(2) پھر حملہ کرنے والوں کی صبح کے وقت(3) پھر وہ اڑاتے ہیں اس وقت غبار(4) پھر وہ درمیان میں گھس جاتے ہیں اس وقت (دشمن کی) جماعت میں(5) یقیناً انسان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے(6) اور بلاشبہ وہ اس بات پر البتہ (خودبھی) شاہد ہے(7)اور بلاشبہ وہ محبت مال میں (بھی) بہت سخت ہے(8)کیا پس نہیں جانتا وہ جب نکال باہر کر دیا جائے گا جو کچھ قبروں میں ہے؟(9) اور ظاہر کر دیا جائے گا جو کچھ سینوں میں ہے (10) بلاشبہ ان کا رب ان (کے حال) سے اس دن خبر دار ہو گا (11) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] اللہ …
سب لوگ رب کی طرف لوٹنے والے ہیں اور اس دن ان کے امور ، ان کے رازوں اور ان کے حالات سے اللہ نہایت ہی اچھی طرح خبردار ہوگا۔ اس دن کی قید نہیں ہے ، اللہ تو ہر وقت اور ہر دن ان حالات سے خبردار ہے۔ لیکن یہاں ” یومئذ “ کا لفظ نہایت موثر ہے۔ اور اس کے آثار انسان کو اس دن کے بارے میں چوکنا کردیتے ہی۔ یہ کہ اللہ اس دن خبردار ہوگا یعنی کوئی سزا سے نہ بچ سکے گا۔ حساب و کتاب نہایت علم وخبرداری پر مبنی ہوگا۔ یہی ضمنی مفہم ہی یہاں اہمیت رکھتا ہے۔ غرض یہ پوری سورت ایک مسلسل منظر ہے۔ ایک خوفناک وہیبت ناک منظر ، معانی ، الفاظ اور انداز بیان سب کچھ بدل جاتا ہے اور یہ منظر اختتام پذیر ہوتا ہے اور یہ قرآن کے …
وَحُصِّلَ مَا فِي الصُّدُورِ ﴿10﴾ إِنَّ رَبَّهُم بِهِمْ يَوْمَئِذٍ لَّخَبِيرٌ ﴿11﴾ أَفَلَا يَعْلَمُ إِذَا بُعْثِرَ مَا فِي الْقُبُورِ ﴿9﴾ (Does he not then know [ what will happen ] when all that is contained in the graves will be overturned, and all that is contained in the hearts will be exposed. Surely your Lord, that day, is fully aware of them.) Divine retribution will be meted out, in the Hereafter, to each person commensurate with his deeds, good or bad, as Allah is well-aware of them. Therefore, it would be wise for man to abstain from ingratitude, and he should not have such a …
إن ربهم بهم يومئذ لخبير - 11. (بيان) تذكر السورة كفران الانسان لنعم ربه وحبه الشديد للخير عن علم منه به وهو حجة عليه وسيحاسب على ذلك. والسورة مدنية بشهادة ما في صدرها من الأقسام بمثل قوله: " والعاديات ضبحا " الخ الظاهر في خيل الغزاة المجاهدين على ما سيجئ، وإنما شرع الجهاد بعد الهجرة ويؤيد ذلك ما ورد من طرق الشيعة عن أئمة أهل البيت عليهم السلام أن السورة نزلت في علي عليه السلام وسريته في غزوة ذات السلاسل، ويؤيده أيضا بعض الروايات من طرق أهل السنة على ما نشير إليه في البحث الروائي التالي إن شاء الله. قوله تعالى: " والعاديات ضبحا " العاديات من العدو وهو الجري بسرعة والضبح صوت أنفاس الخيل عند …
وقوله - تعالى - : ( إِنَّ رَبَّهُم بِهِمْ يَوْمَئِذٍ لَّخَبِيرٌ ) جملة مستأنفة لزيادة التهديد ووالوعيد .أى : إن رب المبعوثين للحساب والجزاء ، ليعلم علما تاما ً بأحوالهم الظاهرة والباطنة ، فى ذلك اليوم الهائل الشديد الذى يبعث فيه الناس من قبورهم ، وسيجازى - سبحانه - الذين أساؤوا بما عملوا ، وسيجازى الذين أحسنوا بالحسنى .نسأل الله - تعالى - أن يجعلنا من أهل طاعته ومثوبته .وصلى الله على سيدنا محمد وعلى آله وصحبه وسلم .
آیت 1 1{ اِنَّ رَبَّہُمْ بِہِمْ یَوْمَئِذٍ لَّخَبِیْرٌ۔ } ”یقینا ان کا رب اس دن ان سے پوری طرح باخبر ہوگا۔“ اللہ تعالیٰ کو ان کے تمام اعمال و افعال کا علم ہے اور اس دن وہ ان سے ایک ایک چیز کا حساب لے لے گا۔ اَللّٰھُمَّ حَاسِبْنَا حِسَابًا یَّسِیْرًا۔ آمین ! انذارِ آخرت کے مضمون کی حامل ان سورتوں میں سے ہر سورت کی تلاوت کے بعد یہ دعا ضرور کرنی چاہیے کہ اے اللہ ! تو ہم سے آسان حساب لینا اور اپنی خصوصی رحمت سے ہمارے گناہوں کو معاف کردینا۔
The horse is a very loyal animal. He sacrifices himself to the utmost for the sake of his master. Even in the battlefield, he does not leave his side. This is an example which shows how a man should conduct himself. Man should also be loyal to his Lord just as the horse is loyal to man. But, in practice, it is not like that. In this world, the animal is grateful to his master, but man is not grateful to his Lord. Here an animal knows his obligations towards his master, but man does not know his obligations towards his Lord. Here an animal is totally obedient to his master, but man is not …
إِنَّ رَبَّهُمْ بِهِمْ يَوْمَئِذٍ لَخَبِيرٌ (11)جملة مستأنفة استئنافاً بيانياً ناشئاً عن الإِنكار ، أي كان شأنهم أن يعلموا اطلاع الله عليهم إذا بعثر ما في القبور ، وأن يذكروه لأن وراءهم الحساب المدقق ، وتفيد هذه الجملة مفاد التذييل .وقوله : { يومئذ } متعلق بقوله : { لخبير } ، أي عليم .والخبير : مكنَى به عن المجازى بالعقاب والثواب ، بقرينة تقييده بيومئذ لأن علم الله بهم حاصل من وقت الحياة الدنيا ، وأما الذي يحصل من علمه بهم يوم بَعثرة القبور ، فهو العلم الذي يترتب عليه الجزاء .وتقديم { بهم } على عامله وهو { لخبير } للاهتمام به ليعلموا أنهم المقصود بذلك . وتقديم المجرور على العامل المقترن بلام …
عنی جو رب ان کو قبروں سے نکال لے گا، ان کے سینوں کے رازوں کو ظاہرکردے گا، اس کے متعلق ہر شخص جان سکتا ہے کہ وہ کتنا باخبر ہے؟ اور اس سے کوئی چیز مخفی نہیں رہ سکتی۔ چنانچہ پھر وہ ہر ایک کو اس کے عملوں کے مطابق اچھی یا بری جزا دے گا۔ یہ گویا ان اشخاص کو تنبیہ ہےجو رب کی نعمتیں تو استعمال کرتے ہیں، لیکن اس کا شکر ادا کرنےکے بجائے، اس کی ناشکری کرتے ہیں۔ اسی طرح مال کی محبت میں گرفتار ہو کر مال کے وہ حقوق ادا نہیں کرتے جو اللہ نے اس میں دوسرے لوگوں کے رکھے ہیں۔
Indeed, their Lord will be aware of every matter of theirs on that day; none of the affairs of His servants will be hidden from Him, and He will requite them for that.
On that day) the Day of Judgement (will their Lord be perfectly informed concerning them) their Lord is perfectly Aware'.
No commentary keyed to this āyah in: Jawāmiʿ al-jāmiʿ (al-Ṭabrisī), al-Ṣāfī (Fayḍ al-Kāshānī).
the words of this āyah — root, frequency, family
إِنّ
occurs 1682 timesamong the commonest 300 words
رَبّ
occurs 975 timesroot ربب occurs 980among the commonest 300 words
رَبّ975رَبّانِيِّن3رِبِّيّ1رَبائِب1
ب
occurs 2544 timesamong the commonest 300 words
يَوْم
occurs 475 timesroot يوم occurs 475among the commonest 300 words
إِذ
occurs 309 timesamong the commonest 300 words
ل
occurs 4380 timesamong the commonest 300 words
خَبِير
occurs 45 timesroot خبر occurs 52among the commonest 300 words
خَبِير45أَخْبار3خُبْر2خَبَر2
this āyah in 55 languages — 74 translations
Akan Harun Ismail · v1.0.3
Saa Da no ɛyɛ nokorε sε (onipa bɛhunu sε) wͻn Wura Nyankopͻn ne wͻn (dwuma a wͻdiiε no ho) amanebͻ Wura.
Azərbaycan Ali Khan Musayev · v1.0.4
O gün Rəbbi onlardan xəbərdardır.
Bahasa Indonesia Ministry of Religious Affairs · v1.0.1
Sungguh, Tuhan mereka pada hari itu Mahateliti terhadap keadaan mereka.
Bahasa Indonesia Sabiq Company · v1.1.3
11. Sungguh, Tuhan mereka pada hari itu Mahateliti terhadap keadaan mereka.
Bahasa Indonesia The Complex · v1.0.1
sesungguhnya Tuhan mereka pada hari itu Maha Mengetahui keadaan mereka.
Bosanski Muhammad Mahanovic · v1.1.0
Gospodar njihov Dan taj, sigurno, sve o njima znati?!
Bosanski Rowwad Translation Centre · v2.0.4
Gospodar njihov Dan taj, sigurno, sve o njima znati?!
Cebuano Rowwad Translation Center · v1.1.3
Sa pagkatinuod ang ilang Ginoo (Allah), nianang Adlawa, Labing naka-ila kanila.
Deutsch Frank Bubenheim · v1.1.4
ihr Herr wird an jenem Tag ihrer wahrlich Kundig sein.
Deutsch Rowwad Translation Center · v1.0.15
ihr Herr an jenem Tag ihrer ja fürwahr kundig sein wird?
English Hilali and Khan · v1.1.2
11. Verily, that Day (i.e. the Day of Resurrection) their Lord will be Well-Acquainted with them (as to their deeds and will reward them for their deeds).
English Noor International Center · v1.1.2
Indeed, their Lord with them, that Day, is [fully] Aware.[1973]
English Rowwad Translation Center · v1.0.19
Indeed, their Lord is All-Aware of them on that Day[8].
Español Isa Garcia · v1.0.2
11. ese día su Señor estará bien informado de lo que hicieron?
Español Noor International Center · v1.0.1
Ciertamente, ese día su Señor estará bien informado acerca de ellos.
Español issued by Noor International · v1.0.1
Ciertamente, ese día su Señor estará bien informado acerca de ellos.
Français Noor International Center · v1.0.0
11. ce jour-là, leur Seigneur sera à leur sujet parfaitement Informé ?
Français Rachid Maach · v1.0.3
Ce Jour-là, leur Seigneur les jugera en connaissance de cause.
Fulfulde Rowwad Translation Center · v1.0.2
Joom mu'en ñande heen ko o kumpatiiɗo.
Hausa Abu Bakr Jumi · v1.2.2
Lalle ne Ubangijinsu, game da su a ranar nan Mai ƙididdigewa ne?
Hrvatski Rowwad Translation Center · v1.0.1
Gospodar njihov toga Dana, sigurno, sve o njima znati?!
Kinyarwanda Rwanda Muslim Association · v1.0.5
Mu by’ukuri uwo munsi Nyagasani wabo azaba azi neza ibyabo.
Kirundi Yusuf Gahiti · v1.0.4
Mu vy’ukuri Imana yabo Rurema, kuri uwo musi, Irazi neza ivyo bakoze, nta na kimwe Iyobewe.
Kiswahili Ali Mohsin Al-Barwani · v1.0.1
Kuwa hakika Mola wao Mlezi siku hiyo bila ya shaka atakuwa na khabari zao wote! [11]
Kiswahili Rowad Translation Center · v1.0.5
Hakika Mola wao Mlezi siku hiyo bila ya shaka atakuwa na habari zao wote!
HIsham b . ‘Urwah said that his father (‘Umrah) used to recite the surahs as you recite like Wa’l-Adiyat(surah c). Abu Dawud said:This indicates that those (traditions indicating long surahs) are abrogated, and this is more sound tradition
Thawab al-a'mal · no. 463the sura named outright in the other tradition - surat al-'adiyat in the Arabic - and what keeping to it is said to bring
1. From the previous chain from Abi Abdillah al-Muwafi [al-Mu’min] from Ibn Muskan from Sulayman b. Khalid from Abi Abdillah (a.s.) who said: One who recites it, would be with Ali (a.s.) on the Day of Judgment and would be among his special companions.
Nahj al-balagha · no. 924100:6's own word put to use: 'Ali calls this world al-jahud al-kanud, the very pairing the commentaries gloss the ayah with
Beware, this world attracts and then turns away. It is stubborn, refusing to go ahead. It speaks lies and misappropriates. It disowns and is ungrateful. It is malicious and abandons (its lovers). It attracts but causes trouble. Its condition is changing, its step shaking, its honour disgrace, its seriousness jest, and its height lowliness. It is a place of plunder and pillage, and ruin and destruction. Its people …
Al-'Adiyat — 11 āyāt, the canonical Kūfan count. One agreed reading per āyah, taken from 34 commentaries (d.923–2021) and 290 quotations, each checked against its own edition before this page could be written. Arabic: Uthmānī from Tanzil. Corpus fingerprint 62fb6cccf664b21e — run python verify_corpus.py against the same sources to confirm it.